اسلام کا نظام صلوٰۃ
صلوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں ایک اہم ترین رکن ہے۔ اس کے نتائج کیا ہیں؟یہ سوال تاریخ سے پوچھئے تو وہ جواب دے گی کہ یہ صلوٰۃ ہی تھی جس نے ریگزار عرب کے چرواہوں کو دنیا کا پاسبان بنا دیا تھا۔ صلوٰۃ ہی نے ان تہی دامن اور بے مایہ انسانوں کو یہ جرأت عطا کر دی تھی کہ انہوں نے قیصر و کسریٰ کے ایوانوں میں زلزلے بپا کر دئیے اور زمین کا بہت بڑا حصہ ان کے جلال و جبروت کی نمود کا مظہر بن گیا۔

فقیراں تا بمسجد صف کشیدند
گریباں شہنشاہاں دریدند
چوآں آتش درونِ سینہ افسرد
مسلماناں بدرگاہاں خزیدند

دیکھنا یہ ہے کہ صلوٰۃ کے لفظ میں وہ کون سا اعجاز پنہاں ہے جس نے تاریخ انسانیت میں حسین ترین انقلاب کے باب کا اضافہ کر دیا۔


صلوٰۃ کا لغوی مفہوم
صلوٰۃ اور اس کے تمام ترمشتقات کا تعلق ص۔ ل۔ و کے مادہ سے ہے۔
صَلْوٌ کے معانی ہیں پیچھے چلنا، مکمل اتباع کرنا۔ صَلَّی الْفَرَسُ تَصْلِیَۃً اس وقت کہا جاتا ہے جب گھوڑ دوڑ میں ایک گھوڑا ایسے دوڑ رہا ہو کہ اس کے کان اگلے گھوڑے کی پچھلی ٹانگوں سے مل رہے ہوں۔ آگے جانے والے گھوڑے کو سَابِقٌ کہتے ہیں اور دوسرے نمبر پر جانے والے گھوڑے کو اَلْمُصَلِّیُّ کہا جاتا ہے، گویا پیچھے چلنے کو صلوٰۃ کہا جاتا ہے۔ تاج العروس میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں
سَبَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَصَلّٰی اَبُوْ بَکْرٍ
رسولِ خدا ﷺ پہلے تشریف لے گئے اور آپ کے پیچھے پیچھے حضرت ابو بکر رضی اللہ ونہ بھی چلے گئے۔
امام قرطبی نے قرآن حکیم کی تفسیر میں لکھا ہے کہ صلوٰۃ کے معنی ہیں خدا کے احکام سے وابستگی اور کتابِ خداوندی کی مکمل اطاعت، زندگی کے تمام گوشوں میں خدائے قدوس کی فرماں پذیری ہی اصل صلوٰۃ ہے۔ صرف انسان کو ہی اختیار و ارادہ کی صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے۔ اس کے سوا کائنات کی ہر چیز مجبورِ محض ہے۔

ذرّہ ذرّہ دہر کا زندانی ٔ تقدیر ہے
پردۂِ مجبوری و بیچارگی ٔ تدبیر ہے
آسماں مجبور ہے شمس و قمر مجبور ہیں
انجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیں

کتاب اللہ میں اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے یہ بلیغ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ ط کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہٗ وَتَسْبِیْحَہٗ ط (النور۔ ۴)
کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمینوں میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے، سب نے جان رکھی ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح۔
اس آیت کریمہ میں صلوٰۃ کا لفظ مکمل سپردگی کے لئے استعمال ہوا ہے۔
 

صلوٰۃ کا اصطلاحی مفہوم
قرآن حکیم میں اقامت صلوٰۃ سے مراد وہ نماز ہے، جسے ادا کرنا ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے اور فرض بھی اس قسم کا کہ اسے کسی حال میں بھی ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔ نماز پڑھنے کا انداز جناب رسالت مآب ﷺ نے سکھا دیا۔


فرضیت صلوٰۃ
خدائے لم یزل ولا یزال کے ارشادات کے مطابق صلوٰۃ اتنا اہم فریضہ ہے کہ اسے میدانِ جنگ میں بھی ملتوی نہیں کیا گیا۔ اس حال میں بھی حکم ہے کہ مسلمان فوج دو حصوں میں بٹ جائے۔ ایک گروہ میدان سنبھالے اور دوسرا گروہ نماز ادا کرے۔ جب وہ فارغ ہو جائے تو میدانِ جنگ میں آ جائے اور جو گروہ میدانِ جنگ میں تھا وہ جا کر نماز ادا کرے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
وَاِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَـآئِفَۃٌ مِّنْھُمْ مَّعَکَ وَلْیَاْ خُذُوْآ اَسْلِحَتَھُمْ قف فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِکُمْ ص وَلْتَاْتِ طَآئِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ وَلْیَاْخُذُوْا حِذْرَھُمْ وَاَسْلِحَتَھُمْ ج  (النساء۔ ۱۰۲)
ترجمہ: اور اے محبوب! جب تم ان میں تشریف فرما ہو پھر نماز میں ان کی امامت کرو تو چاہئے کہ ان میں ایک جماعت تمہارے ساتھ ہو اور وہ اپنے ہتھیار لئے رہے پھر جب وہ سجدہ کر لیں تو ہٹ کر تم سے پیچھے ہو جائیں اور اب دوسری جماعت آئے جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھی اب وہ تمہارے مقتدی ہوں اور چاہئے کہ اپنی پناہ اور اپنے ہتھیار لئے رہیں
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز ایسا فریضہ ہے جو تلواروں کی چھاؤوں اور رزم و پیکار کے ہنگاموں میں بھی معاف نہیں ہوتا۔
وَاَقِیْمُوا لصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ oلا (الروم۔ ۳۱)
ترجمہ: اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں سے نہ ہو۔
اس آیہ ٔ مبارکہ سے یہ وضاحت ہوتی ہے کہ قیام صلوٰۃ، توحید کی نمایاں ترین علامت ہے اور نماز سے گریز شرک ہے۔ اقامت ِ صلوٰۃ سے متعلق قرآن حکیم میں سینکڑوں مقامات پر تاکیدی احکام بیان ہوئے ہیں۔ اگر ان کا استقصاء کیا جائے تو یہ کلام بہت طویل ہو جائے گا۔ صرف چند آیات مبارکہ درج کی جاتی ہیں
قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَا خِلٰلٌ o (سورئہ ابراہیم۔ ۳۱)
ترجمہ: میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر خرچ کریں۔ اس دِن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سوداگری ہوگی نہ یارانہ۔
وَاَقِیْمُوا الصَّلوٰۃَ وَاٰ تُوا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَo (البقرہ: ۴۳)
ترجمہ: اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔
اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰ تُوا لزَّکٰوۃَ ط وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ o (البقرہ: ۱۱۰)
ترجمہ: اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے۔ بیشک اللہ تمہارے سب کام خوب دیکھ رہا ہے


نماز کی دنیوی و اخروی برکات
حضور سرورِ کائنات ﷺ نے بھی نماز کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ صحیحین میں ہے کہ آپ سے سوال کیا گیا اَیُّٗ الْاَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ (اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟) آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا، اَلصَّلٰوۃُ عَلٰی وَقْتِہَا (اپنے وقت پر نماز ادا کرنا) مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا
بَیْنَ الْعَبْدِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ
ترجمہ: بندئہ مسلم اور کافر کے درمیان نماز چھوڑ دینے کا فرق ہے۔
یعنی ترک ِ صلوٰۃ کفر کی علامت ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا
لَیْسَ بَیْنَ الْعَبْدِ وَالشِّرْکِ اِلاَّ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ وَاِذَا تَرَکَھَا فَقَدْ اَشْرَکَ (ابن ماجہ)
ترجمہ: بندئہ مسلم اور مشرک میں صرف ترکِ صلوٰۃ کا فرق ہے۔ پس جب اس نے نماز چھوڑ دی تو شرک کیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا
نماز دین کے لئے ستون کا درجہ رکھتی ہے اور اس کی ادائیگی سے دس برکات حاصل ہوتی ہیں
۱۔ دنیا اور آخرت میں چہرہ منور رہتا ہے۔
۲۔ قلبی و روحانی مسرّت حاصل ہوتی ہے۔
۳۔ قبر منور ہو جاتی ہے۔
۴۔ میزان عمل میں نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔
۵۔ جسم امراض سے محفوظ رہتا ہے۔
۶۔ دل میں سوزو گداز پیدا ہوتا ہے۔
۷۔ بہشت میں حور و قصور ملتے ہیں۔
۸۔ دوزخ کی آگ اور روز محشر کی تمازتِ آفتاب سے نجات مل جاتی ہے۔
۹۔ خدائے قدوس کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
۱۰۔ جنت میں خدا کے دیدار کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک روز حضور ﷺ نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ
جو شخص نماز کی حفاظت کرے گا تو یہ اس کے لئے قیامت میں روشنی اور برہان بنے گی اور جو نماز کی محافظت نہیں کرے گا تو اس کے لئے روشنی، نجات اور برہان نہیں ہو گی اور وہ قیامت کے روز قارون، فرعون، ہامان اور ابی ابن خلف کی معیّت میں ہو گا۔(مشکوٰۃ بحوالہ مسند احمد، دارمی، بیہقی)
حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا، نماز پڑھنے والے کے لئے تین سعادتیں مخصوص ہیں۔ اول یہ کہ اس کے پاؤں کے ناخنوں سے لے کر سر کی مانگ تک آسمان سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کے قدموں سے لے کر فضائے آسمانی تک فرشتے اس کی محافظت کرتے رہتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ ایک فرشتہ آواز دیتا ہے کہ اگر اسے خدا کے ساتھ اپنا معاملہ معلوم ہو تو یہ نمازمیں اس قدر مستغرق ہو جائے کہ پھر اسے چھوڑ کر کسی اور جانب متوجہ ہی نہ ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ نماز کی استواری سے ہی دین اور دنیا بدل سکتی ہے۔ جناب سرورِ عالم ﷺ نے جب دعوتِ حق و صداقت کا آغاز کیا اور آپ کا ساتھ دینے کے لئے چند پرستارانِ حق آگے بڑھے تو صورتِ حال یہ تھی کہ یہ لوگ ہرطرف سے اعدائے اسلام کے نرغہ میں محصور تھے۔ صرف مکّہ ہی نہیں پورا عرب ان کے خون کا پیاسا تھا۔ ان کا کوئی مددگار نہیں تھا۔ ہر طرف مایوسی کی تاریکیاں مسلّط تھیں۔ ان لوگوں کی لاچاری و درماندگی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ اس وقت رب ذو الجلال نے انہیں ان کے مرض کسمپرسی کا جو علاج بتایا وہ کیا تھا؟ یہی کہ
اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ (نماز قائم کرو) وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ (نماز اور ثابت قدمی کے ذریعے خدا کی مدد طلب کرو) اور جب ان تقدس مآب انسانوں نے حکیم مطلق کے اس نسخہ پر عمل کیا تو اس کے نتائج یہی تھے کہ وہ دنیا پر چھا گئے۔
طبِّی نقطہ ٔ نظر سے غور کیجئے تو بھی نماز کے بہت سے فوائد ہیں جو شخص بھی نماز ادا کرے، اسے نماز کی خاطر پاک و صاف رہنا پڑتا ہے۔ پانچوں وقت وضو کرتا ہے، لباس صاف رکھتا ہے، غلاظت کی چھینٹ تک سے بچتا ہے۔ جب خود صاف رہتا ہے تو اسے گھر، سامان، برتن غرضیکہ سب کچھ صاف رکھنا پڑتا ہے۔ اس طرح یقینا اس کی صحت اچھی رہتی ہے۔

 

ہوم پیج