عصمت کی تعریف

۱: مشہور کتاب تعریف الاشیاء میں علامہ میر سید شریف جرجانی فرماتے ہیں
(العصمۃ) ملکۃ اجتناب المعاصی مع التمکن منہا (تعریف الاشیاء ص ۶۵ طبع مصر)
گناہ کر سکنے کے باوجود گناہوں سے بچنے کا ملکہ عصمۃ ہے۔
۲: یہی عبارت اقرب الموارد میں ہے۔ ملاحظہ ہو اقرب الموارد جلد ۲ ص ۹۱ طبع مصر
۳: مفردا ت میں ہے
وعصمۃ الانبیاء حفظہ ایاہم اولا بما خصہم بہ من صفاء الجوہر ثم بما اعطاہم من الفضائل الجسمیۃ والنفسیۃ ثم بالنصـرۃ وتثبیت اقدامہم ثم بانزال السکینۃ علیہم وبحفظ قلوبہم وبالتوفیق (مفرداتِ امام راغب اصفہانی ص ۳۴۱ طبع مصر)
عصمت انبیاء کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کا اپنے نبیوں کو (ہر قسم کی برائی سے) محفوظ رکھنا، اولاً اس صفاء جوہر کی وجہ سے جو انہی کے ساتھ خاص ہے پھر ان کے فضائل جسمیہ اور نفسیہ کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائے پھر اپنی نصرتِ خاص اور انہیں ثابت قدم رکھنے کے ساتھ پھر ان پر سکون و طمانیت نازل فرما کر اور ان کے قلوب کو کجروی سے بچا کر اور اپنی توفیق ان کے شامل حال فرما کر۔
۴: یہی مضمون دستور العلماء میں ہے (دیکھئے دستور العلماء جلد ۲ ص ۳۴۵)
۵: نبراس میں ہے
ا
لعصمۃ ملکۃ نفسانیۃ یخلقہا اللّٰہ سبحانہ فی العبد فتکون سبباً لعدم خلق الذنب فیہ (نبراس ص ۵۳۲)
عصمت وہ ملکہ ٔ نفسانیہ ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندے (نبی) میں پیدا کرتا ہے جو اس میں گناہ پیدا نہ ہونے کا سبب بن جاتا ہے۔
۶: شرح عقائد نسفی میں ہے
وحقیقۃ العصمۃ ان لا یخلق اللّٰہ فی عبد الذنب مع بقاء قدرتہ واختیارہ (شرح عقائد نسفی ص ۷۳)
عصمت کی حقیقت یہ ہے کہ بندے کی قدرت اور اختیار کے باقی رہنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کا اس بندہ میں گناہ پیدا نہ کرنا۔
۷: اسی شرح عقائد میں بقول بعض علماء عصمت کی تعریف اس طرح بھی منقول ہے
ھی لطف من اللّٰہ تعالیٰ یحملہ علی فعل الخیر ویزجرہ عن الشر مع بقاء الاختیار تحقیقاً للابتلاء (شرح عقائد ص ۷۴)
عصمت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا لطف ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقدس بندہ (نبی) کو فعل خیر پر برانگیختہ کرتا اور اسے شر سے بچاتا ہے۔ مع ابقاء اختیار کے تاکہ ابتلاء کے معنی برقرار رہیں۔
۸: مجمع بحار الانوار میں ہے
والعصمۃ من اللّٰہ دفع الشر (جلد ۲، ص ۳۹۳)
عصمت من اللہ دفع شر ہے۔
۹: مسامرہ میں ہے
العصمۃ المشترطۃ معناہا تخصیص القدرۃ بالطاعۃ فلا یخلق لہٗ ای لمن وصف بہا (قدرۃ المعصیۃ) (مسامرہ جلد ۲ ص ۸۱)
عصمت مشترطہ کے معنی ہیں قدرت کا طاعت کے ساتھ خاص کر دینا پس جو شخص اس عصمت کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے اس کے لئے معصیت کی قدرت پیدا نہیں کی جاتی۔
نبوۃ و عصمت کے متعلق ہم نے اکابر علمائے امت کے اقوال نقل کر کے ان کا خلاصہ ترجمہ ہدیہ ناظرین کر دیا ہے اور تفصیلی ابحاث کو صرف اختصار کلام کے لحاظ سے نظر انداز کر دیا ہے۔ اجزائے موضوع کی تشریح کے بعد ضرورت نبوت پر بھی کلام کرنا ضروری ہے تاکہ منکرین نبوت کے شکوک و شبہات کا ازالہ ہوجائے۔ اس کے بعد حکمت بعثت پر بھی غور کرنا ہے تاکہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ذواتِ قدسیہ کے ساتھ عصمت کا تعلق اچھی طرح واضح ہو سکے۔


ضرورت نبوت

اس میںشک نہیں کہ انسان میں جسمانیت، حیوانیت اور ملکیت سب کچھ موجود ہے جس کے متعلقات و مناسبات جسمانیت کے لئے ضروری ہیں۔ جیسے زمان و مکان، تشکل و تناہی، ہیٔت و مقدار وغیرہ اور حیوانیت کے لوازمات و ملحقات حیوانیت کے لئے لازم ہیں جیسے کھانا پینا اور اس کے متعلقات، علی ہٰذا القیاس ملکیّت کے مصحمات و متعلقات کا ملکیت کے لئے ہونا ضروری ہے۔ جیسے تسبیح و تحمید۔ لیکن جس طرح جسمانیت، حیوانیت اور ملکیت تینوں انسان کے ارد گرد گھومتی ہیں۔ اسی طرح ان کی جملہ ضروریات و مناسبات بھی ضروریات و مناسبات انسانیہ کے آس پاس گردش کرتی ہیں بلکہ یوں کہیے کہ انسان کل کائنات کے حقائق لطیفہ کا مجموعہ ہے اور سب مخلوقات انسان کی خادم اور انسان سب کا مخدوم ہے۔ لہٰذا کل مخلوقات کی ضروریات انسان کی ضروریات کی خادم اور انسانی ضروریات سب کی مخدوم ہیں۔ گویا کل کائنات کی ضروریات، ضروریاتِ انسانیہ کے محور پر گھوم رہی ہیں۔ دنیائے انسانیت کا یہ عظیم الشان نظام دامنِ نبوت سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن افراد انسانی کا رابطہ بارگاہ نبوت سے وابستہ ہے وہ مقربین بارگاہِ الوہیت ہیں اور جن افراد انسانی کا رابطہ بارگاہِ نبوت سے قائم نہیں ہوا، وہ حیوانیت اور بہیمیّت کے گڑہوں میں جا گرے۔


ضرورتِ نبوت پر پہلی دلیل

مقصد تخلیق کے حصول کا موقوف علیہ ہمیشہ ضروری ہوا کرتا ہے۔ انسان معرفت الٰہیہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور خدا کی معرفت حاصل ہونا نبوت و رسالت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لئے نبوت و رسالت کا وجود انسان کے لئے ضروری ہے۔ منکرین نبوت کایہ کہنا علم و عقل کی روشنی میں قطعاً باطل ہے کہ جب انسان کے پاس حواس اور عقل دونوں موجود ہیں تو اسے نبوت و رسالت کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں عرض کروں گا کہ خدا کی معرفت حاصل کرنے کے لئے نہ حواس کافی ہیں نہ عقل۔ جن لوگوں نے خدا کی معرفت کے لئے حواس کو کافی سمجھا وہ محسوسات اور مظاہر کائنات کی پرستش میں مبتلا ہو گئے اور جنہوں نے عقل پر اعتماد کیا ان میں اکثر لوگ خدا کے منکر ہو گئے اور جو صریح انکار کی جرأت نہ کر سکے انہوں نے ذات و صفات کے مسائل میں ایسی ٹھوکریں کھائیں کہ معرفت کی راہوں سے بہت دور جاپڑے اور عقل ناتمام کی وادیوں میں بھٹک کر ظنون و اوہام کے گڑھوں میں جا گرے۔ قرآن کریم نے ایسے ہی لوگوں کے حق میں ارشاد فرمایا۔ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ۔ رہا یہ امر کہ خدا ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو اس کی معرفت ضروری ہے یا نہیں تو یہ ایک علیٰحدہ مستقل موضوع ہے جس پر ہم کسی دوسرے مقام پر مفصل گفتگو کریں گے۔ یہاں صرف اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ مصنوع کا وجود صانع کے وجود کی دلیل ہے اور مصنوع کی تخلیق کسی حکمت و مقصد کے بغیر نہیں ہوتی اور کسی مصنوع کی حکمت تخلیق کا فوت ہو جانا اس مخلوق کے عبث ہونے کو مستلزم ہے۔ انسان کے اوصاف و خواص اس امر کی دلیل ہیں کہ وہ اپنے خالق کا مظہر ہے۔ اب اگر وہ اس حقیقت کو پہچاننے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود بھی نہ پہچانے تو اس نے خود اپنے وجود کو عبث قرار دے دیا اور اگر پہچانے تو چونکہ وہ ذات باری تعالیٰ کا مظہر ہے، لہٰذا اپنے آپ کو صحیح معنی میں پہچاننا دراصل اپنے خالق کو پہچاننا ہے، جیسا کہ مشہور ہے مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ لہٰذا ثابت ہو گیا کہ معرفت خداوندی کے بغیر انسان کا وجود عبث ہے اور اگر انسان چاہتا ہے کہ میرا وجود عبث نہ ہو تو معرفت الٰہیہ کے بغیر اس کے لئے کوئی چارہ کار نہیں۔


ضرورتِ نبوت پر دوسری دلیل

قانون فطرت یہ ہے کہ ہر نوع کے مدرکات کو معلوم کرنے کے لئے اسی نوع کا ادراک عطا کیا گیا ہے۔ مثلاً مبصرات کو جاننے کے لئے ادراک بصری اور مسموعات کے لئے ادراک سمعی علٰی ہٰذاالقیاس پانچوں حواس کو لیجئے۔ ہر نوع محسوس کرنے کے لئے اسی نوع کا حاسہ ہمارے اندر پایا جاتا ہے۔ اس کے بعد معقولات کا وجود ہے جنہیں معلوم کرنے کے لئے عقل عطا فرمائی گئی اور ایک ادراکِ انسانی کی تگ و دو حواس و عقل سے آگے نہ تھی مگر اس کی ضروریات کا تعلق ان دونوں سے آگے تھا، جسے عالم غیب کہا جاتا ہے۔ جب تک اس عالم تک کسی کی رسائی نہ ہو اس مقام کے ساتھ متعلقہ انسانی ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتیں۔ نبوت جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں اطلاع علی الغیب ہی کا نام ہے لہٰذا انسانی ضرورتوں کے پورا ہونے کے لئے نبوت کا ہونا ضروری ہے۔


ضرورت نبوت پر تیسری دلیل

حاسہ سبب ادراک ہے اور اس سے غلطی بھی واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا اس کے ازالہ کے لئے عقل کا اس پر حاکم ہونا ضروری تھا۔ مگر جب عقل بھی ٹھوکر کھائے تو اس کا ازالہ نہ عقل کر سکتی ہے نہ حواس، کیوں کہ حواس عقل کے محکوم ہیں اور عقل بحیثیت عقل ہونے کے مساوی ہے۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ عقل پر ایسی چیز کو حاکم تسلیم کیا جائے جو غلطی سے پاک ہو اور وہ نبوۃ ہے کیوں کہ نبوۃ ہی غلطی سے مبرا ہے۔ لہٰذا اختلاف عقل کی مضرتوں سے بچنے کے لئے نبوۃ کو ماننا ضروری ہوا۔ نبی کا غلطی سے پاک ہونا ہی عصمۃ نبوۃ کا مفہوم ہے۔ معلوم ہوا کہ عصمۃ لوازم نبوۃ سے ہے۔ اس مقام پر زَلَّات انبیاء علیہم السلام سے وہم پیدا کرنا درست نہیں۔ انشاء اللہ یہ مفصل بحث ہم آگے چل کر ہدیہ ٔ ناظرین کریں گے۔


استدراک

شاید اس بیان کی روشنی میں ضرورت نبوۃ کے ساتھ اجرائے نبوت کا شبہ پیدا کر لیا جائے اس لئے گزارش ہے کہ ضرورت نبوۃ سے اجرائے نبوۃ ہرگز لازم نہیں آتا
اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے مطابق خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اس وقت مبعوث فرمایا جبکہ نوع انسانی اپنی حیات کی منازل طے کرتی ہوئی ایسے مرحلہ پر پہنچ گئی تھی کہ اس کے لئے جو نظام مقرر کیا جائے، قیامت تک اس کی تمام ضروریات کے لئے وہ قابل عمل ہو۔ چنانچہ ارشاد فرمایا
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا میں نے آج تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور میں نے تمہارے لئے دین اسلام پسند کرلیا۔
یہ ارشاد خداوندی منکرین ختم نبوت کے اس شبہ کا قلع قمع کرنے کے لئے کافی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبوۃ محمدیہ علی صاحبہا التحیۃ والتسلیم کے دامن سے ایسا دین وابستہ ہے جو قیامت تک پیش آمدہ ضروریات کے پورا ہونے کا واحد ذریعہ ہے۔ نبوت و رسالت محمدیہ ہی بنی نوع انسان کے ہر فرد کے لئے ضروری ہے۔ اس کے بعد کسی کو نبوت دیا جانا متصور نہیں۔ ضرورت نبوۃ کے لئے اجراء نبوۃ کو لازم سمجھنا اکمالِ دین کے منافی ہے۔
ضرورتِ نبوت کے بعد حکمت بعثت پر بھی غور کرتے چلیں تاکہ عصمت و نبوت کا باہمی تعلق اور زیادہ واضح ہو جائے۔
قرآن کریم میں بعثت انبیاء علیہم السلام کی حکمتیں بکثرت آیات میں بیان کی گئی ہیں، جن میں بعض حسب ذیل ہیں
۱: وََمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ پارہ نمبر ۵ سورۃ نساء
۲: وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ پارہ نمبر ۷ سورۃ انعام
۳: وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْماً پارہ نمبر ۲۲ سورۃ احزاب
۴: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ پارہ نمبر ۵ سورۃ نساء
۵: لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِہِمْ
یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیَاتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ پارہ ۴ سورۃ آلِ عمران

ضرورت نبوۃ کے ضمن میں جن امور کو ہم نے بیان کیا ہے یہ آیاتِ مبارکہ روز روشن کی طرح ان کی تائید کرتی ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت سے متعلق حسب ِ ذیل حکمتوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
۱: اللہ تعالیٰ کے بندوں سے اللہ کی اطاعت کرانا
۲: عالم غیب سے متعلق آخرت کی نعمتوں کی خوشخبری دینا اور عذابِ الٰہی سے ڈرانا
۳: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نجات اخروی اور سعادت ابدی کے لئے شرط ہونا
۴: اطاعت رسول کا اطاعت خداوندی ہونا تاکہ بندوں کے لئے اطاعت ِ الٰہی کی راہ متعین ہو جائے۔
۵: آیاتِ الٰہیہ کا تلاوت کرنا
۶: ایمان والوں کا ظاہر و باطن پاک کرنا
۷: کتابِ الٰہی اور حکمت و دانائی کی تعلیم دینا
بیان سابق کی تفصیلات کو ذہن نشین کرنے کے بعد اگر نبوت و رسالت کے ان مناصب اور بعثت انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی حکمتوں پر غور کیا جائے تو یقینا عصمت نبوت کا اقرار کرنا پڑے گا۔
کم از کم اتنی بات تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جس کام کے کرنے کی صلاحیت کسی میں نہ ہو وہ کام اس کو سپرد نہیں کیا جاتا۔ ایک ظالم کو کرسی عدالت پر بٹھانا، ان پڑھ آدمی کو علم و حکمت کی موشگافیوں کا کام سونپنا، کسی بدکار فاسق و فاجر کو عفیفات کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے متعین کرنا، بیمار و ناتواں کے سر پر بھاری بوجھ رکھ دینا، گم کردہ راہ سے ہدایت طلب کرنا کسی عاقل کا کام نہیں۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان امور کی صلاحیتوں کے بغیر ہی اللہ تعالیٰ ان کی انجام دہی کا منصب انبیاء علیہم السلام کو سونپ دے؟ جب یہ ممکن نہیں تو ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت کے ساتھ وہ تمام قوتیں اور صلاحتیں بھی انبیاء علیہم السلام کو عطا فرمائی ہیں جن کا ہونا ان کے لئے ضروری تھا اور یہی عصمت کا مفہوم ہے جس کے بغیر نبوت ایسی ہے جیسے بینائی کے بغیر آنکھ اور روشنی کے بغیر سورج۔

ہوم پیج