دوسرا سالانہ جلسہ

٭ جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم دوسرا سالانہ جلسہ 30نومبر یکم دوئم دسمبر1945ء بروز جمعہ ہفتہ اتوار بمطابق26,25,24ذی الحجہ1345ھ کو گذشتہ سالانہ جلسے کی طرح نہایت شان و شوکت سے منعقد ہوا وسیع پنڈال شاندار اسٹیج رنگ برنگے قمقموں کی روشنی اور ہزاروں کا اجتماع انتہائی خوبصورت سماں پیدا کررہا تھااور تین دن تک سرزمین ملتان پر مبلغ دین متین اسلامی سیاست اور علم عرفان کی بارش ہوتی رہی پنجاب سند ھ اور ہندوستان تقریباً پینتالیس جید علماء کرام اور مشائخ عظام اس محفل رنگ ونور میں شریک ہوئے۔

٭ 30نومبر کو قرآن مجید کی تلاوت اور نعت خوانی کے بعد امام اہلسنت حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے پہلے اجلاس کی اختتامی تقریر فرمائی اور نماز جمعہ کی امامت کے فرائض حضرت محدث کچھوچھوی رحمتہ اللہ علیہ نے انجام دیئے۔ اس سالانہ جلسہ میں جو جو مشائخ عظام اور علماء کرام شامل تھے ان کے نام یہ ہیں حضرت مولانا حافظ سید محمد خلیل شاہ صاحب کاظمی امروہوی رحمتہ اللہ علیہ حضرت مولانا صوفی نواب الدین حضرت محدث کچھوچھوی حضرت مولانا عبدالعلیم صاحب شہداد کوٹی مولانا محمد عبداللہ سندھیمولانا لام ربانیمولانا جلال الدین رومی حضرت پیر سید امانت علی شاہ صاحبحضرت مولانا محمد مطہر الدینحضرت مولانا سید ابوالبرکات سعید احمدسجادہ نشین مہار شریف حضرت خواجہ محمد غوث صاحب۔

٭ جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم کے دوسرے سالانہ جلسے کے تیسرے دن کا آخری اجلاس نماز عشاء کے بعد شروع ہوا جو نگاہ تک مجمع تھا لانگے خان کا باغ وسیع وعریض تنگ محسوس ہورہا تھا۔ اس اہم تاریخی اجلاس کی صدارت رئیس المحدثین حضرت مولانا حافظ سید خلیل احمد کاظمی امروہی نے فرمایا۔ قرآن مجید کی تلاوت اور نعت خوانی کے بعد امام اہلسنت حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی مہتمم ادارہ کی سالانہ تفصیلی رپورٹ فرمائی اور ساتھ ہی بڑے علمی انداز میں دینی مدارس کی اہمیت پر روشنی ڈالی آپ کے بعد معروف صوف مقرر خوش الحان خطیب اور لاہور کے نامور عالم دین حضرت مولانا صوفی امانت علی صاحب نے عوام کے بھر پور اصرار پر ایک مرتبہ پھر خطاب فرمایا اور انتہائی پر تاثیر انداز میں مثنوی مولانا روم کے اشعار سے سامعین کو نوازا اور بہت زیادہ داد وصول کی۔

حادثہ عظمی
٭ اسی سال مدرسہ انوار العلوم کے سرپرست اعلیٰ حضرت پیر موسیٰ پاک شہید کے سجادہ نشین حضرت مخدوم سید صدرالدین گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال ہوگیا اور یہ حادثہ عظمی یقیناً ناقابل تلافی تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے خدام ادارہ کی مخلصانہ خدمات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے حضرت مخدوم سید غلام مصطفی گیلانی کی صورت میں ایک اور مخلص معاون عطا فرمادیا جنہیں حضرت مخدوم صدر الدین گیلانی کے جانشین ہونیکا شرف حاصل ہوا۔ اسی طرح ممتاز عالم دین حضرت مولانا صوفی نواب الدین صاحب جمادی الثانی کی اکیس کو داغ مفارقت دے گئے مرحوم ایک جید عالم اور معروف و مقبول مقرر تھے اور انہیں جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم سے خصوصی محبت تھی۔

تقسیم ملک کے اثرات
٭ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم اپنی عمر کی چھٹی منزل طے کر رہاتھا کہ 1947ء میں برصغیر کے مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں اور دنیا کے نقشے پر پاکستان کے نام سے ایک اسلامی مملکت کا اضافہ ہوگیا لیکن ساتھ ہی ساتھ تقسیم ہند کے بعد ادارے کا حلقہ اثر پاکستان تک محدود ہوگیا حتی کہ ان علماء کرام اور ائماء ملت کے فیوض و برکات تبلیغ و ارشاد سے بھی یہاں کے لوگ محروم رہ گئے جن سے زنگ آلود انتہاکے قلوب روشن ہونے تھے اور ہماری تشنہ روحیں علم و عرفان کی تازگی حاصل کرتی تھی اور اس خونی انقلاب کیوجہ سے دو سال تک مدرسہ کا سالانہ جلسہ بھی ملتوی ہوتا رہا اور جب حالات کچھ سازگار ہوئے تو پھر سے اہلسنت و جماعت کی اس عظیم دینی درسگاہ نے اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھنا شروع کیا۔

جامعہ انوار العلوم محدث کچھوچھوی کی نظر میں
٭ کچھوچھہ (بھارت) کی معروف روحانی اور مذہبی شخصیت ابو المحامد سید محمد اشرفی محدث کچھوچھہ جب ملتان تشریف لائے اور اہلسنت و جماعت کی اس ممتاز دینی درسگاہ کو ملاحطہ فرمای اتو انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں تحریر فرمائے۔

٭ آج مورخہ14ربیع الاول شریف1364ھ بروز بدھ کو مجھے جامعہ عربیہ انوار العلوم ملتان شہر جن کو میں جامعہ سعیدیہ کہا کرتا ہوں کے معائنہ کا موقع میسر آیا میں دو گھنٹے سے زیادہ معائنہ میں مصروف رہا دفتری نظام کی سیر کی نصاب مدرسہ دیکھا طلبہ کی علمی استوداد جانچی اساتذہ کے وزن کو دیکھا مستقبل کا پروگرام معلوم کیا مالیات کی حقیقت دریافت کی کتب خانہ کا سرمایہ دیکھا غرض ایک مضبوط علمی ادارہ کے تمام شعبوں کا معائنہ کیا اور میری مسرت کی انتہا نہ رہی جب دفتری کاروبار کو باقاعدہ منظم اور نصاب کو نصاب نظامی کی طرح مکمل اور طلباء کی ٹھوس تعداد کہ مثلاً بیضاوی شریف کی عبارت اس طرح پڑھتے ہیں کہ پڑھتے ہوئے سمجھتے جاتے ہیں ترجمہ کی حاجت نہیں ترجمہ بے عیب کرتے اور صحیح مطلب بتا دیتے ہیں اساتذہ کو ثقہ باوزن ہر دلعزیز مہربان تجربہ کار اور مستقبل کے لائحہ عمل کو شاندار اور وسیع النظر کا حامل پایا۔

٭ ملتان شریف ہمیشہ علوم و معاف کا گہوارہ رہا آج بھی صاف نظر آرہا ہے کہ مقبولان بارگاہ حق کسقدر اس پاک سرزمین میں آسودہ ہیں حضرت شیخ محقق برکتہ الرسول فی بلاد الہند مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ اس بلدۃ شریفہ کی گلیوں میں استفادہ عرفان فرماتے رہے اور دہلی سے بذریعہ باد صبا اس شہر میں اپنا نیاز مندانہ سلام بھجتے رہے ہیں نہ صرف پنجاب بلکہ کل ہند کیلئے یہ مقدس مقام مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور ایک مرکزی دارالعلوم کے یہ ارض مقدس پوری اہلیت کی حامل ہے اللہ تعالیٰ حضرت مولانا شاہ سید احمد سعید صاحب کاظمی امروہوی مدظلہ(رحمتہ اللہ علیہ) کو جزائے خیر دے۔ وطن مالوف چھوڑ کر یہاں آئے اور اس ادارہ علمیہ کی بنیاد رکھ کر اسکے فروغ کیلئے اپنے کو وقف کردیا ہے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی مسلمانوں کو عقل دے اور دین کی سمجھ عطا فرمائے اور علم کا مقرردان بنائے ان کے دلوں کو اس مدرسے کی طرف جھکا دے اور مقامی و غیر مقامی خاندانوں کو اپنی نسل کیلئے تعلیم دینی کا شائق بنا دے اور مسلمانوں کو اس کی خدمت کی توفیق بخشے آمین۔

فقیر اشرفی و گدائے جیلانی
ابو المحامد سید محمد غفرلہ کچھوچھوی

جامعہ انوارالعلوم کی پہلی شاخ(مدرسہ انوار العلوم لقمان کا قیام)
٭ صوبہ سندھ کے خوبصورت شہر سکھر میں مدرسہ انوار العلوم لقمان کی ایک شاخ قائم کی گئی جسکے پہلے مدرس حضرت مولانا حافظ بحمداللہ خان صاحب رامپوری کا تقرر عمل میں آیا انہیں کچھ دن انوار العوم میں عارضی طور پر خدمات انجام دینے کی درخواست کی گئی اور جب یہاں کیلئے اور مدرسین کا انتظام ہوگیا تو موصوف کو سکھر بھیج دیا گیا لیکن موصوف ایک سال بھی وہاں پورا نہ کر سکے کہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔


جامعہ انوارالعلوم کی دوسری شاخ(مدرسہ قادریہ حنفیہ کا قیام)
٭ جامعہ انوار العلوم کے سرپرست سیادت پناہ حضرت مخدم الملک سید غلام میراں شاہ صاحب جیلانی مسند نشین و رئیس اعظم جمالدین والی میں مدرسہ قادریہ حنفیہ کے نام سے ایک ادارہ قائم فرمایا اور اسے انوار العلوم کی شاخ قراردیا جس کا دستور العمل اور نصاب تعلیم انوار العلوم کے مطابق رکھا اور امام اہلسنت حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اللہ علیہ ہی کو ہر قسم کے اختیارات اور اس ادارے کو چلانے کی ذمہ داری سونپی۔


جامعہ انوار العلوم کا دسواں سال
٭ جامعہ انوار العلوم کی انتظامیہ بھر پور عزم و ہمت کیساتھ ادارے کی زیادہ سے زیادہ ترقی کیلئے کوشاں رہی اور اس طرح دس سال کا عرصہ گزر گیا اس عرصے میں ادارے نے کئی نشیب و فراز دیکھے لیکن بحمد اللہ ادارہ کے معمولات میں فرق نہ آیا ہر سال منعقدہ کیے جانے والے جلسہ ہائے دستار فضیلت کا پابندی سے انعقاد اساتذہ اور عملے کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں پہنچانے کی کوشش اور طلباء کرام کی راحت و آرام کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری رہا مارچ1954ء میں نواں سالانہ جلسہ منعقد کیاگیا کیونکہ بوجوہ درمیان میں سالانہ جلسہ منعقد نہ ہوسکا ورنہ یہ سالانہ جلسہ دسواں ہوتا۔


ادارے کا بارہواں سال1955یا1956
٭ ادارے کا بارہواں سال بھی انتہائی خیر وخوبی سے آگے بڑھتا رہا امسال عملہ مدرسین و ملازمین میں کچھ تغیرات عمل میں آئے حضرت مولانا عبدالکریم صاحب جامپوری دس سال تک ادارے میں تعلمی خدمات انجام دیتے رہے لیکن فالج کے شدید ترین حملے کیوجہ سے وہ معذور ہوکر 1955ء میں اختتام سال کے بعد اپنے وطن جامپور ضلع ڈیرہ غازی خان تشریف لے گئے اسلئے معروف مدرس مولانا ولی انس صاحب پشاوری کوبحثیت مدرس مقرر کیا گیا لیکن انہیں ملتان کی آب و ہوا راس نہ آئی اور وہ صرف دو ماہ یہاں رہنے کے بعد بیمار ہوگئے اور واپس چلے گئے لیکن بحمد اللہ مولانا عبدالکریم صاحب جونہی روبصحت ہوئے واپس تشریف لے آئے اور اپنے فرائض منصبی کو پھر سے نبھانا شروع فرمادیا باورچی خانہ کتب خانہ اور دیگر امور کی نگرانی کیلئے مولانا سید مسعود علی شاہ صاحب قادری مدرس و مفتی مدرسہ ہذا کو باضافہ تنخواہ نائب ناظم کا عہدہ سونپا گیا۔


جامعہ انوار العلوم کا تیرھواں سال
٭ جامع انوار العلوم ملتان انتہائی تیزی کیساتھ اپنی تیرھویں منزل میں داخل ہوگیا۔ مدرسین اور طلباء کی تعداد میں اضافہ کے علاوہ دیگر عملے میں اضافہ ہوتا گیا مدرسے کا تیرھواں سالانہ جلسہ26-25-24مئی1957ء بمطابق25-24-23شوال المکرم1376کو انتہائی کامیابی کیساتھ انعقاد پذیر ہوا۔


انوارالعلوم کا ایک جدید شعبہ
٭ مدرسہ کی بڑھتی ہوئی کارکردگی اور ترقی سے متاثر ہوکر بستی طرف دائرہ ملتان کے معروف زمیندار جناب ملک محمد بخش ولد ملک نور محمد کمبوہ نے ایک قطعہ اراضی برقبہ ایک کنال اٹھارہ مرلے واقع حسن پروانہ روڈ متصل جنوبی پوسٹ آفس برائے جامع مسجد مدرسہ انوار العلوم27نومبر1956ء میں وقف کی جس کا انتظام مجلس شوری نے سنبھال لیا چنانچہ وہاں ایک شاندار مسجد تعمیر کی گئی اور ساتھ ہی متععد دکانیں بھی بنائیں گئیں اس مسجد کا افتتاح حضرت مخدوم سید شوکت حسین گیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا باقی نمایاں شخصیات میں مدرسہ کی انتظامیہ کے علاوہ میاں خواجہ مظفر محمود صاحب الحاج خواجہ مظفر الدین صاحب الحاج خواجہ نیاز احمد صاحب بھی شامل تھے الحمد للہ وہاں درجتہ حفظ جاری ہے جہاں دو استاد شب روز محنت سے قرآن مجید کی تعلیم دے رہے ہیں۔


جامعہ انوار العلوم کا چودھواں سال
٭ جامعہ انوار العلوم 26-25-24اپریل1959ء کو باغ لانگے خان میں منعقد ہوا صدارت حضرت مخدوم المخادیم مخدوم سید شوکت حسین صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمائی مغربی پاکستان کے ہر گوشے سے کثیر تعداد میں علماء کرام اور مشائخ عظام نے شرکت فرمائی خصوصاً شیخ المشائخ خواجہ نظام الدین تونسوی شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی سلطان الاتقیاء حضرت خواجہ غلام محی الدین گولڑوی رحمتہ اللہ علیہ اجمعین حضرت صاحبزادہ میاں جمیل احمد شرقپوری حضرت پیر نثار احمد سرہندی سندھ حضرت خواجہ سیرستان علی شاہ حکم الامت مفتی احمد یار خان مجاہد ملت صاحبزادہ سید فیض الحسن سجادہ نشین مہار شریف مولانا محمد بخش بی اے مولانا محمد شفیع اوکاڑوی مولانا محمد شریف نوری قصوری مولانا محمد سلیم فیصل آبادی مولانا صوفی غلام حسین مولانا محمد میاں گجرات مولانا خورشید احمد فیضی شاہ جمالی مولانا عبدالقادر خانیوال الحاج مولانا پیر گل محمد شاہ قریشی قادر پور مولانا حافظ سراج احمد مولانا عبدالواحد خانیوا مولانا محمد ظریف اوچ شریف اور متعدد دیگر علماء کرام تشریف فرما ہوئے۔


٭ جامعہ انوار العلوم کی انتظامیہ پوری تن دہی سے ادارے کو زیادہ سے زیادہ ترقی سے ہمکنار کرنے کیلئے مسلسل کوشاں رہی ادارہ ہذا انتہائی تیزرفتاری سے تعلیم و تبلیغ علوم دینہ عربیہ کی چودہ منزلیں طے کرکے سال نور کے آغاز میں برصغیر کے نامور عالم دین فقی اعظم آگرہ حضرت مولانا مفتی عبدالحفیظ رحمتہ اللہ علیہ کا تقرر بحیثیت استاذ حدیث ادارہ ہذا عمل میں آیا۔

          پچھلا صفحہ                                         اگلا صفحہ

ہوم پیج