نانوتوی صاحب کا اعتقاد ختمِ زمانی اور اس کی حقیقت:

آپ نے اپنے مضمون کے صفحہ نمبر۱ پر فرمایا نانوتوی صاحب خاتمیت بمعنیٰ آخر النبیین کے بالکل معتقد ومقرہیں چنانچہ اِسی تحذیر الناس کے صفحہ نمبر ۱۱ میں وہ ختم نبوت کے انکار کنندہ کو بایں الفاظ کافر قرار دیتے ہیں کہ سو جس طرح تعداد رکعت کا منکر کافر ہے ایسا ہی ختم نبوت کا منکر بھی کافر ہے۔ ۱ ھ بلفظہ (تحذیر)
جواباً عرض ہے کہ آپ نے تحذیر سے نانوتوی صاحب کی عبارت نقل کرنے میں ایسی بدترین خیانت کی ہے کہ جو کسی مسلمان کے نزدیک قابلِ معافی نہیں۔
تحذیر کی اصل عبارت یہ ہے۔
سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر اعدادِ رکعات فرائض و وتر وغیرہ باوجودیکہ الفاظ احادیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں ۔ جیسا اس کا منکر کافر ہے ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہوگا۔(بلفظہٖ (تحذیر) صفحہ ۹)


نانوتوی صاحب کے نزدیک رکعات وتر بھی متواتر ہیں
نانوتوی صاحب نے اس عبارت میں اعدادِ رکعات فرائض کے تواتر میں وتر کو بھی شامل کرلیا ہے جیسا کہ خط کشیدہ عبارت سے واضح ہے لیکن آپ نے اس حصہ کو شیرِ مادر کی طرح ہضم کرکے اشد ترین خیانتِ مجرمانہ کا ارتکاب کیا ہے ہر مسلمان جانتا ہے کہ اعداد رکعات فرائض کا منکر اسی لئے کافر ہے کہ یہ اعداد تواتر سے ثابت ہیں اور تواترِ شرعی کا منکر کافر ہوتا ہے۔ جب نانوتوی صاحب نے اس تواتر میں وتر کو بھی شامل کرلیا ہے تو نانوتوی صاحب کے نزدیک وتر کی تعدادِ رکعات کا منکر بھی کافر قرار پائے گا اور کافر بھی ایسا جیسا کہ ختم نبوت کا منکر کافر ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان جانتا ہے کہ فرائض کی طرح وتر تواتر میں شامل نہیں۔ آج تک فرضوں کی رکعتوں میں اختلاف نہیں پایا گیا کسی مسلمان نے یہ نہیں کہا کہ مثلاً ظہر کے تین فرض جائز ہیں یا مغرب کے فرضوں کی دو رکعتیں پڑھ لی جائیں تو نماز ہوجائے گی۔ بخلاف وتر کے کہ سلف صالحین سے لیکر آج تک وتر کی رکعتوں میں اختلاف چلا آرہا ہے۔
دیکھئے بخاری شریف میں ہے۔
قال القاسم ر أینا انا سامنذا درکنا یوترون بثلاث وان کلا لواسع وارجو ان لا یکون بشئ منہ بأس انتہیٰ بخاری شریف جلد اوّل ص ۱۳۵


تعداد رکعات وتر میں اختلاف امت
یعنی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں۔ ہم نے جب سے لوگوں کو پایا انہیں تین رکعات وتر پڑھتے دیکھا اور گنجائش سب میں ہے۔ مجھے امید ہے کہ کسی شیٔ میں کچھ مضائقہ نہ ہو۔
حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں اس کے تحت فرماتے ہیں
قال الکرمانی قولہ (ای قاسم بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ) ان کلا ای وان کل واحدۃ من الرکعۃ او الثلاث والخمس والسبع وغیرہا جائز انتہیٰ (فتح الباری ص ۳۸۹، ج ۲)
یعنی علامہ کرمانی نے فرمایا کہ حضرت قاسم بن محمد کے قول ان کلا کے معنیٰ یہ ہیں کہ وتر ایک رکعت، تین رکعت اور پانچ رکعتیں اور سات وغیرہ سب جائز ہیں۔ یہ مسئلہ امت مسلمہ کے نزدیک قطعی اجماعی ہے۔ فرائض کی رکعات کی تعداد تواتر سے ثابت ہے۔ اس لئے اس کا منکر کافر ہے۔ اور ظاہر ہے کہ وتر کی رکعات کی تعداد تواتر سے ثابت نہیں۔ لہٰذا اس کا منکر کافر نہ ہو گا، مگر نانوتوی صاحب نے دونوں کو تواتر میں شامل کر کے تعدادِ رکعات وتر کے منکر کو بھی کافر قرار دے دیا۔ بنا بریں نانوتوی صاحب کے نزدیک معاذ اللہ وہ تمام اسلاف کرام اور ائمۂ دین کافر قرار پائیں گے جنہوں نے تعداد رکعات وتر میں اختلاف کیا اب اگر آپ نانوتوی صاحب کے خلاف اُمتِ مسلمہ کے مسلک کو حق سمجھتے ہیں تو ان پر اجماع قطعی کے انکار کا حکم لگانا پڑے گا اور ساتھ ہی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی عبارت منقولہ بالا کے مفہوم میں صریح تضاد ہے کہ اعداد رکعات فرائض کے منکر کی طرح ختم نبوت کا منکر کافر ہے اور اعداد رکعات وتر کے منکر کی طرح وہ کافر نہیں۔ متضاد عبارت کسی دعویٰ کی دلیل نہیں بن سکتی۔ لہٰذا تحذیر کی اس عبارت سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ منکرِ ختم نبوت ان کے نزدیک کافر ہے۔
۲: اس کے بعد اسی صفحہ پر آپ نے صاحب تحذیر کے معتقد ختم زمانی ہونیکی  دلیل مناظرۂ عجیبیہ سے نانوتوی صاحب کی حسب ذیل عبارت نقل کی ہے۔

ہوم پیج