تاریخ جامعہ انوار العلوم

٭ ملک کی ممتاز اور معروف دینی درسگاہ مدرسہ انوار العلوم کو قائم ہوئے 72سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے۔ اہلسنت و جماعت کے اس عظیم دینی اور روحانی مرکز نے اپنے قیام سے لیکر اس وقت تک جو اہم مذہبی دینی اور اعلیٰ خدمات انجام دی ہیں وہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ اس ادارے نے ملک و قوم کی فلاح وبہبود کیلئے جو قابل قدر کارنامے انجام دیئے ہیں انہیں قیامت تک فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔وسائل کی کمی نامساعد حالات کی فراوانی اور اسلام دشمن قوتوں کی ریشہ دوانی کے باوجود مسلمانوں کے اس عظیم اور پرشکورہ دینی مرکز نے علم و عرفان کی جو شمعیں روشن کی ہیں ان کی نورانیت مدتوں ملت اسلامیہ کے قلب و روح کو مستفید کرتی رہیگی اور ہر شخص کو اعتراف کرنا پڑیگا کہ

درس علم و حکمت و رشد و ہدایت کیلئے
بن گیا کیا برمحل ایوان انوار العلوم

انوار العلوم کی ضیاء پاشیوں کا آغاز
٭ اہلیان ملتان سلطان و ہند خواجہ غریب نوار حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کا عرس مبارک بڑی عقیدت و احترام سے منعقد کیا کرتے تھے۔تو ایک مرتبہ یہاں کی ایک معروف روحانی شخصیت حضرت نفیر عالم صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے امام اہلسنت غزالی وقت حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اللہ علیہ کو اس مقدس تقریب کے خطاب کیلئے مدعو کیا اور جب اولیاء کرام کے اس شہر کے باسیوں نے غزالی وقت رحمتہ اللہ علیہ کی تقریرسنی تو انہیں یہ محسوس ہوا کہ یہ شخص آسمان علم و فضل کا ایسا درخشندہ آفتاب ہے جس سے مستفید ہونیوالے ہی یقینا دینوی اور افروی رموزوفلاح حاصل کرسکیں گے۔اسلئے انہوں نے حضرت نفیر عالم رحمتہ اللہ علیہ سے اسرار کیا کہ اس گوہر گرانما یہ کو ملتان شہر ہی میں رہنے پر مجبور کیاجائے۔ تاکہ اس روحانی شہر کو ایکبار پھر سے رشد و ہدایت کی شمعیں روشن کرنیوالی ایک عظیم شخصیت میسر آسکے۔

٭ چنانچہ حضرت سید نفیر عالم کے بھر پور اسرار پر امام اہلسنت علامہ سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ 1930ء کے اوائل میں ملتان شہر جلوہ فگن ہوئے۔ آپ کے یہاں تشریف لاتے ہی علم و عرفان کی مجالس میں بہار آگئی۔ امام اہلسنت رحمتہ اللہ علیہ نے جب سر زمین ملتان کو مستقل طورپر اپنا مسکن بنالیااور مختلف مذہبی تقریبات کو اپنے علمی شہ پاروں کے ذریعے زینت عطا کرنے لگے تو چند ہی دینوں میں دور دور تک آپ کے علم و فضل کا چرچا ہونے لگا۔ مجالس علم آپکے تذکرے کے بغیر سونی محسوس ہونے لگیں۔ غزالی وقت کا ذکر اہل علم کی زبانوں کا ورد بن گیا اور ملک کے طول و عرض میں آپ کی علمی عظمتوں کا اعتراف کیاجانے لگا۔

٭ غزالی زماں رحمتہ اللہ علیہ ایک طرف تو میدان خطابت کے شاہسوار ہونیکی حیثیت سے عامتہ الناس کے دلوں کی دھڑکن بنتے گئے اور دوسری طرف ٹیناں والی کھوئی کے قریب واقع اپنے مختصر سے مکان میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کرکے تشنگان علوم دینیہ کی علمی پیاس بجھانے میں مصروف ہوگئے اور اس طرح آپ بڑی تیزی کے ساتھ آسمان علم و عرفان پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکنے لگے۔

٭ جن دنوں امام اہلسنت رحمتہ اللہ علیہ نے ملتان کو اپنے قدموں سے زینت بخشی وہ انتہائی پر آشوب دور تھا لادینی قوتیں اسلام کے خلاف پوری طرح نبردآزما تھیں مغرب زدہ طبقہ اسلامی اقدار کو مٹانے کیلئے منظم طورپر ریشہ دوانیوں میں مصروف عمل تھا اس پر متضادیہ کہ ایک مخصوص طبقہ مذہبی لبادہ اوڑھے اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کے خلاف اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے فتنہ پروری میں لگا ہوا تھا۔خصوصاً ملتان شہر جسے مدینتہ الاولیاء کہا جاتا ہے۔ بد عقیدہ لوگوں کی زد میں تھا۔ یہاں کے رہنے والوں کے عقائد و نظریات پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے شب و روز سازشیں جاری تھیں۔ لیکن امام اہلسنت رحمتہ اللہ علیہ کی علمی بصیرت روحانی قوت اور ولولہ انگیز قیادت میسر آجانے کے بعد اہل حق کے حوصلے بلند ہوگئے۔ ضلالت و گمراہی کے اندھیروں میں ملت اسلامیہ کو دھکیلنے والی قوتیں پسپا ہونے لگیں اور جب اہل باطل کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا تو انہوں نے امام اہلسنت رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف محاذ آرائی کا سلسلہ شروع کردیا اور ان سے میدان علم میں باربار شکست کھا کر ذلت و رسوائی کا شکار ہونیوالے آپ کی جان کے دشمن بن گئے۔

٭ اپنے اس مذموم مقصد کی تکمیل کیلئے اولیاء کرام کے ان دشمنوں نے بڑی سوچ بچا ر کے بعد ایک سابق ریاست بہاولپور کے ایسے پسماندہ علاقے کا انتخاب کیا جو دریا کے کنارے انتہائی سنسان شہروں سے دور اور ریلوے اسٹیشن سے تقریباً ساڑھے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ جہاں آمدورفت کا کوئی ذریعہ نہ تھا لوگ پیدل سفر کرتے تھے اوراونٹوں وغیرہ کے ذریعے اس تکلیف دہ سفر کو طے کیاجاسکتا تھا۔ اس ویران علاقے کی ایک بستی میں خطاب کیلئے آپ کو مدعو کیاگیا اور پہلے سے وہاں مسلح حملہ آور جمع کرلئے گئے چنانچہ محرم کی تین تاریخ جمعہ کے دن جب امام اہلسنت نے خطاب شروع فرمایا تو ایک نام نہاد بد باطن مولوی نے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق آپ پر حملہ کرادیا اگرچہ وہاں پر موجود صحیح العقیدہ مسلمانوں نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن حملہ آور چونکہ کافی تعداد میں پوری منصوبہ بندی کیساتھ حملہ آور ہوئے تھے جبکہ سنی عوام نہتے اور اچانک پیش آنیوالے اس حادثے سے خالی الذہن تھے اسلئے صحیح طورپر دفاع نہ کرسکے اور اس طرح امام اہلسنت شدید زخمی ہوگئے اور کسی ہسپتال یا شفاخانہ کے نزدیک نہ ہونے کی وجہ سے بدن سے بے تحاشہ نکلنے والے خون کو نہ روکا جاسکا اور اس طرح تین دن تک آپ اسی بستی میں بے ہوشی کے عالم میں زخموں سے نڈھال رہے اور جب مختلف علاقوں میں رہنے والے عقید تمندوں تک اس روح فرسا واقع کی اطلاع پہنچی تو آپ کو ملتان لایا گیا آپ کے جسم مبارک پر آنیوالے شدید زخموں کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تقریباً چھ ماہ مسلسل علاج معالجے کے بعد زخم تو مندمل ہوگئے لیکن ان کے نشان وصال کے وقت تک باقی رہے۔

٭ آپ کی جلالت علمی کا یہ عالم تھا کہ اس وقت کے اکابر علماء اہلسنت اور مشائخ طریقت آپ کی عظمت کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آپ پر قاتلانہ حملے کی اطلاع جب متحدہ ہندوستان کے مختلف گوشوں میں پہنچی تو بہت سے جلیل القدر علماء کرام آپ کی عیادت کیلئے ملتان آئے جن میں کچھوچھوی شریف کے عظیم روحانی پیشواء حضرت محدث کچھوچھوی ممتاز روحانی اور مذہبی شخصیت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور صدر الافاضل حضرت مولانا نجم اللہ مرادآبادی حضرت مولانا ابو الحسنات اور حضرت علامہ ابو البرکات جیسے جید علماء کے اسماء گرامی نمایاں نظر آتے ہیں۔بلکہ حضرت مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمتہ اللہ علیہ جو ایک اعلیٰ پائے کے طبیب تھے آپ کے علاج معالجے کیلئے کئی ہفتے ملتان میں قیام پذیر رہے۔

انوار العلوم کا قیام

٭ اگرچہ امام اہلسنت غزالی زماں علامہ سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ ملتان میں جلوہ افروز ہونے کے بعد دس سال تک اپنی قیامگاہ پر تشنگان علوم دینیہ کی علمی پیاس بجھاتے رہے۔ لیکن اس عظیم سانحہ کے بعد جہاں آپ کے عقیدتمندوں اور آپ کے چشمے فیض سے مستفید ہونیوالوں کی قلبی تمنا تھی کہ اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کے اس بابرکت شہر میں ایک ایسا علمی مرکز قائم ہوجائے جہاں سلف صالحین اور صوفیاء کا ملین سے عقیدت و محبت رکھنے والے مسلمان ظاہری اور باطنی علوم کی روشنی حاصل کرسکیں وہاں خود امام اہلسنت رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اس ضرورت کا شدت سے احساس فرمایا اور جو لوگ آپ کی طبع پرسی کیلئے حاضر ہوتے آپ انکے سامنے اپنی اس قلبی خواہش کا اظہار فرماتے تاکہ اس سرزمین پر علم و عرفان کا ایک ایسا مرکز قائم کردیاجائے جو قیامت تک کے لوگوں کیلئے رشد وہدایت کا مینار ثابت ہو۔

٭ چنانچہ آپ کی خدمت میں حاضر ہونیوالوں میں ملتان کے ایک خوش نصیب شخص حاجی منشی اللہ بخش صاحب ٹین مرچنٹ بھی تھے اور انہیں آپ سے انتہائی عقیدت تھی انہیں جب حضرت امام اہلسنت کی اس دلی تمنا کا علم ہوا تو وہ فورا اپنے گھر گئے ان کے پاس جو تھوڑی بہت نقدی موجود تھی وہ لی اپنی اہلیہ محترمہ کے زیورات فروخت کئے جو رقم ملی وہ بھی اس میں شامل کی اور مختصراثاثہ لیکر امام اہلسنت رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں لاکر پیش کردیا امام اہلسنت منشی صاحب کے اس جذبہ ایثار و قربانی سے بہت متاثر ہوئے ان کا عطیہ قبول فرمایا جو تھوڑی بہت رقم حضرت امام اہلسنت رحمتہ اللہ علیہ کے پاس تھی وہ شامل کی کچھ اور دوستوں نے بھی تعاون کیا اور اس طرح بارہ ہزار روپے سے کچہری روڈ پر تھانہ چہلک کے متصل ساڑھے چار ہزار روپے میں ایک قطعہ اراضی خرید کر تقریباً ساڑھے چھ ہزار وپے کے خرچ سے مختصر سی عمارت تعمیر کی گئی جو مارچ 1944ء میں مکمل ہوگئی۔ تقریباً ایک ہزار روپے دوسری ضروریات پر خرچ ہوئے اور اس طرح مدرسہ انوار العلوم کے نام سے ایک ادارے کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا۔ طلباء کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مدرسہ سے ملحقہ بلڈنگ خریدنے کیلئے سنی عوام سے اپیل کی گئی تو گیارہ ہزار روپے کی فراہمی کے بعد1945ء میں وہ عمارت خرید کر مدرسہ کے ساتھ شامل کرلی گئی۔ اس طرح ملتان میں اہلسنت و جماعت کی پہلی دینی درسگاہ کی شکل میں مدرسہ انوار العلوم عالم وجود میں آگیا۔

تعلیم و تدریس کا آغاز

٭ چونکہ امام اہلسنت حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو گیلانی خانوادے سے قلبی عقیدت تھی اسی طرح اس عظیم خاندان کے تمام افراد بھی امام اہلسنت کی علمی عظمت کے دل سے معترف تھے اور آپ کا بہت احترام کرتے تھے۔ اسلئے اس دارالعلوم کے قیام کیلئے گیلانی خاندان نے خصوصی دلچسپی سے کام لیااور جب تعلیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوا تو ایک مختصر سی افتتاحی تقریب کا اہتمام کیاگیا۔ قائدین شہر اور مقررین علاقہ اس تاریخی تقریب میں شریک ہوئے ان میں ملتان کی معروف روحانی اور مذہبی شخصیت اور حضرت پیر سید موسی پاک شہید رحمتہ اللہ علیہ کے زیب سجادہ حضرت مخدوم سید محمد صدرالدین شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ بھی شامل تھے اور اس طرح ان عظیم روحانی شخصیات کی موجودگی میں ماہ شوال المکرم1363ھ بمطابق ستمبر1944ء کو مدرسہ انوارالعلوم کے تدریسی اور تعلیمی سال کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔

اگلا صفحہ

ہوم پیج