تمام صحابہ اور سلف صالحین نے خاتم النبیین کے معنیٰ آخری نبی سمجھے:
نبی کریمﷺ نے یہی معنیٰ صحابہ کرام کو تعلیم فرمائے اور صحابہ نے تابعین کرام کو علیٰ ہذا القیاس تمام حدثین، مفسرین، ائمۂ مجتہدین کل علماء راسخین نے خاتم النبیین کے معنیٰ صرف آخر النبیین سمجھے اور اسی پر ایمان لے آئے اگر کوئی شخض یہ ثابت کردے کہ صحابہ یا تابعین یا ائمۂ مجتہدین میں سے کسی نے خاتم النبیین کے معنیٰ آخرالنبیین کے علاوہ بیان کئے ہیں تو ہم اپنی غلطی تسلیم کرکے صاحب تحذیر کی بات صحیح مان لیں گے لیکن کوئی شخص یہ ثابت نہیں کرسکتا۔ معلوم ہوا کہ خاتم النبیین کے معنیٰ صرف آخر النبیین ہیں اور قرآن کے یہ معنیٰ متواتر ہیں۔ قرآن مجید کے معنیٰ متواتر کو عوام اور کم فہم لوگوں کا خیال قرار دینا قرآنِ مجید کے معنیٰ متواتر کا انکار ہے اور جو حکم الفاظ قرآن کے منکر کا ہے وہی حکم قرآن پاک کے معنیٰ متواتر کے منکر کا ہے۔ صاحب تحذیر نے اس عبارت منقولہ بالا میں رسول اللہﷺ سے لیکر تمام صحابہ تابعین اور ائمہ مجتہدین بلکہ کل امت محمدیہ کو معاذ اللہ عوام اور کم فہم قرار دے دیا کیوں کہ حضور نبی کریمﷺ سے لیکر آج تک ساری امت کا عقیدہ یہی ہے کہ خاتم النبیین کا معنی آخر النبیین ہیں۔ یاد رکھئے بناء خاتمیت صرف ختم زمانی پر ہے اور آیت کریمہ
وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ میں خاتم کے معنیٰ صرف آخری نبی ہیں۔ لفظ خاتم النبیین کے ظاہری معنیٰ آخر النبیین کے سوا کچھ نہیں۔ ساری امت کا اس پر اجماع ہے کہ آیت مبارکہ میں صرف ختم زمانی مراد ہے۔ اس میں کسی قسم کی تاویل اجماع امت کے قطعاً خلاف ہے۔ دیکھئے، آپ کے مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی شفاء قاضی عیاض کی عبارت کا ترجمہ کرتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں۔
قرآنِ کریم کے لفظ خاتم النبیین کے معنیٰ صرف آخر النبیین قطعی اجماعی ہیں
لانہ اخبر ا انہ خاتم النبیین لا نبی بعدہٗ واخبر عن اللّٰہ تعالٰی انہ خاتم النبیین واجتمعت الامۃ علی حمل ہذا الکلام علٰی ظاہرہ وان مفہومہ المرادبہ دون تاویل ولا تخصیص فلاشک فی کفر ہٰؤلاء الطوائف کلہا قطعا اجماعا وسمعا (شفاء قاضی عیاض ص ۲۸۵ ج ۲ مطبوعہ بیروت)
ترجمہ: اس لئے کہ نبی کریمﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبری دی ہے کہ آپ ﷺ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور اسی پر امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام بالکل اپنے ظاہری معنوں میں محمول ہے اور جو اس کا مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے وہی بغیر کسی تاویل یا تخصیص کے مراد ہیں۔ پس ان لوگوں کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہے جو اس کا انکار کریں اور یہ قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔(ختم النبوۃ فی الآثار ص ۹ـ۔۱۰)
اور اس پر امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام بالکل اپنے ظاہری معنیٰ پر محمول ہے۔
اورجو اس کا مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے وہی بغیر کسی تاویل وتخصیص کے مراد ہے۔ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے اس مضمون پر اجماعِ امت نقل کیا ہے کہ آیۃ کریمہ
وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ کے معنیٰ آخر النبیین بالکل اپنے ظاہری معنیٰ پر محمول ہے اور لفظ خاتم کے ظاہری معنیٰ فقط آخر کے ہیں اور وہی بغیر کسی تاویل کے مراد ہیں۔ ثابت ہوا کہ خاتم النبیین کے معنیٰ آخرالنبیین پر امت کا اجماع ہے اور یہاں وہی معنیٰ بلا تاویل و تخصیص مراد ہیں۔ اب غور فرمایئے کہ جس معنیٰ پر اجماع امت ہو اسے عوام کا خیال قرار دینا کتنی بڑی جرأت ہے۔ یہاں لفظ وہی کلمہ حصر کا ہے حصر میں ماسوائے مذکور کی نفی ہوتی ہے لہٰذا خاتم النبیین کے معنیٰ آخری نبی ہوئے اس کے علاوہ یہاں خاتم مرتبی وغیرہ کی قطعاً نفی ہوگئی۔ اس مقام پر بعض پرستارانِ تحذیر کا یہ کہنا کہ قاضی عیاض کے کلام میں یہ حصر اضافی ہے اور بالنسبۃ الیٰ تاویل الملاحدہ کلمہ حصر بولا گیا ہے قطعاً غلط اور ناقابل قبول ہے۔ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ اس کلمۂ حصر کو اجماع امت کے ضمن میں نقل کر رہے ہیں خود اُن کے کلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے آیۃ کریمہ
وخاتم النبیین کے جو معنیٰ اجماع اُمت سے نقل کئے ہیں کہ یہ کلام بالکل اپنے ظاہری معنیٰ پر محمول ہے اجماع اُمت کے اس قطعی معنیٰ کے بعد حصر اضافی کی بنیاد ہی باقی نہیں رہتی۔ وللّٰہ الحمد
عبارت منقولہ بالا میں نانوتوی صاحب نے فرمایا
مگر اہل فہم پر روشن ہے کہ تقدم یا تاخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔ پھر مقام مدح میں
وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔
 

ہوم پیج