نانوتوی صاحب کے نزدیک قرآن کے لفظ خاتم کو تاخر زمانی پر محمول کرنا غلط ہے
دراصل نانوتوی صاحب آیۃ کریمہ
وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ میں لفظ خاتم کو تاخر زمانی پر محمول کرنا غلط قرار دے رہے ہیں۔ اس کی ایک دلیل یہ بیان فرمائی کہ تقدم یا تاخر زمانی میں چونکہ بالذات کچھ فضیلت نہیں اس لئے مقام مدح میں اس کا بیان فرمانا صحیح نہیں ہوسکتا۔ میں عرض کروں گا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کسی فضیلت کا نہ ہونا کیا اس بات کو مستلزم ہے کہ مقام مدح میں اس کا بیان کرنا صحیح نہ ہو۔
بے شمار حدیثوں میں تقدم و تاخر زمانی مقام مدح اور فضیلت میں وارد ہے مثلاً
انا اولہم خلقا وآخرہم بعثا ایک حدیث میں وارد ہے۔ انا اول شافع وانا اول مشفع۔ ایک حدیث میں ہے انا اول من یقرع باب الجنۃ یہ تمام احادیث مقام مدح میں وارد ہیں حالانکہ یہاں بھی تقدم یا تاخر میں بالذات فضیلت نہیں۔ بلکہ بالنسبۃ الی مضاف الیہم فضیلت ہے۔ اسی طرح خاتم النبیین میں بھی بالنسبۃ الی مضاف الیہم موجود ہے جس کی بناء پر خاتم النبیین کا ذِکر مقام مدح میں بالکل صحیح ہے۔ ہاں جو وصف ایسا ہو کہ اس میں نہ بالذات فضیلت ہو نہ بالنسبۃ الی مضاف الیہ اور وہ وصف اصلاً فضیلت سے خالی ہو تو بیشک اسے مقام مدح میں بیان کرنا صحیح نہ ہوگا۔ جب نانوتوی صاحب کے نزدیک مقام مدح میں خاتم النبیین کا بیان صحیح نہیں تو معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک اس وصف میں اصلاً کسی قسم کی فضیلت نہیں۔ اسی لئے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے حسام الحرمین میں نانوتوی صاحب کی اس عبارت کا صحیح خلاصہ بیان فرمادیا کہ نانوتوی صاحب کے نزدیک ختم زمانی میں اصلاً کوئی فضیلت نہیں۔ تحذیر الناس کی اس عبارت میں اس مقام پر بالذات کا لفظ قطعاً بے معنیٰ اور مہمل ہے کیونکہ مقام مدح میں کسی وصف کو بیان کرنے کے لئے اس میں فضیلت بالذات کا ہونا ہر گز شرط نہیں۔ قرآن و حدیث میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی نبوۃ و رسالت کا بیان ان کی مدح میں وارد ہوا ہے حالانکہ نانوتوی صاحب کے نزدیک ان میں سے کسی کی نبوت و رسالت بھی بالذات نہیں۔
عبارت تحذیر میں لفظ بالذات خود نانوتوی صاحب کے نزدیک بھی بے معنیٰ ہے۔
ہم بارہا بتا چکے ہیں کہ مقام مدح میں بیان کرنے کے لئے کسی وصف میں بالذات فضیلت ہونا ضروری نہیں۔
اس لئے لفظ بالذات اس عبارت میں مہمل ہے۔ نانوتوی صاحب نے اس عبارت میں کچھ فضیلت نہیں کہہ کر اصلاً فضیلت کا انکار کردیا ورنہ لفظ کچھ نہ لکھتے۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لفظ بالذات کو اس کے مہمل ہونے کی وجہ سے ترجمہ میں چھوڑ دیا اور لفظ کچھ کامفہوم اصلاً کہہ کر بیان فرمادیا۔ اب سوچئے کہ اعلیٰ حضرت نے یہاں کونسی خیانت کی؟ خود نانوتوی صاحب کے نزدیک بھی یہاں لفظ بالذات بے معنیٰ تھا۔ اس لئے انہو ںنے تحذیر الناس کی اس عبارت کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے لفظ بالذات کو چھوڑ دیا ہے۔
دیکھئے مکتوبات قاسم المعروف قاسم العلوم معہ اردو ترجمہ انوارالنجوم ص ۵۵ طبع لاہور(مکتوب اول بنام مولوی محمد فاضل)
معنیٰ خاتم النبیین در نظر ظاہر پرستاں ہمیں باشد کہ زمانہ نبوی آخر است از زمانہ گذشتہ و باز نبی دیگر نخواہد آمد مگر میدانی کہ ایں سخنیست کہ مدحی است دراں نہ ذمی ا ھ (قاسم العلوم ص ۵۵)
(ترجمہ) خاتم النبیین کا معنیٰ سطحی نظر والوں کے نزدیک تو یہی ہے ہیں کہ زمانہ نبوی ﷺ گزشتہ انبیاء کے زمانے سے آخر کار ہے اور اب کوئی نبی نہیں آئے گا مگر آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس میں خاتم النبیین ا کی نہ تو کوئی تعریف ہے اور نہ کوئی برائی۔ ۱ھ (انوارالنجوم ترجمہ قاسم العلوم ص ۵۵)
اس عبارت میں نانوتوی صاحب نے فضیلت بالذات کا ذِکر نہیں کیا صرف اتنا کہہ کر کلام ختم کردیا کہ
مدحی است دراں نہ ذمی معلوم ہوا کہ لفظ بالذات کا مہمل ہونا نانوتوی صاحب کو بھی مسلّم ہے اگر اسی کا نام خیانت ہے تو نانوتوی صاحب نے بھی تحذیر کی عبارت کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے خیانت کا ارتکاب کیا۔ فما جوابکم فہو جوابنا

ہوم پیج