جواب رسالہ الاعلام

رسالہ تدبرّ کے ساتھ رسالہ الاعلام کے چند صفحات کی فوٹو سٹیٹ کاپی بھی موصول ہوئی جس میں جرم زِنا کی سزا کے بارے میں ایک علمی مباحثہ کے عنوان سے سابق مضمون نویس کا ایک اور مضمون نظر سے گزرا جو اثباتِ رجم پر لکھے ہوئے کسی مقالے کے جواب میں ہے۔
اس جوابی مضمون کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ
المحصنات کا لفظ آزاد کنواری عورتوں کے معنی میں کہیں مستعمل نہیں ہوا۔ اسی لئے آیت کریمہ وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ میں آزاد کنواری، بیوہ، مطلقہ سب شامل ہیں نیز آخر آیت فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ میں بھی المحصنات سے مراد آزاد عورتیں ہیں جس میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ سب شامل ہیں۔
منکرین رجم نے صرف اسی بنیاد پر اپنے انکار کی عمارت کھڑی کی ہے۔ سنت ثابتہ، احادیث صحیحہ، عہد رسالت و خلافتِ راشدہ، سبیل مومنین تعامل مسلمین سب کچھ نظر انداز کرکے انکار کی اس عمارت کو خود ساختہ گوشۂ عافیت سمجھ لیا ہے۔
وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ
حقیقت یہ ہے کہ آزاد کنواری عورتوں کے معنی میں محصنات کا لفظ قرآن کریم میں صراحۃً مذکور ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیَاتِکُمُ الْمُؤْمِنَاتِ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ تزویج انسان کا فطری تقاضا ہے۔ ہر انسان کی اوّلین طبعی خواہش اور رغبت یہی ہوتی ہے کہ وہ آزاد کنواری عورت سے نکاح کرے جس پر کسی کا ہاتھ نہ پڑا ہو اسی لیے جنت میں ملنے والی بیویوں کی صفت اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمائی لَمْ یَطْمِثْہُنَّ اِنْسٌ قَبْلَہُمْ وَلاَ جَآنٌّ یعنی اہل جنت کو ایسی بیویاں ملیں گی کہ ان جنتیوں (مردوں) سے پہلے ان عورتوں کو کسی انسان یا جن نے ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔
اگر کوئی بے وقوف ہماری پیش کردہ آیت کریمہ
لَمْ یَطْمِثْہُنَّ اِنْسٌ قَبْلَہُمْ وَلاَ جَآنٌّ کے معارضہ میں سورۂ تحریم کی آیت ثَیِّبَاتٍ وَّاَبْکَارًا کو پیش کرے تو اس کا جواب امام رازی رحمۃ اللہ علیہ پہلے ہی دے چکے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں
ثم قال تعالیٰ ثَیِّبَاتٍ وَّاَبْکَارًا لان ازواج النبی فی الدنیا والاخرۃ بعضہا من الثیب وبعضہا من الابکار فالذکر علی حسب ماوقع وفیہ اشارۃ الی ان تزوج النبی لیس علی حسب الشہوۃ والرغبۃ بل علی حسب ابتغاء مرضات اللّٰہ تعالیٰ، انتہیٰ (تفسیر کبیر جلد ۸ ص ۲۳۴)
ترجمہ: حضورﷺ کی ازواج مطہرات کے بدلہ میں دی جانے والی عورتوں کو
ثَیِّبَاتٍ وَّاَبْکَارًا سے اس لئے تعبیر فرمایا گیا کہ حضورﷺ کی ازواج مطہرات دنیا و آخرت میں بعض ثیبات ہیں اور بعض ابکار لہٰذا یہ ذکر واقعہ کے مطابق ہے اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبی کی تزویج خواہش اور رغبت کے مطابق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہے۔
ثابت ہوا کہ انسان اس طبعی خواہش اور رغبت کی بناء پر ایسی ہی عورت سے نکاح کرنے کی کوشش کرے گا جو آزاد کنواری ہو اور اگر وہ عدم استطاعت کی وجہ سے آزاد کنواری عورت سے نکاح نہ کرسکے تو آخری اور ادنیٰ ترین درجہ میں وہ یہی چاہے گا کہ بامر مجبوری کسی باندی ہی سے اس کی تزویج عمل میں آجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی حقیقت کو اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا
وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیَاتِکُمُ الْمُؤْمِنَاتِ یعنی تم میں سے کوئی شخص آزاد کنواری مسلمان عورتوں سے نکاح کی طاقت نہ رکھے تو مسلمانوں کی مملوکہ ایمان والی باندیوں ہی سے نکاح کرلے۔
اس آیت کریمہ میں المحصنٰت سے آزاد کنواری عورتیں مراد ہیں جیسا کہ ہم نے دلیل سے بیان کیا۔
رہا یہ شبہ کہ ایسی صورت میں آزاد، بیوہ اور مطلقہ کے ساتھ نکاح ناجائز قرار پائے گا تو یہ صحیح نہیں اس لئے کہ بیوہ اور مطلقہ دونوں کا اس آیت میں ذِکر نہیں وہ مسکوت عنہا ہیں اسی لئے اس آیت سے ان کے ساتھ نکاح کا ناجائز ہونا قطعاً ثابت نہیں ہوتا بلکہ قرآن مجید کی دوسری آیات سے ان سے نکاح کے جواز کا ثبوت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ اور اپنوں میں سے بے نکاحوں کا نکاح کراؤ۔ بیوگان اور مطلقات ایامی میں شامل ہیں۔ لہٰذا ان کے ساتھ نکاح کا حکم اس آیت قرآنیہ سے ثابت ہوا۔ نیز محرمات کا ذِکر فرماکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّاوَرَائَ ذَالِکُمْ یعنی آیت مذکورہ محرمات کے علاوہ سب عورتوں سے تمہارا نکاح جائز ہے۔
آیت کریمہ
وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیَاتِکُمُ الْمُؤْمِنَاتِ کے مضمون میں غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ اگر انسان نکاح کے فطری تقاضے کو اعلیٰ درجہ کی طبعی رغبت و خواہش کے مطابق آزاد کنواری عورت کے ساتھ نکاح کرکے پورا نہ کرسکے تو مسلمان باندی کے ساتھ نکاح کرکے ادنیٰ درجہ میں اپنی خواہش کو پورا کرلے۔
مطلقہ اور بیوہ کامقام انسان کی طبعی خواہش کے اعتبار سے آزاد کنواری اور باندی کے درمیان (درجہ وسطیٰ) میں ہے وہ اس آیت میں مذکور نہیں لیکن ان سے نکاح جائز ہونا پہلے ہی ثابت ہے۔ اس آیت میں غیر مستطیع کو باندی سے نکاح کی طرف متوجہ فرمانے کے لئے ارشاد فرمایا
فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیَاتِکُمُ الْمُؤْمِنَاتِ مضمون نویس کے اس شبہ کا جواب ہم پہلے ہی دے چکے ہیں کہ اگر یہاں المحصنٰت سے کنواری آزاد عورتیں مراد لی جائیں تو آزاد مطلقہ اور بیوہ سے نکاح کا جواز اس آیت کی رُو سے منفی قرار پائے گا۔
میں عرض کروں گا کہ قرآن مجید میں ایسے متعدد مقامات ہیں جہاں صرف اعلیٰ اور ادنیٰ کا ذِکر ہے اوسط مذکور نہیں۔ لیکن مذکور نہ ہونے کے باوجود منفی بھی نہیں مثلاً سورہ بقرہ میں ہے
فَاِنْ لَّمْ یُصِبْہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ریتلی زمین کے ٹیلے پر باغ کو اگر زوردار بارش نہ پہنچے تو ہلکی سی پھوہار بھی اسے کافی ہے۔ وابل زوردار بارش کو کہتے ہیں جو اعلیٰ ہے اور طل ہلکی سی پھوہار جو ادنیٰ ہے اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اس باغ کو زوردار بارش نہ پہنچے تو ہلکی سی پھوہار ہی اس کے لئے کافی ہے۔ وابل اور طل کے درمیان وہ درمیانی درجہ بارش بھی ہوجاتی ہے جو نہ زور دار ہے اور نہ بالکل ہلکی پھوہار۔ جس باغ کے لئے ہلکی پھوہار کافی ہے اس کے لئے درمیانے درجہ کی بارش بطریق اولیٰ کافی ہوگی لیکن مضمون نویس کے نزدیک اس کے لئے درمیانی درجہ کی بارش کافی نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ مسکوت عنہ ہے۔ بتایئے یہ جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟
مختصر یہ کہ المحصنٰت سے مراد آیت کریمہ میں آزاد کنواری لڑکیاں ہیں بیوہ اور مطلقہ مسکوت عنہا ہیں لیکن ان سے جواز نکاح کی نفی ثابت نہیں ہوتی جس طرح باغ کیلئے درمیانی درجہ کی بارش کے کافی ہونے کی نفی ثابت نہیں ہوتی۔
المحصنٰت محصنہ کی جمع ہے جس کا مصدر
الاحصان ہے لغت میں الاحصان کے معنی ہیں المنع لسان العرب میں ہے واصل الاحصان المنع والمرأۃ تکون محصنۃ بالاسلام والعفاف والحریۃ والتزویج (لسان العرب جلد ۱۳، ص ۱۲۰) اسی طرح تاج العروس میں ہے۔ ملاحظہ ہو تاج العروس (جلد ۹ ص ۱۷۹) یہی عبارت مجمع بحار الانوار میں ہے دیکھئے مجمع بحار الانوار (جلد ۱ ص ۲۷۳) مفردات میں ہے والحصان فی الجملۃ المحصنۃ اما لعفتہا اوتزوجہا او بمانع من شرفہا وحریتہا (المفردات للامام الراغب الاصفہانی ص ۱۲۰)
یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ کسی عورت کے محصنہ ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ اس میں کل موانع اربعہ پائے جائیں بلکہ بعض موانع مثلاً حریت کی جہت سے بھی وہ محصنہ ہوسکتی ہے۔ آیت کریمہ
وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ میں المحصنٰت سے وہی عورتیں مراد ہیں جن کے محصنہ ہونے میں صرف جہت حریت کا اعتبار کیا گیا ہے۔ احصان تزویج ان سے قطعاً منفی ہے۔ کیونکہ احصان ترویج یعنی منکوحۂ غیر اگر فی الحال ہو تو شرعاً ان سے نکاح متصور ہی نہیں اور اگر فی الجملہ ہو جیسے بیوہ یا مطلقہ ہونا، تو وہ انسان کے فطری تقاضے سے بعید ہے جیسا کہ ہم دلیل سے ثابت کرچکے ہیں لہٰذا اس آیت میں المحصنٰت سے صرف آزاد کنواری عورتیں ہی مراد ہوسکتی ہیں۔ یہاں المحصنٰت کا ترجمہ تفاسیر میں الحرائر کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اسی اعتبار سے لفظ حرّۃ آزاد کنواری عورت کے معنی میں اہل لغت نے بھی استعمال کیا ہے لسان العرب میں ہے وکان ابن مسعود یری علیہا نصف حد الحرۃ اذا اسلمت وان لم تزوج وبقولہ یقول فقہاء الامصار وہو الصواب (لسان العرب جلد ۱۳ ص ۱۲۱) یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مذہب یہ تھا کہ مسلمان باندی کنواری ہو یا شادی شدہ (اگر بدکاری کرے) تو اس پر حرہ کی نصف حد ہے۔ فقہاء امصار کا قول بھی ان ہی کے قول کے مطابق ہے اور وہی صواب ہے۔ انتہیٰ دیکھئے! صاحب لسان العرب کی اس عبارت میں لفظ حرۃ آزاد کنواری عورت کے لئے مستعمل ہے کیوں کہ فقہاء امصار کے نزدیک آزاد شادی شدہ کی سزا رجم ہے جس کی تنصیف ناممکن ہے۔
اس لئے مفسرین نے اس آیت کے اوّل اور آخر دونوں جگہ
المحصنٰت کا ترجمہ حرائر سے کیا ہے اور دونوں جگہ حرائر سے آزاد کنواری عورتیں مراد ہیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر (جلد اوّل ص ۳۷۵، ۳۷۷) اسی طرح امام ابوبکر جصاص فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ کی تفسیر میں المحصنٰت کے تحت فرماتے ہیں ارادبہ الاحصان من جہۃ الحریۃ لا الاحصان الموجب للرجم الخ (تفسیر احکام القرآن للامام ابی بکر جصاص جلد ۲، ص ۲۰۶)
یعنی اس آیت میں
احصان فقط من جہۃ الحریۃ مراد ہے وہ احصان مراد نہیں جو موجب رجم ہو اور آیت زیر بحث وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ میں المحصنٰت پر الف لام عہد ذہنی ہے اور معہود وہی آزاد کنواری مومنہ عورتیں ہیں جن کے ساتھ انسان اپنے فطری تقاضے کے مطابق اوّلین اور اعلیٰ ترین رغبت کی بناء پر نکاح کرنے کی کوشش کرتا ہے جن سے نکاح کی عدم استطاعت کی وجہ سے ادنیٰ ترین درجہ میں مسلمانوں کو باندیوں سے نکاح کرنے کا حکم دیا گیا۔ اسی آیت کے آخری حصے فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ میں المحصنٰت پر الف لام عہد خارجی ہے اور معہود و خارجی وہی المحصنٰت المؤمنات ہیں جن کا ذِکر آیت کے ابتدائی حصہ میں ہے اور وہ آزاد کنواری عورتیں ہیں جیسا کہ ہم تفصیل سے مدلل طور پر بیان کرچکے ہیں اور ظاہر ہے کہ آزاد کنواری عورت کے جرم زِنا کی سزا رجم نہیں بلکہ سو کوڑے ہیں جن کی سزا کا نصف پچاس کوڑے ہوتے ہیں۔ ثابت ہوا کہ فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ سے رجم کی نفی ثابت نہیں ہوتی بلکہ باندی کی سزا پچاس کوڑے ثابت ہوتی ہے۔
مضمون نویس کا اس مقام پر یہ کہنا کہ
فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ میں المحصنٰت کا الف لام عہد خارجی کے لئے نہیں ہوسکتا کیوں کہ معہود خارجی کلام میں پہلے سے نکرہ کی صورت میں مذکور ہوتا ہے جیسے فِیْہَا مِصْبَاحٌ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوْ کَبٌ دُرِّیٌّ کہ یہاں اَلْمِصْبَاحُ اور اَلزُّجَاجَۃُ میں الف لام عہد خارجی کے لئے ہے بخلاف المحصنٰت کے کہ یہاں دونوں جگہ المحصنٰت معرف باللام ہے اس لئے مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ میں الف لام عہد خارجی کا نہیں ہوسکتا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ الف لام عہد ذہنی کا محض لفظاً (یعنی صرف بولنے میں) تعریف کا ہوتا ہے وہ معنی میں تعریف کے لئے نہیں ہوتا اس کا مدخول معنی کے اعتبار سے نکرہ ہی ہوتا ہے اس لئے کافیہ ابن حاجب کے پہلے لفظ الکلمۃ میں کسی نے الف لام عہد ذہنی کا نہیں مانا کیوں کہ ایسی صورت میں مبتداء کی نکارت لازم آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ الف لام عہد ذہنی کے مدخول کی صفت جملہ خبر یہ واقع ہوسکتا ہے کیونکہ وہ نکرہ کے حکم میں ہے لہٰذا آیت کریمہ
وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ میں المحصنٰت پر لازماً الف لام عہد ذہنی کا ہے اور لفظ محصنٰت حقیقۃ نکرہ ہے اور فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ میں المحصنٰت پر لام عہد خارجی کا ہے اور معہود خارجی اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ میں لفظاً مذکور ہے۔
علامہ ابن کثیر نے بھی تفسیر ابن کثیر میں یہی ارقام فرمایا ہے ملاحظہ فرمایئے۔
والالف واللام فی المحصنٰت للعہد وہن المحصنٰت المذکورات فی اوّل الایۃ، وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ والمراد بہن الحرائر فقط انتہیٰ
یعنی
المحصنٰت پر الف لام عہد کے لئے ہے اور معہود وہی محصنٰت ہیں جو اول آیت اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ میں مذکور ہیں اور ان سے فقط آزاد کنواری عورتیں مراد ہیں۔ انتہیٰ (تفسیر ابن کثیر جلد اوّل ص ۴۷۷)
علاوہ ازیں الف لام عہد کے مدخول سے پہلے معہود خارجی کا بصورتِ نکرہ مذکور ہونا زیرِ بحث نہیں۔ بحث اس میں ہے کہ معرف بلام العہد کے معہود خارجی کو اگر اس سے پہلے لام عہد کے ساتھ ذِکر کیا جائے تو جائز ہے یا نہیں؟ میں عرض کروں گا کہ جائز ہے۔
علامہ سید محمود الوسی بغدادی نے
(فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا) کے تحت عسر کے معنی فقر و فاقہ اور تنگدستی بیان کرتے ہوئے فرمایا وہو ظاہر فی ان (ال) فی العسر للعہد واما التنوین فی یسراً فللتفخیم یعنی کلام سابق اس بات میں ظاہر ہے کہ العسر میں الف لام عہد کے لئے ہے اور یسراً کی تنوین تفخیم کے لئے ہے اس کے بعد (اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا) کے تحت فرمایا یحتمل ان یکون تکریر الجملۃ السابقۃ ویحتمل ان یکون وعداً مستانفاً (ال) والتنوین علی ماسبق یعنی احتمال ہے کہ یہ جملہ جملہ سابقہ کے لئے (بطور تاکید) تکرار ہو اور احتمال ہے کہ وعد مستانف ہو (یعنی تاکید کی بجائے علیحدہ کلام ہو) اور حسب سابق العسر کا الف لام عہد کے لئے اور یسرا کی تنوین تفخیم کے لئے ہو۔ اس کے بعد فرمایا احتمال الاستیناف ہو الراجح لما علم من فضل التاسیس علی التاکید الخ یعنی استیناف کا احتمال ہی راجح ہے کیوں کہ تاکید پر تاسیس کی فضیلت معلوم ہوچکی ہے الخ (تفسیر روح المعانی پ ۳۰ ص ۱۷۰)
ثابت ہوا کہ معرف بلام العہد کے معہود خارجی کا اس سے پہلے لام عہد کے ساتھ مذکور ہونا جائز ہے۔
مضمون نویس نے المحصنٰت میں الف لام جنسی مراد لیا ہے اور آیت کا حسب ذیل ترجمہ کیا ہے۔ پس مومنہ عورتوں کے لئے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے لونڈیاں ہوں جب وہ پاک دامنی اختیار کرلیں اور اس کے بعد کسی بدچلنی کی مرتکب ہوں اس سزا کی بہ نسبت نصف سزا ہے جو ان عورتوں کے لئے مقرر ہے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے حرائر ہوں (قطع نظر اس سے کہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ)
مضمون نویس کی لاعلمی ملاحظہ فرمایئے! لونڈی ہونے یا آزاد ہونے کو وہ عورتوں کی حقیقت قرار دے رہا ہے جو بداہتاً باطل ہے۔ آزاد عورتیں لونڈیاں بن جاتی ہیں اور لونڈیاں آزاد ہوجاتی ہیں کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ ان عورتوں کی حقیقت بدل گئی؟
آیت کریمہ میں الف لام
نساء پر داخل نہیں بلکہ محصنٰت پر داخل ہے اور محصنہ ہونا ان کی حقیقت نہیں بلکہ وہ وصف ہے۔ وصف بدل سکتا ہے حقیقت نہیں بدل سکتی۔
الف لام کا مدخول
المحصنٰت وصف عنوانی ہے جس کی ماہیت الاحصان ہے اگر اسے الف لام جنسی قرار دیا جائے تو اس سے الاحصان کی ماہیت کی طرف اشارہ ہوگا اور ترجمہ یوں ہوگا کہ جو عورتیں وصف احصان کی ماہیت سے متصف ہیں کتب لغت کے حوالے سے ہم ثابت کرچکے ہیں کہ احصان کی اصل حقیقت منع ہے وہی اس کی ماہیت ہے۔ اس کی چار قسمیں ہیں۔
احصان بالتزویج، احصان بالعفۃ، احصان بالاسلام، احصان بالحریۃ
اسلام کفر کے وبال سے منع کرتا ہے۔ عفت بے حیائی سے روکتی ہے۔ تزویج اجنبی مرد کو زوجیت سے روکتا ہے اور حریت، رقیت اور مملوکیت اور اس کے وبال سے روکتی ہے۔ منع مقسم ہے اور یہ چاروں اس کی قسمیں ہیں ہر قسم میں مقسم کا پایا جانا ضروری ہے۔ اگر یہاں
المحصنٰت پر الف لام جنسی ہو تو اس سے ماہیت احصان کی طرف اشارہ ہوگا جو اقسام اربعہ کی ہر قسم میں موجود ہے اور ماہیت احصان سے متصف ہونے والی حسب ذیل تمام عورتیں المحصنٰت میں شامل ہوں گی۔
(۱) حرائر ابکار جو من جہۃ الحریۃ ماہیت احصان سے متصف ہیں۔
(۲) شادی شدہ عورتیں (خواہ حرہ ہوں یا باندیاں) جو من جہۃ التزویج  ماہیت احصان سے متصف ہیں۔
(۳) عفائف (خواہ حرہ ہوں یا باندیاں) جو من جہۃ العفۃ ماہیت احصان  سے متصف ہیں۔
(۴) مومنات (خواہ حرہ ہوں یا باندیاں) جو من جہۃ الاسلام ماہیت  احصان سے متصف ہیں۔
اسی طرح آخر آیت میں
فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ میں بھی المحصنٰت پر الف لام جنسی ماننے کی تقدیر پر یہ چاروں قسم کی عورتیں المحصنٰت میں شامل ہوں گی اور اوّل آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ تم میں سے جو شخص ماہیت احصان سے متصف ہونے والی کسی عورت سے نکاح کی طاقت نہ رکھے وہ مسلمانوں کی مملوکہ مسلمان باندیوں سے نکاح کرے اور آخر آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ اگر کوئی باندی محصنہ ہونے کے بعد زِنا کی مرتکب ہو تو اس پر اس سزا کا نصف ہے جو سزا ان عورتوں کی ہے جو ماہیت احصان سے متصف ہیں الف لام جنسی کی تقدیر پر اس معنی کے سوا اور کوئی معنی اس آیت کریمہ کے نہیں ہوسکتے۔
اب عقل سلیم کی روشنی میں دیکھئے کہ آیتِ قرآنیہ کے یہ معنیٰ درست ہوسکتے ہیں؟ لازمی طور پر یہی کہنا پڑے گا کہ یہ معنی باطل ہیں اور آیت کریمہ میں دونوں جگہ
المحصنٰت پر الف لام جنسی نہیں بلکہ عہد کے لئے ہے۔
اوّل آیت میں عہد ذہنی اور آخر آیت میں عہد خارجی کے لئے ہے اور آیت کریمہ کے معنی قطعاً یہی ہیں کہ تم میں سے جو شخص محض
احصان من جہۃ الحریۃ کی حقیقت سے متصف ہونے والی عورتوں یعنی آزاد کنواریوں سے نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ مسلمان باندیوں سے نکاح کرے اور آخر آیت کے معنی یہ ہے کہ باندیاں اگر محصنہ بھی ہوں تب بھی ان کی بدکاری کی سزا آزاد کنواریوں کی بدکاری کی سزا کا نصف ہے یعنی پچاس کوڑے جیسا کہ ہم نہایت تفصیل کے ساتھ مدلل طور پر بیان کرچکے ہیں۔
مضمون نویس نے اس مضمون میں جا بجا تعلیوں سے مرعوب کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنے زعم باطل میں تمام ائمہ ہدیٰ، مجتہدین، فقہاء امت اور علماء سلف کو نیچا دکھانے کی سعی ناتمام کی ہے اور اپنے مزعومات باطلہ سے مضمون کو طول دیا ہے جو علم و عقل کی روشنی میں لائق توجہ نہیں مثلاً وہ بار بار کہتا ہے کہ لفظ محصنٰت مشترک ہے وہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ لفظ مشترک اوضاع متعددہ کے ساتھ معانی متعددہ کے لئے موضوع ہوتا ہے جیسے لفظ
عین جو آنکھ، چشمہ وغیرہ معانی کیلئے اوضاع متعددہ کے ساتھ وضع کیا گیا ہے بخلاف لفظ محصنٰت کے کہ اس کا مصدر الاحصان صرف ایک معنیٰ المنع کے لئے وضع کیا گیا ہے جس کے اقسام چار ہیں جو سابقاً ہم تفصیل سے بیان کرچکے ہیں اس کی مثال کلمہ ہے جو صرف ایک معنی کے لئے وضع کیا گیا ہے اور اس کی تین قسین ہیں آج تک کسی نے الکلمۃ کو مشترک نہیں کیا ایک ادنیٰ طالب علم بھی مانتا ہے کہ کلمہ مقسم ہے اور اسم، فعل، حرف اس کے اقسام ہیں اسی طرح احصان مقسم ہے اور اس کی چار قسمیں ہیں۔ مقسم کا اپنی ہر قسم میں پایا جانا ضروری ہے اس لئے کلمہ اپنی تینوں قسموں اور احصان اپنی چاروں قسموں میں پایا جاتا ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ محصنٰت کا وصف عنوانی اپنے اقسام اربعہ میں سے ہر قسم میں متحقق ہے۔ اگر اس پر الف لام جنسی داخل کردیا جائے تو اس کا اشارہ بغیر ملاحظہ افراد ا سی وصف احصان کی ماہیت کی طرف ہوگا۔
المحصنٰت سے افراد معہودہ اسی وقت مراد ہوسکتے ہیں جبکہ الف لام عہدی ہو اور اسی تقدیر پر آیت کریمہ اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ کے اول اور آخری حصے کے معنی مستقیم ہوسکتے ہیں جیسا کہ ہم بار بار اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔
علاوہ ازیں مضمون نویس کے بیان میں کھلا تضاد بھی پایا جاتا ہے۔ وہ رسالہ تدبر میں لکھتا ہے اس ساری بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رجم کی سزا کے جو واقعات احادیث میں مذکور ہیں وہ عام قسم کے زانیوں کے واقعات نہیں بلکہ ان بدقماشوں کے واقعات ہیں جو اپنی آوارہ منش، بدمعاشی اور جنسی بے راہ روی کی بناء پر شریفوں کی عزت و ناموس کے لئے خطر بن جاتے ہیں کھلم کھلا زنا بالجبر کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس فعل قبیح کو بطور پیشہ اختیار کرلیتے ہیں۔ (ص ۳۶)
اسی مضمون نویس کی دوسری عبارت زِنا کی سزا کے بارے میں ملاحظہ فرمایئے۔ رسالہ الاعلام لاہور میں لکھتا ہے۔
سزا کی اصل علت جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے پاکدامنی کے شعور کی بیداری بدچلنی کی زندگی سے توبہ اور پاکیزگی اختیار کرنے کا عزم ہی ہے۔ ص ۳۰
پہلی عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ بدقماش، بدمعاش، آوارہ منش، پیشہ ور زانیوں کو رجم کی سزا دی گئی جنہوں نے نہ گناہوں سے توبہ کی نہ پاکیزہ زندگی بسر کرنے کا عزم پیدا کیا بلکہ وہ پیشہ و ر زانی تھے یعنی علت سزا کے بغیر ہی انہیں سزا دی گئی۔
دوسری عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر گناہوں سے توبہ کرنے اور پاکیزگی کی زندگی بسر کرنے کا عزم پیدا کرنے کے بعد کسی نے جرم زِنا کا ارتکاب کیا تب اسے سزا دی جائے گی ورنہ نہیں۔ کیونکہ سزا کی علت گناہوں سے توبہ کرنے اور پاکیزگی کی زندگی بسر کرنے کا عزم ہے جب سزا کی علت ہی نہیں تو سزا کیسے ہوگی؟
اہل انصاف غور فرمائیں کہ مضمون نویس کی ان دونوں عبارتوں کا مفہوم صریح متضاد اور متناقض ہونے کے علاوہ کس قدر مضحکہ خیز ہے۔
الحمد اللّٰہ! ہم نے مضمون نویس کے ان تمام نئے پرانے بنیادی اعتراضات کے جوابات وضاحت کے ساتھ لکھ دئیے جن پر انکارِ رجم کی عمارت قائم تھی اس کے بعد بھی اگر کوئی اپنی ضد پر اڑا رہے تو ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔

رسالہ تدبر اور الاعلام کے جوابات سے فارغ ہونے کے بعد احباب نے میری توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ بعض منکرین رجم ہمارے دلائل کے سامنے عاجز ہوکر یہ کہنے لگتے ہیں کہ ہم مانتے ہیں کہ زِنا کی سزا میں رجم کیا جانا ثابت ہے لیکن وہ حد نہیں بلکہ تعزیر ہے۔
میں عرض کروں گا کہ ان کا یہ کہنا اعتراف شکست کے سوا کچھ نہیں اسی رسالہ میں کتاب و سنت سے ہم ثابت کرچکے ہیں کہ
رجم اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حد ہے تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ لفظ حد کے لغوی اور شرعی معنی کی وضاحت کے بعد عقوبات ثلاثہ، حد، قصاص اور تعزیر کا فرق بیان کرکے مزید وضاحت کردی جائے کہ رجم حد ہے تعزیر نہیں۔
درمختار میں ہے
الحد لغۃ المنع و شرعاً (عقوبۃ مقدرۃ وجبت حقاً للّٰہ تعالیٰ) زجراً لغت میں حد کے معنی ہیں روکنا اور شرعاً ایسی سزا کو حد کہتے ہیں جس کا اندازہ شریعت میں مقرر کیا ہوا ہو۔ لوگوں کو اسباب حد سے روکنے کیلئے حق اللہ ہونے کی حیثیت سے واجب کی گئی ہو۔ (درمختار بہامش شامی جلد ۳ ص ۱۵۳، ۱۵۴)
امام شمس الدین سرخسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب المبسوط میں حد کے معنی پر کلام کرتے ہوئے عقوبات ثلاثہ حد، قصاص اور تعزیر کا فرق عالمانہ انداز میں جامعیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ ان کی عبارت کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے۔
حد لغت میں منع کو کہتے ہیں۔ اسی سے بواب (دربان) کا نام حداد رکھا گیا ہے کیونکہ وہ لوگوں کو دروازے میں داخل ہونے سے روکتا ہے اور کسی شیٔ کی جامع مانع تعریف کو بھی اسی لئے حد کہا جاتا ہے کہ وہ اس کے معانی کو جمع کردیتی ہیں اور ان کے غیر کو ان میں داخل ہونے سے روک دیتی ہے جن عقوبات کا نام حد رکھا گیا۔ ان کو اسی لئے حد کہا جاتا ہے کہ وہ ان کے اسباب کے ارتکاب سے روکتی ہیں اور شرع میں اس عقوبت مقدرہ کا نام حد ہے جو حق اللہ ہونے کی حیثیت سے واجب کی گئی ہو۔ اسی لئے تعزیر کو حد نہیں کہہ سکتے کہ وہ عقوبۃ غیر مقدرہ ہے اور قصاص کو بھی حد نہیں کہا جاتا کیوں کہ وہ حق العبد ہونے کی حیثیت سے واجب ہوتا ہے یہ اس لئے کہ حق العبد کا وجوب اصل میں جبر نقصان کے طریق پر ہے اور جو عقوبت اللہ تعالیٰ کا حق ہونے کی حیثیت سے واجب ہوئی وہ صرف اس کے اسباب کے ارتکاب سے روکنے کے لئے ہے اس کے سوا اس کا مقصد اور کچھ نہیں اس میں جبر نقصان کا کوئی پہلو نہیں پایا جاتا کیوں کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک ہے کہ اسے کوئی نقصان پہنچے اور وہ اپنے حق میں جبر نقصان کا محتاج ہو۔
حد کی کئی انواع ہیں۔ ہماری بحث کا تعلق صرف حدِ زِنا سے ہے۔ حدود واجبات میں سے ہیں ہر واجب اپنے سبب کی طرف مضاف ہوتا ہے۔ اس لئے حد زِنا کے معنی ہیں۔ وہ سزا جس کا سبب زِنا ہے ۔ حد واجب کرنے والا سبب نہیں۔ اسباب تو صرف اس لئے ہوتے ہیں کہ بندوں پر حد کا پہچاننا آسان ہوجائے نہ یہ کہ وہ خود موجباتِ حد ہوں۔
پھر اس امر کا جاننا بھی ضروری ہے کہ حدِ زِنا کی دو قسمیں ہیں۔ ایک حدِ جرم جو محصن (شادی شدہ) زانی کے لئے ہے دوسری حد جلد (سو کوڑے مارنا) یہ غیر محصن (غیر شادی شدہ) کے لئے ہے۔ (المبسوط للامام شمس الدین السرخسی جلد ۹ ص ۳۶)
امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ کے اس کلام سے لفظ حد کے لغوی اور شرعی معنی بھی معلوم ہوگئے اور حد و قصاص اور تعزیر کا فرق بھی واضح ہوگیا ہے۔ مختصر الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ حد وہ عقوبت مقدرہ ہے جو حق اللہ ہونے کی حیثیت سے واجب ہوئی۔ اس میں جبر نقصان کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا اور قصاص ایسی عقوبت مقدرہ ہے جو حق العبد ہونے کی حیثیت سے واجب ہوئی جس میں جبر نقصان بھی پایا جاتا ہے اور تعزیر ایسی عقوبت ہے جس کا اندازہ شرع کی طرف سے مقرر نہیں کیا گیا کیوں کہ وہ کبھی ضرب سے ہوتی ہے اور کبھی حبس سے۔ وہ حاکم کی رائے کی طرف مفوض ہوتی ہے۔ بعض اوقات محض تادیب بالقول سے بھی متحقق ہو جاتی ہے۔ اسی لئے علماء نے تعزیر کے مراتب اربعہ بیان فرمائے جن کی وضاحت
بدائع الصنائع کی عبارت کے حسب ذیل خلاصہ سے ہوتی ہے۔ ہمارے مشائخ نے (کتاب و سنت کی روشنی میں) تعزیر کے چار مرتبے بیان فرمائے۔
(۱) اشرف الاشراف کی تعزیر۔ یعنی شرافتِ نفس اور شرم و حیاء رکھنے والے جو لوگ عزت و شرف میں سب سے اعلیٰ مراتب پر فائز ہوں۔ حاکم وقت کی طرف سے انہیں صرف اتنا بتادینا ہی عقوبت اور تعزیر ہے کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ آپ نے اس غلطی کا ارتکاب کیا۔
(۲) اعلیٰ ترین اشراف کے بعد دوسرے درجے کے شرفاء کی تعزیر یہ ہے کہ انہیں ان کی غلط روی سے خبردار کرنے کے بعد حاکمِ وقت کی عدالت میں حاضر کیا جائے اور حاکم انہیں بالمشافہ تنبیہ کرے۔
(۳) اوساط یعنی درمیانہ درجے کے لوگوں کی تعزیر یہ ہے کہ ان کی غلط روی سے انہیں خبردار کرکے حاکم کی عدالت میں ان کو پیش کیا جائے اور پھر انہیں قید کردیا جائے۔
(۴) کمینوں اور بدمعاشوں کی تعزیر یہ ہے کہ ان کے جرم سے انہیں آگاہ کرکے حاکم کی عدالت میں لایا جائے۔ انہیں پیٹا جائے اور قید کردیا جائے۔ کیوں کہ تعزیر کا مقصد غلط کاری اور جرائم سے روکنا ہے اور برائیوں سے رکنے اور باز آجانے میں لوگوں کے احوال مختلف ہیں۔ اسی اختلافِ احوال کی بناء پر مشائخ نے تعزیر کے یہ مراتب اربعہ بیان فرمائے۔ جو کتاب و سنت سے ماخوذ ہیں۔ (بدائع الصنائع جلد ۷ ص ۶۴)
اگر کسی مجرم کے جرم سے معاشرہ کے متاثر ہونے کا خطرہ ہو تو حاکم کا اپنی صوابدید کے موافق اسے قتل کردینا بھی تعزیر قرار پائے گا جیسا کہ شارب خمر کے متعلق حدیث شریف میں وارد ہوا
فان عادفی الرابعۃ فاقتلوہ یعنی اگر کوئی شخص تین مرتبہ شراب خوری کی حد جاری ہونے کے بعد چوتھی مرتبہ شراب پیئے تو اسے قتل کردو۔ احناف کے نزدیک یہ قتل تعزیر پر محمول ہے یعنی اگر حاکم یہ محسوس کرے کہ یہ دوسروں کو بھی شراب خوری میں مبتلا کردے گا اور معاشرہ اس کے اس جرم سے متاثر ہوگا تو وہ اسے اپنی صوابدید پر تعزیراً قتل کرسکتا ہے۔
رجم کا حد ہونا کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے
وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَعِنْدَہُمُ التَّوْرٰۃُ فِیْہَا حُکْمُ اللّٰہ یہودیوں کے مقدمہ زِنا کے بارے میں اس آیت کا نزول حکم اللّٰہ کے معنی رجم ہونے کو متعین کردیتا ہے اور کتب احادیث میں اس رجم کے لئے متعدد مقامات پر لفظ حد وارد ہے۔
مثلاً سنن ابی داؤد ص ۶۰۷ پر ہے
فاما لترک الحد فلا یہاں حد سے صرف رجم مراد ہے اسی طرح مسلم شریف جلد ثانی ص ۷۰، ۷۱ میں رجم کو حد سے تعبیر فرمایا گیا۔ علاوہ ازیں اس رجم کے حد ہونے پر اجماعِ امت ہے۔ چند خوارج و منکرین حدیث کا انکار کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
سلف صالحین، علماء راسخین، مفسرین، محدثین، مجتہدین اور تمام فقہاء اسلام متقدمین و متاخرین سب نے رجم کو حد تسلیم کیا ہے۔ مبسوط کی عبارت کا وہ خلاصہ جو ہم ابھی لکھ چکے ہیں ہمارے بیان کی واضح تائید ہے۔
 

ہوم پیج