ایک واہی اعتراض کا جواب:
آیۂ کریمہ
وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ الآیۃ میں لفظ لکن کے استدراک کی بحث میں آپ نے مجھ پر کلام الٰہی میں وہم پیدا کرنے کا الزام لگایا اور لاریب فیہ الفاظ قرآنیہ کو میرے خلاف بطو رحجت نقل کیا ہے۔ آپ کی لاعلمی پر سخت افسوس ہے۔ معاذ اللّٰہ! کلامِ الٰہی میں وہم و شبہ کا تصور بھی کوئی مسلمان نہیں کرسکتا یہاں تو لفظ لکن کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہ کلمہ استدراک کے لئے ہے یعنی لکن سے پہلے کلام میں جو وہم کسی کو ہوسکتا ہے اس کا ازالہ کرنے کے لئے کلمہ لکن ذِکر کیا جاتا ہے آپ نے اس وہم کو میری طرف منسوب کردیا۔ آپ کا وہم ہے۔
تمام مفسرین نے اس مقام پر استدراک کی توجیہہ میں لفظ
یتوہم لکھا ہے۔ بطور مثال ملاحظہ فرمایئے تفسیر روح المعانی پ ۲۲ ص ۳۰ شاید روح المعانی کی عبارت سے آپ کا وہم دور ہوجائے مگر یہ لاعلاج مرض ہے اس سے نجات حاصل ہونا آسان نہیں۔


نسخ الکتاب بالسنہ:
آپ نے اپنے مضمون میں مجھ پر یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ میں نے صاحب در مختار و صاحب مجمع الانہر و ملتقی الابحر کے اس قاعدہ پر اعتراض نہیں کیا کہ وہ نسخ الکتاب من السنۃ القطعیہ کے قائل ہیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی علم و فن سے واقف نہیں آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ نسخ الکتاب بالسنہ کا قول امام مالک، اصحاب امام ابی حنیفہ اور جمہور متکلمین اشاعرہ نے کیا ہے اور یہ مسئلہ ایسا ہے کہ کتب تفاسیر اور تقریباً تمام کتب اصول فقہ میں مذکور ہے۔ نسخ الکتاب بالسنہ کو صاحب روح المعانی نے مذہب منصور قرار دیا۔ دیکھئے تفسیر روح المعانی جلد ۱ ص ۳۱۷۔
صاحبملتقیالابحر الامام ابراہیم بن محمد حلبی متوفی ۹۵۶ھ اور الامام عبدالرحمن بن الشیخ محمد بن سلیمان صاحب مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر متوفی ۱۰۷۸ھ اور علامہ محمد علاؤ الدین حصکفی صاحب الدر المختار متوفی ۱۰۸۸ھ یہ تینوں حضرات جن کا آپ نے حوالہ دیا ہے بہت متاخر ہیں نسخ الکتاب بالسنۃ کا قول تو تفسیر احکام القرآن للجصاص متوفی ۳۷۰ھ نے بھی کیا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر احکام القرآن للجصاص جلد اول ص ۶۷۔
اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ امام مالک، اصحاب ابی حنیفہ، جمہور متکلمین اشاعرہ صاحب روح المعانی، الامام حجۃ الاسلام ابوبکر احمد بن علی الرازی صاحب تفسیر احکام القرآن للجصاص کیا سب ہی مور د طعن اور معاذ اللہ گمراہ ہیں۔

ناطقہ سربگر بیاں ہے اسے کیا کہیے

قیل اور قالوا مطلقاً تمریض کے لئے نہیں:
اثر عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں آپ نے تفصیل روح البیان سے میری منقولہ عبارت میں لفظ
قالوا کو تضعیف کے لئے قرار دیا اور اس دعوے کی دلیل میں کبیری کے حوالہ سے نقل کردیا کہ انہوں نے قاضی خاں کے کلام میں لفظِ قالوا کو تضعیف کے لئے کہا ہے آپ کی لا علمی پر افسوس بھی ہوتا ہے اور تعجب بھی۔
جنابِ والا! آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ لفظ
قالوا کو مختلف فیہ مسئلہ کے ضمن میں تضعیف کے لئے استعمال کرنا صرف ائمہ فقہاء کی اصطلاح ہے۔ صاحب کبیری نے بھی اسے ائمہ فقہا کی عبارات میں متعارف کہا نہ کہ ہر علم و فن کے علماء کی عبارات میں۔ میں نے فقہ کی کسی کتاب کی عبارت نقل نہیں کی بلکہ تفسیر کی عبارت نقل کی ہے۔
اور فقہا کے علاوہ کسی فن کے علماء کے نزدیک لفظ
قالوا تضعیف کے لئے متعارف ہونا ثابت نہیں ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ ہر فن کے علماء کی اصطلاحات مختلف ہوتی ہیں۔ لکل ان یصطلح بماشاء
لہٰذا آپ کا یہ اعتراض بے معنیٰ ہے۔
لا تفضیل فی النبوۃ کے متفقہ مسئلہ میں میری بعض منقولہ عبارات میں لفظ قیل پر بھی آپ نے یہی تضعیف و تمریض کا ایک اعتراض کیا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ قیل ہو یا قالوا مطلقاً تمریض و تضعیف کے صیغے نہیں ان دونوں صیغوں کا تمریض کے لئے مستعمل ہونا اس وقت ہے جبکہ کسی اختلافی مسئلہ کو ان صیغوں سے بیان کیا جائے جیسا کہ لفظ
قالوا سے قاضی خاں نے مختلف فیہ مسئلہ کو بیان کیا ہے بالکل اسی طرح لفظ قیل ہے کہ وہ بھی تمریض کے لئے اسی وقت ہوگا جب کہ کسی اختلافی مسئلہ کے ضمن میں مستعمل ہو۔ جیسا کہ در مختار میں ہے
تزوج بشہادۃ اللّٰہ ورسولہ لم یجزبل قیل یکفرواللّٰہ اعلم ۱ ھ
اس کے خلاف شامی نے اسی مسئلہ تحت لکھا
وفی الحجۃ ذکر فی الملتقط انہ لا یکفر
دیکھئے شامی جلد دوم ص ۳۰۰ بہامشہ الدر المختار
اسی اختلافی مسئلہ کو قاضی خاں نے قیل کی بجائے لفظ قالوا کے ساتھ ذِکر کیا۔
شامی کی عبارت مذکورہ بالا سے واضح ہوگیا کہ در مختار کا قیل اور قاضی خاں کا قالوا دونوں تضعیف کے لئے ہیں کیونکہ اختلافی مسئلہ کے ضمن میں مستعمل ہوئے ہیں۔ متفقہ مسئلہ قیل یا قالوا کے ساتھ بطور تمریض ذِکر نہیں کیا جاتا کیونکہ جہاں اتفاق ہو وہاں ضعف کا وہم پیدا نہیں ہوتا۔
اب غور فرمایئے کہ آپ نے
لا تفضیل فی النبوۃ کے اتفاقی مسئلہ میں لفظ قیل کو تضعیف و تمریض کے لئے قرار دے دیا۔
ہم تفصیلاً بیان کرچکے ہیں کہ ذوات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام میں تفضیل ہے جو کتاب و سنت سے ثابت ہے مگر نفسِ نبوۃ میں تفضیل ہر گز ثابت نہیں۔
میں نے جو اقوال التبشیرمیں نفس نبوۃ میں عدم تفضیل کے ثبوت میں نقل کئے ہیں، آپ ان کے خلاف کسی کا ایک قول بھی پیش نہیں کر سکتے۔ جس میں نفس نبوۃ میں تفضیل ثابت کی گئی ہو۔ اگر کوئی ایسا قول ہے تو پیش کیجئے۔
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُ ہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ ج اصلے الحمد للّٰہ! ہم نے تو کسی ضعیف قول سے استدلال نہیں کیا۔ مگر آپ ذرا اپنے سلطان المناظرین مولانا منظور احمد صاحب نعمانی کا حال دیکھئے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے علم اقدس کی نفی میں درمختار کے اسی قولِ ضعیف سے استدلال کیا ہے جو قیل کے ساتھ صاحب در مختار نے ذکر کیا ہے اور لفظ قالوا کے ساتھ قاضی خان نے نقل کیا۔ نعمانی صاحب کا استدلال الظفر المبین ص ۱۰۶ پر ملاحظہ فرمائیں۔
حیرت ہے کہ آپ کو اپنے سلطان المناظرین پر کوئی اعتراض نہیں۔ جو قیل اور قالوا کے ساتھ ذکر کئے ہوئے قولِ ضعیف سے حضور ﷺ کے کمالِ علمی کے خلاف غلط استدلال کر رہے ہیں اور میں نے جو اتفاقی مسئلہ قیل کے ساتھ نقل کیا تو آپ جامے سے باہر ہو گئے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔


مثنوی شریف کے دو شعر
نانوتوی صاحب کی تائید میں مثنوی شریف کے دو شعر پیش کئے جاتے ہیں۔ جن کے بارے میں مختصر کلام التبشیر میں آ چکا ہے۔ مزید تفصیل کے لئے عرض ہے کہ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے حسبِ ذیل دونوں شعر رسول اللہ ﷺ کے فضائل و کمالات کے مضمون سے لبریز ہیں۔ وہ شعر یہ ہیں

بہر ایں خاتم شدہ است او کہ بجود
مثل اونے بود و نے خواھند بود
چونکہ در صنعت برد استاد داشت
نے تو گوئی؟ ختم صنعت بر تو است

پرستارانِ تحذیر کو معلوم ہونا چاہئے کہ نانوتوی صاحب آیتِ مبارکہ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ میں وارد ہونے والے لفظ خاتم کے معنیٰ بیان کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہاں خاتم بمعنیٰ آخر، نا فہم عوام کا خیال ہے۔ بنائے خاتمیت اور بات پر ہے۔
بخلاف مولانا روم کے کہ انہوں نے قرآنِ پاک کی آیت میں لفظ خاتم کے معنیٰ آخر ہونے کا قطعاً انکار نہیں کیا نہ اسے عوام کا خیال قرار دیا بلکہ وہ ان دونوں شعروں میں رسول اللہ ﷺ کے اسم مبارک الخاتم کی حکمت بیان فرمارہے ہیں۔
حضور ﷺ کا اسم مبارک الخاتم بکثرت احادیث میں وارد ہے۔ خود زبانِ نبوۃ نے فرمایا میرا نام مقفی ہے، عاقب ہے اور خاتم ہے۔ خطیب ابن عساکر اور ابن عدی سب نے یہ حدیث روایت کی۔ دیکھئے ختم النبوۃ فی الآثار مفتی محمد شفیع دیوبندی ص ۴۴ اس کے علاوہ شفا قاضی عیاض ص ۲۳۲ طبع مصر، مواہب اللدنیہ جلد اوّل ص ۱۸۲، الخصائص الکبریٰ جلد اول ص ۷۷۔
مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے اسم مبارک الخاتم کی حکمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ حضور ﷺ کے اسم الخاتم کی حکمت یہ ہے کہ حضور ﷺ کی مثل جو دو سخا (بلکہ تمام کمالات) میں نہ کوئی ہوا نہ ہوگا۔ جب کوئی صاحب صنعت اپنے کمالات میں بالادست ہوجائے تو کیا تم اس کے بارے میں یہ نہ کہو گے؟ کہ گویا یہ صنعت تجھ پر ختم ہوگئی۔
ان دونوں شعروں میں حضور ﷺ کے جامع کمالات ہونے کو بطور مجاز ختم سے تعبیر کیا گیا ہے جب کہ قرآن مجید کے لفظ خاتم النبیین میں ہر قسم کی تاویل و تخصیص اور مجاز کی نفی اور خاتم کے معنیٰ صرف آخر ہونے پر اجماع امت منعقد ہوچکا ہے۔ اس اجماع کو آپ کے مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی نے بھی تسلیم کیا۔ ملاحظہ ہو ضمیمہ ختم نبوۃ ص ۶۱۔ معلوم ہوا کہ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کا تعلق حضور ﷺ کے اسم مبارک الخاتم سے ہے۔ آیت کریمہ کے لفظ خاتم سے نہیں اور نانوتوی صاحب کی کتاب تحذیر الناس میں آیۂ قرآنیہ
وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَا تَمَ النَّبِیِّیْنَ پر کلام کیا گیا ہے۔
مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ اس بات سے بے خبر نہ تھے کہ قرآن مجید میں لفظ خاتم کے معنیٰ صرف آخر ہیں اور اس میں ہر قسم کی تاویل و تخصیص کی نفی اور مجاز مراد نہ ہونے پر اجماع امت منعقد ہوچکا ہے پھر کیونکر ممکن ہے کہ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ قرآن مجید کے لفظ خاتم کے مجازی معنیٰ کرکے اجماع امت کی خلاف ورزی کریں۔ ثابت ہوا کہ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے شعر حضور ﷺ کے اسم مبارک الخاتم سے متعلق ہیں اور شارحینِ مثنوی مثلاً علامہ بحرالعلوم رحمۃ اللہ علیہ کا بھی وہ سارا کلام جو ان دو شعروں کے تحت ہے سب حضور ﷺ کے اسم مبارک الخاتم ہی سے تعلق رکھتا ہے قرآن پاک کے لفظ خاتم سے ہر گز متعلق نہیں جس میں مجاز نہ ہونے پر اجماع امت منعقد ہوچکا ہے اور یہ بات ہم بارہا عرض کرچکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے جامع کمالاتِ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہونے میں کسی مسلمان کو کلام نہیں ہوسکتا، مگر حضور کا یہ وصف مبارک قرآن کے لفظِ خاتم سے نہیں بلکہ بکثرت آیات و احادیث سے ثابت ہے جن کی طرف ہم سابقاً اشارہ کرچکے ہیں۔ ان احادیث میں حضور ﷺ کا اسم مبارک الخاتم بھی شامل ہے جس کی حکمت بیان کرتے ہوئے مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے حضور کے جامع کمالات ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے لہٰذا مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے ان دو شعروں کو نانوتوی صاحب کی تائید سمجھنا سخت جہالت ہے اور اگر پرستارانِ تحذیر الناس اس جہالت پر مصر ہیں کہ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے ان دو شعروں میں آیت کریمہ
وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ کے لفظ خاتم کی تفسیر ہے تو انہیں مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے یہ دو شعر بھی پیشِ نظر رکھنے چاہئیں۔

دل بدست آور کہ حج اکبر است
از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است
کعبہ بنگاہ خلیل آذر است
دِل گزر گاہ جلیل اکبر است

سورئہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ اِلَی النَّاسِ یَوْمَ الحَجِّ الْاَکْبَرِ الآیۃ
مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے حج اکبر کی تفسیر دل بدست آور سے فرمائی ہے۔ پرستارانِ تحذیر سے بعید نہیں کہ وہ یہاں حج اکبر کا لفظ دیکھ کر ان دو شعروں کو قرآنِ مجید کے حج اکبر کی تفسیر قرار دے دیں۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ط


نانوتوی صاحب کے عقیدہ ختمِ نبوت کی حقیقت:
اب آخر میں ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ امت مسلمہ کے نزدیک رسول اللہ ﷺ علی الاطلاق خاتم النبیین اور آخر النبیین ہیں آپ کے بعد کبھی کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا لیکن نانوتوی صاحب اس کے منکر ہیں وہ لکھتے ہیں۔
ومیدانی کہ بعد ارتفاع کلامِ ربانی ازیں جہانِ فانی آمدن قیامت تقدیر یافتہ ورنہ بشرط بقائے عالم آں وقت اگر نبی دیگرمی آید مضائقہ نبود ا ھ
ملاحظہ فرمائیں قاسم العلوم (مکتوبات نانوتوی صاحب) مکتوب اوّل بنام مولوی محمد فاضل ص ۵۶ مطبوعہ لاہور۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس جہانِ فانی سے کلامِ ربانی (قرآن مجید) کے اٹھ جانے کے بعد قیامت کا آنا مقدر ہوچکا ہے ورنہ بشرط بقائے عالم اس وقت اگر دوسرا نبی آجائے تو مضائقہ نہ ہوگا یعنی قرآنِ مجید کے اٹھ جانے کے بعد کچھ عرصہ قیامت نہ آئے اور عالم باقی رہے تو اس وقت دوسرے نبی کے آ نے میں کوئی حرج نہیں۔
اس عبارت میں نانوتوی صاحب نے حضور ﷺ کے مطلقاً آخری نبی ہونے کا انکار کیا ہے اور قرآن مجید کے اس جہانِ فانی سے اٹھ جانے تک حضور کو خاتم النبیین مانا ہے اور صاف کہا ہے کہ قرآن پاک اٹھ جانے کے بعد قیامت کا آنا مقدر ہوچکا ہے ورنہ قرآن مجید اٹھ جانے کے بعد قیامت سے پہلے اگرعالم باقی رہے تو دوسرے نبی کے آنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر نانوتوی صاحب حضور ﷺ کو علی الاطلاق خاتم النبیین مانتے تو یوں کہتے کہ قرآن مجید اٹھ جانے کے بعد اگر عالم باقی رہا تو پھر بھی کوئی دوسرا نبی نہیں آسکتا۔ کیونکہ حضور ﷺ علی الاطلاق خاتم النبیین ہیں۔
اس کے بعد ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس جہانِ فانی سے قرآن پاک اٹھ جانے کے بعد بھی قیامت سے پہلے عالم باقی رہے گا اور بقائے عالم کی شرط پائی جائے گی جس کے ساتھ نانوتوی صاحب کسی دوسرے نبی کے آنے کو مشروط قرار دے رہے ہیں۔
ملاحظہ فرمایئے! آپ کے مولانا اشرف علی تھانوی صاحب بہشتی زیور میں لکھتے ہیں۔
جب سب مسلمان مر جائیں گے اس وقت کافر حبشیوں کا ساری دنیا میں عمل دخل ہوجائے گا اور قرآن شریف دِلوں سے اور کاغذوں سے اٹھ جائے گا اور خدا کا خوف اور خلقت کی شرم سب اٹھ جائیگی اور کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا اس وقت ملک شام میں بڑی ارزانی ہوگی لوگ اونٹوں پر اور سواریوں پر، پیدل ادھر جُھک پڑیں گے اور جو رہ جائیں گے ایک آگ پیدا ہوگی اور سب کو ہانکتی ہوئی شام میں پہنچا دے گی اور حکمت اس میں یہ ہے کہ قیامت کے روز سب مخلوق اس ملک میں جمع ہوگی پھر وہ آگ غائب ہوجائے گی اور اس وقت دنیا کو بڑی ترقی ہوگی تین چار سال اسی حال سے گزریں گے کہ دفعۃً جمعہ کے دِن محرم کی دسویں تاریخ صبح کے وقت سب لوگ اپنے اپنے کام میں لگے ہوں گے کہ صور پھونک دیا جائے گا۔
انتہیٰ بلفظہٖ (مقبول بہشتی زیور حصہ ہفتم ص ۴۷)
اس عبارت میں تھانوی صاحب نے واضح طور پر لکھا ہے کہ قرآن مجید اٹھ جانے کے بعد بھی کئی واقعات رونما ہو ںگے اس وقت دنیا کو بڑی ترقی ہوگی تین چار سال اسی حال سے گزریں گے اس کے بعد قیامت آئے گی۔
قرآن مجید اٹھ جانے کے بعد قیامت سے پہلے کم از کم تین چار سال تک بقائے عالم کی تصریح تھانوی صاحب کے اس کلام میں موجود ہے۔ اب دیکھئے کہ حضور ﷺ کے بعد دوسرے نبی کے آنے کی شرط (بقائے عالم) جو نانوتوی صاحب نے لگائی ہے وہ پائی گئی۔
نتیجہ واضح ہے کہ اس تین چار سال کے عرصہ میں اگر کوئی دوسرا نبی آجائے تو نانوتوی صاحب کے نزدیک کوئی مضائقہ نہیں۔ اب کہاں گیا وہ عقیدہ تاخر زمانی ا ور ختم نبوۃ؟
اُمید ہے کہ اس کے بعد آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی اور آپ تسلیم کرلیں گے کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جو الزام نانوتوی صاحب پر لگایا تھا وہ صحیح اور حق ہے۔ وللّٰہ الحمد!
اصل محفوظ ہے۔

سید احمد سعید کاظمی غفرلہٗ
شاداب کالونی ملتان
۱۸؍رمضان المبارک ۱۴۰۰ ؁ھ
مطابق ۲۲؍جولائی ۱۹۸۰ ؁ء

 

ہوم پیج