اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے کوئی خیانت نہیں کی
اس بیان سے ثابت ہوا کہ اعلیٰحضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے نانوتوی صاحب کے کلام کا خلاصہ بیان فرمانے میں قطعاً کسی خیانت سے کام نہیں لیا بلکہ نانوتوی صاحب نے دین میں خیانت کی، مقام مدح میں کسی وصف کے ذِکر کیے جانے کو اس میں بالذات فضیلت کی قید لگادی اور یہ نہ سمجھا کہ بکثرت نصوص شرعیہ آیات و احادیث میں ایسے اوصاف کو مدح میں بیان فرمایا گیا ہے جن میں بالذات فضیلت نہیں بلکہ بالنسبۃ الیٰ مضافِ الیہ فضیلت ہے۔ جیسا کہ ہم ابھی قرآن و حدیث کے حوالوں سے ثابت کرچکے ہیں۔ معلوم نہیں کہ کس موڈ میں نانوتوی صاحب نے بالذات کی قید لگائی تھی جسے بعد میں مہمل سمجھ کر مکتوب کی عبارت میں خود ہی اڑا دیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ لفظ خاتم النبیین مرکب اضافی ہے اور لفظ خاتم بمعنیٰ آخر ہے کیوں کہ وہ النبیین کی طرف مضاف ہے۔ اس میں اضافت کی وجہ سے فضیلت اور اس کا مقامِ مدح میں بیان فرمانا بالکل صحیح ہے علاوہ ازیں نانوتوی صاحب نے اتنا بھی نہ سمجھا کہ تکمیل دین کا تعلق تاخرزمانی سے ہے اور تکمیل دین فضیلت عظمیٰ ہے۔ اس لئے تاخر زمانی یقینا فضیلت کا وصف ہے اور اس فضیلت کی وجہ سے مقام مدح میں اسی کا ذِکر یقینا صحیح اور درست ہے۔ رہا مستدرک منہ اور استدراک کا مسئلہ تو الحمدللّٰہ التبشیر میں نہایت تفصیل کے ساتھ ہم اس بحث میں نانوتوی صاحب کی غلط تاویلات کا رَد کرچکے ہیں جس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
تحذیر کی عبارت منقولہ بالا میں نانوتوی صاحب کا یہ کہنا کہ ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہیئے اور اس مقام کو مقام مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تاخر زمانی صحیح ہوسکتی ہے۔
یعنی آیت کریمہ
وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ میں تاخر زمانی (حضور ﷺ کے آخری نبی ہونے کے معنیٰ) اس وقت صحیح ہوسکتے ہیں جب کہ خاتم النبیین کو وصف مدح نہ کہا جائے اور اس مقام کو مقام مدح قرار نہ دیا جائے۔
اس کے ساتھ ہی نانوتوی صاحب فرماتے ہیں کہ
مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارہ نہ ہوگی کہ اس میں ایک تو خدا کی جانب نعوذ باللہ زیادہ گوئی کا وہم ہے۔ آخر اس وصف میں اور قدو قامت و شکل و رنگ، حسب و نسب اور سکونت وغیرہ اوصاف جن کو نبوت یا اور فضائل میں کچھ دخل نہیں کیا فرق ہے؟ جو اس کو ذِکر کیا اوروں کو ذِکر نہ کیا۔
میں عرض کروں گا کہ نانوتوی صاحب نے اس عبارت میں صاف اقرار کرلیا کہ جس طرح اوصاف کو فضائل میں دخل نہیں اسی طرح تاخر زمانی یعنی حضور ﷺ کے آخری نبی ہونے کے وصف کو بھی ثبوت یا اور فضائل میں کچھ دخل نہیں کیونکہ تاخر زمانی کے وصف اور اوصاف مذکورہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ہم ابھی قرآن و حدیث سے ثابت کرچکے ہیں کہ تاخر زمانی میں بالنسبۃ الی المضاف یقینا فضیلت ہے اس لئے مقام مدح میں خاتم النبیین فرمایا گیا۔


نانوتوی صاحب کی ایک اور شدید غلطی
نانوتوی صاحب نے اسی عبارت منقولہ بالا میں ایک اور شدید غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔
وہ یہ کہ حضور نبی کریم ﷺ کے قد و قامت، شکل و رنگ و حسب و نسب اور سکونت وغیرہ کو بھی فضائل سے خارج کردیا حالانکہ محدثین کرام نے حضور نبی کریم ﷺ کی نسب کے اعتبار سے ان تمام اوصافِ مقدسہ کو فضائل میں شامل کیا ہے۔
محدثین کرام نے حضور ﷺ کے ان تمام اوصافِ جمیلہ مذکورہ کو ابواب المناقب میں ذِکر فرمایا۔ ملاحظہ فرمایئے۔ بخاری شریف و مسلم شریف، جامع ترمذی، مشکوٰۃ شریف ص ۵۱۳، ج ۲، شفا قاضی عیاض، مواہب اللدنیہ ورزرقانی وغیرہ۔
یہ بات کس قدر بدیہی اور ظاہر و باہر ہے کہ یہ تمام اوصاف مذکورہ مقدسہ سب حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے محاسنِ جمیلہ فضائل و محامد ہیں وہ کونسا مسلمان ہے جو سرکارِ دو عالم ﷺ کے ان اوصاف مبارکہ کو حضور کے فضائل میں تسلیم نہ کرے خصوصاً حسب و نسب کا فضائل میں ہونا تو خود حضور ﷺ کے ارشادات سے ثابت ہے۔ ملاحظہ فرمایئے احادیث جامع ترمذی وغیرہ۔
تعجب ہے کہ نانوتوی صاحب جو تحذیر الناس میں فضیلت نبوی کو دوبالا ثابت کرنے کے مدعی ہیں ان اوصاف مقدسہ کو فضائل نبوی سے خارج قرار دے رہے ہیں جو حضور ﷺ کے کمال حسن و جمال پر دال ہیں۔ ان سب اوصاف سے تو خود ذات مقدسہ نبویہ متصف ہے امت مسلمہ کا مسلک تو یہ ہے کہ لباسِ بشریت اور نعلین مقدسین میں بھی ایسی فضیلت پائی جاتی ہے کہ مسلمان ہر قیمت پر ان کی زیارت اور ان سے برکت حاصل کرنے کے لئے اپنے دِل میں آرزو اور تمنا رکھتا ہے۔ اسی صفحہ پر خاتمیت باعتبار تاخر زمانی کی نفی پر کلام کرتے ہوئے نانوتوی صاحب ارقام فرماتے ہیں۔
 

ہوم پیج