تحذیر کا پہلا جملہ مع سیاق و سباق:
(۱) بعد حمد و صلوٰۃ کے قبل عرض جواب یہ گزارش ہے کہ اول معنیٰ خاتم النبیین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ دقت نہ ہو۔ سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ ا کا خاتم ہونا بایں معنیٰ ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں
وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔ ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہیے اور اس مقام کو مقام مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تاخرزمانی صحیح ہوسکتی ہے مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہیں ہوگی کہ اس پر ایک تو خدا کی جانب نعوذ باللہ زیادہ گوئی کا وہم ہے۔ آخر اس وصف میں اور قدو قامت و شکل و رنگ و حسب و نسب و سکونت وغیرہ اوصاف میں جن کو نبوۃ یا اور فضائل میں کچھ دخل نہیں کیا فرق ہے جو اس کو ذِکر کیا اوروں کو ذِکر نہ کیا۔ اھ (تحذیر الناس ص ۲۔۳)
صاحب تحذیر نے اس عبارت میں عوام کا تقابل اہم فہم سے کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ نانوتوی صاحب کے نزدیک خاتم النبیین کے معنیٰ آخری نبی سمجھنے والے عوام اہل فہم نہیں۔ اب دیکھئے کہ


خاتم النبیین کے معنیٰ آخری نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں:
خاتم النبیین کے معنیٰ آخری نبی خود اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تعلیم فرمائے۔ دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ قرآن مجید کے وہی معنیٰ بیان فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو تعلیم فرمائے۔ دنیا میں کوئی شخص ہے جو یہ بات ثابت کردے کہ نبی کریم ﷺ نے خاتم النبیین کے معنیٰ آخر النبیین کے علاوہ بیان فرمائے ہوں بلکہ اس کے بغیر اس مضمون کی تمام احادیث میں خاتم النبیین کے معنیٰ آخر النبیین ہی وارد ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ میں خاتم النبیین ہوں یعنی آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

 

ہوم پیج