احادیث کی روشنی میں انبیاء علیہم السلام کی حیات کا مسئلہ
(۱) ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں اور امام بیہقی نے کتاب حیات الانبیاء میں روایت کی
عن انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال الانبیاء احیا ء فی قبور ھم یصلو ن
حضرت انس سے مر وی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں نمازپڑھتے ہیں ۔
(۲) ابو نعیم نے حلیہ میں روایت کی ہے کہ
عن یوسف بن عطیۃ قال سمعت ثابت البنانی رحمۃ اللّٰہ علیہ یقول لحمید الطویل ھل بلغک ان احدایصلی فی قبر ہ الا الانبیاء قال لا
ترجمہ: یوسف بن عطیہ سے مروی ہے کہ میں نے ثابت بنانی کو حمید طویل سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا تمہیں کوئی ایسی حدیث پہنچی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے سوا کوئی قبر میں نماز پڑھتا ہوانہوں نے جواب دیاکہ نہیں۔
ان دونوں حدیثوں سے یہ ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام زندہ ہیں اور اپنی قبرو ں میں نماز پڑھتے ہیں ۔

(۳) ابوداؤد اور بیہقی نے روایت کی
عن اوس بن اوس الثقفی رضی اللّٰہ تعا لیٰ عنہ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہ قال من افضل ایا مکم یوم الجمعۃ فا کثروا علی الصلٰـوۃ فـیہ فـان صلا تکم تعـرض عـلی قالوا یا رسول اللّٰہ وکیف تعرض علیک صلاتنا وقد ارمت یعنی بلیت فقال ان اللّٰہ حرم علی الا رض ان تا کل اجساد الا نبیاء (ابوداؤد ص۱۵۰)
ترجمہ: اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے سب دنوں میں افضل تر ین دن یوم جمعہ ہے۔ لہٰذا جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جا تا ہے ۔صحا بہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا ؟حالا نکہ آ پ تو بو سیدہ ہو جائیں گے۔ حضور ﷺ نے فرما یا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے ۔

(۴) بیہقی نے شعب الا یمان اور اصبہانی نے ترغیب میں روایت کی ہے کہ :
عن ابی ھـریرۃ رضی اللّٰہ تعا لیٰ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من صلی علی عند قبر ی سمعتہ ومن صلی علی نا ئیا ابلغتہ
حضرت ابو ہریرہ ر ضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشا د فر ما یا جس نے میری قبر کے نز دیک مجھ پر درود پڑ ھا میں اسے خصو صی توجہ کے ساتھ خود سنتا ہوں اور جس نے دور ہونے کی حالت میں مجھ پر درود پڑھا وہ مجھے پہنچا دیا جاتا ہے ۔

(۵) امام بخاری نے اپنی تار یخ میں روایت کی
عن عمار رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال سمعت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول ان للّٰہ ملکا اعطاہ اسماع الخلا ئق قا ئم علی قبر ی فما من احد یصلی علی صلا ۃ الا بلغنیھا
حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا کہ بیشک اللہ تعا لیٰ کا ایک خاص فرشتہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی اسماع (یعنی سب کی آوازیں سننے کی طاقت) عطا فرمائی ہے اور وہ میری قبر انور پر کھڑا ہے، پس کوئی شخص نہیں جو مجھ پر درود بھیجے، مگر وہ فرشتہ اس کا درود مجھ پر پہنچا دیتا ہے۔

(۶) امام بیہقی نے حیات الانبیاء میں اور اصبہانی نے تر غیب میں روایت کی
عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من صلی علی ما ئۃ فی یوم الجمعۃ و لیلۃ الجمعۃ قضی اللّٰہ لہ مائۃ حاجۃ سبعین من حوائج الاٰخرۃ وثلا ثین من حوائج الد نیا ثم وکل اللّٰہ بذالک ملکا ید خلہ فی قبر ی کما ید خل علیکم الھدایا ان علمی بعد موتی کعلمی فی الحیا ۃ ولفظ البیھقی یخبرنی من صلی علی باسمہ ونسبہ فاثبتہ فی صحیفۃ بیضاء
حـضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ فرما تے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات میں مجھ پر سو دفعہ درود شریف پڑھا اس کی سو حاجتیں پوری ہو ں گی ۔ستر حوائج آخرت سے اور تیس حوائج دنیا سے پھر یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے درود شریف پر ایک فر شتہ مقرر کر دیا ہے جو اسے میری قبر میں داخل کر تا ہے ۔جس طرح تم پر ہدایا داخل کئے جاتے ہیں ۔بیشک موت کے بعد میرا علم ایسا ہی ہے جیسا حیا ت میں میرا علم ہے اور بیہقی کے الفاظ یہ ہیں کہ وہ فرشتہ درود پڑھنے والے کا نام اور اس کا نسب مجھے بتا تا ہے تو میں اسے ایک چمکتے ہوئے صحیفہ میں لکھ لیتا ہوں ۔

(۷) امام بیہقی نے روایت کی
عن انس ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ان الانبیاء لا یتروکون فی قبور ھم بعد اربعین لیلۃ ولکنھم یصلون بین یدی اللّٰہ سبحانہ وتعالٰی حتی ینفخ فی الصور
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مر وی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک انبیاء علیہم السلام چالیس راتوں کے بعد اپنی قبروں میں نہیں چھوڑ ے جاتے اور لیکن وہ اللہ سبحانہ وتعا لیٰ کے سامنے نماز پڑ ھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ صور پھونکا جائے ۔

(۸) سفیا ن ثوری نے جامع میں روایت کی اور کہا کہ
قال شیخ لنا عن سعید بن المسیب قال ما مکث نبی فی قبرہ اکثرمن اربعین لیلۃ حتی یرفع
ہما رے شیخ نے سعید بن مسیب سے روایت کی۔ انہوں نے فرمایا کوئی نبی اپنی قبر میں چالیس راتوں سے زیادہ نہیں ٹھہرتا یہاں تک کہ وہ اٹھالیا جا تا ہے ۔

(۹) امام بیہقی نے واقعہ معراج میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور اس میں رسول اللہ ﷺ کے یہ الفاظ ہیں ۔
وقد رأیتنی فی جماعۃ من الانبیاء فاذا موسٰی قائم یصلی واذارجل ضرب جعد کانہ من رجال شنؤۃ واذا ابن مریم قائم یصلی واذ ا ابراھیم قائم یصلی اشبہ الناس بہ صا حبکم یعنی نفسہ فحانت الصلٰوۃ فا ممتھم
اور بیشک میں نے خود اپنے آپ کو بھی جماعت انبیاء علیہم السلام میں دیکھا پھر موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ کھڑ ے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں ۔ نا گہاں ایک ایسے آدمی ہیں جو دبلے پتلے گھنگھریالے بالوں والے ہیں گویا کہ وہ شنوہ کے آدمیوں میں سے ہیں اور اچانک ابن مریم کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہوئے نمازپڑھ رہے ہیں ۔ اسی طرح ابراہیم علیہ السلا م کھڑے ہوئے نماز پڑ ھ رہے ہیں ۔وہ تمہارے صاحب سے بہت زیادہ مشابہ ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لفظ صاحب سے آپنے آپ کو مراد لیا پھر نماز کا وقت آگیا تو میں نے ان سب انبیاء علہیم السلام کی امامت کی ۔

(۱۰) امام بیہقی نے یہ حدیث بھی روایت کی۔
اِنَّ النَّا سَ یُصْعَقُوْنَ فَاَ کُوْنُ اَوَّلَ مَنْ یُّفِیْقُ
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا (نفخہ اولیٰ کے وقت ) سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے جس کو افاقہ ہو گا وہ میں ہو ں گا۔

اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام قیامت تک زندہ رہیں گے۔ اس لئے کہ زندگی کے بغیر کسی پر بے ہو شی کا حال طاری ہو نا ممکن نہیں۔پھر یہ بے ہوشی احساس و شعور کے لیے محض ایک حجاب ہو گی ۔ جسے موت کہنا جائز نہیں۔

(۱۱) ابویعلیٰ نے روایت کی
عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول والذی نفسی بیدِہٖ لینزلن عیسی ابن مریم ثم لَاِن قام علی قبری فقال یا محمّدُ لاجبتہ
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ۔ عیسیٰ ابن مریم ضرور نازل ہو نگے پھر وہ اگر میری قبر پر کھڑے ہو ں اوریا محمد ﷺ کہہ کر مجھے پکاریں تو میں انہیں ضر ور جواب دوں گا۔

(۱۲) ابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں روایت کی
عن سعید بن المسیّب قال لقد رأیتنی لیا لی الحرّۃ وما فی مسجد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم غیری وما یاتی وقت الصّلٰوۃ الا وسمعت الاذان من القبر
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا جنگ حرہ کے زمانہ میں میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ مسجد نبوی میں میرے سوا اس وقت کوئی نہ تھا۔ ان ایا م میں کسی نماز کا وقت نہ آ تا تھا، مگر قبر انور سے میں اذان کی آواز سنتا تھا ۔

(۱۳) زبیر بن بکار نے اخبارِ مدینہ میں روایت کی
عن سعید بن المسیّب قال لم ازل اسمع الاذان والاقامۃ فی قبر رسول اللّٰہ ﷺ ایام الحرۃ حتّٰی عاد الناس
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا میں ہمیشہ اذان اور تکبیر کی آواز رسول اللہ ﷺ کی قبر انور میں سنتا رہا۔ جنگ حرہ کے زمانہ میں یہاں تک کہ لوگ واپس آ گئے۔

( ۱۴) ابن سعد نے طبقات میں روایت کی
عن سعید بن المسیّب انہ کان یلازم المسجد ایام الحرۃ والناس یقتتلون قال فکنت اذا حانت الصلٰوۃ اسمع اذانا من قبل القبر الشریف
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنگ حرہ کے زمانہ میں وہ مسجد نبوی میں ٹھہرے رہے اور لوگ آپس میں قتال کر رہے تھے۔ سعید بن مسیب نے فرمایا کہ جب نماز کا وقت آ تا تو میں مسجد نبوی کی طرف سے اذان کی آواز سنتا تھا۔

(۱۵) دارمی نے اپنی مسند میں روایت کی انہوں نے کہا ہمیں مروان بن محمد نے خبر دی
عن سعید بن عبد العزیز قال لما کان ایام الحرّۃ لم یؤذن فی مسجد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ واٰلہ وسلم وان سعید بن المسیّب لم یبرح مقیما فی المسجد وکان لا یعرف وقت الصلٰوۃ الا بہمہمۃ یسمعہا من قبر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم
سعید بن عبدالعزیز سے مروی ہے انہو ں نے کہا جب حرہ کی جنگ کا زمانہ تھا تو رسول اللہ ﷺ کی مسجد شریف میں نہ اذان ہوتی نہ اقامت اورسعید بن مسیب رضی اللہ عنہ مسجد شریف ہی میں مقیم رہے انہیں نماز کے وقت کا علم نہ ہو تا تھا لیکن ایک آواز سے جسے وہ نبی کریم ﷺ کی قبر شریف سے سنتے تھے۔

یہ احادیث وروایات حضرات انبیاء کرام علیہم السلام بالخصو ص سید عالم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی حیات جسمانی اور حقیقی پر صاف اور واضح طور پر دلالت کر رہی ہیں ۔جن میں کسی قسم کی تاویل نہیں ہو سکتی۔

(۱۶) امام احمد نے اپنی مسند میں،ابو داؤد نے اپنی سنن میںاور بیہقی نے شعب الایمان میں بسند صحیح روایت کی ہے۔
عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ ﷺ قال ما من احد یسلم علی الا رد اللّٰہ علی روحی حتّٰی ارد علیہ السلام
حضرت ابو ہر یر ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، کوئی جو مجھ پر سلام بھیجے لیکن اللہ تعالیٰ میری روح کو مجھ پر لوٹا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اس کو اس کے سلام کا جواب دیتاہوں۔

احادیث منقولہ بالا سے انبیاء علیہم السلام کی حیات حقیقی کے ساتھ حسبِ ذیل امور مستفاد ہوئے
۱۔انبیاء علیہم السلام کا اپنی قبروں میں نماز پڑھنا اوردفن کے بعد چا لیس راتیں گزرنے کے بعد انکا قبروں سے اٹھا لیا جانا ۔
۲۔ہمارے نبی اکرم ﷺ پر درود شریف پیش کیا جانا اورسرکا ر ﷺ کا درود شریف سننا
۳۔ انبیا ء علیہم السلام کے اجساد مقدسہ کا کھانا زمین پر حرام ہے۔
۴۔ دور سے پڑھنے والے کا درود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پہنچا دیا جا تا ہے۔
۵۔ایک فرشتہ حضور ﷺ کی قبر انور پر مقرر ہے جوتمام مخلوق کی آوازیں سنتا ہے اور ہر ایک درود پڑھنے والے کا درود حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کرتا ہے ۔
۶۔ حضور ﷺ کی قبرِ انور میں درود شریف ہدایا کی صورت میں داخل کیاجاتا ہے۔
۷۔ حضور ﷺ کا علم وفات شریف کے بعد ایسا ہی ہے جیسے حیاتِ مقدسہ میں تھا۔
۸۔ حضور ﷺ درود بھیجنے والوں کا نام و نسب روشن صحیفے میں لکھتے ہیں۔
۹۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شبِ معراج خود اپنے آ پ کو بھی جماعت انبیاء علیہم السلام میں دیکھا ۔
۱۰۔ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قبرِ انور میں کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ۔
۱۱۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ابنِ مریم علیہما السلام و ابراھیم علیہ السلام کو نماز پڑھتے دیکھا۔
۱۲۔حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے نماز میں انبیاء علیہم السلام کی امامت فرمائی۔
۱۳۔تما م لوگ نفخہ اولیٰ کے وقت بیہوش ہوجائیں گے۔ سب سے پہلے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو افاقہ ہوگا۔
۱۴۔عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مزار مبارک پر کھڑے ہوکر اگر حضور ﷺ کو پکاریں تو حضور ﷺ انہیں ضرور جواب دیں گے ۔
۱۵۔قبرِ انور سے ہر نماز کے وقت اذان اور تکبیر کی آواز کا آنا۔
۱۶۔ہر سلام بھیجنے والے کے سلام بھیجنے کے وقت رسول اﷲ ﷺ پر ردّ روح ہونا اور ہر ایک کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جواب دینا۔

امور مفصلہ بالا سے حیات بعد الوفات کے علاوہ مندرجہ ذیل عنوانات نکلتے ہیں
۱۔ انبیا ء علیہم السلام کا اپنی قبروں میں نماز پڑھنا۔
۲۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود وسلام پیش کیا جانا۔
۳۔ اجساد انبیاء علیہم السلام کا بعد الوفات محفوظ رہنا۔
۴۔ بعد الوفات انبیاء علیہم السلام کے علم و ادراک اور سمع و بصر کا برقرار رہنا ۔
۵۔ قبورِ مقدسہ میں انبیاء علیہم السلام کے اعمال و تصرفات کا برقرار رہنا۔
۶۔ بارگاہِ اقدس میں درودشریف کا بصورت ہدیہ پیش کرنا۔
۷۔ قبور سے اجساد انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا اٹھایا جانا۔


موت و حیات
سب سے پہلے ہم موت اور حیات پر معروضات پیش کرتے ہیں علامہ سید محمود الوسی حنفی بغدادی رحمۃ اﷲ علیہ تفسیر روح المعانی میں ارقام فرماتے ہیں
والموت علی ما ذہب الکثیر من اھل السنۃ صفۃ وجودیۃ تضاد الحیاۃ واستدل علی وجودیتہ بتعلق الخلق بہ وھو لا یتعلق بالعدمی لازلیۃ الاعدام وذہب القدریۃ وبعض اھل السنۃ الی انہ امر عدمی ھو عدم الحیات عماھی من شانہ وھو المتبادر الی الذہن والاقرب الی الفہم واجیب عن الاستدال بالاٰیۃ بان الخلق فیھا بمعنی التقدیر وھو یتعلق بالعدمی کما یتعلق بالوجودی اوان الموت لیس عدما مطلقا صرفا بل ھو عدم شیٔ مخصوص ومثلہ یتعلق بہ الخلق والا یجاد بناء علی انہ اعطاء الوجود ولو للغیر دون اعطاء الوجود للشیٔ فی نفسہ او ان الخلق بمعنی الانشاء والاثبات دون الایجاد وھو بھذا المعنی یجری فی العدمیات او ان الکلام علی تقدیر مضاف ای اسباب الموت او ان المراد یخلق الموت والحـیـاۃ خلق زمان ومدۃ معینۃ لھما لایعلمھا الا اﷲ فایجاد ھما عــبــارۃ عـن ایـجــاد زمـانـھـا مـجـازا ولا یخفی الحال فی ہذہ الاحتمالات والموت علی ماسمعت والحیاۃ صفۃ وجودیۃ بلا خلاف وھی مایصح بوجودہ الاحساس اومعنی زائد علی العلم والقدرۃ یـوجب لـلمـوصوف بـہ حالا لم یکن قبلہ من صحۃ العلم والقدرۃ (روح المعانی جلد نمبر ۲۹ص۴/۵طبع مصر)
اکثر اہلسنت کے نزدیک موت صفت وجود یہ ہے جو حیات کی ضد ہے۔ ا س کے صفت وجودیہ ہونے پر آیت قرآنیہ خلق الموت والحیات سے استدلال کیا گیا۔ وجہ استدلال یہ ہے کہ ازلیت عدم کی وجہ سے امرِ عدمی کے ساتھ خلق متعلق نہیں ہوسکتی او ر قدر یہ اور بعض اہلسنت اس طرف گئے ہیں کہ موت امرِ عدمی ہے اور موت کے معنی ہیں قابلِ حیات چیز میں حیات کا نہ ہونا یہی معنی متبادر الی الذہن اور اقرب الی الفہم کے ہیں۔


ان قائلین کی طرف سے آیت سے استدلال کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ یہان خلق بمعنی تقدیر ہے اور وہ جس طر ح امرِ وجودی سے متعلق ہوتی ہے اسی طرح عدمی سے بھی متعلق ہوتی ہے یا یہ کہ موت صرف عدم مطلق نہیں، بلکہ وہ شیٔ مخصوص کا عدم ہے اور اس جیسے عدمی کے ساتھ اس بنا پر خلق متعلق ہو سکتی ہے کہ وہ اعطائے وجود ہے۔ اگرچہ یہ اعطاء فی نفسہ کسی شے کیلئے ہو نے کی بجائے غیر ہی کے لیے کیوں نہ ہو۔ بہر صورت اعطاء وجود ضرور ہے۔ لہٰذا بایں معنی اس کے ساتھ خلق ایجاد کا متعلق ہو نا درست ہو گا یا یہ کہ اس آیت میں خلق ایجاد کے معنی میں نہیں بلکہ انشاء واثبات کے معنی میں ہے اور بایں معنی فعل خلق کا عدمیات میں جاری ہو نا صحیح ہے یا یہ کہ کلام تقدیرِ مضاف پر ہے
ای خلق اسباب الموت یعنی موت نہیں بلکہ اسباب موت کو پیدا کیا یا یہ کہ اس آیت میں خلق موت و حیات سے موت وحیات کے زمانے اور ان کی مدت معینہ کا پیدا کرنا مراد ہے۔ جسے (ذاتی طورپر) اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ لہٰذا ان کی ایجاد مجازی طور پر عبارت ہے ان کے زمانے کی ایجاد سے یہ احتمالات ایسے ہیں جن کا حال اہلِ علم سے مخفی نہیں۔


حیات کے معنی
مو ت کے عدمی اور وجودی ہو نے میں اختلافِ اقوال تو آ پ سن چکے ۔ اب حیات کا حال سنیئے کہ حیات بغیر کسی خلاف کے صفت وجود یہ ہے۔ اس کی تعریف یہ ہے کہ جس صفت کے پائے جانے سے احساس کاوجود صحیح قرار پائے۔ وہ حیات ہے یا ایسے معنی کا نام حیات ہے جس کا وجود علم وقدرت کے وجود پر زائد ہو اور وہ اپنے موصوف کے لیے صحت وعلم وقدرت کے ایسے حال کو واجب کردے جواس سے پہلے نہ تھا۔ (روح المعانی، ص ۵، ج ۴)


۲۔ قاضی ثناء اللہ تفسیر مظہری میں فرماتے ہیں

والحـیـاۃ مـن صـفات اللّٰــہ تعالیٰ وھی صفۃیستتبعہا العلم والقدرۃ والارادۃ وغیرھا من صفات الکمال وقد استودعھا اللّٰہ تعالیٰ فی الممکنات وخلقھا فیھا علی حسب ارادتہ واستعداد اتھا فظھرت فی الممکنات علی مراتب شتی ظھر ت فی بعضھا بحیث یستتبع المعرفۃ وفی بعضھا بحیث یستتبع الحس و الحرکۃ الحیوانیۃ المعبر عنھا و عما یقابلھا بقولہ تعالیٰ کُنْتُمْ اَمْوَاتاً فَاَ حْیَا کُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ والموت فی کل مرتبۃ من المراتب المذکورۃ عبارۃ عن عدم الحیاۃ او مطلقـا اوعدم الحیاۃ عمامن شانہ ان یکون حیا فالتقابل بینھما اما تقابل العدم و الملکۃ اوالا یجاب والسلب فھی صفۃ عدمیۃ وقال بعض العلماء الموت صفۃ وجودیۃ والتقابل بالتضاد فہی کیفیۃ فی الاجسام مانعۃ من العلم و القدرۃ والحس والحرکۃ و نحوھا الخ (تفسیر مظہری پ ۲۹ ص۱۸)
اور حیات اللہ تعالیٰ کی صفات سے ہے اور وہ ایسی صفت ہے۔ جس کے ساتھ علم و قدرت ، ارادہ وغیرہ تمام صفات کمالیہ وابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صفت حیات ممکنات میں ودیعت فرمائی اور افراد ممکنات میں اسے اپنے ارادے اوران کی قابلیتوں کے موافق پیدا کیا۔ چنانچہ و ہ صفت حیات ممکنات میں مختلف مراتب پر ظاہر ہوئی۔ بعض میں اس طرح کہ اس کے ساتھ معرفت وابستہ ہے اور بعض میں اس طرح کہ حس و حرکت حیوانیہ اس کے ساتھ مربوط ہے جسے مع اس کے مقابل کے
کُنْتُمْ اَمْوَاتاً فَاَ حْیَا کُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ کے ساتھ تعبیر کیا گیا اور موت مراتب مذکورہ میں سے ہر مرتبہ میں عبارت ہے عدم حیات سے ، یامطلقاًعدم سے یا عدم الحـیاۃ عما من شانہ ان یکون حیاسے۔ پس تقابل ان دونوں کے درمیان یا تقابل عدم والملکہ ہے یا تقابل الایجاب والسلب ہے ۔ ان دونوں صورتوں میں موت صفت عدمیہ قرار پائے گی اور بعض علماء نے کہا کہ موت صفت وجودیہ ہے اور ان دونوں کے درمیان تقابل تضاد ہے۔ اس قول پر موت اجسام میں ایسی کیفیت کا نام ہے جو علم وقدرت اور حس و حرکت وغیرہ سے مانع ہو۔


(۳) علامہ نسفی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر مدارک میں فرماتے ہیں
(والحیٰوۃ) ای مـا یصح بوجودہ الاحساس والموت ضدہ و معنیٰ خلق الموت والحیوٰۃ ایجاد ذلک المصحح واعدامہ(تفسیر مدارک جلد ۴ص۲۰۶)
حیات وہ ہے جس کے پائے جانے سے احساس کا و جو د صحیح قرار پائے اور موت اس کی ضد ہے اور
خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَکے معنیٰ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس مصحح کا ایجاد واعدام فرمایا۔


(۴) امام راغب اصفہانی مفردات میں فرماتے ہیں
الحیاۃ تستعمل علی اوجہ الاول للقوۃ النامیۃ الثانیۃ للقوۃ الحساسۃ (مفردات امام راغب ص۱۳۸طبع مصر)
حیات کا استعمال کئی وجہ پر ہے اول قوت نامیہ کے لئے دوم قوت حساسہ کیلئے۔


(۵) امام جلال الدین تفسیر جلالین میں فرماتے ہیں۔
الحیٰـوۃ وھی مابہ الاحساس والموت ضدھا اوعدمہ قولان والخلق علی الثانی بمعنی التقدیر (جلالین ص۴۶۴)
حیات وہ صفت ہے جس کے ساتھ احساس ہو اور موت اس کی ضد ہے یا اس کا عدم یہ دو قول ہیں اور قول ثانی کی بناء پر خلق بمعنی تقدیر ہے۔


(۶) علامہ خازن تفسیر خاز ن میں فرماتے ہیں۔
و قیل ان الموت صفۃ و جو د یۃ مضا دۃ للحیاۃ وقیل الموت عـبـارۃعـن زوال الـقـوۃ الحیوانیۃ وابانۃ الروح عن الجسد و ضدہ الحیاۃ وھی القوۃ الحساسۃ مع و جود الروح فی الجسد و بہ سمی الحیوان حیواناً (تفسیر خازن جلد۷ص۱۰۳، ۱۰۴)
بعض نے کہا کہ موت صفت و جو د یہ ہے جو حیات کی ضد ہے اور بعض نے کہا کہ موت قوت حیوانیہ کے زائل ہو جانے اور جسم سے روح کے جدا ہو جانے کا نا م ہے۔ اس کی ضد حیات ہے اور حیات ایسی قوت حساسہ کو کہتے ہیں جو عادتاًبدن میں روح کے پائے جانے کے ساتھ پائی جائے اور اسی وجہ سے حیوان کا نام حیوان رکھا گیا ہے۔


ان تمام عبارات و اقتباسات سے یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آگئی کہ حیات ایسی صفت کا نا م ہے جو علم وقدرت سمع و بصر کا سبب ہو اور موت وہ صفت ہے جو علم وقدرت سمع و بصر سے مانع ہو یا ان امورِ مخصوصہ کے عدم کا نام موت ہے جن علماء نے ازالہ قوت حیوانیہ اور ابانۃ الروح عن الجسد (قوت حیوانیہ کا زائل ہو نا اور جسم سے روح کا جدا ہو نا ) موت کے معنی بیان کئے ہیں۔ ان کے کلام کا مفاد بھی اسی صفت کا انعدام ہے جو علم و احساس قوت وارادہ کی مصحح تسلیم کی جاتی ہے ۔ رہا یہ امر کہ روح کا بدن میں ہو نا حیات ہے اور بدن سے اس کا مجرد خروج موت ہے تو موت و حیات کی یہ تعریف آج تک کسی نے نہیں کی پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حیات پر تو یہ تعریف کسی طرح صادق نہیں آسکتی۔ اس لئے کہ وہ جسم و روح سے پاک ہے ۔ اس تقدیر پر حیات النبی کے انکار کے ساتھ حیات الٰہی کا بھی انکار لازم آئے گا۔ معاذاللہ ثم معاذ اللہ!


کائنات میں روح سبب حیات ہو سکتی ہے۔ لیکن اسے نفس حیات کہنا کسی طرح درست نہیں علی ہذا روح کو خالق حیات کہنا بھی باطل محض بلکہ کفر خالص ہے۔
خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَـیٰوۃَ اس دعویٰ کی روشن دلیل ہے۔ کہ موت و حیات کی ایجاد یا تقدیر محض اللہ تعالیٰ کا فعل ہے ۔


ہاں البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ممکنات عالم کے افراد میں علم و ادراک ، قوت وارادہ حرکت و احساس کی صفت مصححہ پائے جانے کے لئے ان میں عادۃً روح کا ہو نا ضروری ہے کیونکہ روح سبب حیات ہے اور سبب کا بغیر مسبب کے پایا جانا محال عاد ی ہے۔


اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ بدن میں روح کا مجرد دخول اور اس سے مطلق خروج حقیقتاً مو ت و حیات نہیں حقیقی موت و حیات جسم میں صفت مصححہ للعلم والقدرۃ (
اوما یقوم مقامھا ) کا ہو نا یا نہ ہو نا ہے البتہ روح کے اس د خول و خروج کو موت عادی و حیات عادی سے تعبیر کیا جا سکتاہے ۔ اور اسے حقیقی موت و حیات کیلئے سبب عادی کہا جا سکتاہے ۔ اسباب و عادات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور خالق و موجد حقیقی اپنی تاثیر و ایجاد میں اسباب و علل کا محتاج نہیں ہو ا کرتا۔ اس کی شان یَفْعَلُ مَایَشَآئُ اور فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُہے ۔اگر وہ چاہے تو عادت کے خلاف بھی کر سکتاہے اور سبب کے بغیر ہی مسبب کو وجود میں لا سکتاہے بلکہ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ سبب کے باوجود مسبب کو نہ ہو نے دے۔ دیکھئے !مر دوعورت کا و جو د اور ان کا اجتماع معہود انسانی پیدائش کا سبب عادی ہے ۔ جیسا کہ تمام دنیا کے انسان اسی سبب کے ماتحت پیدا ہو رہے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے کسی حکمت کے مو افق اپنی قدرت کا اظہار چاہا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سبب عادی کے بغیر پیدا کر دیا اور آدم و حوا علیہما السلام کی تخلیق بھی اسی سبب معہود کے بغیر ہوئی۔ پھر یہ حقیقت بھی نا قابل انکار ہے کہ ہزاروں نہیں بلکہ بے شمار مواقع ایسے ہیں کہ جہاں پیدائش انسانی کا سبب معہود مو جو د ہے ۔ لیکن تخلیق انسانی مفقود ہزاروں گھر بے چراغ ملیں گے ۔ جہاں میاں بیوی ہزاروں جتن کر نے کے باو جو د بھی اولاد کی نعمت سے محروم ہیں تو کیا اس کے باو جو د بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ روح کے بغیر تاثیر حیات معاذ اللہ تحت قدرت نہیں ۔


خلاصہ یہ کہ موت و حیات ہر ایک کی دو قسمیں ہیں۔ موت عادی، موت حقیقی۔ حیات عادی، حیات حقیقی۔ جسم میں روح کا نہ ہونا یا ہونے کے بعد نکل جانا موت عادی ہے اور جسم میں روح کا موجود ہونا حیاتِ عادی ہے اور جسم میں صفت مصححہ للعلم والقدرۃ (
اوما یقوم مقامہا) کا پایا جانا حیاتِ حقیقی ہے اور اس کا نہ پایا جانا موتِ حقیقی ہے۔


اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ کسی جسم میں روح کے بغیر حیات حقیقی پیدا کر دے اور اسی طرح وہ اس پر بھی قادر ہے کہ کسی جسم میں روح کے مو جو د ہو تے ہوئے حیات حقیقی کو پیدا نہ ہو نے دے یہ اور بات ہے کہ وہ اپنی حکمت کی بناء پر ایسا نہیں کر تا لیکن اگر کرنا چاہے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں۔


اس مقام پر یہ شبہ پیدا نہ کیا جائے کہ قبض روح کے باوجود بھی کسی جسم میں علم و ادراک اور قدرت و احساس پایا جائے تو بیک وقت موت و حیات کا اجتماع لازم آئے گا جو باطل ہے کیونکہ ہم اس کے جواب میں عرض کر یں گے کہ مجرد قبض روح موت عادی ہے ۔ حقیقی نہیں اور قبض روح کے بعد علم و ادراک سمع و بصر اور قدرت و تصرف کا پا یا جا نا حیات حقیقی ہے۔ عادی نہیں۔ موت عادی حیات عاد ی کے منافی ہے اور حیات حقیقی موت حقیقی کے ۔ حقیقی کو عادی کے اور عادی کو حقیقی کے منافی سمجھنا جہالت ہے۔


لہٰذا قبض روح کے ساتھ حیات حقیقی کا پایا جانا بلاشبہ جائز ہے اگرچہ یہ بیان اپنے مقام پر اس قدر پختہ ہے کہ کسی قسم کی تائید و تقویت کا محتاج نہیں۔ لیکن ناظرین کرام کے اذہان میں راسخ کر نے کے لئے ہم بعض شواہد پیش کر تے ہیں۔ تاکہ ادنیٰ خفاکا امکان بھی باقی نہ رہے۔


(۱) بخاری شریف میں وار د ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر شریف کے بننے سے پہلے کھجور کی ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر شریف بن گیا تو حضور ﷺ اس لکڑی کو چھوڑ کر منبر پر جلور گر ہوئے وہ لکڑی حضور ﷺ کے فراق میں اس طرح روئی جیسے کسی اونٹنی کا بچہ گم ہو جائے اور وہ درد ناک آواز سے روئے۔ ملاحظہ فرمایئے، بخاری شریف میں ہے ۔
فلما وضع لہ المنبر سمعنا للجذع مثل اصوات العشار حتی نزل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فوضع یدہ علیہ (بخاری جلد اول ص۱۲۵)
جب حضور ﷺ کیلئے منبر رکھا گیا (اور حضور ﷺ کھجور کے تنے کوچھوڑ کر منبر پر جلوہ گر ہوئے )تو ہم نے اس لکڑی کی ایسی درد ناک آواز سنی جیسے گم کردہ اولاد اونٹنیوں کی غم ناک آوا ز ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ منبر شریف سے اُترے اور اس پر اپنادست کرم رکھ دیا۔


اسی بخاری شریف کی دوسری روایت میں ہے کہ صحابہ کرام نے فرمایا کھجور کا وہ خشک تنا ایسی درد ناک آواز سے رو یا جسے سن کر قریب تھا کہ ہمارے جگر پھٹ جائیں۔


علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث شریف کی شرح میں فرماتے ہیں
وفیہ دلیل علی صحۃ رسالتہ وہو حنین الجمادو ذالک ان اللّٰہ تعالٰی جعل للجذع حیاۃ حن بہا۔ عینی حاشیہ بخاری ص ۱۲۵ (۱۲)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی صحت رسالت کی دلیل ہے اور وہ جسم بے جان کا (جانداروں کی طرح ) رونا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے کھجور کی خشک بے جان لکڑی میں ایسی حیات پیدا کر دی جس کی وجہ سے وہ غم ناک آواز کے ساتھ روئی۔


جماد غیر ذی روح کو کہتے ہیں۔ اس کے رونے کو علامہ عینی شارح بخاری نے اس کی حیات قرار دیا۔معلوم ہو اکہ بغیر روح کے حیات ممکن ہے۔


(۲) علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے مقدمہ صحیح مسلم کی شرح میں ربعی، ربیع، مسعود تینوں بھائیوں کے مرنے کے بعد ہنسنا اور کلام کر نا حسب ذیل عبارت میں بیان فرمایا ہے
وھو ربعی بن حراش بن جحش العسبی بالموحدۃ الکوفی ابو مریم اخو مسعود الذی تکلم بعد الموت و اخوھما ربیع و ربعی تابعی کبیر جلیل لم یکذب قط و حلف انہ لا یضحک حتی یعلم این مصیرہ فما ضحک الا بعد موتہ و کذالک حلف اخوہ ربیع ان لا یضحک حتی یعلم افی الجنۃ ھو اوفی النار قال غاسلہ فما زال متبسما علی سریرہ و نحن نغسلہ حتی فرغنا۔ (شرح مقدمہ صحیح مسلم جلد اول ص ۷)
ترجمہ: اور وہ ربعی بن حراش بن حجش ہیں۔ ان کی کنیت ابو مریم ہے۔ یہ مسعود کے بھائی ہیں۔ جنہوں نے مرنے کے بعد کلام کیا اور ان دونوں (ربعی اور مسعود ) کے بھائی ربیع ہیں۔ ربعی جلیل القدر تابعی ہیں جنہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور انہوں نے قسم کھائی تھی کہ جب تک انہیں اپنا ٹھکانہ معلوم نہ ہو جائے وہ نہ ہنسیں گے۔ چنا نچہ وہ موت کے بعد ہی ہنسے اسی طرح ان کے بھائی ربیع نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک نہیں ہنسیں گے جب تک کہ انہیں اپنے جنتی یا ناری ہو نے کا علم نہ ہو جائے۔ ان کی لاش کو غسل دینے والے نے کہا کہ ربیع ہمارے غسل دینے کے ا ثناء میں اپنے سر یر پر برابر ہنستے رہے۔ یہاں تک کہ ہم ان کے غسل سے فارغ ہوئے۔


(۳) امام جلال الدین سیوطی نے بروایت ابو نعیم و بیہقی ربعی بن حراش کی ایک روایت نقل فرمائی ہے، جس میں انہوں نے اپنے بھائی ربیع بن حراش کے مرنے کے بعد ان کے کلام کر نے کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ روایت حسب ذیل ہیں۔
و اخرج ابو نعیم عن ربعی قال کنا اربعۃ اخوۃ وکان ربیع اخی اکثرنا صلوٰۃ واکثرنا صیاما وانہ توفی فبینا نحن حولہ اذ کشف الثوب عن وجہہ فقال السلام علیکم فقلنا وعلیکم السلام ابعد الموت؟ قال نعم انی لقیت ربی بعد کم فلقیت ربا غیر غضبان فاستقبلنی بروح وریحان واستبرق الاوان ابالقاسم ینتظر الصلوٰۃ علی فعجلو ابی ولا تؤخروانی ثم طفی فنحی الحدیث الی عائشۃ رضی اﷲ عنہا فقالت اما انی سمعت رسول اﷲ ﷺ یقول یتکلم رجل من امتی بعد الموت قال ابو نعیم حدیث مشہور واخرج البیہقی فی الدلائل وقال صحیح لاشک فی صحتہ(شرح الصدور ص ۲۸ مطبوعہ مصر)
امام ابو نعیم نے ربعی سے روایت کیا ہے ربعی فرماتے ہیں ہم چار بھائی تھے اور میرا بھائی ربیع ہم سب میں زیادہ نماز روزہ کی کثرت کرنے والا تھا۔ اس کی وفات ہوگئی ۔ اس کے مرنے کے بعد ہم سب اس کے آس پا س بیٹھے تھے ۔ یکدم اس نے اپنے منہ سے کپڑا ہٹا دیا اور السلام علیکم کہا ہم نے وعلیکم السلام کہہ کر جواب دیا اور کہا کہ موت کے بعد کلام؟ اس نے کہا کہ ہاں موت کے بعد میں نے اپنے رب سے اس حال میں ملاقات کی کہ وہ غضبناک نہیں تھا۔ میرے رب نے اعلیٰ درجہ کی نعمتوں اور ریشمی لباس کے عطیہ کے ساتھ میرا استقبال کیا۔ خبردار ہوجاؤ کہ بے شک ابوالقاسم حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ مجھ پر نماز پڑھنے کا انتظار فرمارہے ہیں۔ تم میرا جنازہ جلدی لے کر چلو میرے لیجانے میں دیر نہ کرو۔ پھر سکوت موت کے ساتھ خاموشی اختیارکی۔ انہوں نے حدیث کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا تک پہنچایا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا خبردار بیشک میں نے رسول اﷲ ﷺ سے سنا ہے فرماتے تھے میری امت میں سے ایک آدمی موت کے بعد کلام کرے گا۔ ابو نعیم نے کہا یہ مشہور حدیث ہے اور امام بیہقی نے بھی دلائل میں اس کی تخریج کی اور یہ کہا کہ یہ حدیث ایسی صحیح ہے جس کے صحیح ہونے میں کوئی شک نہیں۔


ان تینوں جلیل القدر تابعین کا مرنے کے بعد اثنا غسل میں ہنسنا اور قبل الدفن کلام کرنا روح کے بغیر حیات پائے جانے کی ایسی روشن دلیل ہے جس کا انکار جاہل معاند کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔


(۴) حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ نے خود نبی اکرم ﷺ کے قبر انور میں جلوہ گرہونے کے بعد دفن سے پہلے کلام فرمانے کو نقل کیا ہے ۔ مدارج النبوۃ میں ہے
وبود قثم بن عباس آخر کسے کہ برآمداز قبرو ازوے می آرند کہ گفت آخر کیسکہ روئے مبارک آنحضرت ﷺ رادید در قبر من بودم نظر کردم در قبر کہ آنحضرت علیہ السلام لب ہائے مبارک خودرامی جنبانید۔ پس گوش پیشِ دہان وے داشتم شنیدم کہ می فرمود رب امّتی، امّتی انتہیٰ (مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۵۶۸ مطبوعہ نو لکشور)
حضرت قثم بن عباس قبر انور سے باہر آنیوالوں میں سب سے آخر تھے ۔ ان سے مروی ہے جس نے قبر انور میں رسول اللہ ﷺ کا آخری دیدار کیا وہ میں تھا۔ میں نے قبر انور میں دیکھا کہ آنحضرت ﷺ اپنے لب ہائے اقدس کو متحرک فرمارہے ہیں۔ دہن اقدس کے آگے میں نے اپنے کان لگادئیے۔ میں نے سنا کہ حضور ﷺ رب امّتی امّتی فرمارہے تھے ۔


اس روایت کے بعد کسی مجادل کو یہ کہنے کا موقع نہ رہا کہ قبض روح کے بعد ثبوت حیات کیلئے خاص رسول اﷲ ﷺ کے متعلق کوئی دلیل موجو د نہیں ۔الحمد للہ! یہ آخری حجت بھی تمام ہو ئی ۔


روح کے بغیر حیات پائے جا نے کا مسئلہ امام زرقانی رحمتہ اللہ علیہ نے نہایت تفصیل سے لکھا ۔اس مو قع پر ان کا نمونہ کلام بھی ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے ۔ دیکھئے امام زرقانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
وقد ثبت ان اجساد الا نبیا ء لا بتلی وعود الروح الی الجسد ثابت فی الصحیح لسائر الموتی فضلا ای نھایۃ عن الشھداء فضلاعن الانبیاء وانما النظر فی استمر ارھا فی البدن وفی ان البدن یصیر حیا کحالتہ فی الدنیا اوحیا بدونھا وھی حیث شاء اللّٰہ تعالیٰ فان ملازمۃ الروح للحیاۃ امر عادی اجری اللّٰہ بہ العادۃ فیجوز تخلفہ (لا عقلی)فیمتنع تخلفہ فہذا ای الحیاۃ بلاروح مما یجوزہ العقل فان صح بہ سمع اتبع وقد ذکرہ جماعۃ من العلماء و یشھدہ صلوۃ موسٰی فی قبرہ کما ثبت فی الصحیح (زرقانی جلد پنجم ص ۳۳۴ مطبوعہ مصر)
یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اجساد انبیاء علیہم السلام بو سیدہ نہیں ہوتے اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں کل اموات کیلئے جسم میںروح کا لو ٹنا بھی ثابت ہو چکا ہے۔ چہ جائیکہ شہدا ء پھر چہ جائیکہ انبیاء کرام علیہم السلام اعادہ روح فی الجسد میں نہیں بلکہ ہماری نظر تو صرف اس بات میں ہے کہ اعادہ کے بعد ارواح اجسام کریمہ میں دائم اور مستمر رہتی ہیں اور اس بات میں کہ بدن مبارک حیات دنیا کی طرح زندہ ہو جا تا ہے ۔ یا ارواح کے بغیر ہی زندہ رہتا ہے اور مقدس روحیں وہا ں رہتی ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ چا ہتا ہے کیونکہ روح و حیات کا آپس میں لازم ملزوم ہو نا محض امر عادی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح عادت کو جاری فرما دیا ہے ۔ ایسی صورت میں ایک دوسرے کے بغیر ہو نا ممکن (بلکہ امر واقع ) ہے ۔ یہ ملازمہ عقلی نہیں کہ روح و حیات کا ایک دوسرے کے بغیر پایا جا نا ممتنع ہو لہٰذا یہ حیات بلا روح ایسے امور سے ہے جنہیں عقل جائز رکھتی ہے۔ اگر کوئی دلیل سمعی اس کے ثبوت میں درجہ صحت کو پہنچ جائے تو ضرور اس کی اتباع کی جائیگی اور دلیل سمعی کو علماء کی ایک جماعت نے ذکر کیا ہے اور موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قبر میں نماز پڑھنا بھی اس دعویٰ کی دلیل ہے جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔ (زرقانی جلد ۵ص ۳۳۴)


علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ عبارت ہمارے بیان سابق کی ایسی روشن تائید ہے جسے پڑھ کر کوئی اہل علم اس کی صحت میں تردد نہیں کر سکتا۔
 

پچھلا صفحہ                        اگلا صفحہ

ہوم پیج