مُوَحِّد: اچھا ذرا یہ بتاؤ کہ قرآن مجید میں یہ جو آتا ہے کہ تم اللہ کے علاوہ کسی اور معبود کو نہ پکارو، تو اس بارے میں تم کیا کہتے ہو


عام مسلمان: بھائی! اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کے علاوہ کسی اور معبود کو نہ پکارو۔ ہم کسی معبود کو نہیں پکارتے ہیں بلکہ نبیوں اور ولیوں کو پکارتے ہیں اور انہیں اللہ کا بندہ سمجھ کر پکارتے ہیں معبود سمجھ کر نہیں۔ برخلاف مشرکین کے کہ وہ اپنے بتوں کو معبود سمجھ کر پکارا کرتے تھے۔
 

مُوَحِّد: اچھا اس آیت میں تو ہے کہ کسی اور معبود کو نہ پکارو مگر دوسری آیت میں یہ جو آتا ہے کہ مسجدیں اللہ کے لئے ہیں تم اللہ کے ساتھ کسی بھی اور کو نہ پکارو یعنی معبود سمجھ کر پکارنے کی قید نہیں لگائی؟
 

عام مسلمان: اے بھائی! اگر اس آیت کریمہ کا یہ مطلب لیا جائے کہ مسجدوں میں اللہ کے علاوہ کسی اور کو نہ پکارو تو یہ بتاؤ کہ تم مسجد میں اذان دیتے ہوئے یہ نہیں کہتے ہو"حی علی الصلوٰۃ، حی علی الفلاح"کہ آؤ نماز کی طرف، آؤ فلاح و بہبود کی طرف۔ بتاؤ کیا تم یہ اللہ تعالیٰ کو نماز اور فلاح کے لئے پکار رہے ہو(نعوذ باللہ)یا بندوں کو؟


مُوَحِّد: بندوں کو! نعوذ باللہ ہم اللہ کو نماز کیلئے کیسے پکار سکتے ہیں، وہ تو نماز پڑھنے سے پاک ہے اور فلاح تو وہ خود عطا فرماتا ہے۔ ہم اس کو فلاح کی طرف کیسے پکار سکتے ہیں۔


عام مسلمان: بس یہی تو میں تم سے کہلوانا چاہتا تھا، اب ذرا یہ بتاؤ کہ تم مسجدوں میں لوگوں کو کیوں پکارتے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے منع بھی فرمایا ہے کہ تم مسجدوں میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو اور تمہاری تو بڑی بڑی مسجدیں ہیں اگر تم دین نہ پھیلاؤ گے تو اور کون پھیلائے گا پس آج سے یا تو اپنی مسجدوں میں اذان دینا بند کردو یا کم از کم ـ"حی علی الصلوٰۃ، حی علی الفلاح"کے جملے تو ضرور نکال دو۔


مُوَحِّد: زِچ ہوتے ہوئے ! تو ذرا تم ہی ان آیات کی تشریح کردو۔


عام مسلمان: بھائی! مطلب تو واضح ہے کہ قرآن مجید کی ایک آیت دوسری آیت کی تفسیر کرتی ہے۔ وہ اس طرح کہ جس آیت میں یہ آیا ہے کہ تم مسجدوں میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارواس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو معبودسمجھ کر نہ پکارو کیونکہ دوسری آیات میں واضح ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو۔ ہاں اگر بندوں کو بندہ سمجھ کر پکارو گے تو کوئی مضائقہ نہیں ہوگا۔


مُوَحِّد: بات دراصل یہ ہے کہ تم رسول اللہ اور اولیاء کرام کو دُور سے پکارتے ہو اور دُور سے تو صرف اللہ تعالیٰ ہی سُن سکتا ہے کوئی اور نہیں سُن سکتا۔ تم تو انہیں اسی طرح سننے والا مانتے ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو مانتے ہو۔


عام مسلمان: اچھا بھائی! پہلے ہمارا عقیدہ سن لو کہ ہم انبیاء کرام اور اولیاء عظام کو دُور سے سننے والا کیسے مانتے ہیں پھر بتاؤ کیا تم اللہ تعالیٰ کو بھی اسی طرح دُور سے سننے والا مانتے ہو تو تب شرک ہوگا ورنہ شرک نہ ہوگا۔
عقیدہ سنو! اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کرام اور اولیاء عظام میں ایسی قوت سماعت سننے کی طاقت رکھ دیتا ہے کہ وہ دُور و نزدیک کی تمام باتیں سن سکتے ہیں کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی یہی عقیدہ رکھتے ہو کہ اسے بھی کسی نے ایسی قوت عطا کی ہے جس کی بناء پر وہ سنتا ہے یا یہ طاقت اس کی اپنی ہے۔

 

مُوَحِّد: اللہ تعالیٰ کو سننے کی طاقت کون دے گا! وہ تو اللہ ہے۔
 

عام مسلمان: بھائی یہی تو فرق ہے کہ انبیاء و اولیاء میں کہ یہ قوت ان میں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج ہو کر نہیں سنتا ، مگر بندہ اللہ کا محتاج ہے اور جب اللہ تعالیٰ اس میں یہ قوت رکھ دیتا ہے تو وہ بھی دُور و نزدیک کی ہر بات سن لیتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ تو خود سنتا ہے اسے کوئی سنانے والا نہیں۔
 

مُوَحِّد: بھلا اللہ تعالیٰ کسی میں ایسی قوت کیوں رکھے گا؟ اسے کیا ضرورت در پیش آگئی کہ وہ کسی میں ایسی قوت رکھے؟ کیا وہ نبیوں ، ولیوں کا محتاج ہے کہ وہ پہلے ہماری باتیں دور سے سنیں پھر اللہ تعالیٰ کو پتا چلے گا ورنہ نہیں۔
 

عام مسلمان: بھائی مجھے تو یہ پتا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ضرورت پیش آتی ہے کہ بندہ کو۔ مگر میں اتنی بات ضرور جانتا ہوں کہ قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی سیدنا سلیمان علیہ السلام میں دُور و نزدیک سے سننے کی قوت رکھ دی تھی۔ جیسا کہ سورۃ النمل میں ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام جب اپنے تخت پر پرواز کرتے ہوئے چیونٹیوں کی وادی میں آئے تو ایک چیونٹی نے باقی چیونٹیوں سے کہا اے چیونٹیو! اپنے بِلوں میں داخل ہو جاؤ کہ کہیں سلیمان علیہ السلام کا لشکر بے خیالی میں تمہیں کچل نہ ڈالے تو سیدنا سلیمان علیہ السلام ان کی یہ بات سن کر مسکرا دیئے اور عرض کیا کہ اے میرے رب( چونکہ تو نے یہ قوت مجھے عطا فرمائی ہے اس لئے) تو مجھے اتنی توفیق عطا فرما کہ میں تیرا شکر ادا کرتا رہوں۔(آیت نمبر۱۹،۱۸

یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام میں اللہ تعالیٰ نے یہ قوت رکھ دی تھی کہ اپنے تخت پر اڑتے ہوئے چیونٹی کی آواز سن رہے ہیں اور ان کی بولی بھی سمجھ رہے ہیں۔


مُوَحِّد: اچھا چلو یہ تو مان لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا سلیمان علیہ السلام میں یہ قوت رکھ دی تھی لیکن یہ جو تم اپنے نبی کریم
کے متعلق عقیدہ رکھتے ہو کہ وہ بھی دُور و نزدیک کی تمام باتیں سن لیتے ہیں۔ یہ کہاں سے ثابت ہے؟


عام مسلمان: اے بھائی! پہلے یہ بات تو مان لو کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی میں ایسی قوت رکھ دے تو یہ ممکن ہے اور اسے شرک نہیں کہا جائیگا۔ رہا ہمارے آقا و مولا کا معاملہ! تو اس بارے میں بیشمار حدیثیں ہیں مثلاً حضور نے ارشاد فرمایا! ـ

کہ میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ہو اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے(مشکوۃ شریف ص457رواہ احمد و ترمذی
دوسری حدیث ملا حظہ فرمائیں
اللہ تعالیٰ نے میرے لئے تمام زمین کو کھول دیا پس میں نے اس کے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا
(رواہ مسلم390جلد2
تیسری حدیث ملاحظہ فرمائیں
بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ہم میں جلوہ گر ہوئے پس آپ نے ہمیں ابتدائے خلق کی خبریں دینا شروع فرمائیں یہاں تک کہ جنتی، جنت میں داخل ہوگئے اور جہنمی اپنے ٹھکانوں میں، جس نے حضور کے اس خطبہ کو یاد رکھا اسے یا د رہ گیا اور جو بھول گیا سو وہ بھول گیا۔
(بخاری شریف۔حدیث نمبر3192
چوتھی حدیث ملاحظہ فرمائیں
ـ ـ کہ حضور نے جب( سورج کو گرہن لگنے کے وقت کی نماز) نماز کسوف پڑھائی پھر ارشاد فرما یاکوئی بھی ایسی چیز باقی نہیں رہی جو کہ میں نے اس جگہ میں ابھی ابھی نہ دیکھ لی ہو"
(بخاری شریف ۔ حدیث نمبر1053


مُوَحِّد: تم یہ جو کہتے ہو کہ ہمارے نبی
کو اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات کا وارث بنا دیا ہے یہ کیسے درست ہوسکتا ہے کہ کائنات تو ہو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے وارث بن جائیں رسول اللہ ۔ کیا اس کی کوئی مثال قرآن یا حدیث میں آئی ہے؟


عام مسلمان: ہاں بھائی اس کی کئی مثالیں آئی میں مثلاً ہمارے آقا و مولا تو تمام انبیاء کے سردار ہیں قرآن مجید میں تو سیدنا سلیمان علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ ان کو کائنات کی ہر نعمت میں سے حصہ ملا ہے جیسا کہ سورۃ النمل میں ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا یعنی اعلان کیا ترجمہ۔ اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھلائی گئی ہیں اور ہمیں ہر ہر شئے میں سے عطا کیاگیا ہے بیشک یہ اللہ کا فضل ہے ۔ (النمل آیت نمبر۱۶)
جب سیدنا سلیمان علیہ السلام کو ہر چیز میں سے عطا کیا گیا تو ہمارے آقا کوکائنات کے وارث بننے میں کونسی چیز رکاوٹ ہوسکتی ہے۔
جبکہ حضور نبی کریم کا ارشاد پاک بھی ہے کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا فرما دی گئی ہیں ۔
ـ بخاری شریف۔ جلد نمبر1، ص179
اور جیسا کہ سورۃ الانبیاء میں ہے کہ بیشک نصیحت (کاذکرکرنے) کے بعد ہم نے زبور میں لکھ دیا ہے کہ یقیناً میرے نیک بندے زمین کے وارث ہونگے۔(سورۃ الانبیاء ۱۰۵

نیز سورۃ الاعراف میں ہے"بیشک زمین صرف اللہ کی ہے(لیکن) وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اُسے (زمین) کا وارث بنادیتا ہے" (سورۃ الاعراف آیت نمبر۱۲۸

ان آیات کریمہ میں تو بالکل واضح طور پر فرمادیا ہے کہ زمین ہماری ہوگی مگر اس کے وارث نیک بندے ہوں گے اب بتاؤ کہ کیا اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اس کی زمین کے وارث نہیں ہو سکتے ۔


 

اگلا صفحہ   پچھلا صفحہ