تحذیر الناس میں اثر ابن عباس کی تاویل باطل محض ہے۔
اگر بفرض محال ہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ واقعی اس روایت کا حکماً مرفوع ہونا ثابت ہے تو اس کی یہ تاویل کہ چھ خاتم چھ زمینوں میں پائے جاتے ہیں باطل محض ہے اس کی صحیح تاویل وہی ہے جسے ہم فیض الباری سے التبشیرمیں نقل کرچکے ہیں۔ دیکھئے فیض الباری میں انور شاہ صاحب کشمیری اس اثر عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے تحت فرماتے ہیں۔
وقد ثبت عند الشرع وجود ات للشئ قبل وجودہٖ فی ہذا العالم وحینئذ یمکن لک ان تلتزم کون الشیٔ الواحد فی عوالم مختلفۃ بدون محذورفیض الباری جلد ۳ ص ۲۳۴
یعنی شرع سے ثابت ہے کہ اس عالم میں آنے سے پہلے عوالم مختلفہ میں ایک شیٔ کے متعدد وجود ہیں جو ان عوالم مختلفہ میں پائے جاتے ہیں ایسی صورت میں ممکن ہے کہ ایک ہی نبی کو مختلف جہانوں میں بغیر کسی محذور کے تسلیم کرلیا جائے۔


برتقدیر تسلیم اثر مذکور کی صحیح تاویل:
یعنی برتقدیر تسلیم اثر مذکور کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ تمہارے آدم و موسیٰ اور عیسیٰ اور ابراہیم اور محمد علیہم الصلوٰۃ والسلام ہی ان کے آدم و موسیٰ و عیسیٰ و ابراہیم و محمد علیہم الصلوٰۃ والسلام ہی ہیں۔
اس صورت میں کاف تشبیہ زائدہ ہوگا جیسے
لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌَ میں بعض نحاۃ نے کاف کو زائدہ قرار دیا ہے۔
 

ہوم پیج