مُوَحِّد: بات کو پھیرتے ہوئے! اچھا یہ تمہاری منتیں مرادیں کیا ہیں یہ شرک نہیں تو اور کیا ہے؟
 

عام مسلمان: یہ آپ حضرات کی عادت ہے کہ ایک بات میں لاجواب ہونے لگتے ہو تو دوسری بات چھیڑ دیتے ہو بہرحال اس کا بھی جواب لیتے جاؤ کہ جہاں تک تعلق ہے منتوں ، مرادوں کا تو اس میں پہلے ہمارا عقیدہ سن لو پھر اعتراض کرنا۔
عقیدہ:ہم منت اس طرح مانتے ہیں اے اللہ یہ صاحب مزار تیرا برگزیدہ بندہ ہے ہم اس کے مزار پر خیرات کریں گے ،دیگیں پکائیں گے اور فقراء کو کھلائیں گے پس تو ہماری فلاں مشکل کشائی فرما دے اب بتاؤ اس خیرات کرنے میں کیا مضائقہ ہے۔


مُوَحِّد: تمہارے اس عقیدہ کے بارے میں تو ہم یہ کہتے ہیں کہ تم نے مزار والوں کواپنے اور اللہ کے درمیان وسیلہ مان لیا ہے جو کہ درست نہیں ہے کیونکہ تم یہی عقیدہ رکھتے ہو۔ ہم جب ان کے مزارات پر منت مانیں گے تو ہمارا یہ کام جلدی ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مقرب تھے یہی عقیدہ مشرکین اپنے بتوں کے بارے میں رکھتے تھے جیسا کہ سورۃ الزمر میں ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ شریک بنائے ہوئے ہیں (اور وہ کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں گے۔سورۃ الزمر آیت۳) یعنی وہ اپنے بتوں کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ مانتے تھے اور تم بھی اپنے پیروں ، فقیروں اور انبیاء کرام کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ اور وسیلہ مانتے ہو۔
 

عام مسلمان: اے بھائی! سورۃ الزمر کی جس آیت کا تم نے حوالہ دیا ہے اس میں تو صاف صاف لکھا ہے کہ وہ مشرکین کہتے ہیں کہ ہم ان بتوں کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں گے یعنی وہ ان بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے اس بناء پر تووہ مشرک تھے جبکہ ہم اولیاء و انبیاء کی عبادت نہیں کرتے ہیں اس لئے ہم مشرک نہیں ہیں۔ رہی یہ بات کہ آیا انبیاء کرام اپنے امتیوں کو اللہ تعالیٰ سے قریب کرتے ہیں یا نہیں؟ ذرا تم خود سوچو تو سہی کہ اگر نبی اللہ تعالیٰ سے قریب کرنے کے لئے نہیں آیا تو نبی کے آنے کا مقصد کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تو انبیاء کرام کو تو بھیجا ہی اس لئے ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے قریب کر دیں۔ مگر بتوں کو اللہ تعالیٰ اپنے قرب کے لئے وسیلہ نہیں بنایا ہے اس لئے برائے مہربانی بتوں والی آیات پڑھ پڑھ کر انبیاء کرام اور اولیاء عظام پر چسپاں نہ کریں یہی بات میں نے شروع میں بھی عرض کی تھی۔
 

مُوَحِّد: دیکھو تم جن مقدس بندوں کو پکارتے ہو وہ سب مل کر بھی ایک مکھی تو بنا نہیں سکتے ہیں جیسا کہ سورۃ الحج میں ہے

اے لوگو! ایک مثال بیان کی گئی ہے غور سے سنو! یقیناً اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو اگر وہ تمام مل بھی جائیں تو ایک مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اسے واپس نہیں لے سکتے (سورۃ الحج آیت۷۳

دیکھو یہ حال ہے تمہارے خود ساختہ مشکل کشاؤں کا۔
 

عام مسلمان: بھائی! میں نے آپ سے پہلے بھی عرض کی تھی کہ جو آیتیں بتوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں ان میں انبیاء کرام اور اولیاء عظام کی شان تلاش نہ کرو اور نہ ہی ان آیات سے انبیائے کرام و اولیاء عظام کی قدر و منزلت ناپی جا سکتی ہے۔
 

مُوَحِّد: ارے تم تو ہر آیت کے متعلق یہ کہہ دیتے ہو کہ یہ بتوں سے متعلق ہے تمہارے پا س کیا دلیل ہے کہ یہ آیات انبیاء و اولیا کے متعلق نہیں ہے بلکہ بتوں کے متعلق ہے۔
 

عام مسلمان: بھائی! یہ آیت کریمہ خود بتلا رہی ہے کہ اس کا تعلق بتوں کے ساتھ ہے انسانوں کے ساتھ نہیں۔
 

مُوَحِّد: وہ کس طرح؟
 

عام مسلمان: لو سنو! اس آیت کریمہ میں ان بتوں کی بیچارگی کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اس سے واپس تک تو لے نہیں سکتے تو وہ تمہاری کیا مدد کریں گے۔ ذرا آپ خود غور کرو کہ اگر کوئی انسان کی دوسرے سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو کیا وہ مالک اپنی چیز واپس لے سکتا ہے یا نہیں؟
 

مُوَحِّد: لے سکتا ہے۔
 

عام مسلمان: بھائی یہی تو ہم کہتے ہیں کہ جو چھینی ہوئی چیز واپس نہ لے سکے وہ بت ہی ہو سکتا ہے۔ انسان نہیں۔
 

مُوَحِّد: اچھا بات تو سمجھ آ گئی مگر یہ بتاؤ اگر تمہارے سارے انبیاء و اولیاء اور پیر ، فقیر مل بھی جائیں تو کیا ایک مکھی بنا سکتے ہیں؟
 

عام مسلمان: بھائی جب یہ آیت انسانوں کے متعلق ہے ہی نہیں تو اس کو آپ انبیاء و اولیاء عظام پر کیسے چسپاں کرسکتے ہو۔
 

مُوَحِّد: زور دیتے ہوئے ! بات نہ بدلو یہ بتاؤ کہ اگر سارے انبیاء و اولیاء مل جائیں تو کیا ایک مکھی بھی بنا سکتے ہیں۔
 

 

اگلا صفحہ   پچھلا صفحہ