اعلیٰ حضرت پر الزام:

اس کے بعد آگے چل کر اسی صفحہ پر آپ نے اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ پر الزام لگایا ہے کہ انہو ں نے تحذیر الناس کی عبارات کا غلط ترجمہ کیا ہے اور لفظی اور معنوی تحریف کرکے خیانت اور بددیانتی سے کام لیا ہے۔


الزام کا جواب:
جواباً عرض ہے کہ تحذیر الناس کی تین عبارتوں میں جو قطعاً غیر اسلامی عقیدے بیان کئے گئے ہیں ان پر جب اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مواخذہ فرمایا اور پرستارانِ تحذیر سے اس کا کوئی جواب نہ بن پڑا تو اعلیٰحضرت پر (تحریف) بد دیانتی او رخیانت کے الزامات لگائے۔ تحذیر کے ان تینوں فقروں میں کفری مضمون تو تحذیر کے ماننے والے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ مگر اس کفری مضمون کا الزام اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ پر لگانا اور تحریف لفظی و معنوی اور خیانت و بددیانتی کو اُن کی طرف منسوب کرنا بہتان اور افتراء عظیم ہے۔


تحذیر کے تینوں فقرے مکمل ہیں
اول تو یہ کہ وہ تینوں فقرے مکمل ہیں بالفرض نامکمل بھی ہوں تو اُن کے سیاق و سباق کے ساتھ انہیں پڑھا جائے تب بھی وہی معنیٰ نکلتے ہیں جو اعلیٰ حضرت نے بیان فرمائے ہیں۔ انشاء اللہ عنقریب سیاق و سباق کے ساتھ ان تینوں فقروں کو ہم نقل کریں گے۔ ہر منصف مزاج پر واضح ہوجائے گا کہ اعلیٰ حضرت نے ان کا مفہوم صحیح بیان فرمایا ہے۔ رہا یہ اعتراض کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحذیر کے تینوں فقروں کو تقدیم و تاخیر کے ساتھ نقل کیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ

 
تینوں فقروں کی تقدیم و تاخیر کا جواب:

اہل علم مصنفین کی عادت ہے کہ بعض اوقات مضمون کی وضاحت کے لئے تقدیم و تاخیر کے ساتھ مسلسل جملے نقل کردیتے ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری کے متعدد مقامات پر ایسا ہی کیا ہے۔ مثال کے طور پر ایمان کی کمی بیشی ثابت کرنے کے لئے انہوں نے ناتمام آیاتِ قرآنیہ کو متفرق مقامات سے خلاف ترتیب مسلسل نقل فرمایا ہے۔ دیکھئے بخاری شریف جلد اوّل ص ۷ مطبوعہ دارالفکر بیروت کتاب الایمان: باب قول النبی ﷺ بنی الاسلام علیٰ خمس میں فرماتے ہیں
قال اللّٰہ تعالیٰ لِیَزْ دَادُوْا اِیْمَاناً مَّعَ اِیْمَانِہِمْ وَزِدْنَاہُمْ ہُدًی: وَیَزِیْدُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اہْتَدَوْا ہُدًی غور کیجئے یہ تمام آیات مسلسل بغیر کسی علامتِ فصل کے نقل کی گئی ہیں۔ جس سے بعض لوگوں کو یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ یہ ایک ہی آیتِ قرآنی ہے اور حقیقت میں یہ ایک آیت نہیں۔ بلکہ تین آیات کے حصے ہیں اور وہ بھی متفرق مقامات سے چنانچہ پہلی آیت کا ٹکڑا نمبر ۱ لِیَزْدَادُوْا اِیْمَاناً مَّعَ اِیْمَانِہِمْ قرآنِ کریم کے چھبیسویں پارے میں سورہ فتح کی چوتھی آیت کا حصہ ہے نمبر ۲: وَزِدْنَاہُمْ ہُدًی دوسری آیت کا حصہ ہے جو پندرہویں پارے کی سورۃ کہف کی آیت نمبر ۱۴ سے لیا گیا ہے اور اس کے بعد نمبر ۳: وَیَزِیْدُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اہْتَدَوْا ہُدًی تیسری آیت کا حصہ ہے جو سولہویں پارے میں سورۃ مریم کی آیت ۷۶ سے لیا گیا ہے۔ اگر یہ خیانت ہے تو امام بخاری پر بھی خیانت کا الزام لگایئے۔ (العیاذ بااللّٰہ)
 

ہوم پیج