عام مسلمان: ہاں! کیوں نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوت و طاقت سے مکھی تو مکھی وہ تو پورا جیتا جاگتا پرندہ بنا سکتے ہیں۔
 

مُوَحِّد: ہنستے ہوئے، وہ کیسے؟
 

عام مسلمان: دیکھو! سورۃ ال عمران میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تمہارے ( ایمانوں کو مضبوط کرنے کیلئے) مٹی سے ایک پرندے کی مورتی بناتا ہوں پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اڑنے والا پرندہ بن جاتی ہے۔(آل عمران آیت نمبر۴۹
اب بتاؤ کہ نبی نے مٹی کی مورتی کو جیتا جاگتا پرندہ نہیں بنا دیا۔ پس ثابت ہو گیا کہ مکھی بنانے والی آیت کریمہ بتوں سے متعلق ہے۔ اس کے مقدس بندوں کے لئے نہیں۔اچھایہ بتاؤ کیا تمہیں یہ معلوم ہے کہ آیت کریمہ میں پھونک مارنے کا ذکر کیوں آیا ہے۔
 

مُوَحِّد: نہیں۔
 

عام مسلمان: دراصل یہ نبی کا دم ہے۔کہ اگر نبی مٹی پر پھونک مارے یعنی دم کردے تو اس میں بھی حیات اور زندگی پیدا ہوجاتی ہے۔ تمہاری سمجھ میں میری یہ بات آئے گی تو نہیں۔ کیونکہ تم دم درود کے قائل جو نہیں ہو مگر پھر بھی 
 

"شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات"
 

مُوَحِّد: اچھا یہ تو بتاؤ کہ سورۃ فاطر میں یہ جو آتا ہے کہ

عام مسلمان: ارے بھائی! پھر تم نے وہی حرکت کی کہ بتوں والی آیات اللہ تعالیٰ کے مقدس بندوں پر چسپاں کر دی۔
 

مُوَحِّد: جو آیات بھی ہم پیش کرتے ہیں تم اس کے بارے میں یہ کہہ کر بات ختم کر دیتے ہو کہ یہ بتوں سے متعلق ہے۔ ذرا اب ثابت کرو کہ یہ آیت بھی بتوں سے متعلق ہے۔
 

عام مسلمان: بھائی! تم خود اسی آیت کریمہ میں غور کر لو تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ یہ آیت بھی بتوں سے متعلق ہے۔ کہ اس میں یہ بتلایا جا رہا ہے"تم جنہیں اللہ کے علاوہ پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے اوپر کے چھلکے کے مالک نہیں ہیں"اب تم یہ بتلاؤ کیا یہ ممکن ہے کہ انسان پورے کے پورے کھجوروں کے باغات کا مالک تو ہو مگر ان باغات کی کھجوروں کی گٹھلیوں کے اوپر کے چھلکوں کا مالک نہ ہو۔
 

مُوَحِّد: یہ تو ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ جب وہ تمام کھجوروں کے درختوں کا مالک ہوگا تو ان پرلگی ہوئی تمام کھجوروں کا بھی مالک ہوگا۔ اور جب وہ کھجوروں کا مالک ہوگا تو کھجوروں کی گٹھلیوں کے اوپر کے چھلکے کا بھی مالک ہوگا۔
 

عام مسلمان: بھائی!یہی بات تو میں سمجھانا چاہتا تھا کہ جنہیں وہ مشرکین اللہ کے سوا پکارتے تھے وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں کیونکہ وہ تو پتھروں کے تراشے ہوئے بت ہیں انسان نہیں کیونکہ انسان تو پورے کے پورے کھجوروں کے باغات کا مالک ہو جاتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ آیت بھی بتوں سے متعلق ہے مقدس شخصیات سے متعلق نہیں۔
 

مُوَحِّد: زِچ ہوتے ہوئے۔ ارے تم نے حد کر دی ہے اپنی باتیں ہی منواؤ گے اور ہماری ایک نہ سنو گے، اچھا کیا تمہارے پاس کوئی ایسا طریقہ ہے کہ ہم فوراً سمجھ لیں کہ یہ آیت بتوں سے متعلق ہے اور یہ آیت اللہ تعالیٰ کے مقدس بندوں کے متعلق ہیں۔
 

عام مسلمان: ہاں بھائی اندازہ پیش کیا جاسکتا ہے ورنہ تو اس بات کو تفسیروں میں واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔
 

مُوَحِّد: بے صبری سے! وہ اندازہ کیا ہے؟
 

عام مسلمان: تحمل سے، جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے مقدس بندوں کے متعلق کوئی آیت پڑھے تو تم اس میں غور کرو کہ اگر اس میں "من دون اللہ ـ" یا"من دونہ"کے کلمات ہیں سمجھ لو کہ ان سے مراد بت ہیں۔کیونکہ "من دون اللہ ـ   " یا"من دونہ"کا معنی ہے اللہ کو چھوڑ کر ، کیونکہ وہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان بتوں کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اور ان کی عبادت کرتے تھے اور "من دون اللہ ـ" سے یہ بات بھی واضح ہور ہی ہے کہ وہ مشرکین اللہ تعالیٰ سے بے نیاز ہوتے ہوئے اپنے بتوں کو مستقل مانتے تھے۔ کہ اللہ چاہے یا نہ چاہے یہ ہمارے بت ہمارا کام کر دیں گے۔ اس لئے تو بار بار ان آیات میں "من دون اللہ ـ" کے کلمات آ رہے ہیں یعنی وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر انہیں پکارتے تھے مگر ہم تو اللہ تعالیٰ چھوڑ کر ان مقدس بندوں کو نہیں پکارتے ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ نسبت دیتے ہوئے انہیں مانتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم انہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ نسبت دیتے ہوئے یوں کہتے ہیں نبی اللہ، حبیب اللہ، ولی اللہ وغیرہ اور ہم مقدس بندوں کو اللہ تعالیٰ کا محتاج مانتے ہوئے پکارتے ہیں۔
 

مُوَحِّد: اچھا یہ تو معلوم ہوگیا ہے کہ بتوں والی آیات میں "من دون اللہ ـ" یا"من دونہ"کے کلمات آتے ہیں۔ اب ذرا یہ تو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کے مقدس بندوں والی آیات میں بھی کوئی ایسا کلمہ آتا ہے جس کی بنا ء پر پہچان لیں کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کے مقدس بندوں سے متعلق ہے۔
 

عام مسلمان: ہاں بھائی! اس کے بارے میں اتنا عرض ہے کہ مقدس حضرات کے بارے میں چونکہ بیشمار آیات آئی ہیں اس لئے سرِدست صرف اتنا عرض ہے کہ مقدس شخصیات کے اختیارات جہاں بیان کئے ہیں وہاں یا تو اللہ تعالیٰ کے فضل کا ذکر ہے یا"باذن اللہ"کے کلمہ کو ذکر کیا ہے کہ یہ ر ب کے فضل سے ہے۔ یا یہ کہ"باذن اللہ"یعنی رب کے حکم و اجازت سے یہ کام ہوا ہے۔مثلاً آپ ملاحظہ فرمائیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزات کے بیان میں بار بار"باذن اللہ"آ رہا ہے۔ اور اس لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم "من دون اللہ"والے نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے بے نیاز ہوکر ان مقدس شخصیات کو پکاریں بلکہ "باذن اللہ"والے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اذن سے ان کے تصرفات کو مانتے ہیں۔ یعنی اپنے بزرگوں پر"من دون اللہ"والی آیات چسپاں نہیں کرتے ہیں بلکہ"باذن اللہ"سے انہیں پہچانتے ہیں پس ان سے معجزات اور کرامات اور تصرفات کے قائل ہیں۔ آیات ملاحظہ فرمائیں۔ہم اپنے بزرگوں کو اس طرح نہیں مانتے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے بے نیاز ہو جائیں بلکہ ہم تو اپنے بزرگوں کو اللہ تعالیٰ کے اذن ، (حکم) کا محتاج مانتے ہوئے
 

من دون اللہ والی آیات
 

ترجمہ: اے لوگو! ایک مثال بیان کی گئی ہے اسے کان لگا کر سنو! یقیناً اللہ کو چھوڑ کر تم جنہیں پکارتے ہو اگر وہ سب مل کر بھی ایک مکھی بنانا چاہیں تو نہ بنا سکیں گے( مکھی کا پیدا کرنا تو درکنار) اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اسے واپس بھی نہیں لے سکتے ہیں۔(سورۃ الحج آیت نمبر۷۳

ترجمہ: اور جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں۔(سورۃ فاطر آیت نمبر۱۳

باذن اللہ والی آیت

ترجمہ: میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے جیسی مورتی بناتا ہوں پھر میں اسمیں پھونک مارتا ہوں پس وہ اللہ کے اِذن سے اڑنے والا پرندہ بن جاتی ہے اور میں شفایاب کرتا ہوں مادرزاد اندھے اور برص والے کو اور میں اللہ کے اِذن سے مردے زندہ کرتا ہوں۔(سورۃ آل عمران ۴۹

اگلا صفحہ   پچھلا صفحہ