حرف آخر
قیام پاکستان کی صورت میں ہمیں ایک ایسا خطۂ ارض حاصل ہوا تھا جس میں نظام صلوٰۃ قائم کر کے ہم زمین کی پیٹھ پر ایک مثالی جنت تشکیل کر سکتے تھے لیکن افسوس صد افسوس کہ ہمارے اربابِ سیاست جنگ ِ زرگری میں مصروف رہے اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہم مشرقی پاکستان سے محروم ہو گئے اور اگر اب بھی وہی صورتِ حال رہی تو خدا کا قانونِ عروج و زوال حرکت میں آئے گا او رنہ معلوم ہمارا کیا حشر ہو گا؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم ایک قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں نظام صلوٰۃ اپنانا ہوگا۔


نماز کا فلسفہ
عالم کا ہر فرد اللہ کی عبادت اور اس کی تسبیح میں مشغول ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
وَاِنْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ
کوئی شے ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو۔ ہر چیز کی تسبیح اس کے شایانِ شان اور مقتضائے حال کے موافق ہے۔ جو چیز جس حال میں ہے اسی حال میں اپنے رب کی تسبیح و عبادت کر رہی ہے۔ درخت، پہاڑ اور ہر بلند چیز قیام کی حالت میں اس کی تسبیح خواں ہے۔ اوپر آسمان نیچے چوپائے عالم رکوع میں
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہہ رہے ہیں۔ حشرات الارض اور بعض دوسری مخلوقات زمین پر سجدہ ریز ہو کر سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ پکار رہی ہیں۔ زمین اور اس کے ساتھ کئی چیزیں حالت ِ قعود میں اپنے معبود برحق کی عظمت و الوہیّت کی شہادت دے رہی ہیں۔ پرندوں کو دیکھئے صف ِ بستہ ہو کر اپنے رب کی حمد کے ترانے گا رہے ہیں۔ دریاؤں پر نظر ڈالئے حرکت کی حالت میں اپنے مالک حقیقی کے عبادت گزار ہیں۔ درختوں کو دیکھئے چُپ چاپ اپنے محبوب کی یاد میں محو ہیں۔ غرض قیام و قعود، رکوع و سجود، سکون و تحرک جس حال میں جو چیز جہاں نظر آتی ہے، اپنے رب کی تسبیح و ثنا میں مصروف و مشغول ہے۔
چونکہ انسان ان تمام افرادِ کائنات کی حقیقتوں کا جامع ہے، اس لئے ضروری تھا کہ اس کی عبادت عالم کے ہر فرد کا مجموعہ ہو۔ لہٰذا معبودِ حقیقی نے بتقضائے حکمت افرادِ کائنات کی عبادتوں کے مختلف اور متعدد طریقے انسان کی عبادت میں شامل کر دئیے۔ قیام و قعود، رکوع و سجود ان تمام چیزوں کی عبادتوں کا عطر ہیں جو ان حالتوں میں رب کریم کی عبادت کرتے ہیں۔ نماز میں سکون بھی ہے اور حرکت بھی۔ قیام سے رکوع اور رکوع سے سجود کی طرف منتقل ہونا حرکت ہے اور صف بستہ کھڑے ہو کر
وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ کا حکم بجا لانا سکون ہے۔ اس بیان پر غور کرنے سے اچھی طرح واضح ہو جائے گا کہ ہماری نماز ایسی عبادت ہے جو فطرت انسانی کے عین مطابق اور اس کی حقیقت کے شان کے لائق ہے۔
دوسرے مذاہب نے بھی رب کریم کی بارگاہ کی حاضری اور اُس کی عبادت کے طریقے بتائے ہیں لیکن ان میں نماز کی سی جامعیت ہے نہ مقتضائے فطرت کی رعایت۔ جب یہ نہیں تو ان معنوی و روحانی خوبیوں کا کیا ذکر جو اسلامی نماز کی روح رواں ہیں۔
جس طرح پیغمبر اسلام ہادیٔ برحق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جمیع انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے تمام کمالات علمیہ و عملیہ بلکہ ساری مخلوقات کی ہر خوبی کے جامع و حامل ہیں، اسی طرح آپ کا دین مقدس دین اسلام تمام ادیان عالم کی خوبیوں اور محامد و مکارم و فضائل و کمالات کا عطر و خلاصہ ہے۔ بالکل اسی طرح سیّد عالم نور مجسّمﷺ کی تعلیم فرمائی ہوئی نماز تمام مذاہب کی عبادت اور نمازوں کا بہترین لب لباب ہے۔
اہل بصیرت حضرات سے یہ امر مخفی نہیں کہ بعض اہل مذاہب کی نماز صرف سجدہ تھا، بعض کی نمازوں میں صرف رکوع تھا، بعض اہل مذاہب کی نماز محض قیام میں منحصر تھی، بعض جہلا چند بے معنی حرکتوں کے مجموعہ کو عبادت سمجھتے تھے۔ ہمارے دین میں ان تمام عبادات کی ناقص اور منفرد صورتوں کو بہترین اور فطری اصول کی ترتیب کے ساتھ مرتب کر کے اس حقیقت کا اعلان کر دیا کہ جس اہل مذہب کو اپنی مذہبی عبادت کی محبوب صورت کی تلاش ہو، وہ اسلامی عبادت (نماز) کو قبول کرے۔ اس دولت کو پا کر وہ اپنے سرمایہ عبادت میں کسی قسم کی کمی محسوس نہ کرے گا بلکہ جو کچھ اس نے وہاں چھوڑا ہے اس سے بہت زیادہ پائے گا۔
گویا انسان کے لئے اسلام کے سوا اب کوئی دین قابل عمل رہا ہی نہیں۔ اس لئے تمام ادیانِ عالم کے انوار حقائق اسلام میں اس طرح مدغم ہو گئے جس طرح بحر ذخار میں شبنم کے چند قطرے۔ نماز ہر دن رات میں پانچ مرتبہ خدا کی عبادت کا وہ خاص طریقہ جسے حضور نبی کریم ﷺ نے ادا کر کے سکھایا نماز کہلاتا ہے۔ تو گویا حضور نبی کریم ﷺ کی اداؤں کا نام طریقہ ٔ نماز ہے۔ بلکہ یوں کہئے کہ طریقہ ٔ نماز بھی لفظ احمد ﷺ کی شکل ہے۔ دیکھئے قیام ا (الف) ہے، رکوع ح (حا) ہے، سجدہ م (میم) ہے اور قعدہ د (دال) ہے۔
اعمال صالحہ میں نماز سب سے افضل و مقدم ہے۔ اکثر مسلمان نماز پڑھتے ہیں مگر نماز کی خوبیوں سے پوری طرح واقف نہیں۔ حدیث شریف میں ہے
اسلام کی بنیاد پانچ چیزیں ہیں، (نمبر۱) کلمہ شہادت (اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں) اور (نمبر ۲) نماز اور (نمبر ۳) اداء زکوٰۃ اور (نمبر ۴) حج اور (نمبر ۵) رمضان کے روزے متفق علیہ
اگرغور سے دیکھا جائے تو نماز ان پانچوں کا مجموعہ ہے۔ ہر نمازی تشہد میں اللہ تعالیٰ کی الوہیّت اور حضرت محمد ﷺ کی عبدیت و رسالت کی گواہی دیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ نماز میں اسلام کی پہلی بنیاد یعنی کلمہ ٔ شہادت موجود ہے۔
اسی طرح نماز میں زکوٰۃ کی جھلک بھی پائی جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ نمازی جو کپڑا سترِ عورت اور جسم ڈھانکنے کے لئے نماز پڑھنے کی نیّت سے خرید کر پہنتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اسی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے۔ یہ لباس جو شرعاً مال ہے اس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں صرف کرنا بمنزلہ زکوٰۃ کے ہے اور نمازی جتنی دیر تک نماز میں مشغول رہے گا، کھانے پینے اور ہر قسم کی حوائج بشریہ کے پورا کرنے سے بھی باز رہے گا۔ عبادت کی نیّت سے نمازی کا ان چیزوں سے باز رہنا بمنزلہ روزہ کے ہے۔ پھر سمت ِ کعبہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑا ہونا اور بیٹھنا، رکوع اور سجدہ کرنا بمنزلہ حج کے ہے۔
نماز ہر سمجھ بوجھ والے مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ جب لڑکے، لڑکی کی عمر سات سال ہو جائے تو نماز پڑھنا سکھایا جائے اور جب دس برس کے ہو جائیں تو مار کر پڑھانی چاہئے۔ کیوں کہ تر شاخ کو جدھر پھیریں پھر جاتی ہے اور جب خشک ہو جائے تو یہ حالت نہیں رہتی۔
اسلام میں جتنی نماز کی تاکید ہے، کسی عبادت کی نہیں۔ اس کے فضائل بہت ہیں اور اس کے چھوڑنے والوں کے لئے بڑے بڑے درد ناک عذاب مقرر ہیں۔ اس میں ایک ایسی بات ہے جو کسی عبادت میں نہیں، جس کو اللہ خود فرماتا ہے
اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہیٰ عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ o
یعنی نماز برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔
لیکن بعض لوگوں کو یہاں تردّد لاحق ہو جاتا ہے کہ اگر نماز واقعی برائیوں سے روکتی ہے تو نماز پڑھنے کے باوجود مسلمانوں سے منکرات کا صدور کیسے ہو جاتا ہے؟ نماز کا مقتضا یہ ہے کہ نمازی کو برائیوں سے باز رکھے۔ کیوں کہ نماز ایک ایسی چیز ہے جس میں انسان خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنی بندگی کا اعتراف اور خدا کی معبودیت او راس کی اطاعت کا عہد اور اقرار کرتا ہے۔ اس عہد و اقرار کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس پر قائم رہے۔ ظاہر ہے کہ جب وہ اس قول و اقرار اور عہد و پیمان پر قائم نہیں رہتا اور برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ نماز برائی سے نہیں روکتی۔ اگر نمازی نماز کا تقاضا پورا نہ کرے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔ اس کی نمازاسے زبانِ حال سے روک رہی ہے کہ تو نے معصیت اور برائی سے باز رہنے کا جو عہد و پیمان کیا تھا اس کی خلاف ورزی نہ کر لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ ایسے ہیں جو نماز پڑھنے کے بعد نماز کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ انسانیت کا تقاضا رحمدلی اور حُسنِ خلق اور لوگوں کے ساتھ مہربانی کرنا ہے۔ اب جو لوگ انسان ہونے کے باوجود سنگدلی، بے رحمی اور درندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور انسانیت کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے، انسانیت انہیں وحشت و بربریت سے روکتی ہے، مگر وہ روکے نہیں رکتے، اسی طرح نماز خواہش اور منکرات سے روکتی ہے اور لوگ نہیں رکتے۔ صرف نماز ہی فواحش و منکرات سے نہیں روکتی بلکہ خود اللہ تعالیٰ بھی روکتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا
اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبیٰ وَیَنْہیٰ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ
بیشک اللہ حکم فرماتا ہے کہ عدل کرنے اور نیکی کرنے کا اور قرابت والوں کو دینے کا اور منع فرماتا ہے بے حیائی اور برائی اور سرکشی سے
خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا
یَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ تو معلوم ہوا کہ نماز بھی فواحش و منکرات سے روکتی ہے اور اللہ تعالیٰ بھی بے حیائی اور برے کاموں سے روکتا ہے لیکن جو لوگ اللہ تعالیٰ کے منع کرنے کے باوجود نہیں رکتے، وہ نماز کے روکنے سے کہاں رک سکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ برائی سے روکنے کا تقاضا اور ہے اور برائی سے رکنا یہ علیٰحدہ بات ہے۔ ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔
اس کے دوسرے معنیٰ یہ ہوئے کہ نماز روحانی امراض کی ایک دوا ہے۔ جس طرح جسمانی دواؤں میں بعض امراض کو روکنے اور دور کرنے کی خاصیتیں ہوتی ہیں، اسی طرح نماز میں بھی فواحش اور منکرات سے روکنے اور انہیں دور کرنے کی خاصیّت پائی جاتی ہے۔ لیکن اس قسم کی خاصیتوں کے ظاہر ہونے کی پہلی شرط یہ ہے کہ جس دوا کو ہم نے جو فائدہ حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا ہے، اس کے بعد ہم کوئی ایسی چیز استعمال نہ کریں جو اس فائدہ کو ضائع کر دے۔ اگر اس کے خلاف کیا گیا تو دوا کی خاصیت کبھی ظاہر نہ ہو گی اور اس دوا سے مطلوبہ فائدہ حاصل نہ ہو گا بلکہ مضر چیزوں کا نقصان مفید دوا کی خاصیتوں اور فوائد پر غالب آ جائے گا۔ بالکل اسی طرح ایک شخص نماز پڑھنے کے بعد جھوٹ بولتا ہے یا کسی کی غیبت کرتا ہے یا اس سے معصیت صادر ہوتی ہے تو یقینا وہ نماز کے اصل فوائد اور اس کی خاصیّت سے محروم رہے گا۔ اس شخص کی محرومی کی وجہ یہ نہیں کہ نماز میں وہ فائدہ نہیں پایا جاتا بلکہ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ نمازی نے نماز کے بعد ایک ایسے فعل کا ارتکاب کیا، جس کی مضرت نے نماز کی منفعتوں سے اسے محروم کر دیا۔ علاوہ ازیں اس بات کا انکار تو کوئی نہیں کر سکتا کہ نمازی جتنی دیر نماز میں مشغول رہتا ہے، اتنی دیر تک تو بہرحال اس کی نماز اسے فواحش اور منکرات سے روکتی ہے۔ اب اگر وہ نماز صحیح معنوں میں ادا کی ہے اور اس پر ہمیشگی اختیار کی تو نماز پڑھنے کے بعد بھی برائیوں سے محفوظ رہے گا۔ تو جو لوگ صحیح معنوں میں نماز ادا نہیں کرتے اور اس پر ہمیشگی اختیار نہیں کرتے تو اگر وہ ہمیشہ کے لئے برائی سے محفوظ نہیں رہ سکتے تو کم از کم نماز پڑھنے کے دوران تو یقینا برائیوں اور فواحش سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کے حسب ِ حال نماز کا برائیوں اور برے کاموں سے روکنا ان کے حق میں بلا تامل پایا جاتا ہے۔ صحیح معنیٰ میں نماز پڑھنے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان صرف جسم اور جسمانی اعضاء اور زبان ہی سے ادا نہ کرے بلکہ اپنے دل میں خدا کی یاد، اس کا خوف اور اس کے لئے عاجزی کی کیفیت پیدا کر کے نماز کی منفعت اور اس کی روح کو حاصل کرے تو یقینا اس کی نماز اسے فواحش و منکرات سے روک دے گی۔ اس سے برائی کا ارتکاب نہیں ہو سکے گا اور اللہ کے مقربین، مخلصین اور صالحین کی نمازیں اسی نوعیت کی ہوتی ہیں کہ وہ م کہنے کے بعد حقیقتاً اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دربار میں حاضر ہیں۔ وہ خدا کے روبرو کھڑے ہیں۔ خدا ان کے سامنے موجود ہے۔ ان کا دل خدا کی یاد میں مشغول اور ان کی روح بارگاہ خداوندی میں حاضری کی لذتوں سے مسرور ہوتی ہے۔ خشوع اور خضوع کی کیفیات سے ان کا دل و دماغ متاثر ہوتا ہے۔
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلٰوتِہِمْ خَاشِعُوْنَ کا مصداق ہوتے ہیں اور اس قسم کی نماز پر وہ ہمیشگی اختیار کرتے ہیں تو اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہیٰ عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ o کے مطابق وہ فواحش و منکرات سے محفوظ رہتے ہیں۔

 

ہوم پیج