حضور تاجدار مدنی ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں
جب یہ ثابت ہوگیا کہ حضورﷺ  العالمین کے لئے رحمت ہیں تو دیکھنا ہوگا کہ حضورﷺ  کی دنیا میں کیا رحمتیں ہیں؟ حضورﷺ  کی دنیا میں وہ رحمتیں ہیں کہ جن کو ہم گن ہی نہیں سکتے۔ ہمارے اندر علم و عمل ہے، تقویٰ و پرہیزگاری ہے، ایمان ہے، نیز ہمارے اندر دنیا و آخرت کی نعمتیں اور رحمتیں عالم برزخ کی نعمتیں، اور عالم نوم و یقظہ کی نعمتیں ہیں الغرض دین و دنیا کی تمام نعمتیں ہیں جو ہمارے لئے رحمت ہیں۔ اللہ تعالیٰ  نے یہ ساری نعمتیں اپنے حبیبﷺ  کو عطا فرمائیں اور اللہ تعالیٰ  کے حبیبﷺ  نے وہ نعمتیں ہمیں عطا فرمائیں، جن کا شمار نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا۔ (النحل: ۱۸)
یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ نعمتیں گنو (جو حضور پر ہیں) تو انہیں شمار نہ کر سکو گے۔
وَاَسْبَعَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّبَاطِنَۃً۔ (لقمان: ۲۰)
اور اس نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کردیں۔
یہ تمام نعمتیں اور رحمتیں حضورﷺ  کے دامن سے وابستہ ہیں، اللہ تعالیٰ  نے فرمایا
اے میرے محبوب!میں نے تجھے
العالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
جو نعمت کسی کو ملتی ہے وہ تیرے دامن سے ملتی ہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے کہا
اِنَّـآ اَعْطَیْنٰـکَ الْـکَوْثَرَ۔ (الکوثر: ۱)
یعنی اے محبوب! میں نے کائنات کی ساری کی ساری خیر، خیر کثیر تجھے دے دی کہ تو اصل ہے اور العالمین تیری فرع ہیں اور فرع کو جو کچھ ملے گا وہ اصل سے ملے گا۔ اس لئے اے حبیب! آپ العالمین کو میری نعمتیں تقسیم فرماتے رہیں۔
اب میں آپ سے پوچھتا ہوں اگر جڑ کو کچھ ہوجائے تو کیا درخت باقی رہے گا؟ ہرگز نہیں، اگر حضورﷺ  مردہ ہوجائیں تو کیا کائنات باقی رہے گی؟ ہرگز نہیں کہ پھر وہی بات آجاتی ہے۔ بجلی گھر میں بجلی نہ ہو تو کوئی کہے میرا گھر روشن ہے، سراسر نادانی ہے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ بجلی گھر میں بجلی ہونے کے باوجود تیرا گھر روشن نہ ہو کیونکہ تو نے ابھی بجلی حاصل ہی نہیں کی۔ میرے آقاﷺ  کی حیات کے باوجود تو مردہ ہوسکتا ہے کیونکہ تو نے ابھی تاجدار مدنی ﷺ سے کنکشن پیدا نہ کیا ہو۔
محترم دوستو اور عزیزو! اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ حضورﷺ  تمام جہانوں پر رحمت فرماتے ہیں اور ہر رحمت حضورﷺ  سے ہے یعنی، علم و عمل، زہد و تقویٰ و ایقان، حلال و حرام کی تمام تفصیلات، عبادات کے تمام معا ملات، عالم برزخ اور عالم عقبیٰ کی ہر راحت، الغرض دین و دنیا کی ہر بہتری اور رحمت حضورﷺ  کے ہاتھوں سے ملی، گویا آپ ﷺ
العالمین کے لئے رحمت ہیں اور العالمین میں سب چیزیں داخل ہیں۔ تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ العالمین میں شامل ہیں یا العالمین سے باہر ہیں۔ اگر آپ العالمین سے باہر ہیں تو خدا آپ کا رب کیسے ہوگا؟ اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ تم اگر العالمین میں سے نہیں ہو تو وہ تمہارا رب کیسے ہوگا؟ میں کہتا ہوں جہاں تک اللہ تعالیٰ  کی ربوبیت جاتی ہے وہاں تک حضورﷺ  کی رحمت جاتی ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ رحمت حضورﷺ  کی ذاتی نہیں ہے، آپ ﷺ اللہ تعالیٰ  کی صفت رحمت کا مظہر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ  کی رحمت ہیں۔ اب ہر چیز حضورﷺ  کی رحمت کے دامن میں ہے اور حضورﷺ  عالم کے ہر ذرے پر رحم فرما رہے ہیں۔
ظالم حضور کی رحمت سے محروم ہیں
٭ شاید آپ لوگ یہ کہیں گے حضورﷺ  نے ابوجہل، ابو لہب، عتبہ، شیبہ اور یزید پر کون سا رحم کیا ہے؟ کوئی بھی رحم نہیں کیا، تو پھر حضورﷺ  کو رحمۃ للعالمین کیوں کہہ سکتے ہیں؟ حالانکہ العالمین میں تو یہ لوگ بھی شامل ہیں۔
شبہ کا ازالہ
٭ یہ بتائو، کیا میرے آقاﷺ  کی رحمت خدا تعالیٰ کی رحمت سے زیادہ ہے؟ خدا تعالیٰ کو رحمن و رحیم مانتے ہو کہ نہیں؟
وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ۔ (الاعراف: ۱۵۶)
قرآن کریم میں ہے کہ نہیں؟ اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے میری رحمت نے ہر شے کو گھیر ے میں لے لیا ہے اور میری رحمت کے دامن میں سب ہیں تو کیا ابوجہل، ابو لہب، عتبہ، شیبہ ، کعب بن نضر، عبداللہ بن ابی، یزید اور شمر وغیرہ کو اللہ تعالیٰ  نے اپنی رحمت میں لے لیا ہے کہ نہیں، پھر کیا یہ سب جنتی ہوگئے؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ حضورﷺ  کی رحمت پر اعتراض ہے اور اللہ تعالیٰ  کی رحمت پر کوئی اعتراض نہیں، ارے اللہ تعالیٰ  کی رحمت کا مظہر تو حضورﷺ  ہیں۔ خدا کی قسم! حضورﷺ  کی رحمت تو خدا ہی کی رحمت کا ظہور ہے اور وہ سب کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔مگر کیا کہا جائے؟ کوئی خود ہی اس رحمت سے استفادہ نہ کرے تو اس کا اپنا مقدر ہے۔ قرآن کہتا ہے
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفَائٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۔ (بنی اسرائیل: ۸۲)
قرآن میں ہم وہ چیز نازل فرماتے ہیں جو ایمان والوں کے لئے رحمت اور شفا ہے۔
قرآن کریم شفا اور رحمت ہے کہ نہیں، بے شک قرآن کریم شفا اور رحمت ہے لیکن کروڑوں انسان جو قرآن کریم کو نہیں مانتے اور اس کا انکار کرتے ہیں تو ان کے لئے شفاء ہے، نہ رحمت۔ بلکہ قرآن کریم نے فرمایا
وَلَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا۔ (بنی اسرائیل: ۸۲)
اور وہ نہیں زیادہ کرتا ظالموں کے لئے مگر نقصان کو۔
قرآن کریم تو رحمت ہے مگر اس کے لئے جو اس سے رحمت حاصل کرے اگر کوئی قرآن کریم سے رحمت حاصل نہیں کرتا تو یہ اس کا قصور ہے قرآن کریم کا نہیں۔ یہ قصور تو اس کا ہے جس نے قرآن کریم سے رحمت حاصل نہیں کی۔ مولانا سعدی کا ایک شعر یاد آیا ہے انہوں نے کہا

باران کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
در باغ لالہ روید و درشور بوم و خس

بارش کہ اس کی طبیعت کے پاکیزہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں باغ میں گل لالہ اگاتی ہے اور خراب زمین میں کانٹے اور گھاس۔
فرماتے ہیں جو بارش چمنستان میں برستی ہے وہی بارش خارستان میں بھی برستی ہے۔ اچھی زمین اور چمنستان میں بارش سے پیداوار بڑھتی ہے اور پھول اور پھل اگتے ہیں مگر شور زدہ زمین میں ایسی بارش سے کانٹے دار جھاڑیاں ہی پیدا ہوتی ہیں۔ تو اب کوئی کہے کہ یہ باران کیا ہوئی اس سے تو سارے کانٹے ہی کانٹے ہو گئے۔ تو دوستو! یاد رکھو اس میں باران رحمت کا کوئی قصور نہیں ہے قصور اس زمین کا ہے جس میں شور تھا یہ قرآن کریم اور حضورﷺ  کی رحمت کا قصورنہیں۔ یہ ابو جہل کی زمین کا قصور تھا اس کو شور لگا ہوا تھا جس قدر رحمت کی بارش ہوتی گئی اس قدر کانٹے بڑھتے گئے کیونکہ شور زمین میں جتنی بارش ہوگی کانٹے پیدا ہوتے جائیں گے اور خارستان بڑھتا جائے گا تو اس لئے فرمایا
وَلَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا
قرآن کریم ہی رحمت ہے چونکہ ظالموں کے اندر اس رحمت کو حاصل کرنے کی استعداد ہی نہیں ہے۔ اس لئے جتنا قرآن کریم نازل ہوگا، اتنا ہی انکار کریں گے اور مذاق اڑائیں گے، لہٰذا خسارا بھی اسی قدر بڑھتا جائے گا۔کانٹوں میں اسی قدر اضافہ ہوتا جائے گا۔ تو پتا چلا کہ قصور حضورﷺ  کی رحمت کا نہیں بلکہ ان کا ہے جن کے دلوں کو شور لگا ہوا ہے، نفاق اور شرک کی دیمک جن کے دلوں کو لگی ہوئی ہے اور اگر مصطفی ﷺ کی رحمت پر یہ قصور عائد کرو گے تو قصور خدا کی ذات پر بھی آئے گا اس لئے کہ حضورﷺ  اللہ کی رحمت کا مظہر اتم اور مظہر اعلیٰ ہیں اور خدا قصور سے پاک ہے۔ لہٰذا اس کی رحمت کے مظہر اتم بھی قصور سے پاک اور مبرا ہیں۔
٭ بہرحال
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن
بے شک میرے آقاﷺ  سارے عالموں پر رحمت فرمانے والے ہیں۔ یہ سارے عالم، زمین و آسمان اور اس کی مخلوق اور تمام کائنات سب پر حضورﷺ  کی رحمت ہے۔ پھر العالمین تو بڑی چیز ہے کسی ایک شخص پر بھی اس وقت تک رحم نہیں کیاجاسکتا جب تک راحم میں یہ چار شرطیں نہ ہوں بلکہ رحم کرنے کے لئے یہ چارشرطیں ضروری ہیں۔ پہلی شرط تو یہ ہے کہ رحم کرنے والا زندہ ہو، اگر مردہ ہے تو وہ بیچارہ خود قابل رحم ہے اور جو خود قابل رحم ہوگا وہ دوسرے پر کس طرح رحم کرے گا مگر آقاﷺ  قرآن کریم کی رو سے
العالمین پر رحم فرمانے والے ہیں۔ اگر ہم کہتے ہیں معاذ اللہ وہ تو مرکر مٹی ہوگئے تو بتایئے وہ رحم کیسے کریں گے؟ کیا کوئی مردہ بھی کسی پر رحم کرسکتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں کرسکتا، حضورﷺ  حیات ابدی کے ساتھ زندہ ہیں اور وہ تو وہ قوت اور حیات رکھتے ہیں جو پوری کائنات میں نہیں ہے بلکہ پوری کائنات کو زندگی بخشنے والے ہیں اور آپ ﷺ میں پوری کائنات کی قوت حیات ہے اور آپﷺ کی قوت حیات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک آدمی آدھا سیر آٹا پیستا ہے اور دوسرا آدمی چار ہزار من آٹا پیستا ہے۔ تو آپ بتایئے زیادہ طاقت کس کی ہوگی اور زیادہ قوت حیات کس کے اندر ہوگی تو صاف ظاہر ہے جو چار ہزار من آٹا پیسے گا طاقت اس کے اندر زیادہ ہوگی۔ کوئی آدمی صرف ایک شخص پر رحم کرتا ہے اور ایک ذات مقدسہ ساری کائنات پر رحم کرنے والی ہے۔ فرق تو واضح ہے تو پتہ چلا کہ ساری کائنات کے اندر وہ حیات نہیں ہے جو مصطفی ﷺ کے اندر ہے کیونکہ جب تک کوئی زندہ نہ ہو تو وہ راحم ہوہی نہیں سکتا اور میرے آقاﷺ  راحم ہیں۔ راحم بعد کو ہوں گے اور زندہ پہلے مانو گے۔ پھر خالی زندہ ہونے سے بھی رحم نہیں ہوتا دوسری اور بات بھی ضروری ہے، وہ کیا ہے؟ کہ رحم کرنے والا زندہ بھی ہو اور جس پر رحم کرتا ہے اس کا حال بھی جانتا ہو اگر کوئی زندہ ہو مگر حال نہ جانتا ہو تو وہ کوئی رحم نہیں کرسکتا۔ آپ دیکھیں میں ملتان سے آیا اور میں نے کہا، مدینہ والو! مجھ پر رحم کرو تو آپ کہیں گے کہ بھائی اپنا حال بتائو ہم رحم کرنے کو تیار ہیں۔ میں کہوں کہ بھائی حال مت پوچھو۔ بس رحم کردو تو آپ کہیں گے کہ حال تو بتانا پڑے گا کہ اگر آپ بھوکے ہیں تو ہم آپ کو کھانا کھلا کر رحم کردیں، اگر آپ پیاسے ہیں تو ہم آپ کو پانی پلا کر آپ پر رحم کردیں، اگر آپ بیمار ہیں تو ڈاکٹر کو بلوا کر دوا دیکر آپ پر رحم کردیں، اگر آپ کے پاس رقم نہیں ہے تو آپ کو رقم دیکر آپ پر رحم کردیں۔ اگر وطن واپس جانے کے لئے بے قرار ہیں تو ہم آپ کو وطن پہنچا کر رحم کردیں، مگر اپنا حال تو بتائو! تو آپ کہیں گے کہ جب تک حال معلوم نہ ہو تو کوئی رحم نہیں ہوسکتا۔
میرے آقاﷺ  کسی ایک پر رحم کرنے والے نہیں بلکہ آپ
العالمین پر رحم کرنے والے ہیں۔ پہلے تو آپ کو زندہ مانو کیونکہ آپ ﷺ زندہ نہ ہوں تو راحم نہیں ہوسکتے، فقط آپ ﷺ کو زندہ ماننے سے کام نہیں ہوگا بلکہ یہ کہو کہ آپ ﷺ زندہ بھی ہیں اور العالمین کا حال بھی دیکھ رہے ہیں۔ اگر العالمین کا حال آپ ﷺ کی نگاہوں کے سامنے نہ ہو تو خالی زندہ تو کوئی بھی رحم نہیں کرسکتا۔ اسی لئے حضورﷺ  نے فرمایا
ان اللّٰہ رفع لی الدنیا فانا انظر الیھا والی ماھو کائن فیھا کانما انظر الی کفی ھذہٖ الی یوم القیمۃ (۱)
اللہ تعالیٰ  نے میرے سامنے ساری دنیا کو پیش فرما دیا پس میں اس دنیا کو اور جو اس میں قیامت تک ہونے والا ہے اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے اپنے ہاتھ کو۔
یعنی خدا نے ساری کائنات کو میری نگاہوں کے سامنے رکھ دیا ہے اور میں عالم کے ذرے ذرے کو نگاہ رسالت سے دیکھ رہا ہوں بلکہ میں تو پھر یہی کہوں گا کہ میرے آقاﷺ  سب کو دیکھ رہے ہیں اور سب کے حال کو جان رہے ہیں، سب کے ظاہر کو بھی دیکھ رہے ہیں، سب کے باطن کو بھی، سب کے جسموں کو بھی دیکھ رہے ہیں اور سب کی ارواح کو بھی، یہاں تک کہ میرے آقاﷺ  وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے، حضورﷺ  وہ جانتے ہیں جو ہم نہیں جان سکتے۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ میں اپنا حال نہیں جان سکتا مگر میرے آقاﷺ  میرے حال سے بخوبی آگاہ ہیں کیونکہ اگر وہ حال نہ جانیں تو رحم کیسے کریں؟ اور رحم کرنے کے لئے تو حال کا جاننا ضروری ہے۔ پتا چلا کہ
العالمین پر رحم کرنے کے لئے وہ زندہ بھی ہیں اورالعالمین کا سب حال مصطفی ﷺ کی نگاہوں کے سامنے بے حجاب بھی ہے یعنی وہ سب کچھ جانتے ہیں۔اور حال جاننے سے کبھی کچھ نہیں ہوگا، تیسری شرط اور بھی ہے اور وہ یہ کہ کوئی زندہ بھی ہو، حال بھی جانتا ہو، مگر رحم جب ہی کرسکتا ہے کہ اس کو معلوم پر رحمت اور نعمت پہنچانے کی قدر ت اور اختیار بھی ہو۔ اگر اس کو قدرت اور اختیار نہیں ہے تو وہ رحم نہیں کرسکتا خواہ زندہ بھی ہو اور حال بھی جانتا ہو۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب لوگ کسی بے قصور آدمی کو پکڑ لیتے ہیں اور وہ آپ کو مدد کے لئے پکارتا ہے تو آپ اس وقت زندہ بھی ہوتے ہیں اور حال بھی جانتے ہیں کہ یہ شخص بے قصور ہے مگر ایمان سے کہنا کہ آپ کچھ کرسکتے ہیں؟ صحیح یہ ہے کہ کچھ نہیں کرسکتے، اس لئے کہ آپ کو کوئی قدرت اور اختیار حاصل نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا کہ قدرت اور اختیار کے بغیر بھی رحم نہیں ہوسکتا خالی زندہ ہونے سے اور حال جاننے سے رحم نہیں ہوسکتا، رحم تب ہی ہوسکتا ہے کہ زندہ بھی ہو حال بھی جانتا ہو اور قدرت اور اختیار بھی رکھتا ہو۔ اس لئے اللہ تعالیٰ  نے فرمایا
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن
پیارے حبیب! ہم نے سارے عالموں کے لئے آپ کو رحمت کرنے والا بنا کربھیجا ہے۔
آپ ﷺ زندہ بھی ہیں اور
العالمین کے ذرے ذرے کا حال بھی جانتے ہیں اور العالمین کے ذرے ذرے پر قدرت اور اختیار رکھتے ہیں جب چاہیں جبل اُحد پر کھڑے ہو کر انگلی کے اشارے سے چاند کو دو ٹکڑے کردیں (۱) جب چاہیں ڈوبے ہوئے سورج کو انگلی کے اشارے سے واپس بلا لیں۔
حضرت علی نے آرام حبیب پر نماز قربان کر دی
وروی انہٗ ا نام فی جحر علی رضی اللہ عنہ حتّٰی غربت الشمس (۲) روایت کی گئی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی جھولی مبارک میں آپ ﷺ نے آرام فرمایا۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ جب بیدار ہوئے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے یہ عرض کیا کہ میں نے ابھی عصر کی نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے دُعا کی، یا الٰہی! تو جانتا ہے، علی میری اور تیری اطاعت میں تھا۔ اِس لئے سورج کو واپس لوٹا دے۔ حتیٰ کہ سورج واپس لوٹ آیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے نمازِ عصر پڑھی۔ اِس حدیث کی راوی حضرت اسماء بنت عمیس ہیں (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضورﷺ  نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو اپنے ایک کام سے بھیجا جو دراصل اللہ تعالیٰ کا کام تھا اللہ تعالیٰ  کے دین کا کام تھا وہ جب حاضر ہوئے تو نماز عصر ہوچکی تھی۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے ابھی تک نماز عصر نہیں پڑھی تھی مگر سرکار ﷺ ان کی ران پر سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ اب حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے سوچا کہ حضورﷺ  کو جگا کر عصر کی نماز پڑھوں یا عصر کی نماز کو حضورﷺ  کی نیند پر قربان کردوں۔ کیا کروں؟ بالآخر حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ کا فیصلہ یہ تھا کہ سرکار ﷺ کا جمال دیکھتے رہو اور حضورﷺ  کو آرام فرمانے دو کیونکہ نماز تو قضا بھی پڑھی جاسکتی ہے مگر نگاہ جو جمال رسالت سے ہٹ جائے گی تو اس کی قضا نہیں ہوسکتی۔ معلوم نہیں زندگی میں پھر ایسا کوئی موقع ملے یا نہیں، لہٰذا حضورﷺ  کو نہ جگایا، حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ اسی خیال میں رہے۔ یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور انہوں نے حضورﷺ  کو نہ جگایا جبکہ اللہ تعالیٰ  کا حکم ہے کہ
حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ۔ (بقرۃ:۲۳۸)
ذرا غور فرمایئے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے اپنی اس نماز کو حضورﷺ  کی بے مثال نیندپر قربان کردیا۔ جب حضورﷺ  بیدار ہوئے تو حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کوغمگین پاکر وجہ دریافت فرمائی حالانکہ حضورﷺ  کی نیند بھی ہماری نیند جیسی نہ تھی، بخاری شریف میں ہے۔
تنام عینہ ولا ینام قلبہ کہ آپ کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل جاگتا ہے، جس کا یہ عالم ہو اسے خود پر قیاس کرنا کتنی بڑی نادانی ہے۔
شبہ اور اس کا ازالہ
شاید آپ کہیں کہ جب بات یہ تھی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضورﷺ  نے جان بوجھ کر حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی نماز قضاء کرادی، جب آپﷺ کا قلب اطہر نیند میں نہیں ہوتا تو حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو بے چین اور سورج کو غروب ہوتا دیکھ کر ان کو وقت پر نماز ادا کرنے کا حکم فرماتے۔ میں یہ کہوں گا یہ بات ہرگز نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضورﷺ  تو کوئی کام خود سے کرتے ہی نہیں
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ (النجم: ۴)
یعنی اگر حضورﷺ  بولتے ہیں تو وہ خدا کی بات ہوتی ہے۔ وہ خود سے کچھ کرتے ہی نہیں بلکہ وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ خدا کا کرنا ہوتا ہے۔
وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی۔ (الانفال: ۱۷)
گویا ان کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ۔ (الفتح: ۱۰)
یہ عرفاء اور محققین کا قول ہے، یہ ان لوگوں کا پاک قول ہے جو مرکز روحانیت ہیں وہ اس شبہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ  سوئے تو اللہ تعالیٰ  نے اپنے جمال الوہیت کو اپنے محبوب کی نگاہوں کے سامنے بے حجاب کردیا کہ پیارے حبیب! تو میرے حسن و جمال کو دیکھتا رہ پھر کیا تھا حضورﷺ  اللہ تعالیٰ  کے حسن و جمال کو دیکھنے میں ایسے مشغول ہوئے کہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی نماز قضاء ہوگئی۔ جب سورج ڈوب گیا تو اللہ تعالیٰ  نے فرمایا۔ میرے محبوب! ذرا ادھر بھی توجہ فرمایئے، اب جو دیکھا کہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی نماز قضا ہوگئی ہے تو حضورﷺ  نے یوں دعا فرمائی
اللّٰھم ان علیا کان فی طاعتک و طاعۃ نبیک فارددعلیہ الشمس
اے اللہ تو خوب جانتا ہے علی تیری اور تیرے نبی کی اطاعت میں تھا(اور اس کی نماز عصر قضا ہوگئی) تو اس پر سورج کو واپس کردے۔
پھر حضورﷺ  نے اپنی مبارک انگلیوں سے سورج کو اشارہ فرمایا تو ایسا معلوم ہوا کہ سورج حضورﷺ  کی مبارک انگلیوں سے بندھا ہوا تھا۔
تو پتا چلا کہ آپ ﷺ زندہ ہیں، اور ذرے ذرے کا حال بھی جانتے ہیں، رحم کرنے کی قدرت اور اختیار بھی رکھتے ہیں، میں آپ کو نبی کی قدرت اور اختیار کا کیاحال بتائوں میرا تو ایمان ہے کہ جہاں ساری کائنات بے اختیار ہو اور سارا جہاں مجبور ہو اللہ تعالیٰ  کا نبی وہاں بھی مختار ہوتا ہے، بتایئے۔
فَاِذَاجَآئَ اَجَلُھُمْ لاَ یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ۔ (الاعراف: ۳۴)
فرمانِ خداوندی ہے یا نہیں؟ جب موت کا فرشتہ کسی کے پاس آجائے تو کوئی جرأت کرکے یہ کہہ سکتا ہے کہ اے عزرائیل آج نہیں کل آجانا! ہرگز نہیں لیکن میں خدا کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ نبی کو یہ اختیار ہے کہ وہ چاہے موت کے فرشتے کو آنے دے یا چاہے تو نہ آنے دے، وہ دنیا میں رہنا چاہے یا آخرت میں جانا چاہے تو اس کو اختیار حاصل ہے اور اگر کوئی فرشتہ نبی کی اجازت کے بغیر آجائے تو صحیح و سالم واپس نہیں جاسکتا،
بازوئے کلیم کی قوت
دیکھئے، بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے کہ جب حضرت عزرائیل علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا آپ کیسے آئے ہیں؟
فَقَالَ لَـہٗ عرض کیا اُجِبْ رَبَّکَ اپنے رب کے بلاوے پر لبیک کہیئے۔ یعنی میں قبض روح کے ارادے سے آیا ہوں بس حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جلال آگیا راوی کہتا ہے
فلطم موسیٰ عین ملک الموت ففقاھا فقال فرجع الملک الی اللّٰہ فقال انک ارسلتنی الی عبدلک لا یرید الموت وقد فقا عینی (۱)
حضرت موسیٰ نے طمانچہ مار کر ملک الموت کی آنکھ نکال دی، ملک الموت بارگاہ خداوندی میں جاکر عرض گزار ہوئے، مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجاجو مرنا نہیں چاہتا اور اس نے میری آنکھ نکال دی۔
یہ موت کا فرشتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کچھ نہ کرسکا، حالانکہ وہ جلیل القدر فرشتہ ہے کہ جو بادشاہ، امیر، کبیر اور پہلوان جس کے پاس پہنچ جائے کوئی اعتراض کی جرأت نہیں کرسکتا، گویا سارا جہان موت کے فرشتے کے سامنے مجبور ہے، لیکن اللہ تعالیٰ  کے نبی کی تو بات ہی اور ہے جب نبی کی بارگاہ کی باری آئی تو یہی موت کا فرشتہ مجبور کھڑا ہوا ہے۔ اللہ اکبر، پھر ملک الموت! اللہ تعالیٰ  کی بارگاہ میں پہنچ گیا، آنکھ اٹھائی اور عرض کیا اے ش! تو نے مجھے اپنے ایک ایسے بندے کے پاس بھیجا جو تیری طرف آنا نہیں چاہتا اور میری آنکھ نکال دی ہے، میں آنکھ کا ڈھیلا لے کر حاضر ہوا ہوں، حدیث شریف میں آیا ہے
فرد اللّٰہ عینہ
اللہ نے ان کی آنکھ ان پر واپس کردی۔
اور فرمایا جا کر اب کلیم کو راضی کرو ۔ دیکھئے! ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے کلیم علیہ السلام کو عتاب کیا ہو کہ وہ تو میرا فرشتہ تھا، میں نے اس کو بھیجا تھا تم نے اس کو طمانچہ کیوں مارا بلکہ دوبارہ حکم ہوا کہ جا کر میرے کلیم کو راضی کرو۔
یہاں پر محدثین کرام نے ایک بڑے مزے کی بات کہی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے طمانچہ سے حضرت ملک الموت کی ایک آنکھ پھوٹی اور وہ قائم رہ گئے حالانکہ موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں اتنی طاقت ہے کہ اگر وہ طمانچہ ماریں تو فرماتے ہیں
لتدقت السموات والارض
کہ سارے آسمان اور زمین چورا چورا ہوجائیں۔
اختیار نبی
غور فرمایئے، جب کلیم علیہ السلام کے بازو میں اتنا زور ہے تو حبیبﷺ  کے بازو میں کتنا زور ہوگا؟ اس لئے مجھے کہنے دیجئے کہ نبی وہاں مختار ہوتا ہے جہاں سارا جہان مجبور ہوتا ہے۔ فرشتے کو یہ طاقت حاصل نہیں کہ وہ کسی نبی کی روح جبراً قبض کرکے لے جائے۔ یہ نبی کو اختیار ہے کہ وہ اس دنیا سے جائے یا نہ جائے۔ میرے دوستو!جب ہم کہتے ہیں کہ رحم کرنا قوت اور اختیار کے بغیر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ  نے واضح فرمادیا
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن
تومعلوم ہوا کہ حضورﷺ  زندہ ہیں، کائنات کے ذرے ذرے کا حال جانتے ہیں اور کائنات کے ہر ذرے پر کمال قدرت اور اختیار بھی رکھتے ہیں۔ پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ خالی صرف زندہ ہونے، حال جاننے اور قدرت و اختیار سے بھی کچھ نہیں ہوتا، جب رحم کرنے والا اس کے قریب نہ ہو تو رحم نہیں کرسکتا، رحم کرنے کے لئے ایک چوتھی بات بھی ضروری ہے اور وہ ہے قرب۔ اگر کوئی شخص زندہ بھی ہو، مظلوم و مرحوم کو جانتا بھی ہو پھر اس پر رحم کرنے کی قدرت و اختیار بھی رکھتا ہو، لیکن رحم کرنے والا مشرق میں ہو اور جس پر رحم کیاجائے گا وہ مغرب میں ہو تو پھر بھی رحم کرنے والا کچھ نہیں کرسکتا، یعنی جب تک راحم مرحوم کے قریب نہ ہو، رحم نہیں ہوسکتا۔
میرے دوستو اور عزیزو!میرے آقاﷺ  اللہ تعالیٰ  کے حکم سے
العالمین پر رحم کرنے والے ہیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ (۱)آپ زندہ ہیں(۲)العالمین کا حال جانتے ہیں(۳)العالمین پر پوری قدرت اور اختیار رکھتے ہیں اور (۴) آپ ﷺ العالمین کے ذرے ذرے کے قریب بھی ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ  نے ارشاد فرمایا
وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ۔ (الاعراف: ۱۵۶)
یعنی میری رحمت ہر شے کو گھیرے میں لئے ہوئے، رحمت خداوند کی صفت ہے مگر اللہ تعالیٰ  نے اپنی صفات کا مظہر اتم اپنے حبیبﷺ  کوبنایا ہے اور اللہ تعالیٰ  نے اپنی رحمت کے مظہر اتم حضرت محمدﷺ کی روحانیت کے دامن میں، عالم کے ذرے ذرے کو لیا ہوا ہے۔ کائنات کا کوئی ذرہ ایسا نہیں ہے جو مصطفی ﷺ سے دور ہو اور اگر کوئی چیز حضورﷺ  سے دور ہو تو پھر حضورﷺ  رحم نہیں کرسکتے۔ مگر آپ تو سب پر رحم کرتے ہیں۔ اس لئے آپ سب کے قریب ہیں۔
رحمت عالم سب کے قریب کیسے ہیں؟
آپ ﷺ سب کے قریب کیسے ہیں؟ یہ عقدہ حل طلب ہے، واقعی یہ ایک اہم اور جاندار سوال ہے کہ ایک ذات تمام کے قریب کیسے ہوسکتی ہے؟بظاہر یہی لگتا ہے کہ ایک فرد جب کسی ایک سے قریب ہوگاتو اس کے علاوہ باقی سب سے دورہوگا، یہ ممکن ہی نہیں کہ فرد واحد افراد کائنات میں سے ہر ایک کے قریب ہو، اس کا جواب یہ ہے کہ جن دو چیزوں کی نزدیکی مقصود ہے اگر وہ دونوں ہی کثیف ہوں تو واقعی ایسا ہوگا تو فردواحدزماں و مکاں میں مختلف افراد سے بیک وقت قریب نہیں ہوسکتا لیکن اگر دونوں لطیف ہوں یا دونوں میں سے ایک لطیف ہو تو جو لطیف ہوگا وہ ایک ہی وقت میں سب موجودات کائنات سے قریب ہوسکتا ہے، اس میں نہ تو محال عقلی لازم آتا ہے نہ شرعی، مثلاً اسی محفل میں دیکھیں جو آدمی وہاں مجھ سے دور بیٹھا ہوا ہے میری آواز اس کے کانوں میں بھی جارہی ہے عجیب حیرت کی بات ہے کہ میں تو اس سے دور ہوں مگر میری آواز اس کے کانوں تک پہنچ رہی ہے اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا جسم کثیف ہے اور آواز لطیف ہے، جو لطیف ہو وہ قریب ہوا کرتا ہے اور مصطفی ﷺ تو ایسے لطیف ہیں کہ کائنات میں ان جیسا کوئی لطیف ہے ہی نہیں۔ مجھے اس موقع پر حضرت مجددالف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی بات یاد آتی ہے کہ آپ نے فرمایاحضورﷺ  کا سایہ نہیں تھا کیونکہ حضورﷺ  اللہ تعالیٰ  کا نور ہیں اور نور کا سایہ نہیں ہوتا پھر کیا مزے کی بات فرمائی۔ فرماتے ہیں کہہر سایہ سائے والے سے زیادہ لطیف ہوتا ہے دیکھئے ایک میں ہوں، ایک میرا سایہ۔ اسی طرح ایک آپ ہیں اور ایک آپ کا سایہ، ایک دیوار ہے اور ایک دیوا رکا سایہ بالکل اسی طرح یہی چیز درخت اور اس کے سائے میں بھی ہے۔ اب سائے کی لطافت دیکھئے کہ ہم لوگ گرمیوں میں دیواروں اور درختوں کا سایہ تلاش کرتے ہیں تاکہ سکون حاصل کرسکیں ذرا بیٹھ جائیں اور سانس لے لیں، اب ہم میں سے کسی ایک نے سایہ دار درخت دیکھا اور سستانے کے لئے اس کے نیچے جاکر بیٹھ گیا، درخت کا سایہ اس پر پڑرہا ہے ، مگر نہ تو اس پر کوئی بوجھ ہے اور نہ ہی وہ کوئی تکلیف محسوس کر رہا ہے، لیکن اگر خدانخواستہ کوئی درخت یا دیوار اس پر گر پڑے تو اس بیچارے کا کیا بنے گا؟ پتا چلا کہ درخت کا سایہ درخت سے لطیف ہوتا ہے، اگر حضورﷺ  کا سایہ ہوتا تو وہ حضورﷺ  سے زیادہ لطیف ہوتا حضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ  کا سایہ کہاں سے پیدا ہوتا ؟
معلوم ہوا کہ میرے آقاﷺ  ایسے لطیف ہیں کہ حضورﷺ  جیسی لطیف شے کائنات میں پیدا ہی نہیں ہوئی اور مجھے کہنے دیجئے کہ سرکارﷺ وہاں تک پہنچے جہاں جبرائیل تو درکنار آواز تک نہیں پہنچ سکتی، ارے آواز تو وہاں پہنچے گی جہاں کوئی وقت ہوگا اور جگہ ہوگی۔ میرے آقاﷺ  وہاں پہنچے جہاں نہ کوئی زمان تھا نہ کوئی مکان، جہاں نہ یہاں تھا نہ وہاں۔ معلوم ہوا کہ جہاں آواز بھی نہ پہنچ سکے وہاں مصطفی ﷺ پہنچ سکتے ہیں لہٰذا حضرت محمد عربی ﷺ ایسے لطیف ہیں کہ
العالمین میں کوئی شے مصطفی ﷺ کے برابر نہیں ہے۔ اس لئے آپ العالمین کے ذرے ذرے کے قریب بھی ہیں پھر قریب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپ ﷺ کو ساری کائنات سے زیادہ لطیف تسلیم کرے، لہٰذا حضورﷺ  کے رحمتہ للعالمین ہونے پر ان کا ایمان ہے اور جو شخص حضورﷺ  کو اپنے جیسا کثیف مانتا ہے وہ تو آپ کو قریب مان ہی نہیں سکتا اور جو قریب نہ ہوگا وہ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن کیسے ہوگا؟
الحمد للّٰہ ثم الحمدللّٰہ! یہ تمام مسائل ایک ہی آیت کریمہ کی روشنی میں حل ہوگئے۔ جسے صاحب قرآن سے نسبت نہ ہواسے قرآن کریم سے نسبت کیسے ہوگی؟ اور صاحب قرآن سرکار دو عالم محمد مصطفی ﷺ ہیں۔ میں پھر یہ عرض کروں گا کہ حضورﷺ  کے رحمت ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کرسکتا مگر

باران کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
درباغ لالہ رویدو در شور بوم و خس

ارے ان کی رحمت کا کوئی قصور نہیں ہے مگر اس سے لینے والا بھی تو کوئی ہو لہٰذا دامن کو پھیلائو اور حضورﷺ  کی بارگاہ میں بڑھ کر استعداد پیدا کرو تاکہ حضورﷺ  کی رحمت ہمیں نصیب ہوجائے۔
فضائل حرمین شریفین
اور پھر یہ دیار حبیبﷺ  اور دیار محبوب ﷺ ۔ یہ حرم نبوی اور یہ حرم مکہ ہو یا حرم مدینہ حرم کعبہ ہو یا حرم گنبد خضراء۔ خدا کا حرم ہو یا خدا کے رسول ﷺ کا۔ حرمین شریفین کی بے حرمتی کرنے والے کو کبھی نجات نہیں مل سکتی اور جن جن لوگوں کو ہلاکت کا عذاب آیا وہ حرم کی بے حرمتی کی وجہ سے آیا۔ میں واقعات کہاں تک دُہرائوں؟
فضائل مدینہ
بہرحال اے حرم مدینہ کے رہنے والو! تم بڑے مبارک ہو تم بڑے بابرکت ہو میری آنکھیں تمہاری راہ پر ہیں اور میرے دل میں تمہارے لئے وہ عظمت وہ مقام ہے کہ میں اس کو بیان نہیں کرسکتا۔ لیکن خدا کے لئے حرم مدینہ کی حرمت کو برقرار رکھو۔ حرم کعبہ کی حرمت کو بھی برقرار رکھو۔ جس طرح یہاں نمازوں کا ثواب زیادہ ہے یہاں عبادات کا ثواب بھی زیادہ ہے اسی طرح یہاں پر کسی سے اگر ادنیٰ غلطی بھی ہوجائے تو اس کے لئے ہلاکت بھی زیادہ ہے۔ اس لئے یہاں گناہوں سے اپنے آپ کو بچائو اور حرم مدینہ اور گنبد خضرا کے ادب کو ملحوظ خاطر رکھو اور حضور تاجدار مدنی ﷺ کو مدینہ بہت ہی پیارا تھا حضور سید عالم ﷺ نے خدا سے دعا مانگی کہ
عن عائشۃ قالت لما قدم رسول اللّٰہ ﷺ المدینۃ وعک ابوبکر وبلال فجئت رسول اللّٰہ ﷺ فاخبرتہ فقال اللّٰھم حبب الینا المدینۃ کحبنا مکۃ او اشد وصححھا و بارک لنا فی صاعھا و مدھا وانقل حماھا فاجعلھا بالجحفۃ (۱)
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آپ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو وہاں پر بخار آیا ہوا تھا جس سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی بخار میں تھے۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے دعا کی اے اللہ! تو ہمارے لئے مدینے کو محبوب بنا جس طرح تونے مکے کو محبوب فرمایا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اس کی آب و ہوا کو ہمارے لئے خوشگوار بنا دے مدینے کے صاع میں مد میں برکت فرما دے اور اس کی بیماری کو دور کر دے اور اس کے بخار کو جحفہ میں بھیج دے۔
اور فرمایا
ان ابراہیم حرم مکۃ فجعلھا حراما وانی حرمت المدینۃ حراما بین لا بتیھا ان لا یہرق فیھا دم ولا تحمل فیھا سلاح لقتال ولا تخبط فیھا شجرۃ الالعلف (۱)
فرمایا! بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو بزرگی دی اور اسے محترم کردیا اور میں نے بزرگی دی مدینہ کو اس کی دونوں حدود کے اندر نہ بہایا جائے خون اس میں اور نہ اٹھائے جائیں اس میں ہتھیار جنگ کے لئے اور اس کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے سوائے چارہ کی ضرورت کے۔
مدینہ منورہ کی سختی پر صبر کی فضیلت
مدینہ منورہ کی سختی پر صبر کے لئے سرکار دو عالم ا نے فرمایا
قال لایصبر علی دآء المدینۃ و شد تھا احد من امتی الا کنت لہ شفیعا یوم القیامۃ (۲)
مدینہ کی سختی اور بھوک پر میری امت میں سے جو شخص صبر کرے گا میں ضرور قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا۔
اہل مدینہ کو ستانے والو ں کے لئے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا
لا یکید اہل المدینۃ احد الا انماع کما ینماع الملح فی الماء (۳)
مدینہ والوں سے جو کوئی دغا کرے گا وہ اس طرح گھل جائے گا جس طرح پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔
حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا
انما المدینۃ کالکیر تنصع خبثھا و یخص طیبھا (۱)
مدینہ بھٹی کی ماند ہے میل کچیل کو دور کردیتا ہے اور اپنے اچھے کو خالص کرلیتا ہے۔
مزید فرمایا مدینہ کی شان اور احترام اتنا ہے کہ فرشتے بھی تعظیمی سجدہ کرتے ہیں اور مدینہ اپنے اندر سے شریر اور برے لوگوں کو نکال دیتا ہے
لاتقوم الساعۃ حتی تنفی المدینۃ شرارھا کما ینفی الکیر خبث الحدید (۲)
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک مدینہ اپنے شریروں کو اس طرح نہ نکال دے جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو نکال دیتی ہے۔
محترم حضرات! مدینہ منورہ کے کیا کیا فضائل بیان کروں؟ مدینہ منورہ میں نیکی کا جو ثواب ہے اور اس میں بدی کا عذاب کوئی بیان نہیں کرسکتا اللہ تعالیٰ  اپنے کرم سے ہمیں ہر قسم کے گناہوں سے بچائے اور اگر خدانخواستہ کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اللہ تعالیٰ  توبہ کی توفیق عطا فرمائے حقیقت میں ایماندار گناہ سے بے چین ہوجاتا ہے۔ سید عالم ﷺ کے زمانہ کی بات ہے کہ مدینہ منورہ ہی میں ایک عورت سے ایک گناہ سر زد ہوگیا جس سے وہ بہت نادم اور بے چین ہوئی اور حضورﷺ  کی خدمت میں پاک ہونے کے لئے حاضر ہوئی۔ حضورسید عالم ﷺ نے بچہ کے جنم لینے تک اس عورت کو واپس بھیج دیا جب اس عورت کے بچہ ہوگیا تو وہ پھر حضورﷺ  کی خدمت میں حاضر ہوئی کہ مجھے پاک فرمایا جائے آپ ﷺ نے پھر مدعت رضاعت تک کے لئے واپس بھیج دیا تو وہ عورت مدت رضاعت کے بعد بچہ کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا دیکر حضورﷺ  کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور پاک ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا! اس عورت نے وہ توبہ کی ہے کہ اگر اس توبہ کو پورے مدینہ والوں پر تقسیم کردیا جائے تو سب بخش دیئے جائیں تو یہ ہے احساس گناہ۔

وما علینا الا البلاغ
 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج