روح صلوٰۃ
نماز کی اصل روح خشیت و تقویٰ ہے۔ انسان معمولی سے افسر کے سامنے جائے تو انتہائی مؤدّب بن جاتا ہے۔ خوف سے جسم لرز رہا ہوتا ہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی اسے اس کے سوا کوئی خیال نہیں آتا کہ وہ افسر کے سامنے کھڑا ہے اور اس سے بات کر رہا ہے۔ جب انسان بادشاہوں کے بادشاہ اور آقائے کائنات کے دربار میں حاضر ہو تو اس کے قلب کی جو کیفیّت ہونی چاہئے، قلم میں اس کی تابِ بیان نہیں۔ اس احساس کے ساتھ جو نماز پڑھی جائے حقیقی نماز وہی ہے اور وہی قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے لیکن وہ نمازیں جو دکھاوے کے لئے پڑھی جاتی ہیں زبان پر نماز کے کلمات ہوتے ہیں مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا ہوتا ہے تو انہیں پڑھنا بے اثر اور بے نتیجہ ہے۔ عارف رومی نے بجا ارشاد فرمایا ہے ؎

برزباں تسبیح و در دل گاؤخر
ایں چنیں تسبیح کے دارد اثر

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس طرح کی نماز کو توحید کے دامن تقدیس پر بدنما داغ سے تعبیر کیا ہے ؎

رہے تری خدائی داغ سے پاک
مرے بے ذوق سجدوں سے حذر کر

سچی نماز تو وہ ہے جس سے دل میں سوز و گداز اور خضوع و خشوع ہوتا ہے اور ذہن کو معراج المحبوب کا کیف و سرور حاصل ہوتا ہے۔ ایسی ہی نماز سے متعلق حضور ختمی المرتبت ﷺ کا ارشاد ہے
اَلصَّلٰوۃُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِیْن
نماز مومنوں کی معراج ہے
اور ایسی ہی نماز کا سرور حاصل کرنے کے لئے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے نالہ ہائے نیم شب دعا کی صورت میں ظاہر ہوئے۔

نخواہم ایں جہاں و آں جہاں را
مرا ایں بس کہ دانم رمزِ جاں را
سجودے دہ کہ از سوز و سرورش
بوجد آرم زمین و آسماں را

تمدن او رمعاشرت کی اصطلاح میں بھی نماز بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔ قانون اور حکومت کا خوف صرف ظواہر اعمال تک محدود ہے۔ اس کی دار و گیر صرف انہی جرائم تک ہے جو کھلے بندوں کئے جائیں۔ سوسائٹی میں بھی ایک شخص اس وقت مطعون ہوتا ہے جب اس کی غلط کاریاں سوسائٹی کے علم میں آ جائیں۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کے گرد و پیش لاکھوں جرائم ہو رہے ہیں مگر حکومت کا ہاتھ صرف چند ہی انسانوں تک پہنچ جاتا ہے۔ نماز انسان میں یہ احساس بیدار کرتی ہے کہ سب حاکموں سے بڑا حاکم خدائے کائنات ہے، جس سے کوئی جرم نہیں چھپایا جا سکتا۔ گناہ چاہے شیش محلوں کے سنہری پردوں میں کیا جائے، اللہ کی نگاہ سے نہیں چھپ سکتا۔ جب انسان ہر روز ایمان و ایقان کے ساتھ پانچ وقت اللہ کے حضور میں حاضری دے تو اس سے کیسے کوئی گناہ سرزد ہو گا اور جس معاشرہ میں ایسے نماز گزار انسان بستے ہوں، اس سے بہتر معاشرہ زمین پر کہاں نصیب ہو سکتا ہے! اسلام ہی نے یہ پاکیزہ معاشرہ مہیا کیا تھا۔
اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ ط (العنکبوت: ۴۵)
ترجمہ: بے شک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بری بات سے۔


خدا خوفی کا عدیم المثال مظاہرہ
عہد رسالت میں ایک مسلمان سے زنا کی معصیت سرزد ہو گئی۔ یہ گناہ اتنی مخفی صورت میں ہوا تھا کہ کوئی انسانی نگاہ وہاں نہ پہنچ سکی اور کسی کو علم نہ ہونے پایا۔ نفسانی خواہش کے ہیجان میں وہ ضبط نفس سے کام نہ لے سکا۔ بعد میں احساس ہوا کہ دنیوی عدالت کی سزا سے تو بچ سکتا ہوں مگر اخروی خسران سے کون بچائے گا۔ بہتر ہے کہ سنگساری کی سزا دنیا میں بھگت لوں۔ انتہائی ندامت کے ساتھ جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر کہا
غضب ہو گیا مجھ سے زنا کا ملعون فعل سرزد ہوا ہے۔ براہِ کرم مجھے جناب رسالتمآب ﷺ کی خدمت میں لے جا کر سزا دلوا دیجئے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کسی نے ارتکاب کرتے وقت بھی دیکھا ہے۔ جواب نفی میں پا کر فرمایا جا اور کسی سے ذکر نہ کرنا۔ خدا سے توبہ کر جب اس نے تیرا یہ گناہ چھپا لیا تو وہ تیرا گناہ بھی معاف کر دے گا۔ یہ الفاظ اور پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زبان سے صادر ہوئے۔ اطمینان کے لئے یہی کچھ کافی تھا۔ اس وقت تو وہ مطمئن ہو کر گھر چلا گیا۔ مگر پھر خدا خوفی نے ذہن پر غلبہ پا لیا اور عذابِ آخرت کے تصور نے لرزا دیا۔ بھاگا بھاگا حضور ﷺ کے پاس پہنچا اور واقعہ بیان کر دیا۔ آپ نے بھی وہی کچھ فرمایا جو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کہہ چکے تھے لیکن اس پر ایسا خوف طاری تھا کہ بار بار آتا اور سزا کی استدعا کرتا۔ چوتھی مرتبہ اس نے سزا کا عزم کامل کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور رجم کئے جانے کی التجاء کی۔ حضور ﷺ نے سنگساری کا حکم دیا اور اس نے پورے اطمینان کے ساتھ اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کی۔
غور کیجئے، اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کی سزا اذیت ناک موت ہے۔ ہر طرف سے پتھر برسائے جائیں گے، بے انتہا رسوائی ہو گی لیکن خدا خوفی کا جذبہ تھا، جس نے ہر اذیت برداشت کرنے کا تحمل عطا کر دیا۔ تمد ّن و معاشرت کی پوری تاریخ اس طرح کی مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس طرح کا ایمان و ایقان نماز ہی سے نصیب ہو سکتا ہے۔


پابندی صلوٗۃ
اللہ تعالیٰ نے انسان کو مجبورِ محض نہیں بلکہ صاحب اختیار بنایا اور پھر خود ہی ہدایت و ضلالت کی راہیں وضع کر دیں۔ معاشرہ کو پاکیزہ رکھنے کے لئے جو قوانین خدائے قدوس نے وضع فرمائے، ان میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک بہت عظیم قانون ہے۔ اس طرح گویا ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا محتسب ہو جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ
تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو دل میں اسے برا سمجھے اور یہ ضعیف ترین ایمان ہے۔
یہ تو ہر مومن کی انفرادی ذمہ داری ہے۔ نماز میں جب ہم
نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ پڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے عہد کرتے ہیں کہ ہم ہر فاسق سے ترک موالات کریں گے۔ اجتماعی طور پر پوری ملت اسلامیہ کو حکم ہوا ہے کہ وہ پوری دنیا میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دے۔ یہ دونوں طاقتیں اخلاقی طاقتیں ہیں۔ تیسری طاقت قانونی ہے اور وہ یہ کہ اسلامی حکومت پوری قوت سے برائی کی بیخ کنی کر کے معاشرہ کو جرائم سے نجات دلائے۔ نماز چونکہ اس سلسلہ میں سب سے بڑا عامل ہے۔ اس لئے حضور ﷺ نے اس کی ادائیگی پر بہت زور دیا ہے۔ صرف ادائیگی ہی نہیں بلکہ با جماعت ادائیگی۔ آپ نے یہاں تک فرمایاکہ جو لوگ جماعت سے نماز ادا نہیں کرتے اور گھر میں نماز پڑھ لیتے ہیں، دل چاہتا ہے کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ فقہ شافعی اور مالکی میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ تارکِ صلوٰۃ کو قتل کر دیا جائے۔ فقہ حنفی میں کچھ رعایت ہے اور وہ یہی کہ تارکِ صلوٰۃ کو قتل نہ کیا جائے لیکن اس وقت تک قید رکھا جائے، جب تک وہ نماز کی پابندی کا حتمی وعدہ نہ کرے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے تاحیات قید رکھا جائے۔ جب تک اسلامی حکومت قائم رہی، مساجد میں تمام مسلمان باجماعت نماز ادا کرتے تھے۔ امامت لازمۂ حکومت سمجھی جاتی تھی۔ قصبات تک میں وہاں کے حاکم نماز پڑھاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ تمام مسلمان مساجد میں اجتماعی طور پر نماز پڑھنے میں مجبور ہوا کرتے تھے۔
لڑکوں اورلڑکیوں کو ابتداء ہی سے پڑھنے کے لئے وہ نصاب مہیاکیا جاتا تھا جو ان کی رگ و پے میں دینی روح سرایت کر دیتا تھا اور مسلمان مہد سے لحد تک مذہبی فضاء میں رہتا تھا اور اس کی یہ برکت تھی کہ زمین و آسمان اس کے لئے برکات و حسنات کے سرچشمے بنے ہوئے تھے۔ مکاتب نے بھی بہت اہم کردار سرانجام دیا۔ مدارس و مکاتب بالعموم مسجدوں یا درگاہوں سے ملحق تھے۔ ان میں سب سے پہلے مسلمانوں کو قرآن کی تعلیم دی جاتی تھی۔ پھر آمدنامہ، گلستان، بوستان، سکندر نامہ، اخلاق جلالی، اخلاق ناصری اور کیمیائے سعادت وغیرہ کتابیں ہر طالبعلم کو پڑھنا پڑتی تھیں۔ ایک طرف اس تعلیم سے مذہبیت، دل و دماغ پر مرتسم ہو جاتی تھی، دوسری طرف مساجد اور درگاہوں کا قرب خیالات کو متاثر کرتا تھا، تیسری طرف مکاتب کے معلمین، تعلیم کے ساتھ تربیت کا فریضہ بھی سرانجام دیتے تھے۔ کسی طالبعلم کی مجال نہ تھی کہ وہ نماز نہ پڑھے، مکتب میں شرارت تو کجا گھر میں بھی کوئی طالبعلم شرارت نہیں کرتا تھا کہ میاں جی کو خبر ہوئی توکم بختی آ جائے گی۔ بڑے بڑے امراء و رؤسا کے بچے غریب معلمّوں کا ادب کرتے تھے اور غلاموں کی طرح اطاعت کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جب سے یہ باتیں ختم ہوئی ہیں، ترکِ صلوٰۃ کا فتنہ پروان چڑھنے لگا ہے۔


نظام صلوٰۃ کے ثمرات و نتائج
صلوٰۃ با جماعت کے دنیوی فوائد حسب ِ ذیل ہیں۔
صلوٰۃ با جماعت، مسجد میں ادا کی جاتی ہے۔ اس طرح مسلمانوں میں ایک مرکز پر جمع ہونے کا احساس بیدار ہوتا ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا
جس نے اذان سنی اور مسجد میں آنے کا ارادہ نہ کیا، اس کی نماز نہیں ہو گی بشرطیکہ اسے کوئی معذوری نہ ہو۔


امام
نماز با جماعت ایک امام کی اقتداء میں ادا کی جاتی ہے۔ مسلمانوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنا امام خود منتخب کریں۔ ظاہر ہے کہ نماز جیسے مقدس فریضہ کی امامت کے لئے جب ایک مسلمان رائے دیتا ہے تو اس کی رائے انتہائی دیانتدارانہ ہوگی۔ اس طرح گویا ایک امیر اور حاکم کے صحیح انتخاب کی تربیت نماز ہی کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے اور یہ امر موجودہ دور کی جمہوریت کی اصل روح ہے۔ پھر منصب امامت کسی خاص ذات سے مخصوص نہیں کیا گیا۔ نہ ہی اسے کسی کا ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے لئے علم و فضل اور تقویٰ ہی سب سے بڑا معیار ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا جماعت میں جو سب سے زیادہ صاحب علم اقرأ ہو وہی منصب امامت کا سب سے زیادہ اہل ہے۔ چنانچہ بعض صحابہ کرام ث نے ایک مرتبہ قرآنِ حکیم کے زیادہ عالم ہونے کی بناء پر ایک کمسن صحابی کو ہی اپنا امام مقرر فرما لیا تھا۱؎۔ غور کیجئے کہ اس سے لوگوں میں علمی و عملی فضائل کے حصول کا کس قدر شوق ظاہر ہوتا ہے۔


اقتداء
نماز کاایک اور فائدہ یہ ہے کہ انسان میں احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہر کام میں کسی کی اقتداء کی جائے۔ انسان کو شتر بے مہار کی طرح اپنی مرضی پر عمل کر کے قانون شکنی اور تخریبی کاروائیوں کی قطعاً اجازت نہیں۔


وحدت فکر و عمل
دنیا بھر کے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں نماز پڑھنے لگیں تو قبلہ کی طرف منہ پھیر دیں۔
وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وَجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗ ط (البقرۃ: ۱۴۴)
ترجمہ: اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو۔
اس کی بھی وضاحت کر دی کہ معاذ اللہ خدا کی ذات کسی خاص جہت میں مقید نہیں۔ وہ تو ہر جگہ دیکھتا اور سنتا ہے۔
وَلِلّٰہِ الْمَشْرُِق وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ ط (البقرۃ: ۱۵۵)
ترجمہ: اور پورب، پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے۔
قبلہ کا تعیّن صرف اس لئے کیا گیا ہے کہ عالمگیر طور پر مسلمانوں میں وحدتِ فکر و عمل پیدا ہو۔ قبلہ بین العالمی مرکزیت کا تصو ّر راسخ کرتا ہے۔ اسی لئے فرمایا
اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یَأْتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا ط (البقرہ: ۱۴۸)
ترجمہ: تم کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا۔


اطاعت امیر
جس قوم میں اطاعت امیر کا جذبہ نہیں ہوتا وہ کمزور ہو جاتی ہے اور بالآخر تاریخ اسے اٹھا کر ذلّت کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے۔ قوموں کی تربیت کے لئے ان میں ایک ایسا امیر ہونا چاہئے جس کے اشارے پر تمام قوم متحرک ہو اور اس کے جائز احکام کی مکمل طور پر تعمیل کرے۔ نماز باجماعت مسلمانوں کا اکٹھے حرکت کرنے میں دراصل یہ درس ہے کہ معاشرتی زندگی میں بھی انہیں اپنے لئے ایسا امام منتخب کرنا چاہئے جس کی اطاعت کر کے وہ کامرانی و فیروزمندی سے ہمکنار ہوں۔
اطاعت امیر کے لئے ایک طرف تو قوم میں فرماں پذیری کا جذبہ ہو، دوسری طرف قوم کو امیر بھی اسی طرح صالح اور متقی کو منتخب کرنا چاہئے، جس طرح وہ نماز کی امامت کے لئے کرتی ہے۔ نماز سے یہی دو سبق حاصل ہوتے ہیں۔ وہ ایک دائمی تسلسل رکھنے والی تحریک ہے جو قوم کے اعضاء و جوارح کو مکمل اطاعت کے لئے ہر وقت برسرِ عمل رکھتی ہے۔


مساوات
مساواتِ انسانی کا تصور اسلام کا طر ّۂ امتیاز ہے۔ یہی وہ چیز تھی جس کا اوّلین درس حضور ﷺ کی زبانِ صداقت ترجمان سے نکلا تو نسل پرستی کے عفریت تڑپ اٹھے اور چاروں طرف ان کی زہریلی زبانیں شرر افشاں ہو گئیں۔ ابو جہل نے غلافِ کعبہ پکڑ کر نوحہ کیا ؎

سینۂ ما از محمد داغ داغ
از دم او کعبہ را گل شد چراغ
آخر کیوں؟ صرف اس لئے کہ
در نگاہِ او یکے بعد بالا و پست
باغلامِ خویش ہر یک خواں نشست

اسلام کی ابتداء بھی یہی تھی اور انتہا بھی یہی۔ آپ نے خطبہ حجۃ الوداع میں جو نوع انسانی کے لئے منشورِ حیات کی حیثیت رکھتا ہے پھر اعلان فرمایا
لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدٍ وَلَا لِاَسْوَدٍ عَلٰی اَحْمَرَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی
ترجمہ: کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں مگر صرف تقویٰ اور پرہیز گاری کی بنا پر۔
یہ اس حقیقت کا اعلان تھا کہ انسانی فضیلت نہ خاندان پر موقوف ہے اور نہ نسل، خون یا رنگ پر، نہ کسی خاص ملک یا قوم کا باشندہ ہونا اس بارے میں معیار بن سکتا ہے، نہ اچھا لباس، عالیشان مکان یا دولت و ثروت کے انبار کسی کو بڑا بنا سکتے ہیں۔ محض علم یا عہدہ، منصب بھی بڑائی کا وسیلہ نہیں بن سکتا۔ املاک کی فراوانی بھی اس باب میں قطعاً سود مند نہیں ہو سکتی۔ بڑائی اور افضلیت صرف تقویٰ، پرہیزگاری، حسن عمل اور فضیلت اخلاق پر منحصر ہے۔ نظام صلوٰۃ اس عقیدے کا عملی اظہار ہے۔ اس میں کالے گورے، امیر غریب، عربی، عجمی کی کوئی تمیز نہیں۔ سب خدا کے حضور پہنچ کر برابر ہو جاتے ہیں اور ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر نسل انسانی کو مساوات کا درس دیتے ہیں۔ ؎

آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز
قبلہ رو ہو کے زمین بوس ہوئی قوم حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

پھریہ عملی مظاہرہ کبھی کبھی نہیں بلکہ دنیا کے ہر گوشے میں روزانہ پانچ مرتبہ لوگوں کے سامنے آتا ہے۔ آج دوسرے مذاہب کے لوگ مساوات اور جمہوریت کا نام لیتے نہیں تھکتے۔ کیا مسلمانوں کی طرح معاشرتی مساوات کی ایسی درس گاہیں ان کے پاس بھی کہیں ہیں۔

ہوم پیج