مُوَحِّد: ارے تم نے تو پورا زور اس بات پر خرچ کر دیا ہے کہ یہ آیات بتوں سے متعلق ہیں اللہ تعالیٰ کے مقدس بندوں سے متعلق نہیں۔ لیکن دراصل یہ جو بت    ہیں وہ بزرگ اور مقدس شخصیات کے بنائے گئے تھے یعنی دراصل پوچا ان بتوں کی نہیں ہوتی تھی بلکہ ان بزرگ شخصیات کی ہوا کرتی تھی اس لئے یہ بات مان لو کہ بتوں والی آیات کو مقدس حضرات پر چسپاں کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
 

عام مسلمان: حیران ہوتے ہوئے! وہ کیسے؟ اپنی بات واضح کرو۔
 

مُوَحِّد: یہ کہنا غلط ہے کہ بت پرست بتوں کی پوچا کرتے ہیں وہ لوگ بھی پتھر کو پتھر ہی جانتے ہی۔ اگر پتھروں کی پوجا مقصود ہوتی تو وہ پہاڑ کی پوجا کرتے۔ جہاں بڑے بڑے پتھر ہوتے ہیں۔اور سڑکوں پرپتھر استعمال کر کے پتھر کی بے حرمتی کبھی نہ کرتے۔ مگر پتھر کوجب کسی قابل احترام بزرگ شخصیت سے منسوب کرکے لایا جاتا ہے تو پھر اس پتھر کا احترام کرنا اور اس کی پوجا کرنا وہ فرض جانتے ہیں وہ ان بزرگوں کی پوجا کرتے ہیں جن سے وہ پتھر یا لکڑی کا بت منسوب ہوتا ہے۔ مقصود بت نہیں بلکہ بزرگ کی ذات ہوتی ہے۔ بت کا پجاری دنیا میں کوئی نہیں ہے بلکہ پوجا بزرگ کی مقصود ہوتی ہے۔ احادیث کی کتب میں صاف بیان ہے کہ مشرکین پتھروں کی پرستش نہیں کرتے تھے بلکہ ان 360بتوں کو انہوں نے اللہ کے نیک بندوں سے منسوب کر رکھا تھا ان میں سے ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بھی تھا۔اور لات کون تھا۔ نہ صرف ایک بت نہیں تھا بلکہ عرب کا ایک نیک شخص تھا جو حاجیوں کو ستو کھلاتا تھا۔ ان کی خدمت کرتا تھا آپ حیران ہونگے کہ اس کے مرنے کے بعد مشرکین مکہ نے اس کا بت بنا کر اسے اپنے اور اللہ کے درمیان وسیلہ و سفارشی بنا رکھا تھا۔ اور جیسا کہ قرآن پاک میں قوم نوح کے پانچ معبودوں ودّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کا ذکر ہے، جن کی پرستش کی وجہ سے قوم نوح کو غرق کیا گیا۔یہ پانچ افرادقوم نوح کے صالح لوگ تھے جن کو موت کے بعد لوگوں نے اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ بنا رکھا تھا۔ جیسا کہ ان کے بارے میں قرآن میں بیان ہے۔ اس قوم کے سرداروں نے اپنی قوم سے کہا

تم اپنے معبودوں کو مت چھوڑو۔ تم اپنے ودّ کو، سواع کو، یغوث کو، یعوق کو اور نسر کو مت چھوڑو" (سورۃ نوح71/23

عام مسلمان: یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ مشرکین ان بتوں کے پردے میں مقد س شخصیات کی پوجا کرتے تھے کیونکہ یہ عقیدہ تو ان بزرگ شخصیات کو جہنم میں پہنچا دے گا جبکہ ان کا تو اس میں کوئی بھی قصور نہیں جیسا کہ سورۃ انبیاءآیت نمبر۹۸ میں ہے

بیشک (اے مشرکو) تم اور جنکی تم اللہ کے علاوہ پوجا کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہیں اور تم سب اسی جہنم میں پہنچو گے۔
اگر پوجا ان بتوں کی نہیں ہو رہی بلکہ ان بزر گ شخصیات کی ہو رہی ہے"تو آپ ذرا خود غور فرمائیے کہ سیدنا نوح علیہ السلام کے زمانے کے پانچ بزرگ کیا مشرکین کے شرک کرنے کی بناء پر اپنے ناکردہ جرم کی سزا خواہ مخواہ اس طرح پانے لگیں کہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنم کا ایندھن بن جائیں۔
بھلابتلائیے تو سہی کہ اس میں ان بزرگ شخصیات نے کیا قصور کیا ہے اور کس جرم کی پاداش میں انہیں جہنم میں داخل کیا جائیگا جبکہ قرآن مجید میں رب العالمین نے یہ بات بھی ارشاد فرما دی ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائیگا ۔( سورۃ الانعام آیت نمبر۱۶۴)یعنی یہ ممکن نہیں ہے کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ یہ تو اس طرح ہوگا کہ شرک تو کریں مشرکین اور ان کے جرم کی سزا ان مقدس شخصیات کو ملے۔ تو اس کا مطلب تو یہ ہو جائے گا کہ کوئی بھی شخص کسی موحد شخص کی ڈمی بنائے اور اس کی چند روز پوجا پاٹ کرے یا کسی ہندو کی منت سماجت کرے کہ تم تو یہ کام کرتے ہی رہتے ہو اپنے رام کی خاطر میرے لئے ذرا دیر کیلئے اس ڈمی کی بھی پرستش کرلو اور جب وہ ہندو اس کی پرستش کرلے پھر یہ شخص شور مچا دے کہ یہ ڈمی والی عظیم الشان موحد شخصیت تو جہنمی ہے کیونکہ دراصل اس کی ڈمی ہے اور سورۃ انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا ہے کہ اے مشرکو! تم اور جنکی تم پوجا کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہیں پس اے لوگو سن لو میں تو اس شرک سے توبہ تائب ہوتا ہوں۔ رہ گیا یہ ڈمی والا تو اس کا تو میں نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جنت سے پتہ کاٹ دیا ہے یہ تو گیا جہنم میں، اور میں تو ہوں جنتی۔ اب آپ خود غور فرمائیں کہ اس کا یہ عقیدہ کتنا مضحکہ خیز ہے کہ کوئی بھی انسان جس وقت جسکو اور جب چاہے جہنمی بنا دے۔

 

مُوَحِّد: بگڑتے ہوئے! ارے یہ خواہ مخواہ کی جھک جھک نہ کرو تمہاری یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے مگر یہ تو بتاؤ کہ بھلا پھر ان بتوں کے نام ان مقدس شخصیات کے ناموں پر کیوں رکھے گئے؟
 

عام مسلمان: بھائی ذرا تم خودانصاف اورٹھنڈے دل سے سوچو تو سہی کہ اگر کسی نے ان بتوں کے نام ان بزرگوں اور مقدس شخصیات کے ناموں پر رکھ دیئے تو اس میں ہمارا اور ان مقدس شخصیات کا کیا قصور ہے۔ اچھا ذرا یہ بتاؤ تمہارا کیا نام ہے؟
 

مُوَحِّد: (پورے جوش میں) کامران
 

عام مسلمان: اچھا یہ بتاؤ اگر کوئی ہندو اپنے کسی بت کا نام"کامران"رکھ لے تو کیا تم بھی اس بت کے ساتھ جہنم میں جاؤ گے جبکہ قرآن مجید میں آیا ہے ۔ کہ تم اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔(سورۃ البقرۃ آیت نمبر۲۴)تمہارا جہنم میں جانا اس لئے ضروری ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں سے فرمایا ہے کہ تم اور جن کی تم پوجا کرتے ہو جہنم میں جاؤ گے۔ یعنی وہ ہندو، مشرک اس لئے جہنم میں گیا کہ وہ مشرک تھا اور وہ بت اس لئے جہنم میں جائے گا جیسا کہ اس بات کو سورۃ البقرۃ آیت نمبر۲۴میں بیان کیا گیا ہے۔" اس جہنم کا ایندھن انسانوں کے ساتھ ساتھ پتھر بھی ہیں" اور تم اس لئے جہنم میں جاؤ گے کہ درحقیقت اس بت کی پوجا نہیں کی گئی بلکہ تمہاری پوجا کی گئی کیونکہ تم نے ابھی خو د تو کہا ہے کہ دراصل پوجا بتوں کی نہیں ہوتی بلکہ ان لوگوں کی ہوتی ہے جن کے ناموں پر ان بتوں کے نام رکھے گئے ہیں۔ اب بتاؤ تم جہنم سے اپنی جان کیسے چھڑا پاؤ گے۔
 

مُوَحِّد: (بوکھلاتے ہوئے) ارے! تمہاری تو مثالوں نے مروا دیا ہے کوئی ڈھنگ کی بات تو زبان سے نکالاکرو۔
 

عام مسلمان: (سنجیدگی سے) اے پیارے بھائی! پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم ابھی ابھی قرآن مجید سے یہ بات ثابت کئے دیتے ہیں کہ صرف ایک جیسے نام ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ دیکھو! اس آیت کریمہ کی روشنی میں جس طرح وہ بزرگ شخصیات جہنم میں جانے سے بچ جائیں گی۔ وہاں تم بھی جہنمی ہونے سے بچ سکو گے بشرطیکہ تم نے ہدایت حاصل کرلی ہو۔
 

مُوَحِّد: (بے صبری سے) اچھا پھر بتاؤ نا کہ وہ کونسی آیت ہے، رک کیوں گئے ہو؟
 

عام مسلمان: اے بھائی! تمہاری یہ بے قرار ی اور بے صبری بتلا رہی ہے کہ اس وقت تمہیں نہ تو ان بزرگ شخصیات سے کوئی سروکار ہے اور نہ ان بتوں کی پرواہ ہے بلکہ تمہیں تو صرف اور صرف اپنی پڑی ہے کہ کسی بھی طرح تم جہنمی ہونے بچ جاؤ۔ اچھا تو سنو! کہ پوجا دراصل ان بتوں ہی کی ہوا کرتی تھی نہ کہ بزرگ شخصیات کی۔ رہی یہ بات کہ بتوں کے نام تو ان مقدس شخصیات کے ناموں پر ہوا کرتے تھے تو اس کا جواب دینے کیلئے ہمیں کسی قسم کی تگ و دو کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ کیونکہ رب العالمین نے قرآن مجید میں اس بات کا جواب سورۃ النجم میں واضح طور پر عطا فرما دیا ہے کہ یہ صرف نام ہی نام ہیں یعنی ان بتوں کا ان مقدس شخصیات سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، ملاحظہ ہو۔ اور یہ تو صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کوئی دلیل نہیں اتاری۔(سورۃ النجم۲۳
اچھا لگے ہاتھوں ایک اور بھی دلیل لیتے جاؤکہ پوجا ان بتوں کی ہوا کرتی تھی نہ مقدس شخصیات کی دیکھو کہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور بتوں کے پوجنے والوں کے درمیان مکالمہ قرآن مجید میں موجود ہے کہ   جب انہوں نے اپنی قوم کے مشرکین سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو تو مشرکین نے صاف صاف کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ہم انہی بتوں کیلئے دل جمعی کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ (سورۃ الشعراء آیت نمبر۷۱-۷۰

 

مُوَحِّد: اچھا تو حدیث میں جو آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بھی بت تھا جسے خانہ کعبہ سے فتح مکہ کے موقع پر نکالا گیا تھا تو اس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو۔
 

عام مسلمان: اے بھائی! رہا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بت کا معاملہ تو اس کے متعلق کہیں پر یہ بات نہیں ملتی کہ اس بت کی پوجا کی جاتی تھی بلکہ احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس بت کو تو مشرکین نے پانسے پلٹنے کے تیروں کیلئے رکھا ہوا تھا جیسا کہ بخاری شریف میں اس سلسلے میں تفصیلی حدیث موجود ہے ورنہ کہیں تو یہ بات بھی آتی کہ لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کو بھی معبود بنالیا ہے۔ جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ "انہیں"لوگوں نے معبود بنا لیا تھا۔
 

مُوَحِّد: (قہقہہ مارتے ہوئے) لو پھنس گئے تم، اسے کہتے ہیں"اپنے ہی دام میں صیاد آگیا"دیکھو ہمارا سارا مسئلہ تو تم نے خود ایک ہی جملے میں حل کردیا ہے۔ اب بتاؤ کہ جس دلیل سے تم حضرت عیسی علیہ السلام کو بچاؤ گے کہ ان کی پوجا کی جاتی تھی اس کے باوجودبھی وہ جہنم میں نہیں جاسکتے ہیں۔ اسی دلیل سے ہم ان مقدس شخصیات کو بھی جہنم میں جانے سے بچا لیں گے۔ ہمارا مقصد بھی پورا ہوجائے گا کہ پوجا دراصل ان مقدس شخصیات ہی کی کیجاتی تھی مگر اس کے باوجود بھی وہ جہنم میں نہیں جائیں گے جس طرح کہ حضرت عیسی علیہ السلام جہنم میں نہیں جاسکتے ہیں۔
 

عام مسلمان: اے بھائی! مجھ پر اتنا بڑا الزام نہ لگاؤ! میں نے یہ کب کہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پوجا کی جاتی تھی بلکہ میں نے تو یہ کہا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو ان عیسائیوں نے معبود مان لیا تھا۔
 

مُوَحِّد: اچھا اگر یہ بات ہے تو یہ بتاؤ کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی عباد ت کئے بغیر انہیں معبود کیسے مان سکتے ہیں۔
 

عام مسلمان: اے بھائی! اگر معبود کیلئے ضروری ہے کہ اس کی عبادت بھی کی جائے تو بھلا یہ تو بتاؤ کہ قرآن مجید نے حضرت مریم علیہا السلام کو "اِلہٰ"(معبود) کیوں کہا ہے جبکہ عیسائی حضرت مریم کی عبادت نہیں کرتے ہیں۔
 

مُوَحِّد: (جلدی سے) وہ کیسے؟
 

عام مسلمان: دیکھو قرآن مجید میں ہے کہ
اور جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا! اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو"اِلہٰ" (معبود) بنا لو۔(سورۃ المائدہ آیت نمبر۱۱۶
تو اب بتاؤ کہ کیا قرآن مجید میں حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو معبود کیوں کہا ہے جبکہ ان کی عبادت بھی نہیں کی گئی۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو کسی بھی عیسائی سے خود پوچھ سکتے ہو کہ آیا وہ لوگ عیسی علیہ السلام کی یا حضرت مریم علیہا السلام کی عبادت کرتے ہیں تو وہ خود یہ بات بتائیں گے کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے ہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔
 

مُوَحِّد: ارے بھائی! یہ تو تم بڑی بے ایمانی کرتے ہوکہ اچھے بھلے لاجواب ہوتے ہوئے اچانک قرآن مجید کو درمیان میں لے آتے ہو۔ اچھا چلو اس آیت سے تو یہ بات واضح ہے کہ معبود ماننے کیلئے عبادت کا کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہاں اس آیت میں حضرت مریم اور حضرت عیسی علیہا السلام کو معبود تو کہا گیا ہے اور عیسائیت سے یہ بات بھی واضح ہے کہ کوئی عیسائی ان کی عبادت نہیں کرتا۔ اچھا پھر یہ تو بتاؤ کہ یہ عیسائی جب حضرت عیسی و مریم علیہ السلام کی عبادت بھی نہیں کرتے ہیں پھر انہیں مشرک کیوں کہا گیا ہے۔
 

عام مسلمان: ہاں عیسائی کافر تو یقیناً ہیں۔میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ عیسائیوں کو کہیں بھی مشرک کہا گیا ہے ہاں اس وقت میں اس بات پر اصرار نہیں کرتا ہوں کہ کہیں بات کا رخ بدل نہ جائے بلکہ تمہارے اصرار پر اگر بالفرض یہ مان بھی لوں تو پھر میں یوں عرض کروں گا کہ عیسائی دراصل اس بناء پر مشرک قرار نہ پائیں گے کہ انہوں نے حضرت عیسی و مریم علیہما السلام کی عبادت کرکے انہیں معبود مانا تھا بلکہ وہ تو مشرک اس بناء پر ہوئے کہ انہوں نے حضرت عیسی کو اللہ کا بیٹا تسلیم کیا تھا۔ کیونکہ باپ اور بیٹے تو ایک ہی جنس سے ہوتے ہیں ظاہر ہے جس طرح انسان کا بیٹا انسان ہوتا ہے۔ الہٰ معبود کا بیٹا بھی معبود ہوگا نا۔ پس ثابت ہوا کہ عیسائیوں کے مشرک  ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو اِبن اللہ کا درجہ دیا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے" کہ بیشک ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا مسیح ابن مریم بھی اللہ ہے"(سورۃ المائدہ آیت نمبر۱۷
 

خلاصہ کلام
 

عام مسلمان: معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک توحید، اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے کا نام نہیں بلکہ انبیاء اور اولیاء کی گستاخی کا نام ہے کیونکہ آپ حضرات توحید کی وضاحت کی شروعات ہی یہاں سے کرتے ہیں کہ تمہارے یہ خود ساختہ حاجت روا اور مشکل کشاء (انبیاء اور اولیاء) کچھ بھی نہیں کرسکتے اور وہ تمام آیت جو کہ بتوں اور مشرکوں سے متعلق آئی  ہیں وہ تمام کی تمام انبیاء اور اولیاء پر چسپاں کرکر کے ان کو اتنا بے توقیر کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ ایک عام مسلمان اپنے نوکر سے تو کام کرنے کیلئے کہہ سکتا ہے اور اسے اپنے مشکل میں پکار سکتا ہے لیکن اگر کسی نے کسی بھی مقدس ہستی کو پکار لیا تو آپ حضرات کا ایک لہراتا ہوا شرک کا فتویٰ اس کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
 

مُوَحِّد: ہم پر یہ الزام ہے کہ ہم نے بتوں اور مشرکوں والی آیات کو جان بوجھ کر انبیاء اور اولیاء پر چسپاں کیا ہے۔ ہاں بھئی ! غلطی سے اگر ایسا ہو بھی گیا ہے تو اس میں اتنا برہم ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ خواہ مخواہ کا غصہ کسی اور پر جا کر نکالو۔
 

عام مسلمان: بھائی! اتنی ہٹ دھرمی بھی ٹھیک نہیں ہے کچھ تو خوف خدا کرو ہمارے علماء تو شرو ع سے اس بات پر زور دیتے آرہے ہیں کہ دیکھو یہ تم کیا کر رہے ہو کہ انبیاء اور اولیاء پر مشرکوں والی آیات پڑھ کر کیوں چسپاں کررہے ہو۔ پس اس وقت تم اور تمہارے علماء کہاں تھے انہوں نے ہمارے علماء کی بات پر کان کیوں نہ دھرے کہ آج اُمت کے ایک حصے کو گمراہی کی دلدل میں ڈال دیا ہے اور ہمارے علماء آج سے اس بات کی وضاحت نہیں کررہے ہیں بلکہ اس بارے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا فرمان عالی تو پندرہ سو سال پہلے سے موجود ہے جسے ہم پیش کرتے آئے ہیں اور ہم کہتے رہے ہیں کہ خدارا تم اس حرکت سے باز آجاؤ ورنہ تم بھی اس حدیث کے مصداق بن جاؤ گے۔ حدیث ملاحظہ ہو
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان لوگوں کو مخلوق خدا میں بد بخت ترین جانتے تھے اور انہوں نے فرمایا کہ جو آیات کافروں(مشرکوں) کے متعلق نازل ہوئی ہیں ان لوگوں نے ان آیات کو مومنین پر چسپاں کرنا شروع کردیا ہے۔
(بخاری شریف جلد2ص1024)۔
 

مُوَحِّد: بھائی! اتناغصہ نہ کرو اللہ جانتا ہے کہ یہ جو کچھ ہوا ہے انجانے میں ہوا ہے۔
 

عام مسلمان: بھائی اتنا بھی انجانہ پن کیا۔ کہ لوگوں کے سمجھانے کے باوجود کئی سو سال سے اس اندھیرے میں انجان بنے چلے جا رہے ہو۔ بہر حال انشاء اللہ دوبارہ پھر عنقریب ملاقات ہوگی۔ اور اب ذرا سنبھل کر آنا کہ پھر تم اپنے عقائد کے بارے میں کہیں یہی نہ کہتے چلے جاؤ کہ بھائی اچانک اور انجانے میں یہ غلطیاں سر زد ہو گئی ہیں۔ اور آپ یہ بات جانتے ہیں کہ ایسی غلطیوں کا ازالہ صرف سوریSorryکرنے سے نہیں ہوجاتا ہے۔ بلکہ اس ناپاک عقیدے کو جتنی کوشش کرکے پھیلایا ہے اسی قدر کوشش کرکے مٹایا جائے۔ اور اپنی غلطی کا ازالہ کرکے ہمارے عقیدے کی تائید کرو۔
 

مُوَحِّد: بیچارگی سے! اچھا ذرا یہ بتاؤ کہ جن لوگوں نے ہمارے کہے میں آکر یہ غلط عقیدہ اپنا لیا ہے تو آیا اُن کے وبال سے ہمارا چھٹکارا ہوسکتا ہے؟
 

عام مسلمان: بھائی! جو لوگ صحیح عقیدہ، عاشق مصطفی تھے اگر آپ کے چکر میں آکر بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں تو ان میں سے جو زندہ ہیں انہیں اپنے پہلے عقیدے کے بارے میں واضح طورپر آگاہ کرو کہ ہم کھلم کھلا گمراہی میں تھے اور ہمیں اس بات پر پچھتاوا ہے کہ ہم انبیاء کرام اور اولیاء عظام کے متعلق گھناؤنی سازش کرتے رہے ہیں اور انہیں مزید یہ بھی کہہ دو کہ اب ہم تم پر یہ بات واضح کررہے ہیں لہذا اب تم لوگ سیدھے راستہ پر آجاؤ کہ روز قیامت ہم تمہارے جوابدہ نہ ہونگے۔ ہاں اور جو لوگ انبیاء واولیاء کی گستاخیاں کرتے کرتے مرگئے ہیں وہ تو گئے جہنم میں اب ان کا کفر جو کہ تمہاری غلط بیانی کی بناء پر ہوا تھا اس کے وبال سے بچنے کیلئے ہمیشہ توبہ و استغفار کرتے رہو شاید کہ اللہ تعالیٰ تمہارے استغفار کے اخلاص کو دیکھ کر معاف فرما دے تو یہ بھی اس کی عنایت ہوگی۔
 

مُوَحِّد: "بھوں بھوں"(پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے)! میں سابقہ عقیدہ سے توبہ کرتا ہوں اور صدق دل سے توبہ تائب ہوتا ہوں کہ ہائے ساری زندگی ہم کیا کرتے رہے کہ شرک کے پردہ میں کفر کی کمائی کی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے۔ ہائے ہمارا یہ عقیدہ تو خارجیوں والا عقیدہ تھا، ہائے ہائے ہم یہ کیا کرتے رہے کہ ہائے اللہ ہم نے شیطانوں، بتوں اور مشرکوں کی آیات کا مصداق انبیاء کرام اور اولیاء عظام کو قرار دیا، یہ تو ایسا ہی ہے کہ ایک بھنگی کے احکامات وزیر اعظم یا صدر پر لگائے جانے لگیں بلکہ یہ تو اس سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے۔ ہائے! ہم نے یہ کیا کیا بس اب تو اگر اللہ تعالیٰ ہماری توبہ کو قبول فرما لے تو اس کا کرم ورنہ تو ہم یقینا جہنم میں جانے کے حقدار ہیں۔
 

عام مسلمان: تسلی دیتے ہوئے کہ اے بھائی! اللہ تعالیٰ بڑا غفور الرحیم ہے فکر نہ کرو۔
 

مُوَحِّد: آنسو بہاتے ہوئے ! وہ تو غفور الرحیم ہے مگر ہمارا جرم بھی تو دیکھو کہ ہم نے بھی کوئی حد ہی کردی ہے گستاخی کرنے میں کہ ناپاک ترین چیز"بت اور شرک"کا حکم اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ پاک ہستیوں انبیاء اور اولیاء پر لگایا ہے۔
 

عام مسلمان: اچھا اب تمہاری بخشش کا ہمارے پاس تو ایک ہی حل ہے۔
 

مُوَحِّد: ہچکیاں لیتے ہوئے! ہاں وہ ۔۔۔۔۔ کیسے؟
 

عام مسلمان: کہ بس نبی آخر الزماں کے دامن سے چمٹ جاؤ اور ان کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو انشاء اللہ تمہاری بخشش ہوجائے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔
اگر وہ کبھی اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے تو آپ کے پاس آ جاتے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور رسول بھی ان کیلئے مغفرت طلب کرتے تو وہ ضرور اللہ تعالیٰ کو بہت توبہ قبول کرنے والا بے حد رحم فرمانے والا پاتے۔ (سورۃ النساء آیت نمبر۶۴
اور اے میرے عزیز ازجان بھائی ان لوگوں سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ناطہ توڑ لو جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے کہ بروز قیامت وہ گستاخانِ مصطفی حسرت و یاس سے یوں کہیں گے
ترجمہ: جس دن (گستاخی کرنے والا ہر) ظالم (حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو دانتوں سے چبائے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کے ساتھ اپنا غلامی کا راستہ اختیار کرلیا ہوتا۔ ہائے افسوس میں نے فلاں ( فلاں جو کہ مجھے درِ مصطفی سے دور کرنے والے ہیں) کو اپنا دوست نہ بناتا۔(سورۃ الفرقان آیت نمبر۲۷-۲۸
 

    پچھلا صفحہ