پہلا سالانہ جلسہ

٭ مدرسہ اسلامیہ عربیہ کا عظیم الشان پہلا سالانہ جلسہ 11-10-9دسمبر1944ء کو باغ لانگے خان میں انعقاد پذیر ہوا جس میں برصغیر پاک و ہند کے تقریباً ایک سوسے زائد علماء کرام اور مشائخ عظام نے اس افتتاحی جلسے میں شرکت فرمائی۔ ملتان اور قرب و جوار سے شریک ہونیوالے ہزاروں افراد ان جید علماء کرام کے نوارنی اور بصیرت افروز خطاب سے محظوظ ہوتے رہے اور تین دن رات مسلسل سرزمین ملتان پر علم و عرفان کی بارش ہوتی رہی۔ اہلیان ملتان نے اس سے قبل مقتدر اور جید علماء کا اتنا عظیم اجتماع پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔

٭ مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم کے اس عظیم الشان پہلے جلسے میں ایک سو سے بھی زائد علماء کرام نے شرکت فرمائی۔ لیکن چند نامور علماء کرام کے اسماء گرامی یہ ہیں۔ حضرت مولانا مصطفی رضا خان صاحب مفتی اعظم بریلی حضرت مولانا ابو المجاہدپیر سید محمد شاہ صاحب کچھوچھی حضرت مولانا حافظ قاری سید محمد خلیل صاحب کاظمی محدث امروہیہ سراج الفقہا حضرت مولانا سراہ احمد صاحب مکھن بیلہ سابق ریاست بہاولپور حضرت مولانا ابو البرکات سید احمد صاحب ناظم اعلی حزب الاحناف لاہور حضرت مولانا سردار احمد صاحب صدر مدرس مدرسہ مظہر السلام بریلی حضرت مولانا محمد عبدالحفیظ صاحب مفتی اعظم آگرہ حضرت مولانا عبدالغفور ہزاروی وزیر آباد حضرت مولانا محمد یار صاحب فریدی گڑھی اختیار خاں(بہاولپور) حضرت مولانا محمد قطب الدین صاحب جھنگول حضرت مولانا غلام جہانیاں ڈیرہ غازی خان حضرت مولانامحمد عمر صاحب اچھرہ لاہور حضرت مولانا حاجی شاہ صاحب بہاولپوری حضرت مولانا محمد مظہر الدین حضرت مولانا صوفی غلام ربانی صاحب حضرت مولانا محمد یوسف حضرت مولانا محمد عبداللہ سندھی حضرت مولانا عبدالوحد صاحب خانپور حضرت مولانا حافظ سراج احمد صاحب خانپور حضرت مولانا عبدالکریم صاحب بہاولپور۔

٭ اسی طرح ملک کے طول و عرض سے جو کثیر تعداد میں مشائخ عظام اس پہلے سالانہ جلسہ میں ملتان تشریف لائے ان میں حضرت خواجہ عبدالکریم صاحب چاچڑاں شریف مجاہد ملت حضرت خواجہ عبدالرحمن سجادہ نشین بھرچونڈی شریف حضرت خواجہ حافظ سید حسن علی صاحب دربار شریف حضرت خواجہ حاجی محمد سعید صاحب جلالپور مخدوم حاجی حسین بخش شاہ صاحب شہرسلطان حضرت مخدوم خواجہ دین محمد صاحب قریشی مبارک حضرت حاجی سید محمد نوار شاہ صاحب حضرت حاجی سید محمد عالم شاہ صاحب اوچ شریف حضرت خواجہ خیر محمد صاحب خواجہ شریف محمد صاحب گڑھی اختیار خان والے حضرت خواجہ عبدالحمید صاحب کے اسمائے گرامی نمایاں نظر آتے ہیں۔

پہلا اجلاس

٭ اہلسنت و جماعت کی اس ممتاز دینی اور مذہبی درسگاہ انوار العلوم کے پہلے سالانہ جلسہ کا پہلا اجلاس 9دسمبر کو سہ پہر کے وقت شروع ہوا۔ جسکی صدارت کا اعزاز ملتان کی معروف روحانی شخصیت حضرت مخدوم سید صدر الدین شاہ صاحب گیلانی کو حاصل ہوا۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد نعت خوانوں نے حضور نبی کریم ﷺ کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ خانوادہ گیلانی کے چشم و چراغ اور اس دور کی ممتاز سیاسی شخصیت اور مدرسہ کی مجلس استقبالیہ کے صدر مخدوم سید غلام نبی شاہ صاحب گیلانی میونسپل کمشنر ملتان نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور بعد میں سابق ریاست بہاولپور کے ممتاز عالم دین مولانا عبداللہ سندھی نے سرائیکی زبان میں شان نبوت پر انتہائی موثر تقریر فرمائی۔

دوسرا اجلاس

٭ بعد نماز عشاء شروع جو رات گئے جاری رہا۔ صدارت کے فرائض پیر آف بھرچونڈی شریف حضرت خواجہ عبدالرحمن نے انجام دیئے تلاوت اور نعت خوانی کے بعد سرائیکی کے نامور خطیب حاجی شاہ صاحب نے تصرفات نبوت پر نہایت دلچسپ اور مدلل تقریر فرمائی ان کے بعد یوپی سے تشریف لائے ہوئے ممتاز عالم دین حضرت مولانا مفتی عبدالحفیظ صاحب مفتی اعظم گڑہ علم اور نبوت کے موضوع پر اپنی فصاحت و بلاغت کے جوہر دیکھائے۔

دوسرا دن اور پہلا اجلاس

٭ 10دسمبر کو مدرسہ انوار العلوم کے سالانہ جلسہ کا دوسرا دن تھا جس کا پہلا اجلاس صبح نو بجے شروع ہوا جسکی صدارت حضرت مخدوم غلام نبی شاہ صاحب میونسپل کمشنر ملتان نے فرمائی۔تلاوت قرآن مجید اور نعت خوانی کے بعد ڈیرہ غازی خان کی معروف علمی شخصیت حضرت مولانا غلام جہانیاں صاحب نے کمالات نبوت پر روح پرور خطاب فرمایا اور ان کے بعد وزیر آباد کی جامع مسجد کے خطیب اور اہلسنت و جماعت کے نامور عالم دین حضرت مولانا عبدالغفور ہزاروی نے اپنے مخصوص انداز میں خطاب فرمایا اور شان نبوت کے موضوع پر یادگار تقریر فرمائی اور یہ اجلاس دوپہر دو بجے نماز ظہر کے وقت پر ختم ہوا۔

دوسرا اجلاس

٭ بعد نماز ظہر شروع ہوا۔ صدارت کے فرائض کوٹ مٹھن شریف کے ممتاز روحانی پیشوا حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے خاندان کے چشم و چراغ حضرت خواجہ عبدالکریم صاحب نے انجام دیئے۔ مدرسہ انوار العلوم کے مہتمم اور بانی حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اللہ علیہ نے ابتداء کی مفصل رپورٹ پیش فرمائی اور پھر ایک بار مولانا محمد عبداللہ سندھی نے اپنے پر اثر خطاب سے حاضرین جلسہ کو نوازا اور ان کے بعد حضرت قبلہ محدث کچھوچھوی رحمتہ اللہ علیہ نے اہلسنت و جماعت کے عقائد حقہ اور فرق باطلہ کے عقائد و نظریات پر تقابلی جائزہ بہت ہی دلچسپ انداز میں پیش فرمایا اور غروب آفتاب سے کچھ قبل نماز عصر ادا کی گئی۔

تیسرا اجلاس

٭ نماز عشاء کے بعد شروع ہوا اہلسنت و جماعت کی ممتاز دینی درسگاہ حزب الاحناف لاہور کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا ابو البرکات سعید احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے صدارت کے فرائض انجام دیئے۔ قرآن مجید کی تلاوت کے بعد نعت خوانی کا روح پروردور شروع ہوا اور بعد میں شیخ القرآن حضرت مولانا محمد عبدالغفور ہزاروی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی پہلی تقریر کے تتمہ کے طورپر بہت ہی مسحور کن خطاب فرمایا ان کے بعد محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ جو ان دنوں بریلی شریف کے مدرسہ مظہر الاسلام میں صدر مدرس تھے انہوں نے حقانیت مسلک اہلسنت پر انتہائی موثر اور علمی خطاب فرمایا اور آخر میں محدث کچھوچھوی حضرت پیر سید محمد شاہ صاحب نے تصوف اور اسلام کے موضوع پر انتہائی جامع تقریر فرمائی اور یہ اجلاس بھی رات گئے جاری رہا۔

تیسرا دن اور پہلا اجلاس

٭ 11دسمبر کو مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوارالعلوم کے پہلے سالانہ جلسے کا تیسرا دن تھا۔ پہلا اجلاس حسب معمول صبح نو بجے شروع ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت حضرت محدث کچھوچھی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمائی تلاوت قرآن مجید اور نعت خوانی کے بعد مناظراسلام حضرت مولانا محمد عمر اچھروی رحمتہ اللہ علیہ نے مختلف باطل فرقوں کے رد میں دلچسپ تقریر فرمائی اور ان کے بعد استاذ العلماء حضرت مولانا ابو البرکات رحمتہ اللہ علیہ نے عظمت نبوت کو بیان کرتے ہوئے عقائد باطلہ کا رد فرمایا۔

دوسرا اجلاس

٭ مدرسہ انوار العلوم کے پہلے سالانہ جلسے کے تیسرے روز کے دوسرے اجلاس کی صدارت ممتاز روحانی شخصیت حضرت مہتمم صاحب کے برادر اکبر اور قابل صد تکریم استاذ یم حضرت مولانا سید محمد خلیل کاظمی محدث امروہہ رحمتہ اللہ علیہ نے کی اور تلاوت قرآن مجید اور نعت خوانی کے بعد جامع مسجد پٹی ضلع لاہور خطیب مولانا غلام ربانی نے حُب رسول ﷺ کے موضوع پر خوبصورت خطاب فرمایا اور ان کے بعد معروف خطیب حضرت مولانا محمد یوسف سیالکوٹی نے صداقت اسلام کے موضوع پر بصیرت افروز خیالات کا اظہار فرمایا اور یہ اجلاس بھی نماز ظہر کے وقفہ کیلئے اختتام پذیر ہوا۔ 

تیسرا اجلاس
ملک کی ممتاز دینی اور مذہبی درسگاہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم کے پہلے سالانہ جلسے کے تیسرے دن کا آخری اجلاس بعد نماز عشاء پوری شان و شوکت کیساتھ شروع ہوا بریلی شریف کے مفتی اعظم حضرت مولانا مصطفی رضا خان صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے کرسی صدارت کو زینت بخشی تلاوت قرآن مجید اور نعت خوانی کے حسین دور کے بعد امام اہلسنت حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد خاص اورتادم حیات مدرسہ انوار العلوم کے سالانہ جلسوں کے مستقل اسٹیج سیکریٹری حضرت مولانا عبدالقادر جالپوری رحمتہ اللہ علیہ نے ان دنوں قائم ہونیوالی اہلسنت و جماعت کی محبوب تنظیم جمعیت ابرار ہند ملتان کے اغراض و مقاصد اور قواعد و ضوابط پڑھ کر سنائے اور شریک جلسہ علماء کرام اور مشائخ عظام کی موجودگی میں اس تنظیم کا پرچم لہرایا گیا جمعیت ابرار ہند کی صدارت اور امارت کا اعزار بھی امام اہلسنت حضرت قبلہ کاظمی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو حاصل تھا۔ پرچم کشائی کی اس تقریب سعید کے بعد تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا۔ محدث اعظم امروہہ حضرت مولانا حافظ سید خلیل شاہ صاحب کاظمی امروہوی رحمتہ اللہ علیہ نے بشریت رسولﷺ کے عنوان سے جامع اور مدلل خطاب فرمایا آپ کے بعد ممتاز اور مقبول مقرر حضرت مولانا محمد یار صاحب گڑھی اختیار خان نے عظمت رسولﷺ پر انتہائی موثر انداز میں تقریر فرمائی اور پھر عوام کے بھر پور اصرار پر مفتی اعظم آگڑہ حضرت مفتی عبدالحفیظ کو دعوت خطاب دی گئی موصوف نے حقیقت روح کے موضوع پر اسقدر دلکش انداز میں تقریر کی کہ سامعین جھوم اٹھے اور آپ مسلسل دو گھنٹے تک اپنی فصاحت و بلاغت کے جوہر دکھاتے رہے۔

٭ ان کے بعد علماء کرام اور مشائخ عظام کے بھر پور اشتیاق پر امام اہلسنت حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ خطاب کیلئے تشریف لائے۔ آپ نے بھی حقیقت روح کے موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے ایسے ایسے خوبصورت علمی نکات بیان فرمائے کہ حاضرین و سامعین تڑپ اٹھے اگرچہ آپ کا عنوان شباب تھا اور اسٹیج پر اکابر علماء کرام اور مشائخ عظام جلوہ گر تھے لیکن امام اہلسنت کے مدلل انداز بیان قرآن و سنت کے حوالوں سے مرصع گفتگو خوبصورت لب و لہجے اور آواز گھن گرج۔ دسمبر کی ٹھنڈی اور یخ رات میں ایسا سماں باندھا کہ ہر زبان سے مرحباء سبحان اللہ اور عزت دراز باد کی صدائیں بلند ہو رہی تھی اور مدرسہ انوار العلوم کے پہلے سالانہ جلسہ کا یہ آخری اجلاس رات کو تقریبا تین بجے حضرت محدث کچھوچھوی رحمتہ اللہ علیہ کی دعا پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔

          پچھلا صفحہ                                         اگلا صفحہ

ہوم پیج