سد باب اتباع مدعیان نبوت
باقی یہ احتمال کہ دین آخری دین تھا اس لئے سد باب اتباع مدعیانِ نبوت کہا ہے جو کل جھوٹے دعوے کرکے خلائق کو گمراہ نہ کریں البتہ فی حد ذاتہ قابلِ لحاظ ہے۔ جملہ
مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ اور جملہ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ میں کیا تناسب تھا جو ایک کو دوسرے پر عطف کیا اور ایک کو مستدرک منہ اور دوسرے کو استدراک قرار دیا اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی بے ربطی اور بے ارتباطی خدا کے کلام معجز نظام میں متصور نہیں اگر سدباب مذکورہ منظور ہی تھا تو اس کے لئے اور بیسیوں مواقع تھے بلکہ بنائے خاتمیت اور بات پر ہے جس سے تاخر زمانی اور سد باب مذکور خود بخود لازم آجاتا ہے اور فضیلت نبوی دوبالا ہوجاتی ہے۔ (ا ھ بلفظہٖ تحذیر الناس ص ۳) جواباً عرض ہے کہ آیۃ کریمہ میں ہر دو جملوں کی مناسبت کی بناء پر صحت عطف اور استدراک پر نہایت تفصیل کے ساتھ ہم التبشیر میں کلام کرچکے ہیں اور نانوتوی صاحب کی غلطی کا ازالہ عبارات مفسرین کی روشنی میں بہت اچھی طرح کردیا گیا ہے جسے شوق ہو وہ التبشیر کا یہ مقام غور سے پڑھ لے۔ انشاء اللہ اس پر واضح ہوجائے گا کہ نانوتوی صاحب نے ختم زمانی کی نفی میں اس مقام پر جو رکیک شبہات پیدا کئے ہیں اور خدا کے کلام معجز نظام میں معاذ اللہ بے ربطی اور بے ارتباطی کا الزام لگایا ہے اجلہ مفسرین کے ارشادات و عبارات کی روشنی میں قطعاً باطل ہے۔ سردست ہم یہ بتادینا چاہتے ہیں کہ نانوتوی صاحب نے آیۃ مبارکہ و خاتم النبیین میں تاخر زمانی کی نفی کرکے بنائے خاتمیت اور بات کو ٹھہرایا ہے جس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ


موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر ختم ہوجاتا ہے
موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر ختم ہوجاتا ہے۔ جس سے تاخر زمانی اور جھوٹے مدعیانِ نبوت کا سدِّباب لازم آ جاتا ہے۔ اھ بلفظہٖ
یعنی حضور ﷺ موصوف بوصف نبوۃ بالذات ہیں اور حضور کے علاوہ تمام انبیاء موصوف بالعرض ہیں اور اگر حضور کے بعد کوئی نبی پیدا ہو تو وہ موصوف بالعرض ہوگا اورموصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر تمام ہوجاتا ہے اس لئے حضور کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا حضور کے لئے تاخر زمانی لازم ہوا۔
پرستارانِ تحذیر نانوتوی صاحب کی اس عبارت کو حضور ﷺ کے بعد جھوٹے مدعیانِ نبوۃ کے سد باب اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے تاخر زمانی کو نانوتوی صاحب کا عقیدہ ثابت کرنے کے لئے بڑے طمطراق کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔
اس عبارت میں نانوتوی صاحب کے عقیدہ تاخر زمانی کا دار و مدار صرف اسی بات پر ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ وصف نبوۃ کے ساتھ بالذات موصوف ہیں اور باقی جو بھی ہے وہ وصف نبوۃ کے ساتھ بالعرض موصوف ہے، موصوف بالذات پر موصوف بالعرض کا قصہ تمام ہوجاتا ہے اس لئے حضور ﷺ کے تشریف لانے کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ہے اس طرح جھوٹے مدعیانِ نبوۃ کی نبوۃ کا سدِ باب بھی ہوگا مگر اسی تحذیر الناس میں نانوتوی صاحب نے حضورﷺ کو وصفِ ایمانی کے ساتھ بھی موصوف بالذات اور مومنین کو موصوف بالعرض قرار دیا ہے۔ ملاحظہ فرمایئے تحذیر الناس میں ارقام فرماتے ہیں۔
اور یہ بات اس بات کو مستلزم ہے کہ وصف ایمانی آپ میں بالذات ہو اور مومنین میں بالعرض الخ تحذیر الناس ص ۱۲
اس عبارت کا مفاد یہ ہوا کہ جس طرح حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا کیونکہ موصوف بالذات پر موصوف بالعرض کا قصہ تمام ہوجاتا ہے بالکل اسی طرح حضور ﷺ کے بعد کوئی مومن بھی نہیں آ سکتا کیونکہ موصوف بالعرض کا قصہ تمام ہو جاتا ہے اور اگر اس کے باوجود بھی نانوتوی صاحب حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد مومنوں کا پیدا ہونا تسلیم کرتے ہیں تو لامحالہ انہیں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد نبیوں کا پیدا ہونا بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ اب آپ ہی بتائیں کہ نانوتوی کا عقیدہ تاخر زمانی اور جھوٹے مدعیان نبوۃ کے سد باب کا قول کہاں گیا؟
صرف یہی نہیں بلکہ نانوتوی صاحب نے موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر ختم کرکے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا دروازہ بھی بند کردیا کیوں کہ وہ بھی موصوف بالعرض ہیں پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ نانوتوی صاحب تحذیر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا ذِکر کس منہ سے کر رہے ہیں اگر کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا دروازہ اس لئے بند نہیں ہوا کہ وہ باوجود نبی ہونے کے شریعت محمدیہ پر عمل پیرا ہوں گے تو اس قول سے لازم آئے گا کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد بھی شریعت محمدیہ پر عمل پیرا ہونے والا نبی آسکتا ہے کیونکہ وہ بھی عیسیٰ علیہ السلام کی طرح وصف نبوۃ کے ساتھ موصوف بالعرض ہوگا۔ مختصر یہ کہ نانوتوی صاحب نے موصوف بالعرض کے قصہ کو موصوف بالذات پر ختم کرکے امت مسلمہ کے اجماعی عقیدہ کا انکار کیا ہے۔
میرے اس اعتراض کا آپ سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو حدائق بخشش سے آپ نے اعلیٰحضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک شعر لکھ دیا جس کا اعتراض سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ اعلیٰحضرت کے کلام کو سمجھنے کے لئے علم و فہم کی ضرورت ہے۔ آپ ان کے کلام کو کیا سمجھیں گے۔ آیئے ہم آپ کو بتائیں۔
سب سے پہلے تو آپ نے یہ شرمناک خیانتِ مجرمانہ کی کہ اعلیٰحضرت کی رباعی کے صرف آخری دو مصرعے نقل کردیئے اوّل کے دونوں مصرعے جن کے بغیر مفہوم مکمل نہیں ہوتا شیرِ مادر کی طرح ہضم کر گئے۔
اعلیٰحضرت قدس سرہٗ نے لفظ عبدالقادر کے محاسن میں متعدد رباعیاں ارقام فرمائی ہیں ایک رباعی کے دو شعروں میں پورے چار مصرعے حسب ذیل ہیں۔

بر وحدت او رابع عبدالقادر
یک شاہد و دو سابع عبدالقادر
انجام وے آغازِ رسالت باشد
اینک گو ہم تابع عبدالقادر

اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ علیہ سیدی عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے اسم مبارک عبدالقادر کے محاسن بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ شانِ غوثیت میں سیدی عبدالقادر رضی اللہ عنہ کی یکتائی پر لفظ عبدالقادر کا چوتھا حرف (جو الف ہے) ایک شاہد ہے اور دوسرا شاہد اسی لفظ عبدالقادر کا ساتواں حرف ہے کہ وہ بھی الف ہے چونکہ حرف الف سے یکتائی کے معنیٰ کی طرف اشارہ ہوتا ہے اس لئے لفظ عبدالقادر کے چوتھے اور ساتویں حرف الف کو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے سیدی عبدالقادر رضی اللہ عنہ کی شان یکتائی پر دو شاہد کے طور پر قرار دیا ہے۔ شہادت کا نصاب بھی دو ؍۲ ہے۔
اس کے بعد اس رباعی کے تیسرے مصرعے میں فرماتے ہیں انجام وے آغا رسالت باشد یعنی لفظ عبدالقادر کا انجام یعنی اس کا آخری حرف را ہے اس لفظِ را سے لفظ رسالت کا آغاز ہوتا ہے آخری مصرعے میں فرمایا اینک گوہم تابع عبدالقادر یعنی اے پیروی کرنے والے حضور غوث پاک کی (جب تونے اس رباعی میں لفظ عبدالقادر کے محاسن کو پالیا تو) اب اگلی رباعی بھی کہو (جس میں مزید محاسن مذکور ہیں) مختصر یہ کہ اس رباعی کے چاروں مصرعوں میں لفظ عبدالقادر کے حروف سے سیدی عبدالقادر ص کے محاسن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کمالاتِ ولایت کے اس بلند مقام پر پہنچے جس کے بعد رسالت کا آغاز ہوتا ہے۔
بتایئے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر میں میرے اس اعتراض کا کیا جواب ہوا؟
اس مقام پر یہ کہنا کہ اس عبارت میں نانوتوی صاحب مسئلہ ختم نبوۃ پر کلام نہیں فرمارہے بلکہ لفظ خاتم کے معنیٰ پر کلام فرمارہے ہیں نیز یہ کہ خاتم سے ختم زمانی مراد لینے کو مولانا نے عوام کا خیال نہیں بتلایا بلکہ ختم زمانی میں حصر کرنے کو عوام کا خیال بتلایا ہے۔ شدید قسم کا مغالطہ ہے۔ نانوتوی صاحب کی عبارت میں کہیں حصر کا ذِکر نہیں، بلکہ وہ بلا حصر ارقام فرماتے ہیں کہ عوام کے خیال میں تو رسول اللہ ﷺ کا خاتم ہونا بایں معنیٰ ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔ الخ
ہم نے ابھی اس سے قبل نہایت تفصیل سے بیان کیا ہے کہ آیت کریمہ میں لفظ خاتم صرف آخر کے معنیٰ میں ہے اور اس لفظ کے یہی معنیٰ تواتر سے ثابت ہیں اور اس معنیٰ (آخر) پر اجماع امت منعقد ہوچکا ہے۔
ایسی صورت میں نانوتوی صاحب کا اسے عوام کا خیال قرار دینا اجماعِ امت اور قرآن کے معنیٰ متواتر کا انکار نہیں تو کیا ہے؟
نانوتوی صاحب کا پہلا فقرہ اور اس کی تفصیل آپ کے سامنے ہے اس کے بعد بھی اگر آپ فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کو خائن قرار دیں گے تو یاد رکھئے آپ اخروی مواخذہ سے نہ بچ سکیں گے۔
 

ہوم پیج