صرف عقیدہ لکھ دینا کافی نہیں

خاتمیت زمانی اپنا عقیدہ ہے۔
ناحق تہمت کا کچھ علاج نہیں ۱ھ بلفظہٖ
جواباً عرض ہے کہ مناظرہ عجیبیہ میرے پیشِ نظر نہیں، ہوسکتا ہے کہ آپ نے حسب سابق یہاں بھی خیانت سے کام لیا ہو اور برتقدیر تسلیم آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ محض قلم سے لکھ دینے سے کسی کا کوئی اسلامی عقیدہ ثابت نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے خلاف اپنے لکھے ہوئے غیر اسلامی عقیدے سے توبہ نہ کرلے۔ دیکھئے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا اور حضورﷺ کے آخری نبی ہونے کا اقر ار بھی اپنی تحریروں میں کیا۔ لیکن چونکہ وہ اپنے دعویٰ نبوت سے تائب نہیں ہوا، اس لئے اس کی تحریروں میں حضورﷺ کے آخر النبیین ہونے کا اقرار اسے کچھ فائدہ نہ پہنچا سکا۔
اس ختم نبوت کے مسئلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کا بیان ملاحظہ فرمایئے۔


مرزا قادیانی کا ختم نبوۃ کے عقیدہ کا اقرار اور اس کا انکار:
دیکھئے مرزا غلام احمد قادیانی نے حضورﷺ کے آخری نبی ہونے کا اقرار بھی اپنی تحریروں میں کیا لیکن اس کے باوجود اس نے خود دعویٰ نبوۃ کرکے حضورﷺ کے آخری نبی ہونے کا انکار کردیا۔
مرزائیوں کا لاہوری فرقہ مرزا کو کفر سے بچانے کے لئے ا س کی ان تحریروں کو پیش کرتا ہے جن میں اس نے ختمِ نبوۃ کا اقرار کیا اور حضورﷺ کے بعد مدعی نبوۃ کو کاذب اور کافر قرار دیا اور اپنا یہ عقیدہ لکھا کہ
میں ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوۃ اور رسالت کو کاذب اور کافر مانتا ہوں۔
آیئے مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریر میں ملاحظہ فرمایئے۔
۱۔ اس عاجز نے سنا ہے کہ اس شہر (دہلی) کے بعض اکابر علماء میری نسبت یہ الزام مشہور کرتے ہیں کہ یہ شخص نبوۃ کا مدعی ہے۔ ملائک کا منکر، بہشت و دوزخ کا انکاری اور ایسا ہی وجودِ جبرائیل اور لیلۃ القدر اور معراج نبوی سے بالکل منکر ہے۔
لہٰذا میں اظہاراً للحق عام و خاص اور تمام بزرگوں کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افتراء ہے۔ میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر بلکہ میں ان تمام امور کاقائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں۔
اور جیسا کہ اہلسنّت و جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن و حدیث کی رُو سے مسلّم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعیٔ نبوۃ اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحیٔ رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہﷺ پر ختم ہوگئی۔ اس میری تحریر پر ہر شخص گواہ رہے اور خداوند علیم و سمیع اول الشاہدین ہے کہ میں ان تمام عقائد کو مانتا ہوں جن کے ماننے کے بعد ایک کافر بھی مسلمان تسلیم کیا جاتا ہے اور جن پر ایمان لانے سے ایک غیر مذہب کا آدمی بھی معاً مسلمان کہلانے لگتا ہے۔ ۱ ھ (اعلان موخہ ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ ؁ء (منقول از کتاب مجدد اعظم)
۲۔ مرزا صاحب کی دوسری عبارت ملاحظہ فرمایئے۔
کیوں کہ حسب تصریح قرآن کریم: رسول اس کو کہتے ہیں جس نے احکام و عقائد ِ دین جبرائیل کے ذریعہ حاصل کئے ہوں۔ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو سال سے مہر لگ چکی ہے کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی؟ ۱ھ (ازالۃ الاوہام صفحہ ۵۲۳ منقول از مجدد اعظم صفحہ ۲۸۳)
۳۔ مرزا قادیانی کی تیسری عبارت ملاحظہ فرمایئے۔
میں سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعیٔ نبوۃ اور رسالت کو کافر جانتا ہوں۔ ۱ ھ (اشتہار ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء (منقول از مجدد اعظم ص ۲۸۵)
۴۔ مرزا صاحب کی چوتھی عبارت ملاحظہ فرمایئے۔
جو شخص ختم نبوۃ کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ تقریر واجب الاعلام بمقام دہلی
۵۔ مرزا صاحب کی پانچویں عبارت ملاحظہ فرمایئے۔
مجھے کب جائز ہے کہ نبوۃ کا دعویٰ کرکے اسلام سے خارج ہوجاؤں اور کافروں کی جماعت سے جا ملوں۔ ا ھ (حمامۃ البشریٰ ص ۷۹ (منقول از مجدد اعظم ص ۲۸۵)
اس مسئلہ ختم نبوت میں مرزا قادیانی کا ایک شعر ملاحظہ ہو

ہست او خیر الرسل خیر الانام
نبوت را بر و شد اختتام

(منقول از کتاب مجدد اعظم ص ۴۵۹)

ان عبارات کے علاوہ بکثرت عبارات مرزا غلام احمد قادیانی کی ایسی ہیں جن میں اس نے صاف اور واضح طور پر ختم نبوت کا عقیدہ ظاہر کیا ہے اور نبی کریم ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کاذب اور کافر کہا ہے۔
کیا آپ ان عبارات کی بناء پر مرزا کو ختمِ نبوت کا قائل اور معتقد و مقر مان لیں گے؟ جب کہ دوسرے مقامات پر اس کا دعویٰ نبوۃ اور ختم نبوت کا انکار موجود ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ مرزا قادیانی نے ختم نبوۃ کے عقیدے سے انکار اور اپنے دعویٰ نبوت سے توبہ نہیں کی۔
لہٰذا اس کی یہ تمام عبارات ناقابلِ قبول ہیں جن میں وہ ختم نبوۃ کا اقرار اور حضورﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کاذب و کافر قرار دیتا ہے۔ بنا بریں آپ نانوتوی صاحب کی لاکھ عبارتیں بھی ایسی دکھائیں جن میں ختمِ زمانی کو اپنا عقیدہ قرار دیتے ہیں سب ناقابل قبول ہیں۔ جب تک کہ آپ اُن کی اُن عبارات سے توبہ ثابت نہ کریں جن میں انہوں نے ختم زمانی سے انکار کیا ہے جس کی تفصیل التبشیر میں عرض کرچکا ہوں اور انشاء اللہ آگے چل کر بھی اس پر مزید روشنی ڈالوں گا۔
 

ہوم پیج