جزئی حقیقی کا تعدد:
اس مقام پر یہ شبہ کہ جزئی حقیقی کا تعدد محال ہے درست نہیں، کیونکہ یہ تعدد نہیں بلکہ قید مکان سے آزاد ہونا ہے جو ممکن اور تحت قدرت ہے اسے محال کہنا ہر گز درست نہیں۔
آیت کریمہ
اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ کا ظاہری مفہوم
علاوہ ازیں آیت کریمہ
اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَہُنَّ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے اور ان کی مثل سات زمینیں پیدا کیں ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کا امر نازل ہوتا ہے۔
اثر عبد اللہ بن عباس کو اس آیت کریمہ کی تفسیر قرار دینا غلط ہے
اثر عبداللہ بن عباس (جس کی صحت میں محدثین کا اختلاف ہے) کو اس آیت مبارکہ کی تفسیر قرار دینا خود حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کی روشنی میں باطل محض ہے۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے قول
(سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ) کی تفسیر دریافت کی تو حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا مایؤمنک ان اخبرتک بہا فتکفر تفسیر ابن کثیر جلد رابع ص ۳۸۵ یعنی اگر میں تجھے اس آیت کے معنیٰ بتادوں تو مجھے خوف ہے کہ تو اس آیت کا انکار کرکے کافر ہوجائے۔
اس صفحہ پر علامہ ابن کثیر نے مجاہد کی ایک روایت نقل کی کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا
لو حدثتکم بتفسیرہا لکفرتم وکفرکم تکذیبکم بہا انتہٰی
یعنی اگر میں اس آیت
(وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ الآیۃ) کی تفسیر تمہیں بتاؤں تو تم ضرور کفر کرو گے اور وہ کفر یہ ہوگا کہ تم اس آیت کی تکذیب کرو گے۔
ثابت ہوا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تفسیر ہی نہیں کی ورنہ لازم آئے گا کہ انہو ں نے لوگوں کو کفر کرنے اور اس آیت کی تکذیب کی دعوت دی۔ العیاذ باللّٰہ
اگر کہا جائے کہ اثر مذکور کو روایت کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کہ
عن ابن عباس فی ہذہ الایۃ تو یاد رکھئے کہ یہ قول راوی کا ہے ا س نے اپنی فہم کے مطابق فی ہذہ الآیۃ کہہ دیا۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہرگز نہیں کہا کہ یہ میرا کلام [جسے ہم اثر عبداللہ بن عباس سے تعبیر کرتے ہیں] آیۃ کریمہ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ کی تفسیر ہے کیوں کہ وہ بار بار فرماچکے ہیں کہ اگر میں آیت کی تفسیر تمہارے لئے بیان کروں تو تم اس آیت کی تکذیب کرکے کافر ہو جاؤ گے۔ پھر کیونکر ہوسکتا ہے وہ اپنے اس اثر میں آیت مذکورہ کی تفسیر بیان کرکے مسلمانوں کے لئے کفر کرنے کا موقع فراہم کریں۔


تفسیر آیت میں خوفِ کفر کی وجہ:
رہا یہ امر کہ اس آیت کی تفسیر سن کر لوگوں کے کفر اور آیت کی تکذیب کے خوف کی وجہ کیا ہے؟ تو اس کی وضاحت علامہ سید محمود الوسی نے اسی آیت کے تحت تفسیر روح المعانی میں کی ہے وہ فرماتے ہیں۔
وقد یلتزم الابقاء علی الظاہر وتفویض الامر الٰی قدرۃ اللّٰہ تعالٰی التی لا یتماساہا شئ رعایۃ لاذہان العوام المقیدین بالظواہر الذین یعدون الخروج عنہا لاسیما الی مایوافق الحکمۃ الجدیدۃ ضلالاً محضاً وکفرا صرفا ورحم اللّٰہ تعالٰی امرأًجب الغیبۃ عن نفسہ وقد اخرج عبد بن حمید و ابن الضریس وابن حمید من طریق مجاہد عن ابن عباس فی ہٰذہ الآیۃ قال لوحد ثتکم بتفسیرہا لکفرتم بتکذیبکم بہا ا ھ بلفظہٖ (روح المعانی پ ۲۸ ص ۱۲۸)
علامہ الوسی کے بیان سے واضح ہوگیا کہ اس آیت کے معانی میں قدرتِ الٰہیہ کے ایسے اسرار دقیقہ تھے جن تک لوگوں کے ذہن کی رسائی نہ تھی کیوں کہ جو لوگ ظواہر سے مانوس ہیں اگر ان کے سامنے ایسے اسرار دقیقہ بیان کردیئے جائیں جو ان کی سمجھ سے بالاتر ہوں تو ہوسکتا ہے کہ لوگ اسے ضلالت اور کفر سمجھ کر اس کا انکار کردیں اور اس طرح خود قرآن کی تکذیب کی وجہ سے کفر میں مبتلاہوجائیں اسی لئے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمادیا کہ اگر میں تمہارے سامنے اس آیۃ کی تفسیر کروں تو تم آیت کی تکذیب کرکے کفر میں مبتلا ہوجاؤ گے۔


صاحب روح المعانی جناب نانوتوی صاحب کے ہمنوا نہیں:
صاحب روح المعانی کے متعلق آپ کو مغالطہ ہوا ہے آپ نے علامہ الوسی کو نانوتوی صاحب کا ہمنوا سمجھ لیا ہے۔ علامہ الوسی کا یہ کہنا کہ لا مانع عقلا و لاشرعا من صحتہ نانوتوی صاحب کے ردِ بلیغ پر مبنی ہے۔ علامہ موصوف روح المعانی میں اثر مذکور کے بارے میں فرماتے ہیں۔
واقول لا مانع عقلا و لاشرعا من صحتہ والمراد ان فی کل ارض خلقا یرجعون الی اصل واحد رجوع بنی آدم فی ارضنا الٰی آدم علیہ السلام وفیہ افراد ممتازون علی سائرہم کنوح وابراہیم وغیرہما ۱ ھ (روح المعانی پ ۲۸ ص ۱۲۵)
دیکھئے علامہ موصوف بقیہ چھ زمینوں میں نانوتوی صاحب کی طرح انبیاء کا وجود تسلیم نہیں کرتے بلکہ ممتاز افراد کا وجود مانتے ہیں جو (نبوۃ میں نہیں بلکہ) ممتاز ہونے میں نوح و ابراہیم وغیرہما (علیہم الصلوٰۃ والسلام) کی مانند ہیں۔ نانوتوی صاحب تحذیر الناس میں علامہ الوسی کی اس تاویل کا انکار کرچکے ہیں اس کے باوجود آپ کا یہ سمجھنا کہ صاحب روح المعانی بھی نانوتوی صاحب کے ہمنوا ہیں قطعاً باطل و مردود ہے۔ علامہ ابن کثیر نے تفسیر ابن کثیر میں اثر مذکور نقل کیا ہے۔اس کی تائید نہیں کی بلکہ البدایہ والنہایہ میں برتقدیر صحت اسے از قبیل اسرائیلیات قرار دیا جیسا کہ ہم اس سے قبل حوالہ دے چکے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کس منہ سے آپ ان حضرات کو نانوتوی صاحب کا مؤید کہہ رہے ہیں۔ اس کے بعد آپ کی یہ غلط فہمی بھی دور کردوں کہ
یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَہُنَّ میں وحی نبوۃ مراد نہیں بلکہ امور تکوینیہ سے متعلق اللہ تعالیٰ کے احکام اور قضاء و قدر کا جاری ہونا مراد ہے۔ دیکھئے علامہ الوسی فرماتے ہیں۔
(یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَہُنَّ) ای یجری امر اللّٰہ تعالٰی وقضاء ہ وقدرہٗ عزوجل بینہن وینفذ ملکہ فیہن  (روح المعانی پ ۲۸ ص ۱۲۸)
اب نانوتوی صاحب کی طرف آیئے اور دیکھئے کہ انہوں نے اسی اثر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی تاویل کرتے ہوئے تحذیر الناس میں کیا گل فشانی فرمائی ہے جس پر اعلیٰ حضرت نے مواخذات فرمائے۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حسام الحرمین میں تحذیر کے جن تین جملوں پر مواخذہ فرمایا ہے ہم ان تینوں جملوں کو ترتیب وارسیاق و سباق کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔
 

ہوم پیج