٭ میرے آقاﷺ  کسی ایک پر رحم کرنے والے نہیں بلکہ آپالعالمین پر رحم کرنے والے ہیں۔ پہلے تو آپ کو زندہ مانو کیونکہ آپﷺ  زندہ نہ ہوں تو راحم نہیں ہوسکتے، فقط آپﷺ  کو زندہ ماننے سے کام نہیں ہوگا بلکہ یہ کہو کہ آپﷺ  زندہ بھی ہیں اور العالمین کا حال بھی دیکھ رہے ہیں۔ اگر العالمین کا حال آپ کی نگاہوں کے سامنے نہ ہو تو خالی زندہ تو کوئی بھی رحم نہیں کرسکتا۔ اسی لئے حضورﷺ  نے فرمایا
ان اللّٰہ رفع لی الدنیا فانا انظر الیھا والی ماھو کائن فیھا کانما انظر الی کفی ھذہٖ الی یوم القیمۃ۔ (۱)
اللہ تعالیٰ  نے میرے سامنے ساری دنیا کو پیش فرما دیا پس میں اس دنیا کو اور جو اس میں قیامت تک ہونے والا ہے اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے اپنے ہاتھ کو۔
یعنی خدا نے ساری کائنات کو میری نگاہوں کے سامنے رکھ دیا ہے اور میں عالم کے ذرے ذرے کو نگاہ رسالت سے دیکھ رہا ہوں بلکہ میں تو پھر یہی کہوں گا کہ میرے آقاﷺ  سب کو دیکھ رہے ہیں اور سب کے حال کو جان رہے ہیں، سب کے ظاہر کو بھی دیکھ رہے ہیں، سب کے باطن کو بھی، سب کے جسموں کو بھی دیکھ رہے ہیں اور سب کی ارواح کو بھی، یہاں تک کہ میرے آقاﷺ  وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے، حضورﷺ  وہ جانتے ہیں جو ہم نہیں جان سکتے۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ میں اپنا حال نہیں جان سکتا مگر میرے آقاﷺ  میرے حال سے بخوبی آگاہ ہیں کیونکہ اگر وہ حال نہ جانیں تو رحم کیسے کریں؟ اور رحم کرنے کے لئے تو حال کا جاننا ضروری ہے۔ پتا چلا کہ
العالمین پر رحم کرنے کے لئے وہ زندہ بھی ہیں اورالعالمین کا سب حال مصطفیٰﷺ  کی نگاہوں کے سامنے بے حجاب بھی ہے یعنی وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ اور حال جاننے سے کبھی کچھ نہیں ہوگا، تیسری شرط اور بھی ہے اور وہ یہ کہ کوئی زندہ بھی ہو، حال بھی جانتا ہو، مگر رحم جب ہی کرسکتا ہے کہ اس کو معلوم پر رحمت اور نعمت پہنچانے کی قدر ت اور اختیار بھی ہو۔ اگر اس کو قدرت اور اختیار نہیں ہے تو وہ رحم نہیں کرسکتا خواہ زندہ بھی ہو اور حال بھی جانتا ہو۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب لوگ کسی بے قصور آدمی کو پکڑ لیتے ہیں اور وہ آپ کو مدد کے لئے پکارتا ہے تو آپ اس وقت زندہ بھی ہوتے ہیں اور حال بھی جانتے ہیں کہ یہ شخص بے قصور ہے مگر ایمان سے کہنا کہ آپ کچھ کرسکتے ہیں؟ صحیح یہ ہے کہ کچھ نہیں کرسکتے، اس لئے کہ آپ کو کوئی قدرت اور اختیار حاصل نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا کہ قدرت اور اختیار کے بغیر بھی رحم نہیں ہوسکتا خالی زندہ ہونے سے اور حال جاننے سے رحم نہیں ہوسکتا، رحم تب ہی ہوسکتا ہے کہ زندہ بھی ہو حال بھی جانتا ہو اور قدرت اور اختیار بھی رکھتا ہو۔ اس لئے اللہ تعالیٰ  نے فرمایا
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن
پیارے حبیب! ہم نے سارے عالموں کے لئے آپ کو رحمت کرنے والا بنا کربھیجا ہے۔
آپﷺ  زندہ بھی ہیں اور
العالمین کے ذرے ذرے کا حال بھی جانتے ہیں اور العالمین کے ذرے ذرے پر قدرت اور اختیار رکھتے ہیں جب چاہیں جبل پر کھڑے ہو کر انگلی کے اشارے سے چاند کو دو ٹکڑے کردیں (۱) جب چاہیں ڈوبے ہوئے سورج کو انگلی کے اشارے سے واپس بلا لیں۔حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضورﷺ  نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو اپنے ایک کام سے بھیجا جو دراصل اللہ تعالیٰ  کا کام تھا، اللہ تعالیٰ  کے دین کا کام تھا وہ جب حاضر ہوئے تو نماز عصر ہوچکی تھی۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے ابھی تک نماز عصر نہیں پڑھی تھی مگر سرکارﷺ  ان کی ران پر سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ اب حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے سوچا کہ حضورﷺ  کو جگا کر عصر کی نماز پڑھوں یا عصر کی نماز کو حضورﷺ  کی نیند پر قربان کردوں۔ کیا کروں؟ بالاخر حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کا فیصلہ یہ تھا کہ سرکارﷺ  کا جمال دیکھتے رہو اور حضورﷺ  کو آرام فرمانے دو کیونکہ نماز تو قضا بھی پڑھی جاسکتی ہے مگر نگاہ جو جمال رسالت سے ہٹ جائے گی تو اس کی قضا نہیں ہوسکتی۔ معلوم نہیں زندگی میں پھر ایسا کوئی موقع ملے یا نہیں، لہٰذا حضورﷺ  کو نہ جگایا، حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ اسی خیال میں رہے۔ یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور انہوں نے حضورﷺ  کو نہ جگایا جبکہ اللہ تعالیٰ  کا حکم ہے کہ
حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ۔ (البقرۃ: ۲۳۸)
سب نمازوں کی پابندی کرو اور خصوصا درمیانی نماز کی اور کھڑے ہو اللہ تعالیٰ  کے حضور ادب سے۔
ذرا غور فرمایئے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ نے اپنی اس نماز کو حضورﷺ  کی بے مثال نیندپر قربان کردیا۔ جب حضورﷺ  بیدار ہوئے تو حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کوغمگین پاکر وجہ دریافت فرمائی حالانکہ حضورﷺ  کی نیند بھی ہماری نیند جیسی نہ تھی، بخاری شریف میں ہے۔
تنام عینہ ولا ینام قلبہ کہ آپ کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل جاگتا ہے، جس کا یہ عالم ہو اسے خود پر قیاس کرنا کتنی بڑی نادانی ہے۔ (۱)
شبہ اور اس کا ازالہ
شاید آپ کہیں کہ جب بات یہ تھی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضورﷺ  نے جان بوجھ کر حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی نماز قضاء کرادی، جب آپﷺ  کا قلب اطہر نیند میں نہیں ہوتا تو حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کو بے چین اور سورج کو غروب ہوتا دیکھ ان کو وقت پر نماز ادا کرنے کا حکم فرماتے۔ میں یہ کہوں گا یہ بات ہرگز نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضورﷺ  تو کوئی کام خود سے کرتے ہی نہیں
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ (النجم: ۴۳)
یعنی اگر حضورﷺ  بولتے ہیں تو وہ خدا کی بات ہوتی ہے۔ وہ خود سے کچھ کرتے ہی نہیں بلکہ وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ خدا کا کرنا ہوتا ہے۔
وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی۔ (الانفال: ۱۷)
گویا ان کا ہاتھ خدا کا ہی ہاتھ ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ۔ (الفتح: ۱۰)
بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔
یہ عرفاء اور محققین کا قول ہے، یہ ان لوگوں کا قول ہے جو مرکز روحانیت ہیں وہ اس شبہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ  سوئے تو اللہ تعالیٰ  نے اپنے جمال الوہیت کو اپنے محبوب کی نگاہوں کے سامنے بے حجاب کردیا کہ پیارے حبیب! تو میرے حسن و جمال کو دیکھتا رہ پھر کیا تھا حضورﷺ  اللہ تعالیٰ  کے حسن و جمال کو دیکھنے میں ایسے مشغول ہوئے کہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی نماز قضاء ہوگئی۔ جب سورج ڈوب گیا تو اللہ تعالیٰ  نے فرمایا۔ میرے محبوب! ذرا ادھر بھی توجہ فرمایئے، اب جو دیکھا کہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی نماز قضاء ہوگئی ہے تو حضورﷺ  نے یوں دعا فرمائی
اللّٰھم ان علیا کان فی طاعتک و طاعۃ نبیک فارددعلیہ الشمس (۱)
اے اللہ تعالیٰ  تو خوب جانتا ہے علی تیری اور تیرے نبی کی اطاعت میں تھا(اور اس کی نماز عصر قضا ہوگئی) تو اس پر سورج کو واپس کردے۔
پھر حضورﷺ  نے اپنی مبارک انگلیوں سے سورج کو اشارہ فرمایا تو ایسا معلوم ہوا کہ سورج حضورﷺ  کی مبارک انگلیوں سے بندھا ہوا تھا۔
تو پتا چلا کہ آپﷺ  زندہ ہیں، اور ذرے ذرے کا حال بھی جانتے ہیں رحم کرنے کی قدرت اور اختیار بھی رکھتے ہیں، میں آپ کو نبی کی قدرت اور اختیار کا کیاحال بتائوں میرا تو ایمان ہے کہ جہاں ساری کائنات بے اختیار ہو اور سارا جہاں مجبور ہو اللہ تعالیٰ  کا نبی وہاں بھی مختار ہوتا ہے، بتایئے۔
فَاِذَاجَآئَ اَجَلُھُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ۔ (الاعراف: ۳۴)
فرمان خداوندی ہے یا نہیں؟ جب موت کا فرشتہ کسی کے پاس آجائے تو کوئی جرأت کرکے یہ کہہ سکتا ہے کہ اے عزرائیل آج نہیں کل آجانا! ہرگز نہیں لیکن میں خدا کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ نبی کو یہ اختیار ہے کہ وہ چاہے موت کے فرشتے کو آنے دے یا چاہے تو نہ آنے دے، وہ دنیا میں رہنا چاہے یا آخرت میں جانا چاہے تو اس کو اختیار حاصل ہے اور اگر کوئی فرشتہ نبی کی اجازت کے بغیر آجائے تو صحیح و سالم واپس نہیں جاسکتا، دیکھئے بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے کہ جب حضرت عزرائیل علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا آپ کیسے آئے ہیں؟
فَقَالَ لَـہٗ عرض کیا اُجِبْ رَبَّکَ اپنے رب کے بلاوے پر لبیک کہیئے۔ یعنی میں قبض روح کے ارادے سے آیا ہوں بس حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جلال آگیا راوی کہتا ہے
فلطم موسیٰ عین ملک الموت ففقاھا فقال فرجع الملک الی اللّٰہ فقال انک ارسلتنی الی عبدلک لا یرید الموت وقد فقا عینی۔ (۱)
حضرت موسیٰ نے طمانچہ مار کر ملک الموت کی آنکھ نکال دی، ملک الموت بارگاہ خداوندی میں جاکر عرض گزار ہوئے، مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجاجو مرنا نہیں چاہتا اور اس نے آنکھ نکال دی۔
یہ موت کا فرشتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کچھ نہ کرسکا، حالانکہ وہ جلیل القدر فرشتہ ہے کہ جو بادشاہ، امیر، کبیر اور پہلوان جس کے پاس پہنچ جائے کوئی اعتراض کی جرأت نہیں کرسکتا، گویا سارا جہان موت کے فرشتے کے سامنے مجبور ہے، لیکن اللہ تعالیٰ  کے نبی کی تو بات ہی اور ہے جب نبی کی بارگاہ کی باری آئی تو یہی موت کا فرشتہ مجبور کھڑا ہوا ہے۔ اللہ اکبر، پھر ملک الموت! اللہ تعالیٰ  کی بارگاہ میں پہنچ گیا، آنکھ اٹھائی اور عرض کیا اے اللہ! تو نے مجھے اپنے ایک ایسے بندے کے پاس بھیجا جو تیری طرف آنا نہیں چاہتا اور میری آنکھ نکال دی ہے، میں آنکھ کا ڈھیلا لے کر حاضر ہوا ہوں، حدیث شریف میں آیا ہے
فرد اللّٰہ عینہ
اللہ نے ان کی آنکھ ان پر واپس کردی۔
اور فرمایا جا کر اب کلیم کو راضی کرو ۔ دیکھئے! ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے کلیم علیہ السلام کو عتاب کیا ہو کہ وہ تو میرا فرشتہ تھا، میں نے اس کو بھیجا تھا تم نے اس کو طمانچہ کیوں مارا بلکہ دوبارہ حکم ہوا کہ جا کر میرے کلیم کو راضی کرو۔
یہاں پر محدثین کرام نے ایک بڑے مزے کی بات کہی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے طمانچہ سے حضرت ملک الموت کی ایک آنکھ پھوٹی اور وہ قائم رہ گئے حالانکہ موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں اتنی طاقت ہے کہ اگر وہ طمانچہ ماریں تو فرماتے ہیں
لتدقت السموات والارض (۱)
کہ سارے آسمان اور زمین چورا چورا ہوجائیں۔
غور فرمایئے، جب کلیم علیہ السلام کے بازو میں اتنا زور ہے تو حبیب ﷺ کے بازو میں کتنا زور ہوگا؟ اس لئے مجھے کہنے دیجئے کہ نبی وہاں مختار ہوتا ہے جہاں سارا جہان مجبور ہوتا ہے۔ فرشتے کو یہ طاقت حاصل نہیں کہ وہ کسی نبی کی روح جبراً قبض کرکے لے جائے۔ یہ نبی کو اختیار ہے کہ وہ اس دنیا سے جائے یا نہ جائے۔ میرے دوستو!جب ہم کہتے ہیں کہ رحم کرنا قوت اور اختیار کے بغیر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ  نے واضح فرمادیا
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن
تومعلوم ہوا کہ حضورﷺ  زندہ ہیں، کائنات کے ذرے ذرے کا حال جانتے ہیں اور کائنات کے ہر ذرے پر کمال قدرت اور اختیار بھی رکھتے ہیں۔ پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ خالی صرف زندہ ہونے، حال جاننے اور قدرت و اختیار سے بھی کچھ نہیں ہوتا، جب تک رحم کرنے والا اس کے قریب نہ ہو تو رحم نہیں کرسکتا، رحم کرنے کے لئے ایک چوتھی بات بھی ضروری ہے اور وہ ہے قرب۔ اگر کوئی شخص زندہ بھی ہو، مظلوم و مرحوم کو جانتا بھی ہو پھر اس پر رحم کرنے کی قدرت و اختیار بھی رکھتا ہو، لیکن رحم کرنے والا مشرق میں ہو اور جس پر رحم کیاجائے گا وہ مغرب میں ہو تو پھر بھی رحم کرنے والا کچھ نہیں کرسکتا، یعنی جب تک راحم مرحوم کے قریب نہ ہو، رحم نہیں ہوسکتا۔
میرے دوستو اور عزیزو!میرے آقاﷺ  اللہ تعالیٰ  کے حکم سے
العالمین پر رحم کرنے والے ہیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ (۱)آپ زندہ ہیں(۲)العالمین کا حال جانتے ہیں(۳)العالمین پر پوری قدرت اور اختیار رکھتے ہیں اور (۴) آپﷺ  العالمین کے ذرے ذرے کے قریب بھی ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ  نے ارشاد فرمایا
وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ۔ (الاعراف: ۱۵۶)
یعنی میری رحمت ہر شے کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے، رحمت خداوند تعالیٰ کی صفت ہے مگر اللہ تعالیٰ  نے اپنی صفات کا مظہر اتم اپنے حبیب ﷺ کوبنایا ہے اور اللہ تعالیٰ  نے اپنی رحمت کے مظہر اتم حضرت محمد ﷺ کی روحانیت کے دامن میں، عالم کے ذرے ذرے کو لیا ہوا ہے۔ کائنات کا کوئی ذرہ ایسا نہیں ہے جو مصطفیٰﷺ  سے دور ہو اور اگر کوئی چیز حضورﷺ  سے دور ہو تو پھر حضورﷺ  رحم نہیں کرسکتے۔ مگر آپ تو سب پر رحم کرتے ہیں۔ اس لئے آپ سب کے قریب ہیں۔
رحمت عالم سب کے قریب کیسے ہیں؟
آپﷺ  سب کے قریب کیسے ہیں؟ یہ عقدہ حل طلب ہے، واقعی یہ ایک اہم اور جاندار سوال ہے کہ ایک ذات تمام کے قریب کیسے ہوسکتی ہے؟بظاہر یہی لگتا ہے کہ ایک فرد جب کسی ایک سے قریب ہوگاتو اس کے علاوہ باقی سب سے دورہوگا، یہ ممکن ہی نہیں کہ فرد واحد افراد کائنات میں سے ہر ایک کے قریب ہو۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جن دو چیزوں کی نزدیکی مقصود ہے اگر وہ دونوں ہی کثیف ہوں تو واقعی ایسا ہوگا تو فردواحدزماں و مکاں میں مختلف افراد سے بیک وقت قریب نہیں ہوسکتا لیکن اگر دونوں لطیف ہوں یا دونوں میں سے ایک لطیف ہو تو جو لطیف ہوگا وہ ایک ہی وقت میں سب موجودات کائنات سے قریب ہوسکتا ہے، اس میں نہ تو محال عقلی لازم آتا ہے نہ شرعی، مثلاً اسی محفل میں دیکھیں جو آدمی وہاں مجھ سے دور بیٹھا ہوا ہے میری آواز اس کے کانوں میں بھی جارہی ہے عجیب حیرت کی بات ہے کہ میں تو اس سے دور ہوں مگر میری آواز اس کے کانوں تک پہنچ رہی ہے اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا جسم کثیف ہے اور آواز لطیف ہے، جو لطیف ہو وہ قریب ہوا کرتا ہے اور مصطفیٰﷺ  تو ایسے لطیف ہیں کہ کائنات میں ان جیسا کوئی لطیف ہے ہی نہیں۔ مجھے اس موقع پر حضرت مجددالف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی بات یاد آتی ہے کہ آپ نے فرمایاحضورﷺ  کا سایہ نہیں تھا کیونکہ حضورﷺ  اللہ تعالیٰ  کا نور ہیں اور نور کا سایہ نہیں ہوتا پھر کیا مزے کی بات فرمائی۔ فرماتے ہیں کہہر سایہ سائے والے سے زیادہ لطیف ہوتا ہے دیکھئے ایک میں ہوں، ایک میرا سایہ۔ اسی طرح ایک آپ ہیں اور ایک آپ کا سایہ، ایک دیوار ہے اور ایک دیوار کا سایہ بالکل اسی طرح یہی چیز درخت اور اس کے سائے میں بھی ہے۔ اب سائے کی لطافت دیکھئے کہ ہم لوگ گرمیوں میں دیواروں اور درختوں کا سایہ تلاش کرتے ہیں تاکہ سکون حاصل کرسکیں ذرا بیٹھ جائیں اور سانس لے لیں، اب ہم میں سے کسی ایک نے سایہ دار درخت دیکھا اور سستانے کے لئے اس کے نیچے جاکر بیٹھ گیا، درخت کا سایہ اس پر پڑرہا ہے ، مگر نہ تو اس پر کوئی بوجھ ہے اور نہ ہی وہ کوئی تکلیف محسوس کر رہا ہے، لیکن اگر خدانخواستہ کوئی درخت یا دیوار اس پر گر پڑے تو اس بیچارے کا کیا بنے گا؟ پتا چلا کہ درخت کا سایہ درخت سے لطیف ہوتا ہے، ایسے ہی دیوار کا دیوار سے، انسان کا انسان سے، حیوان کا حیوان سے لطیف ہوتا ہے۔ اگر حضورﷺ  کا سایہ ہوتا تو وہ حضورﷺ  سے زیادہ لطیف ہوتا حضرت مجددالف ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ  کا سایہ کہاں سے پیدا ہوتا ؟
معلوم ہوا کہ میرے آقاﷺ  ایسے لطیف ہیں کہ حضورﷺ  جیسی لطیف شئے کائنات میں پیدا ہی نہیں ہوئی اور مجھے کہنے دیجئے کہ سرکارﷺ وہاں تک پہنچے جہاں جبرائیل تو درکنار آواز تک نہیں پہنچ سکتی، ارے آواز تو وہاں پہنچے گی جہاں کوئی وقت ہوگا اور جگہ ہوگی۔ میرے آقاﷺ  وہاں پہنچے جہاں نہ کوئی زمان تھا نہ کوئی مکان، جہاں نہ یہاں تھا نہ وہاں۔ معلوم ہوا کہ جہاں آواز بھی نہ پہنچ سکے وہاں مصطفیٰﷺ  پہنچ سکتے ہیں لہٰذا حضرت محمد عربی ﷺ  ایسے لطیف ہیں کہ
العالمین میں سے کوئی شئے مصطفیٰﷺ  کے برابر نہیں ہے۔ اس لئے آپ العالمین کے ذرے ذرے کے قریب بھی ہیں۔ اگر کوئی سید عالم کو دور مانتا ہے سرکار کی خدمت اور آپ کے اختیار کو نہیں مانتا حضورﷺ  کو رحمۃ للعلمین نہیں مانتا جس شخص کا یہ عقیدہ ہے کہ حضورﷺ  زندہ ہیں ذرے ذرے کا حال جانتے ہیں۔ قدرت اور اختیار رکھتے ہیں۔ العٰلمین کے ذرے ذرے کے قریب بھی ہیں، پھر قریب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپﷺ  کو ساری کائنات سے زیادہ لطیف تسلیم کرے، لہٰذا حضور کے رحمتہ للعالمین ہونے پر ان کا ایمان ہے اور جو شخص حضورﷺ  کو اپنے جیسا کثیف مانتا ہے وہ تو آپ کو قریب مان ہی نہیں سکتا اور جو قریب نہ ہوگا وہ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن کیسے ہوگا؟
الحمد للّٰہ ثم الحمدللّٰہ! یہ تمام مسائل ایک ہی آیت کریمہ کی روشنی میں حل ہوگئے۔ جسے صاحب قرآن سے نسبت نہ ہواسے قرآن کریم سے نسبت کیسے ہوگی؟ اور صاحب قرآن سرکار دو عالم محمد مصطفیٰﷺ  ہیں۔ میں پھر یہ عرض کروں گا کہ حضورﷺ  کے رحمت ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کرسکتا مگر

باران کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
درباغ لالہ رویدو در شور بوم و خس

ارے ان کی رحمت کا کوئی قصور نہیں ہے مگر اس سے لینے والا بھی تو کوئی ہو لہٰذا دامن کو پھیلائو اور حضورﷺ  کی بارگاہ میں بڑھ کر استعداد پیدا کرو تاکہ حضورﷺ  کی رحمت ہمیں نصیب ہوجائے۔

 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج