پانچ وقت کی مجلس عمومی
نظام صلوٰۃ کا ایک اور بڑا ثمرہ یہ ہے کہ اس سے ایک مخصوص علاقہ کے مسلمان روزانہ پانچ وقت ایک جگہ پر جمع ہوتے ہیں۔ یہ پانچ وقتہ اجتماعات انہیں ایک دوسرے کے احوال و کوائف سے آگاہ رکھتے ہیں۔ کوئی حاضر نہیں ہوتا تو اس کی عدم حاضری کے اسباب معلوم کر کے سب مل جل کر ان اسباب کا تدارک کرتے ہیں۔ اسی طرح جمعہ، ایک قسم کا ہفتہ وار اجتماع ہے جس میں اس سے بڑے رقبہ کے مسلمان جمع ہوتے ہیں۔ عیدین، سالانہ اجتماعات ہیں۔ اس طرح مسلمان ایک دوسرے سے بے خبر نہیں رہ سکتے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی ہنگامی ضرورت پیش آئے تو آنحضرت اور خلفائے راشدین کے دور میں یہ طریقہ تھا کہ منادی کرا دی جاتی تھی
اَلصَّلوٰۃُ جَامِعَۃٌ (نماز جمع کرنے والی ہے) سب لوگ مسجد میں جمع ہو جاتے۔ ہنگامی صورتِ حال سے انہیں آگاہ کیا جاتا اور لوگ اپنے مشورے بیان کرتے۔ گویا نظام صلوٰۃ مسلمانوں کے مذہبی، اجتماعی اور سیاسی مسائل کے حل کا ذریعہ ہے۔


باہمی الفت و محبت
دن میں پانچ وقت جب ایک محلہ کے مسلمان ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں تو ان کی بیگانگی دور ہو جاتی ہے اور وقفہ وقفہ کے اس میل ملاپ سے باہمی محبت و مؤدت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور وہ ایک دوسرے سے تعاون اور ہمدردی کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ قرآن حکیم نے نظام صلوٰۃ کے اس نتیجہ ٔ خاص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا
وَا تَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ oلا مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا ط (روم: ۳۱۔ ۳۲)
ترجمہ: اور اس سے ڈرو اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں سے نہ ہو، ان میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ہو گئے گروہ گروہ
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظام صلوٰۃ کا قیام مسلمانوں کو باہمی تشتّت و افتراق سے روک کر انہیں وحدت کی لڑی میں پرو دیتا ہے۔


ہمدردی و غمخواری
نماز مسلمانوں میں صحیح ہمدردی اور سچی غمخواری کے جذبات پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ جب مفلس و دولت مند روزانہ پانچ مرتبہ ایک جگہ جمع ہوں اور صاحب سرمایہ اپنی آنکھوں سے اپنے غریب بھائیوں کی حالت زار دیکھیں تو لازماً ان کے دلوں میں غمخواری کو تحریک ہو گی اور وہ اپنی فیاضی سے کام لے کر غریبو ںکی حالت میں تبدیلی کا باعث بنیں گے۔ حضور کے دور میں اصحاب صفہ کا گروہ سب سے زیادہ ہمدردی کا مستحق تھا۔ وہ لوگ مسجد میں رہتے تھے۔ مسلمان نماز کے لئے جاتے تو انہیں دیکھ کر ہمدردی پیدا ہوتی اور وہ کھجوروں کے خوشے لے جا کر مسجد میں لٹکا دیتے تھے اور انہیں اپنے گھروں میں لے جا کر کھانا کھلاتے۔


جنگ کی تربیت
اعلائے کلمۃ اللہ اور باطل کی بیخ کنی کے لئے جنگ کرنا مسلمان کا بنیادی فریضہ ہے اور اسے چاہئے کہ وہ ہر وقت جہاد کی تیاری میں مصروف رہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا مسلمان وہ ہے کہ جب جہاد ہو رہا ہو تو وہ اس میں شریک ہو اور جب جہاد نہ ہو رہا ہو تو اس کی تیاری میں مصروف رہے۔ نظام صلوٰۃ اس مقصد کے حصول کی تربیت کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اطاعت امام، باہمی محبت و دستگیری اور صف بندی پھر امام کے اشاروں پر تمام صفّوں کی ہم آہنگانہ نقل و حرکت یہ سب چیزیں مسلمانوں کو تربیّتِ حرب دیتی ہیں۔ کپکپاتے جاڑوں میں سردی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پانچ وقت وضو کرنا، چلچلاتی دھوپ اور شعلے برساتی ہوئی لو میں ظہر کے وقت اپنے گھروں سے نکل کر مسجد میں پہنچنا۔ اسی طرح خواب سحر کی کیف آگینیوں کو تج دینا، یہ ساری باتیں مسلمانوں کے تمام قوائے عمل کو بیدار کر کے ان میں مقصد کی لگن کے لئے جفاکشی سکھاتی ہے اور مسلمان سپاہیانہ خصائص کے خوگر بنتے ہیں۔


پختگیٔ کردار
زندگی کے ہر میدان میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جن کے کردار میں اولوا العزمی، استقلال اور ثبات کے اوصاف پائے جائیں۔ نماز ہی ایک ایسا فریضہ ہے جو انسان کی سیرت کو ان صفات سے مالا مال کر دیتا ہے کیونکہ یہ چیزیں مداومت اور مواظبت سے پیدا ہوتی ہیں اور نماز اس کا عظیم مظہر ہے۔ اسی لئے شگ نے صحابہ ث کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے
اَلَّذِیْنَ ھُمْ عَلیٰ صَلَا تِھِمْ دَائِمُوْنَ۔
ترجمہ: جو اپنی نماز کے پابند ہیں۔ (المعارج: ۲۳)


پابندی وقت
وقت کی پابندی کی افادیت سے انکار کرنا آفتابِ درخشاں کو سیاہ گیند کہنا ہے۔ کیوں کہ عملی زندگی میں انسان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز اسی حقیقت میں مضمر ہے کہ وہ ہر کام وقت مقررہ پر ادا کرے۔ پابندیٔ وقت سے غافل خرگوش کچھوؤں کی سست رفتاری سے شکست کھا جاتے ہیں۔

رفتم کہ خار از پاکشم، محمل نہاں شداز نظر
یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ را ہم دورشد

اس سلسلہ میں نماز کا قیام بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نماز کے اوقات معین ہیں اور پھر اسے وقت پر پڑھنے کی تاکید اس قدر کی گئی ہے کہ کسی حال میں بھی اسے دوسرے وقت کے لئے ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔ حتیٰ کہ میدانِ جنگ میں بھی اس کے وقت کو مو ٔخر کرنے کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی شخص حالت ِ خوف میں بھاگا جا رہا ہے، نماز کا وقت ہو جاتا ہے تو چاہے وہ بھاگتے ہوئے اشاروں سے نماز ادا کرے تو بھی ضرور ایسا کرے۔ اسی طرح قریب الموت اور ڈوبتے ہوئے آدمی پر بھی وقت پر نماز جس طریق سے ممکن ہو، ادا کرنا ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص اس قدر وقت کا پابند ہو گا، وہ زندگی کے ہر مرحلہ میں کامیاب رہے گا۔


سحر خیزی
سحر خیزی کو طبّی نقطہ ٔ نظر اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق بہت بڑی اہمیّت حاصل ہے۔ وہ انسان جو صبح سویرے اٹھتا ہے اور صبح کی پاکیزہ ہوا میں سانس لیتا ہے، دن کو بھی اس کی طبیعت چاق و چوبند رہتی ہے۔ سستی اور کاہلی اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتی اور یہ نعمت بھی پابند صلوٰۃ مسلمانوں کو حاصل ہوتی ہے۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحرخیزی


نماز کے آداب و شرائط
نماز کی ادائیگی کے لئے آداب و شرائط بھی ہیں۔ حضرت شیخ مخدوم علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش علیہ الرحمۃ نے ان شرائط کا درج ذیل انداز میں ذکر فرمایا ہے
نماز کی شرائط میں سے پہلی شرط جسم کی طہارت ہے، ظاہر میں نجاست سے اور باطن میں خواہشاتِ نفسانی سے۔ دوسری شرط لباس کی طہارت ہے، ظاہر میں نجاست و غلاظت سے اور باطن میں مال حرام سے۔ تیسری شرط مکان کی طہارت، ظاہر میں نجاست اور گندگی سے اور باطن میں فساد اور گناہ سے۔ چوتھی شرط قبلہ کی طرف رُخ کرنا اور ظاہر میں قبلہ و کعبہ شریف ہے اور باطن میں عرشِ معلّٰے۔ پانچویں شرط قیام ہے، ظاہر میں طاقت کی حالت میں اور باطن میں قربِ حق۔ قیام باطن کی شرط یہ ہے کہ حقیقت کے درجہ میں اس کا وقت ہمیشہ ہے۔ چھٹی شرط حق تعالیٰ کی طرف توجہ کر کے خالص اسی کے لئے نیّت کرنا ہے۔ ساتویں شرط یہ ہے کہ انسان کے دل میں ہیبت الٰہی ہو۔ وہ تکبیر پڑھے، نہایت ترتیل سے قرأت کرے، گڑگڑا کر رکوع و سجود کرے اور دلجمعی سے تشہد پڑھے۔ (کشف المحجوب)
اب ذرا تفصیل سے آداب و شرائط کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔


اقامت صلوٰۃ
نماز پڑھنے کے لئے قرآن حکیم میں اقامت ِ صلوٰۃ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ہیں پورے آداب و ارکان و سنن کے ساتھ نماز ادا کی جائے۔ چنانچہ حالت ِ خوف میں جہاں آداب و ارکان کو وقتی طور پر چھوڑ دینے کی اجازت عطا ہوئی وہاں ساتھ ہی یہ ارشاد فرمایا
فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُواا لصَّلٰوۃَ ج (النساء: ۱۰۳)
ترجمہ: پھر جب مطمئن ہو جاؤ تو حسب ِ دستور نماز قائم کرو۔
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ قیام صلوٰۃ کا مفہوم اطمینان سے تمام آداب و ارکان و شرائط کے ساتھ نماز ادا کرنا ہے۔
 

قنوت
یہ ایک جامع لفظ ہے جس کے معنی لغت میں حسب ذیل ہیں۔ چپ رہنا، بندگی کرنا، دعا مانگنا، ادب سے کھڑے رہنا، دیر تک کھڑے رہنا، عاجزی کرنا۔ (لسان العرب)
قرآن حکیم میں ہے
وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ (البقرہ: ۲۳۸)
ترجمہ: اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے۔
صحابہ کہتے ہیں کہ پہلے ہم لوگ نماز میں کوئی نہ کوئی بات کر لیا کرتے تھے۔ جب یہ آیۂ کریمہ اتری تو حضور ﷺ نے ہمیں ممانعت فرما دی کیوں کہ ایسا کرنا تو آدابِ نماز کے خلاف تھا۔


خضوع و خشوع
خشوع کے لغوی معنی ہیں، بدن کو جھکانا، آواز پست کرنا، آنکھیں نیچی رکھنا یعنی ہر ادا سے عاجزی اور مسکنت کا اظہار کرنا۔ (لسان العرب)
خضوع و خشوع، آدابِ نماز میں سے بہت بڑا رکن ہے۔ صحیح مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے
اَلَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلاَ تِہِمْ خَاشِعُوْنَ (المومنون: ۲)
ترجمہ: جو اپنی نماز میں گڑ گڑاتے ہیں۔
کیونکہ نماز خالق کائنات کے حضور میں اپنی بے چارگی، عاجزی اور بے بسی کے اظہار کا نام ہے۔ اگر خشوع نہ ہو تو نماز کا مقصد اصلی حاصل نہیں ہوتا۔


تبتل
تبتل کے اصل معنی کٹ جانے کے ہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں تمام علائق حیات سے کٹ کر صرف خدا کا ہوجانا تبتل ہے۔ سورئہ مزّمل میں قیام لیل کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
وَاذْکُرِاسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا o (المزمل: ۸)
ترجمہ: اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہو۔
یعنی نماز کے وقت خدا کی عظمت و جلالت اوراپنی عاجزی و بے چارگی کے سوا تمام خیالات سے ذہن کو منقطع کر لیا جائے۔
ایک حدیث میں حضور ﷺ نے ایک طرح سے اسی آیت کی تفسیر فرما دی ہے۔ حضرت عمر بن سلمیٰ سے روایت ہے کہ مجھے آنحضرت ﷺ نے نماز سکھائی اور فرمایا جب کوئی باوضو ہو کر نماز کے لئے کھڑا ہوا، پھر خدا کی حمد و ثناء کی پھر خدا کی بزرگی کا اظہار کیا جو اسے زیب دیتی ہے اور اپنے دل کو خدا کے لئے ہر چیز سے فارغ کیا (فرغ قلبہ) تو وہ نماز کے بعد ایسے ہو جاتا ہے جیسے اسی وقت اس نے ماں کے پیٹ سے جنم لیا۔ (صحیح مسلم جلد اوّل)


تضرع
لغت میں تضرع کے معنی انتہائی عاجزی، مسکنت اور زاری سے سوال کرنے کے ہیں۔ (لسان العرب)
غلام جب اپنے آقا کے حضور دست سوال دراز کر رہا ہو تو اس پر عجز و الحاح کی صحیح کیفیات طاری ہونی چاہئیں۔ اگر ایسا نہیں تو دینے والا جو علام الغیوب ہے اور جس سے دل کی خفیف سے خفیف کیفیّت بھی نہیں چھپائی جا سکتی، وہ درخواست کیسے قبول فرمائے گا۔ارشادِ باری ہے
وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً۔ (الاعراف: ۲۰۵)
ترجمہ: اور اپنے ربّ کو اپنے دل میں یاد کرو زاری اور ڈر سے
 

اخلاص
نماز کے آداب کی اصل بنیاد اخلاص اور حضور قلب ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ۔ (طٰہٰ: ۱۴)
ترجمہ: اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ۔
اور یاد صرف زبان سے الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ پورے خلوص سے دل کی معیّت کا نام ہے۔ اگر یہ حاصل نہیں تو نماز محض ریاء شمار ہو گی۔ جسے بعض اہل صداقت نے شرک جیسی لعنت میں شمار کیا ہے۔
وَاَقِیْمُوْا وُجُوْھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ۵ ط
ترجمہ: اور اپنے منہ سیدھے کرو ہر نماز کے وقت اور اس کی عبادت کرو نرے اس کے بندے ہو کر۔ (الاعراف: ۲۹)

ہوم پیج