عصمت انبیاء علیہم السلام

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

حامداً ومصلِّیاً و مسلِّماً قطع نظر دیگر خصوصیات و کمالات نبوت کے اتنی بات تو ہر اس شخص کے نزدیک مسلّمات سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی کسی کتاب اور دین سماوی پر اعتقاد رکھتا ہے کہ انبیاء علیھم السلام خدا تعالیٰ کے پیغامبر اور اس کے احکام کے مبلغ ہوتے ہیں جن کا کام لوگوں کو راہ ہدایت دکھانا اور نجات اخر وی کے طریقے بتانا ہے عقل و انصاف کی روشنی میں اتنی ہی بات ان کی معصومیت تسلیم کرنے کے لئے کافی ہے۔
مگر انتہائی افسوس و تعجب ان اہل کتاب پر ہے جنہوں نے نبیوں کو نبی مان کر ان کے متعلق ایسے ناپاک من گھڑت قصّے وضع کئے اور حیا سوز بہتان تراشے جنہیں سن کر انسانیت شرم سے پانی پانی ہو جاتی ہے اور ایک انتہائی گنہگار آدمی بھی ان کے تصور سے نفرت کرنے لگتا ہے۔
ٔ مثال کے طور پر سیدنا لوط ں کا ان کی صاحبزادیوںسے متعلق وہ شرمناک واقعہ جو بائیل میں مرقوم ہے سامنے رکھ لیجئے حیا اجازت نہیں دیتی کہ وہ الفاظ نقل کئے جائیں۔ ناظرین کرام! اگر تصحیح نقل کے لئے اصل عبارت دیکھنے کے خواہشمند ہوںتو پیدائش باب ۱۹ آیت ۳۰ تا ۳۸ بائیبل صفحہ ۱۰ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
اس کے جواب میں عیسائیوں کا یہ کہنا کہ یہ سب کچھ لوط ںکی لا علمی میں ہواہر گز قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ ان افعال کی نوعیت ایسی ہے جو اللہ کے نبی کی شان کے لائق کسی حال میں نہیں ہو سکتی۔یہ بے حیائی عام آدمی کے لئے بھی سخت ذلت و رسوائی کا موجب ہے چہ جائیکہ ایک نبی کے لئے اس کا ارتکاب تسلیم کیا جائے ایسی لا علمی انبیاء علیہم السلام کے منصب نبوت کے پیش نظر عقل سلیم ایک آن کے لئے بھی ان کے حق میں ممکن تسلیم نہیں کرتی۔ خدا کا نبی خدائے قدوس کی طرف سے نور نبوت کی وہ روشنی اور بصیرت لے کر آتا ہے جس کے ہوتے ہوئے اس قسم کی لا علمی اس کے حق میں ممکن نہیں بلکہ ایسی حالت کا اس پر طاری ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس لاعلمی کے حال میں نبی نور نبوت سے محروم ہوجائے یعنی اس وقت وہ نبی نہ رہے حالانکہ نبوت ایسی صفت نہیں کہ کسی نبی میں کبھی ہو اور کبھی نہ ہو۔ نبی ہر وقت نبی ہوتا ہے اور نور نبوت اس سے کسی حال میں سلب نہیں کیا جاتا۔ ایسی صورت میں لا علمی کا عذر پیش کرنا بجائے خود لا علمی کی دلیل ہے۔
ہاں یہ ممکن ہے کہ نبوت و رسالت کے کسی کمال کی تکمیل اور اس کے ظہور کے لئے یا اللہ تعالیٰ کی کسی دوسری حکمت کے پورا ہونے کی بناء پر کسی وقت خاص میں نبی پر کسی صفت محمودہ جیسے رحم و کرم شفقت و رافت کے حال کا غلبہ ہو جائے اور اس کے باعث تھوڑے سے وقت کے لئے نبی پر ہلکا سا عدم التفات یا نسیان طاری ہو جائے تاکہ اس حال میں کمال نبوت کی تکمیل و ظہور ہو سکے اور اللہ تعالیٰ کی وہ حکمت جس کا پورا ہونا اسی حالت عدم التفات پر موقوف رکھا گیا تھاپوری ہو جائے جس کی مثالیں بکثرت انبیاء علیہم السلام کے بے شمار واقعات کے ضمن میں قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔
مثلاً آدم ں،نوح ں،ابراہیم ں،اسماعیل ں،یعقوب ں،یوسف ں،دائود ں،سلیمانں، موسیٰںاور ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے دوسرے نبیوں بالخصوص آقا ئے نامدار،تاجدار مدنی حضرت محمد مصطفٰے ﷺ کی سیرت پاک میں اس قسم کے بہت سے واقعات پائے جاتے ہیں جو اہل علم سے مخفی نہیں، لیکن ان میں سے کوئی واقعہ ایسا نہیں جو کسی لحاظ سے بھی منصب نبوت کے منافی ہو بلکہ ان سب کی نوعیت یہ ہے کہ ان سے کمالات نبوت کا ظہور او راللہ تعالیٰ حکمتوں کی تکمیل وابستہ ہے۔
اہل کتاب کے نزدیک منصب نبوت کے بارے میں شرمناک تصوّر کی ایک جھلک ہم ناظرین کرام کے سامنے بائیبل کے حوالہ سے پیش کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر انبیائے کرام علیم السلام کے متعلق جو اخلاق سوزواقعات اہل کتاب کے ہاں پائے جاتے ہیں۔ ان کا تفصیلی بیان ہمارے لئے نا ممکن ہے۔ اہل علم حضرات سے یہ حقیقت مخفی نہیں کہ بعض اہل اسلام ناقلین مؤرخین نے بھی اپنی سادہ لوحی کی بناء پر وہ بعض حکایات نقل کر دیں جو انبیاء علیہم الصلوٰۃوالسلام کی عظمت اور منصب نبوت کے منافی ہیں۔ متاخرین علماء نے جب انہیں کتاب و سنت اور عقل سلیم کی روشنی میں پرکھا اور چھان بین کی تو ان پر یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو گئی کہ یہ سب حکایات و روایات محض بے اصل ہیں اور اہل کتاب کے افتراء اور بہتان کے سوا ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ امام رازی رحمتہ اللہ علیہ نے تفسیر کبیر اور ان کے علاوہ دیگر مفسرین کرام نے اپنی تصانیف جلیلہ میں ان کا ردّو ابطال فرمایا۔ جیسا کہ تفسیر کبیر وغیرہ میں جابجا اس کی تصریحات موجود ہیں لیکن ان بعض اہل علم مصنفین پر انتہائی افسوس ہے جنہوں نے اس قسم کی بے سرو پاروایات سے متاثر ہو کر عصمت انبیاء علیہم السلام کا انکار کر دیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ انہوںنے عصمت نبوت کے خلاف دلائل قائم کرنے کی مذموم کوشش کی۔ انشاء اللہ ہم آگے چل کر ان کے جوابات ہدیہ ناظرین کریں گے۔ غالباً انہوں نے سمجھا کہ بائبیل آسمانی کتاب ہے اور اس میں تحریف نہیں ہو سکتی حالانکہ یہ خصوصیت صرف قرآن مجید کو حاصل ہے کہ اس میں تحریف کلمات ممکن نہیں اسی لئے اس کے نظم کو بھی معجزہ قرار دیا گیا اور فَــأتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا شُہَدَائَکُمََْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فرما کر اس حقیقت کو واضح کر دیا گیا کہ قرآن مجید ایسا کلام الہٰی ہے جس کا کوئی حصہ الگ کر کے غیر اللہ کے کلام کا پیوند اس میں نہیں لگایا جاسکتا۔ اور تورات و انجیل کے متعلق صاف صاف ارشاد فرمادیا کہ یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ مختصر یہ کہ قرآن کا معجزہ ہونا جن بے شمار حکمتوں کا حامل ہے ان میں ایک عظیم الشان حکمت یہ بھی ہے کہ الفاظ قرآن میں تحریف کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے۔ کیوں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جن پر قرآن مجید نازل ہوا خاتم النبیین ہیں۔ اگر آپ کی لائی ہوئی کتاب کے الفاظ میں بھی تحریف ہو جائے تو اس کے ازالہ کے لئے کسی نبی کی بعثت ضروری قرار پائے گی جو ختم نبوت کے منافی ہے۔
چونکہ اس وقت ہمارا موضوع عصمت انبیاء ہے اس لئے ہم اس مسئلہ کو یہاں زیادہ طول نہیں دینا چاہتے۔
 

ہوم پیج