تاریخی قراردادوں کی منظوری

٭ چونکہ ابھی تک پاکستان معرض وجود میں نہیں آیا تھا اسلئے قرآن مجید کی طباعت کا زیادہ کام غیر مسلموں کے ہاتھ میں تھا پھر ان دنوں اینٹی قرآن کمیٹی کے نام سے غیر مسلموں کی ایک تنظیم مسلمانوں کے مذہبی جذبات کیلئے چیلنج بنی ہوئی تھی۔ اسلئے ضروری تھا کہ برصغیر کے مسلمان اس کتاب مقدس کی عظمت کے تحفظ کیلئے ایمانی غیرت کا ثبوت دیں۔ چنانچہ یہ اعزاز بھی مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتان کو حاصل ہوا کہ اسکے پہلے سالانہ جلسے میں تاریخی نوعیت کی یہ قرار دادیں منظور کی گئیں جو حضرت مخدوم سید غلام نبی شاہ صاحب گیلانی صدر استقبالیہ نے پیش فرمائی اور مخدوم المخادیم حضرت مخدوم سید شوکت حسین گیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے تائید فرمائی اور یہ قرار دادیں متفقہ طورپر حاضرین جلسہ نے منظور کیں۔


1- مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم کا یہ عظیم الشان جلسہ گورنمنٹ پنجاب سے پر زور درخواست کرتا ہے کہ مسلمانوں کی مقدس الہامی کتاب قرآن مجید کی طباعت و فروخت غیر مسلموں کیلئے قانوناً ممنوع قرار دے کر آئندہ فتوں کے احتمال کا قبل از وقت انسداد کرتے ہوئے مسلمانان پنجاب بلکہ تمام مسلمانان ہند کے اضطراب کو رفع کرے۔
2- یہ عظیم الشان جلسہ اینٹی قرآن کمیٹی کو انتہائی نفرت و حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اسکی مندانہ کاروائیوں کی پر زور مذمت کرتا اور اسکے وجود کو ملت اسلامیہ کی دل آزاری کے مترادف قرار دیتا ہے۔
3- یہ عظیم الشان جلسہ مسلمانان ہند سے مخلصانہ اپیل کرتا ہے کہ حجاز مقدس کے قحط زدگان کی امداد و اعانت کیلئے آل انڈیا اشرفی مدینہ فنڈ کے ساتھ پورا پورا تعاون فرما کر اپنے ضروری قومی و ملی فرض کو ادا کریں۔

انتظامی امور کی طرف پہلا قدم

٭ مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم کے پہلے سالانہ جلسہ سے فارغ ہونیکے بعد مدرسے کے نظم و نسق کی مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر قائم کرنے کیلئے مختلف کمیٹیوں کی تشکیل کا منصوبہ بنایاگیا چنانچہ 31دسمبر1944ء کو مذہبی اور دینی حمایت رکھنے والے اہلسنت و جماعت کے چند سرکردہ افراد کا ایک اجتماع لوہاری گیٹ کے قریب واقع حاجی محمد ابراہیم محمد رفیق صاحبان تاجران چرم کے گودام میں ہوا جس میں مجلس منتظمہ مجلس شوری عاملہ اور مجلس عامہ تشکیل دی گئی اور اس مشاورتی اجلاس کی صدارت حضرت مخدوم سعید شیر شاہ صاحب گیلانی نے کی۔

پہلی مجلس شوری عاملہ

٭ مدرسہ انوار العلوم کی پہلی مجلس عاملہ شوری جن ممتاز شخصیات پرمشتمل تھی ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
1-مخدوم المخادیم حضرت قبلہ مخدوم سید صدر الدین شاہ صاحب گیلانی سرپرست مدرسہ ہذا
2-حضرت مخدوم سید محمد رمضان شاہ صاحب گیلانی صدر مجلس شوری عاملہ
3-جناب مخدوم سید غلام نبی شاہ صاحب گیلانی نائب صدر اول
4-جناب میاں خواجہ مظفر الدین صاحب تاجر چرم نائب صدر دوئم
5-حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب متولی نمبر 1صدر مہتمم مدرسہ ہذا و سیکریٹری مجلس منتظم و مجلس شوری عاملہ
6-مولانا سید احمد حبیب افق کاظمی ناظم مدرسہ نائب سیکریٹری مجلس منتظمہ و مجلس شوری
7-جناب حاجی منشی اللہ بخش صاحب ٹین مرچنٹ متولی نمبر2ونائب مہتمم و خازن مدرسہ نائب سیکریٹری نمبر2(مجلس منتظمہ و شوری)

ارکان پہلی مجلس شوری(مجلس عاملہ)

٭ مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم کی پہلی مجلس شوری کے رکن منتخب ہونے کا اعزاز جن خوش نصیب شخصیات کو حاصل ہوا ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔

٭ حضرت مخدوم سید شیر شاہ صاحب گیلانی جناب مخدوم سید زین العابدین شاہ صاحب گیلانی جناب مخدوم سید شوکت حسین صاحب گیلانی جناب الحاج خواجہ میاں مظفر محمود صاحب تاجر چرم جناب الحاج خواجہ میاں نیاز احمد تاجر چرم جناب خواجہ میاں غلام قادر تاجر چرم جناب خواجہ میاں حسن الدین صاحب تاجر چرم۔موخر الذکر تینوں معزز ارکان مجلس شوری عاملہ کے نائب صدر دوم جناب خواجہ میاں مظفر الدین تاجر چرم کے صاحبزادے ہیںجناب حاجی محمد ابراہیم محمد امین صاحبان تاجر چرم جناب میاں محمد الدین نور حسین صاحبان تاجر چرمجناب میاں برکت علی صاحب تاجر چرم جناب حاجی محمد ابراہیم منظور احمد صاحبان کمپنی والے جناب میاں عبدالکریم صاحب جناب میاں محمد رمضان حاجی خادم حسین صاحبان لیہ والے جناب میاں فضل حسین عبدالستار صاحبان تاجران چرم جناب فیروز دین محمد اکرم صاحبان تاجران چرمجناب شیخ محمد مولانا بخش عبدالرحمان صاحبان جناب حافظ رفیق احمد صاحب اندرون بوہڑ گیٹ ملتان جناب حکیم غلام محبوب سبحانی صاحب حرم گیٹ ملتان جناب حکیم صالح محمد صاحب فریدی ملتان جناب حاجی محمد اسحاق صاحب فضل بوٹ شاپ ملتان جناب میاں عبدالکریم عبدالواحد صاحبان سوداگران فرسکن ملتان جناب ملک عبدالرحمن صاحب ٹھیکیدار ملتان جناب شیخ حسام الدین صاحب تاجر چرم جہانیاں منڈی۔

مجلس منتظمہ کے ارکان

٭ مدرسہ انوارالعلوم کو زیادہ سے زیادہ مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے اور اہلسنت و جماعت کے اس مماز مرکزی ادارے کو صحیح خطوط پر چلانے کیلئے جو مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ان میں مجلس منتظمہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اسلئے اس کمیٹی کیلئے جو معزز ارکان منتخب کئے گئے ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔

٭ امام اہلسنت علامہ سید احمد سعید کاظمی متولی نمبر1و مہتمم مدرسہ ہذا و سیکریٹری مجلس شوری مولانا سید احمد حبیب شاہ صاحب کاظمی ناظم اعلیٰ مدرسہ ہذا نائب سیکریٹری جناب حاجی منشی اللہ بخش صاحب متولی نمبر2 و نائب مہتمم مدرسہ ہذا رکن خصوصی مجلس منتظمہ و نائب سیکریٹری جناب شیخ مولا بخش صاحب رکن مجلس منتظمہ جناب میاں نور حسین عبدالعزیز صاحبان خلف میاں محمد دین صاحب رکن مجلس منتظمہ۔

مدرسہ کی فلاح و بہبود کیلئے تشکیل دی مختلف کمیٹیوں کے عہدیداران

٭ نو نہال چمن طریقت حضرت خواجہ غلام فرید صاحب سجادہ نشین(چاچڑاں شریف)
٭ فخر الصالحین حضرت خواجہ عبدالکریم صاحب (چاچڑاں شریف)
٭ قدوۃ السالکین مجاہد اعظم حضرت خواجہ پیر عبدالرحمن صاحب پیر آف بھر چونڈی شریف
٭ زین العامتہ والدین حضرت مخدوم سید حسین بخش صاحب بخاری سجادہ نشین شہر سلطان
٭ گوہر بحر احسان جناب در محمد خان صاحب ذیلدار ٹھل خیر محمد(سابق ریاست بہاولپور)

سالانہ کارگزاری کی اجمالی جھلک

٭ مدرسہ انوار العلوم کا مارچ1944ء میں جب باقاعدہ افتتاح ہو چکا تو امام اہلسنت حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اللہ علیہ مدرسہ ہذا نے اول مدرس کی حیثیت سے درس و تدریس کا سلسلہ شروع فرما دیا اور جناب مولانا خدا بخش صاحب جامپوری مرحوم کو مدرس دوئم مقرر کیاگیا۔ موصوف کا تقرر مختصر مشاہرے پر کیا گیا اور ان کے کھانے وغیرہ کا جملہ اخراجات حضرت مہتمم صاحب نے اپنے ذمہ لے لیئے تاکہ مدرسہ پر مالی بوجھ نہ پڑے مارچ میں چند مقامی طلباء کے علاوہ چار بیرونی طلباء کو داخلہ دیا جن کا ماہانہ وظیفہ اور طعام و قیام مدرسہ کے ذمہ رہا۔ اپریل کا مہینہ بھی اس طرح گزر گیا البتہ مئی 1944ء میں طبخ سے کھانا اور امدادی وظیفہ پانے والے طلباء کی تعداد نو ہوگئی اور کھانا پکانے کیلئے ایک ملازم کو مقرر کیا گیا جون اور جولائی میں صرف ایک طالب علم کا اضافہ ہوا لیکن اگست مطابق رمضان المبارک میں مدرسہ میں تعطیل ہوجانیکی وجہ سے تقریباً پانچ طلباء اپنے گھروں کو چلے گئے اور پانچ باقی رہ گئے ستمبر1944ء میں مزید ایک مدرس مولانا محمد عبدالکریم صاحب جامپوری کا تقرر کیاگیا اور مختصر مشاہرے کے علاوہ ان کو ایک وقت کا کھانا بھی مدرسہ کے ذمہ رہا۔ ستمبر میں طلباء کی تعداد نو رہی اکتوبر میں قرآن مجید کی حفظ و ناظرہ کی تدریس کیلئے حافظ نور احمد نامی ایک صاحب کا تقرر کیا گیا اور ساتھ ہی ایک خاکروبہ کو باقاعدہ ملازمہ رکھا گیا نومبر میں مدرسین کی تعداد تو بدستور رہی البتہ جن طلباء کے طعام و قیام اور ماہانہ وظیفے کی ذمہ داری مدرسہ پر تھی ان کی تعداد بارہ ہوگئی ادھر حضرت مہتمم صاحب کے معاشی وسائل بھی زیادہ نہ تھے ۔ مدرسے کی درسی خدمات اور اہتمام کی ذمہ داریوں کے پیش نظر بیرونی تبلیغی جلسوں میں شرکت محدود ہوکر رہ گئی تھی۔ ہر وقت مہمانوں کی آمدورفت اور ان کے طعام و قیام کی تمام تر ذمہ داری بھی آپ پر تھی اور اسی طرح کئی ماہ سے طلباء کرام کو بغیر کسی معاوضے کے فی سبیل اللہ اپنے علمی فیوض و برکات سے نواز رہے تھے۔ اسلئے مدرسہ کی انتظامیہ نے آپ کو انتہائی اصرار کے بعد صرف پچاس روپے ماہانہ حقیر نذرانہ قبول کرنے پر آمادہ کرلیا۔

ناظم اعلی کا تقرر

٭ مدرسہ انوار العلوم بڑی تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتا جا رہا تھااسلئے اس کا کام بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ ضرورت محسوس کی گئی کہ کسی قابل تجربہ کار ناظم کا تقرر کیاجائے کافی غور وخوض کے بعد امروہہ(بھارت) سے ممتاز ادیب اور شاعر جناب مولانا سید احمد حبیب شاہ صاحب کاظمی کو ملتان آنے اور نظامت کے فرائض سنبھالنے کی دعوت دی گئی اور موصوف نومبر1944ء کے آخری ہفتے ملتان تشریف لے آئے۔ ناظم اعلیٰ کے عظیم منصب پر فائز ہونے کیساتھ کیساتھ فارسی روبیات کے اسباق بھی آپ نے پڑھانے شروع فرمائے اور اس طرح ماہ دسمبر1944میں مجموعی طورپر مدرسین کی تعداد پانچ ہوگئی جنوری1945 ء میں ایک محصل چندہ منشی محمد اکرم ملتانی کا تقرر کیاگیا اور اس وقت تک مدرسہ سے خوراک اور وظیفہ حاصل کرنیوالے طلباء کی تعداد ۱۳ رہی فروری 1945میں اسباق کی تعداد میں اضافہ ہوگیا تو ایک اور مدرس کی ضرورت محسوس ہوئی اور مجلس منتظمہ کے مشورے سے حضرت مولانا عبدالکریم صاحب اعوان اللہ آبادی کا تعین کیا گیااور حافظ نور احمد جو قرآن مجید کے معلم کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے ان کی مایوس کن کارگزاری اور مسلسل غیر حاضریوں کی وجہ سے ان سے مدرسہ کی خدمات واپس لے لی گئیں اور ان کی جگہ مولوی سید محمد عقیل کو مقرر کیا گیا فروری کے مہینے میں مسافر طلباء کی تعداد16رہی مارچ 1945ء عہدیداروں کی مجموعی تعداد سات اور مسافر طلباء کی تعداد بائیس ہوگئی مطبخ کا مناسب انتظام نہ ہونیکی وجہ سے مجلس منتظمہ کے فیصلے کے مطابق مسافر طلباء کو خوراک کیلئے نقد رقم دی جانے لگی اور طلباء کے قیام و طعام کا انتظام مختلف مساجد میں کیاگیا اپریل1945ء میں طلباء کی تعداد میں قدرے اضافہ ہوگیا اور ان کی مجموعی تعداد پچیس ہوگئی حضرت مولانا عبدالکریم اعوان اللہ آبادی اپنی خانگی اور ذاتی مصروفیات کیوجہ سے مدرسہ میں مطمعی سے کام نہ کرسکے اور وہ اکثر رخصت پر رہتے آخر23اپریل کو جب وہ رخصت پر تھے تو بذریعہ خط اطلاع دی کہ میں اپنے ذاتی معاملات کی مصروفیت کے باعث مدرسہ کی پابندی سے قاصر ہوں ان کے متعلقہ اسباق تقریبا ایک ماہ حضرت قبلہ مہتمم صاحب خود پڑھاتے رہے اور 23مئی 1945ء کو مولانا عبدالحکیم علی پوری کا دوماہ کیلئے عارضی تقرر کیاگیا مئی میں بھی عملے اور طلباء کی تعداد حسب سابق رہی جون 1945ء منشی محمد اکرم محصل چندہ نے بوجہ صغف پیری خدمت سے معذرت کرلی اور پھر عارضی طور پر یہ خدمت مولوی سید محمد عقیل کاظمی کے ذمے متعین کمیشن لگا دی گئی۔

٭ ۳ شعبان المعظم1364ھ بمطابق جولائی1945ء کو مدرسہ کا سالانہ امتحان ہوا عربی پڑھنے والے منتہی متوسط اور مبتدی تیس طلباء کرام اور فارسی اردو قرآن مجید پڑھنے والے دس طلباء شریک امتحان ہوئے اور اس طرح پہلے سالانہ امتحان میں شریک ہونیوالے طلباء کی مجموعی تعداد چالیس تھی اور نتیجہ حوصلہ افزا ء رہا۔

          پچھلا صفحہ                                         اگلا صفحہ

ہوم پیج