فہم
نماز پڑھتے ہوئے الفاظ کے معانی پر تدبر کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر ان کی طرف خیال نہ ہوا تو دل وساوس میں کھو جائے گا۔ اسی لئے حالت ِ سکر میں نماز ادا کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
یٰٓاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ
ترجمہ: اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نمازکے قریب نہ جاؤ جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو۔ (النساء: ۴۳)
اس سے ظاہر ہے کہ نماز میں جو کچھ پڑھا جائے اس کا فہم بھی ہونا چاہئے۔ اسی لئے غلبہ نیند میں بھی حضور ﷺ نے نماز پڑھنے سے منع فرمادیا ہے۔ آپ کا ارشاد ہے
جب تم پر نیند غالب ہو تو سو جاؤ کیونکہ اگر اس حال میں نماز پڑھو گے تو ہو سکتا ہے تم مانگنے کی بجائے اپنے آپ کو برا بھلا کہنے لگو۔ (صحیح مسلم)


ارکان وآداب کا لحاظ
ارکان و آداب چاہے ظاہری ہوں چاہے باطنی، ان سے غفلت برتنا نماز سے غفلت اور ریا ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں، ان کے متعلق خدائے قدوس کا ارشاد ہے
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ oلا الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلَا تِہِمْ سَاہُوْنَ oلا الَّذِیْنَ ہُمْ یُرَآئُ وْنَoلا
ترجمہ: تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں، وہ جو دکھاوا کرتے ہیں۔ (الماعون: ۴تا ۶)


سکون و اطمینان
نماز کے تمام ارکان پورے سکون و اطمینان سے ادا کرنے چاہئیں۔ ارکان کو جلد اور بعجلت ادا کرنے والوں کی نماز کو آپ نے مرغ کی ٹھونگیں مارنے سے تشبیہہ دی ہے۔ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں ایک شخص نے جلد جلد نماز ادا کی آپ نے فرمایا، اے شخص! تیری نماز نہیں ہوئی، اسے دوبارہ پڑھ۔ اس نے پھر اسی طرح پڑھی۔ آپ نے پھر اسی طرح فرمایا۔ تیسری مرتبہ بھی اسی طرح ہوا تو اس نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! پھر کیسے پڑھوں؟ آپ نے فرمایا، اس طرح کھڑا ہو، اس طرح قرأت کر، اس طرح اطمینان و سکون سے رکوع و سجود کر۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم، ابو داؤد)
ایک مرتبہ آپ نے فرمایا سب سے بڑا چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا نماز کی چوری کیا ہے؟ آپ نے فرمایا، رکوع و سجود اچھی طرح نہ کرنا اور خشوع نہ ہونا۔ (مسند احمد، دارمی، طبرانی، عبدالرزاق)
ایک اور موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا، جب تم باہر سے آؤ اور نماز ہو رہی ہو تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ اس طرح آؤ کہ تم پر سکون اور وقار طاری ہو۔ (صحیح مسلم)
اگر بے اطمینانی و بے سکونی کے اسباب ہوں تو پہلے انہیں ختم کیا جائے پھر نماز پڑھی جائے۔ مثلاً بھوک سے بے تابی ہو، کھانا دھرا ہو اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھالیا جائے۔ (بخاری، مسلم، ابو داؤد، موطا امام مالک، ترمذی، مستدرک حاکم)


مکمل توجہ
نماز کی روح مکمل توجہ اور حضور قلب ہے۔ ایک دفعہ آپ نے فرمایا
اپنے رب کی عبادت اس احساس سے کر کہ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ احساس نہیں پیدا ہو سکتا تو اس احساس سے کر کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ (صحیح بخاری)
نماز کی حالت میں اِدھر اُدھر دیکھنا بھی آدابِ صلوٰۃ کے خلاف ہے۔ اس سے مکمل توجہ حاصل نہیں رہتی۔ آپ کا ارشاد ہے
نماز میں اِدھر اُدھر نہ دیکھا کرو۔ کیا تمہیں یہ اندیشہ نہیںکہ ممکن ہے تمہاری نظر واپس نہ آسکے۔ (مسند احمد)
ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا
جب تک بندہ نماز میں دوسری طرف توجہ نہیں کرتا، اللہ اس کی طرف متوجہ رہتا ہے اور جب خدا کی طرف سے منہ پھیر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے اپنی توجہ ہٹا لیتا ہے۔ (مسند احمد)
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا
تم میں سے کوئی نماز کے لئے کھڑا ہو تو پوری طرح خدا کی طرف متوجہ رہے، یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جائے اور نماز میں اِدھر اُدھر نہ دیکھو، کیونکہ جب تک نماز میں ہو خدا سے باتیں کر رہے ہو۔ (طبرانی)
ایک اور روایت میں آپ کا ارشاد ہے
جب بندہ نماز میں اِدھر اُدھر دیکھتا ہے تو خدا فرماتا ہے تو کدھر دیکھتا ہے۔ کیا تیرے نزدیک مجھ سے بھی کوئی چیز بہتر ہے۔ تو میری طرف دیکھ۔ دوسری مرتبہ بھی یہی فرماتا ہے۔ پھر تیسری مرتبہ بھی بندہ سے وہی حرکت سرزد ہوتی ہے تو خدا اس کی طرف سے منہ پھیر لیتا ہے۔ (کنز العمال)
ایک مرتبہ آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آخری صف کے ایک نمازی کو آواز دے کر فرمایا،
اے فلاں! تو خدا کا خوف نہیں کرتا۔ یہ کس طرح نماز پڑھتا ہے۔ جب کوئی نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے محو گفتگو ہوتا ہے۔ پس سوچنا چاہئے کہ وہ اس سے کس طرح گفتگو کرے۔ (مستدرک حاکم)
اسی طرح نماز کی حالت میں تھوکنا اور خصوصاً سامنے تھوکنا بھی آدابِ صلوٰۃ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ آپ نے صحابہ کرام سے فرمایا
نماز میں خدا تمہارے سامنے ہوتا ہے، تو کیا تمہیں یہ اچھا لگتا ہے کہ تم اس کے سامنے تھوکو۔ (صحیح مسلم، ابو داؤد، مستدرک حاکم)
ادائیگیٔ نماز میں ایسے کپڑے پہننا یا اس قسم کا پردہ لٹکانا جس کے بیل بوٹوں میں دل محو ہو جائے اور نماز میں توجہ ہٹ جائے، مکروہ ہے۔ ایک دفعہ آپ نے ایسی ہی ایک چادر اوڑھ کر نماز پڑھی، پھر فرمایا
اس کے نقش و نگار میں میری توجہ الجھ گئی۔ اسے تاجر ابو جہم کے پاس لے جاؤ اور میرے لئے سادہ چادر لے آؤ۔(صحیح مسلم)
آپ کا ارشاد گرامی ہے
نماز دو ۲؍ دو ۲؍ رکعت کر کے ہے، ہر دوسری رکعت میں تشہد ہے۔ عجز و الحاح ہے، عاجزی ہے، خشوع و خضوع ہے اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر اے رب کہنا ہے۔ جس نے ایسا نہ کیا، اس کی نماز ناقص رہی۔
ایک صحابی نے ایک دفعہ نصیحت کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا
جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تمہاری نماز اس احساس کے ساتھ ہو کہ معلوم ہو کہ تم اسی وقت موت کے منہ میں جا رہے ہو اور دنیا کو چھوڑ رہے ہو۔ (مسند احمد)


عرب کے معاشرہ پر نظام صلوٰۃ کے اثرات
نظام صلوٰۃ کے متعلق جو کچھ تحریر کیا گیا ہے یہ محض کھوکھلی لفاظی نہیں۔ اس کی تصدیق ریگزارِ عرب کے ان ذرّات سے پوچھئے، جن پر قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی تابناک پیشانیوں کے پر خلوص سجدے بکھرے ہوئے ہیں۔ اس کی تائید عرب کے معاشرہ کی تاریخ کرے گی جو صرف خود ہی بہت بڑے انقلاب سے دو چار نہیں ہوا تھا بلکہ پورے کرئہ ارض کو اس سے روشناس کر دیا تھا۔ وہ عرب جو خدائے قدوس سے بے گانہ تھے۔ شرک و طغیان اور کفر و عصیان نے جن کا قومی تشخص تک تباہ کر دیا تھا۔ نظام صلوٰۃ نے ان کی زندگیوں میں ایسا انقلاب برپاکر دیا کہ ان کی حالت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے
رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ۔ (النور: ۳۷)
ترجمہ: وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور خرید وفروخت اللہ کی یاد سے یادِ خداوندی کا کیف و سرور ان کی زندگی کے ہر گوشے پر محیط ہو گیا۔
اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ۔ (آل عمران:۱۹۱)
ترجمہ: جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے۔
راتوں کو جب سر گشتگانِ غفلت آباد ہستی، نیند کی خمار آلود آغوش میں پڑے ہوتے ہیں تو یہ وارفتگانِ محبت الٰہی اپنی خوابگاہوں سے اٹھر کر اپنے رب کے حضور میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا۔
ترجمہ: ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے ہوئے۔ (السجدہ: ۱۶)
وہ جن کا حال یہ تھا کہ جب ان سے خدا کے سامنے جھکنے کی بات کی جاتی تو وہ غرور سے گردن پھیر کر چل دیتے۔
وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ ارْکَعُوْا لَا یَرْکَعُوْنَ۔ (المرسلت: ۴۸)
ترجمہ: اور جب ان سے کہا جائے کہ نماز پڑھو تو نہیں پڑھتے۔
اب ذرا اس انقلاب حال کو بھی دیکھئے کہ
تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضْوَانًا (الفتح: ۲۹)
ترجمہ: تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے، سجدے میں گرتے اللہ کا فضل و رضا چاہتے۔
ایک وہ وقت تھا کہ خدا کا نام اور خدا کا پیغام انہیں سخت نا گوار اور گراں گزرتا تھا۔
وَاِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ ج
ترجمہ: اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، دل سمٹ جاتے ہیں ان کے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔ (زمر: ۴۵)
اب یہ وقت آگیا تھا
اَلَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ۔ (حج: ۳۵)
ترجمہ: کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں۔
وہ عرب جن کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے تھے جن میں معمولی معمولی باتوں پر پشتینی عداوتیں جنم لے لیتی تھیں اور اس آگ میں سینکڑوں انسان بھسم ہو جاتے تھے، یہ نظام صلوٰۃ ہی کی برکت تھی کہ ان میں باہمی الفت و محبت اس قدر جوش زن ہوئی کہ اگر ایک کے پاؤں میں کانٹا چبھتا تھا تو دوسرا اس کی کھٹک اپنے دل میں محسوس کرتا تھا۔
وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا ج (آل عمران: ۱۰۳)
ترجمہ: اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا، اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کر دیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی ہو گئے۔
وہ جو عورت کوذلت کی گٹھڑی سمجھتے تھے اور بیٹی کی پیدائش کی خبر سن کر جن کے چہرے سیاہ پڑ جاتے تھے اور پھر انہیں زندہ در گور کر دیتے تھے۔

جو ہوتی تھی پیدا کسی گھر میں دختر
تو خوفِ شماتت سے بے رحم مادر
پھرے دیکھتی تھی جو شوہر کے تیور
کہیں زندہ گاڑ آتی تھی اس کو جا کر
وہ گود ایسی نفرت سے کرتی تھی خالی
جنے سانپ جیسے کوئی جننے والی

وہی لوگ دنیا میں احترام خواتین کے علمبردار بن گئے۔ غرضیکہ یہ نظام صلوٰۃ ہی کی برکات تھیں جس نے ان کی زندگی کے ہر گوشے میں انقلاب برپا کر دیا۔ وہ جن کا پیشہ ڈاکہ زنی تھا، وہ دنیا کے پاسبان بن گئے۔ قتل و غارت جن کا مشغلہ تھا، وہ امن کے پیغامبر بن گئے۔ وہ جنہیں فحاشی و بے حیائی سے عشق تھا، اب پاکیزگی اور قدوسیت کے پیکر بن گئے۔ وہ جو باہمی چپقلش کے باعث اس قدر کمزور ہو گئے تھے کہ تاریخ کے جھونکے انہیں ٹھوکروں میں فنا کر رہے تھے، نظام صلوٰۃ کے باعث پوری دنیا پر چھا گئے۔ تاریخ نے جنہیں بھلا دیا تھا تاریخ ساز بن گئے۔ جہالت کیلئے جنہیں بطورِ مثال پیش کیا جاتا تھا، دنیا میں علم کا نور انہی کے ذریعہ سے پھیلا۔ سائنس و حکمت کی شمعیں انہوں نے روشن کیں۔


ترک صلوٰۃ کے تباہ کن تائج
جب انہی لوگوں کے اَخلاف نظام صلوٰۃ سے بے نیاز ہو گئے تو جو حشر ان کے ساتھ ہوا تاریخ اس کے ماتم سے کبھی فارغ نہیں ہو سکے گی۔ وہ جو شہنشاہوں کے تاجوں سے کھیلا کرتے تھے، غلامی کے بندھنوں میں جکڑ دئیے گئے، ذلت و مسکنت ان کا مقدر بن گئی اور وہ ہلاکت و تباہی کا ہدف بن گئے۔ دنیا بھر کی برائیاں ان کی سیرت و کردار کو گھن کی طرح کھا گئیں اور اس آیت کا مصداق بن گئے۔
فَخَلَفَ مِنْ م بَعْدِ ہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ
ترجمہ: اور ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہش کے پیچھے ہوئے۔ (مریم: ۵۹)

تھے وہ آبا تمہارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

ہوم پیج