رجم اِسلامی سزا ہے
پیش لفظ

کوئی مسلمان حاکم یا حَکَمْ جب کوئی فیصلہ کرنے لگے تو اسے حسبِ ذیل آیات قرآنیہ اپنے سامنے رکھنی چاہئیں۔
وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ
ترجمہ: اور جو فیصلہ نہ کریں اس چیز کے ساتھ جو اللہ نے نازل فرمائی تو وہی لوگ کافر ہیں۔ (سورۃ مائدہ۔ ۴۴)
وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْنَ
ترجمہ: اور جو فیصلہ نہ کریں اس چیز کے ساتھ جو اللہ نے نازل فرمائی تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ (سورہ مائدہ۔ ۴۵)
وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْنَ
ترجمہ: اور جو فیصلہ نہ کریں اس چیز کے ساتھ جو اللہ نے نازل فرمائی تو وہی لوگ فاسق ہیں۔ (سورہ مائدہ ۴۷)
اور اس بات کو بھی ملحوظ رکھے کہ اللہ نے جو کچھ نازل فرمایا وہ صرف کتاب نہیں بلکہ حکمت یعنی سنت بھی ہے جیسا کہ قرآن مجید کی حسب ِ ذیل دو آیتوں کا یہی مضمون ہے۔
وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنَ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَۃِ
ترجمہ: اور (اے مسلمانو!) یاد کرو اللہ کی نعمت جو تم پر ہے اور وہ جو اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی۔ (سورۂ بقرہ آیت ۲۳۱)
وَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ
ترجمہ: (اے رسول) اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی (سورۂ نساء۔ ۱۱۳)
 

رجم کو قرآن اور اسلام کے خلاف کہنا صحیح نہیں کیوں کہ قرآن مجید کی کوئی آیت رجم کی نفی نہیں کرتی اور نہ ہی کوئی شرعی دلیل اس کے خلاف پائی جاتی ہے بلکہ اس کے برعکس رجم کے اسلامی حکم ہونے پر قرآنی آیات سے روشنی پڑتی ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ کتاب اللہ میں رجم کا حکم موجود ہے۔ البتہ صراحت کے ساتھ اس کا ذِکر احادیث صحیحہ کثیرہ میں وارد ہے۔ نفسِ رجم کے ثبوت میں احادیث متواترۃ المعنیٰ ہیں۔ رسول اللہﷺ نے رجم کی سزا دی۔ پھر خلفاء راشدین نے اس پر عمل کیا۔ تمام صحابہ کا اس پر اجماع ہے اور تابعین و اتباع تابعین آئمہ مجتہدین اور جمہور اُمّتِ مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ رجم اسلامی سزا ہے اور کتاب و سنت کے خلاف نہیں۔ چند خوارج کا اختلاف کچھ وقعت نہیں رکھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ رجم کو غیر اسلامی قرار دینا ایک مغالطہ ہے جس کی بنیادیں حسب ذیل ہیں۔
(۱) رجم کا ذکر قرآن مجید میں صراحۃً موجود نہیں اور جس بات کا ذِکر قرآن مجید میں صراحۃً نہ ہو وہ قرآن اور اسلام کے خلاف ہے۔
(۲) حدیث اور سنت چونکہ رسول ا کا اپنا قول یا فعل ہے اس لئے وہ کوئی شرعی دلیل نہیں۔
(۳) قرآن مجید میں زنا کی سزا سو کوڑے مارنا مقرر کی گئی ہے جیسا کہ سورہ نورمیں ہے
اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْاکُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَجَلْدَۃٍ یعنی زانیہ اور زانی کی سزا یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔  لہٰذا رجم کا قول قرآن مجید کی مقرر کی ہوئی سزا کے خلاف ہے۔
(۴) قرآن کریم میں شادی شدہ باندیوں کی سزا محصنات کی سزا کا نصف مقرر کی گئی ہے۔ جیسا کہ سورہ نساء میں فرمایا
فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ یعنی شادی شدہ باندیوں کی سزا محصنات کی سزا کا نصف ہے اور ظاہر ہے کہ محصنات آزاد شادی شدہ عورتیں ہیں۔ اگر ان کی سزا رجم ہو تو باندیوں کی سزا رجم کا نصف ہوگی حالانکہ رجم قابلِ تنصیف نہیں۔
معلوم ہوا کہ اسلام میں رجم کا وجود ہی نہیں۔
(۵) قائلین رجم کے درمیان حدِ زنا میں اختلاف ہے کوئی کہتا ہے کہ رجم کے ساتھ سو کوڑے بھی ماریں جائیں گے کسی کے نزدیک صرف رجم کیا جائے گا۔ کوڑوں کی سزا نہیں دی جائے گی۔ اس اختلاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ رجم قطعی اور یقینی طور پر اسلامی سزا نہیں۔  منکرین رجم کے مغالطہ کی یہ پانچوں بنیادیں علم و تحقیق کی روشنی میں کوئی وقعت نہیں رکھتیں۔
(۱) منکرین رجم کے مغالطہ کی پہلی بنیاد کہ رجم کا ذِکر قرآن میں صراحۃً موجود  نہیں اور جس بات کا ذِکر قرآن مجید میں صراحۃً نہ ہو وہ قرآن اور اسلام کے خلاف ہے۔ قرآن کی روشنی میں درست نہیں دیکھئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا
سَیَقُوْلُ السُّفَہَائُ مِنَ النَّاسِ مَاوَلّٰہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِیْ کَانُوْ عَلَیْہَا
اب بے وقوف لوگ (مشریک و منافقین) کہیں گے کہ مسلمانوں کو ان کے قبلہ سے کس نے پھیر دیا جس پر وہ تھے۔ (سورۃ البقرۃ آیت ۱۴۲)
اس آیت میں صراحۃً مذکور ہے کہ مسلمانوں کا کوئی ایسا قبلہ تھا جس سے انہیں دوسرے قبلہ کی طرف پھیر دیا گیا اور یہ بات بھی قرآن مجید میں صراحت سے بیان کردی گئی ہے کہ پہلا قبلہ بھی اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا تھا چنانچہ دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے۔
وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْہَآ اِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ (سورۃ البقرہ آیت ۱۴۳) یعنی اے رسول آپ اس سے پہلے جس قبلہ پر تھے اسے ہم نے اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اُلٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔
یہاں صراحۃً مذکور ہے کہ وہ پہلا قبلہ اللہ تعالیٰ ہی نے مقرر فرمایا تھا لیکن سارے قرآن میں اس کے مقرر کرنے کا حکم کہیں بھی مذکور نہیں نہ ہی یہ مذکور ہے کہ اس قبلہ کا نام کیا ہے؟ حالانکہ تحویل قبلہ سے پہلے اس کا قبلہ ہونا اسلامی حکم تھا اور اس کے قبلۂ اولیٰ ہونے کا اعتقاد قیامت تک اسلامی عقیدہ رہے گا جس کا ثبوت صرف سنت اور حدیث سے ملتا ہے۔ قرآن پاک میں اس کی کوئی صراحت نہیں پائی جاتی۔
ثابت ہوا کہ جس حکم کی صراحت قرآن مجید میں نہ ہو اسے مطلقاً غیر اسلامی کہنا قطعاً باطل ہے۔ ان ہر دو آیتوں سے منکرینِ رجم کے مغالطہ کی یہ دوسری بنیاد بھی منہدم ہوگئی کہ رسول اللہﷺ کا اپنا قول و فعل دلیلِ شرعی نہیں اور یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کا حکم اور اس کی وحی قرآن پاک میں منحصر نہیں بلکہ رسول اللہﷺ کی سنت اور حدیث بھی وحی الٰہی اور حکمِ خداوندی ہے اور قطعی الثبوت ہونے کی صورت میں دونوں کا حکم یکساں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قرآن وحی جلی اور وحی متلو ہے اور حدیث وحی خفی اور وحی غیر متلو ہے۔ احکام شرع دونوں سے ثابت ہوتے ہیں۔ کتاب و سنت دونوں حجت شرعیہ ہیں اور یہ دین کی اصل عظیم ہیں ان کا انکار پورے دین کے انکار کے مترادف ہے جس کی تفصیل انشاء اللہ عنقریب نمبر۲ کے ضمن میں آئے گی۔
(۲) منکرینِ رجم کے مغالطہ کی دوسری بنیاد کہ حدیث و سنت چونکہ رسول کا  اپنا قول و فعل ہے اس لئے وہ کوئی شرعی دلیل نہیں۔
اگرچہ بیان سابق کی روشنی میں قرآنی دلیل سے پہلی بنیاد کے ساتھ یہ بھی منہدم ہوچکی ہے۔ تاہم اس ضمن میں کچھ مزید تفصیلات کا سامنے لانا ضروری ہے۔
اس بحث میں سب سے پہلے بعثتِ رسول کے مقصد اور رسالت کے منصب کی وضاحت قرآن مجید کی روشنی میں ضروری ہے تاکہ رسول کے قول و فعل کی حیثیت کتاب اللہ سے متعین ہوجائے۔


مقصدِ بعثت:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط (سورۃ النساء آیت ۶۴)
یعنی ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے۔
یہاں باذن اللّٰہ کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ رسول ہونے کی حیثیت سے رسول اللہ کا کوئی قول اور فعل اللہ کے اذن کے بغیر نہیں ہوتا یعنی وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا اور اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتا وہ جو کچھ کہتا ہے یا کرتا ہے اذنِ الٰہی سے کہتا اور کرتا ہے۔ اس لئے اس کی اطاعت اللہ کے اذن ہی سے ہوگی۔ لہٰذا رسول ہونے کی حیثیت سے رسول کا ہر قول اور ہر فعل حجت اور دلیلِ شرعی قرار پائے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بار بار رسول کی اطاعت کا حکم دیا اور جابجا فرمایا۔
وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (سورۃ الانفال آیت ۴۶) یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (سورۃ المائدہ آیت ۹۳) اور اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو۔ نیز فرمایا قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (سورۃ آلِ عمران آیت ۳۱) اے رسول آپ فرمادیجئے، اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا۔ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ
اے ایمان والو! (پیروی میں) تمہارے لئے رسول کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ (سورۃ الاحزاب آیت ۲۱)
ان تمام آیات میں رسول کی بعثت کا مقصد یہی بتایا گیا ہے کہ رسول کے ہر قول و فعل میں اس کی اتباع اور اطاعت کی جائے اور چونکہ رسول کا کوئی قول یا فعل اذنِ الٰہی کے بغیر نہیں ہوتا اس لئے اس کی اطاعت عین اطاعتِ الٰہیہ ہے۔ اسی لئے فرمایا۔
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ (سورۃ النساء آیت ۸۰)
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
ان آیاتِ قرآنیہ میں مقصدِ بعثت کے بیان سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول کی ذات مرکزِ اطاعت ہے اسی کا حکم مانا جائے گا۔ قانون کا سرچشمہ صرف رسول کی ذات ہے۔ اس کا ہر قول اور فعل جو بحیثیت رسول سرزد ہو۔ حجت اور دلیل شرعی اور واجب الاتباع ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے بطور فیصلہ فرمادیا
وَمَآ اٰ تٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا (سورۃ الحشر آیت ۷)
اور جو کچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو اور جس چیز سے منع فرمائیں اس سے رک جاؤ
ان آیات سے مقصدِ بعثت کے ساتھ منصبِ رسالت پر بھی روشنی پڑتی ہے اور یہ بات بے غبار ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ رسول کی ہر بات اور ہر عمل خواہ اس کی صراحت قرآن میں موجود ہو یا نہ ہو بہرصورت قانون کی حیثیت رکھتا ہے۔


منصبِ رسالت:
اگرچہ مقصدِ بعثت کے ضمن میں منصبِ رسالت پر روشنی پڑچکی ہے لیکن تائیدِ مزید کے لئے حسب ذیل آیات قرآنیہ سے بھی ہم اس موضوع کی وضاحت کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔
وَاَ نْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَیْہِمْ (سورۃ النحل آیت ۴۴)
اور ہم نے آپ کی طرف ذِکر (قرآن) اس لئے نازل کیا کہ آپ لوگوں کے لئے وہ سب کچھ بیان فرمادیں جو (انہیں بتانے کیلئے) ان کی طرف اتار گیا۔
معلوم ہوا کہ قرآن کے مرادی معنیٰ کا بیان منصبِ رسالت ہے کسی دوسرے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ قرآن کے معانی اپنی طرف سے بیان کردے۔ نیز فرمایا
وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ (النحل آیت ۸۹)
اور ہم نے آپ پر کتاب اتاری کہ وہ (آپ کے لئے) ہر چیز کا روشن بیان ہے
اس آیت میں منصب رسالت پر روشنی پڑتی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کا ہر چیز کے لئے روشن بیان ہونا منصبِ رسالت ہی کی شان ہے اب یہ رسول کا کام ہے کہ لوگوں کے لئے جو کچھ نازل ہوا وہ ان کے لئے بیان فرمادیں جیسا کہ سورۃ النحل کی آیت ۴۴ میں بیان ہوا نیز فرمایا
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ (آل عمران آیت ۱۶۴)
بے شک اللہ نے ایمان والوں پر احسان فرمایا جب اُن کے نفسوں میں سے ان میں رسول بھیجا وہ ان پر اللہ کی آیتیں تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں رسالت کے تین منصب بیان فرمائے ہیں۔
(۱) تلاوت آیات (۲) تزکیۂ نفوس (۳) تعلیم کتاب و حکمت
ظاہر ہے کہ تلاوتِ آیات تو قرآن کی قرأت ہی ہے مگر تزکیہ اور تعلیم رسول کے قول و فعل کے بغیر ممکن نہیں اس لئے رسول کے قول اور فعل کا حجت اور دلیل شرعی ہونا یقینی ہے، ورنہ منصبِ رسالت بے معنی ہوکر رہ جائے گا۔
اس آیت کے ضمن میں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ جو لوگ کتاب کے سوا کسی چیز کو
مُنَزَّلْ مِنَ اللّٰہِ نہیں مانتے وہ سخت غلطی پر ہیں۔
ابھی آپ کو معلوم ہوچکا ہے کہ منصبِ رسالت میں کتاب و حکمت دونوں کی تعلیم شامل ہے اور جس طرح کتاب
مُنَزَّلْ مِنَ اللّٰہِ ہے اسی طرح حکمت بھی مُنَزَّلْ مِنَ اللّٰہِ ہے۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ (البقرۃ آیت ۲۳۱) یعنی یاد کرو اللہ کی نعمت جو تم پر ہے اور وہ چیز جو اللہ نے تم پر نازل کی کتاب سے اور حکمت سے نیز فرمایا وَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمْ (النساء آیت ۱۳۳) اور اے رسول! اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی اور آپ کو وہ سکھایا جو آپ نہ جانتے تھے۔
ان دونوں آیتوں میں کتاب کے ساتھ حکمت کے نازل ہونے کی صراحت بھی موجود ہے۔ حکمت کے معنیٰ ہیں چیزوں کو نامناسب جگہ سے روکنا اور مناسب جگہ پر حسنِ ترتیب کے ساتھ رکھنا۔ گویا قرآن کے معانی کو عملی جامہ پہنانے اور اس کی راہوں کے متعین کرنے کا نام حکمت ہے جس کی تعلیم بھی منصبِ رسالت میں شامل ہے قول اور عمل رسول کے بغیر اس کا تحقق نہیں ہوسکتا۔ اس لئے رسول کے اقوال و افعال کو حجت اور دلیل شرعی تسلیم کرنا واجب ہے۔
یہ حقیقت آفتاب سے زیادہ روشن ہے کہ منصبِ رسالت کا مقتضیٰ یہی ہے کہ رسول کا ہر قول و فعل منصبِ رسالت کے ضمن میں حجت اور دلیل شرعی قرار پائے۔ اس کے بغیر کتاب و حکمت کا سمجھنا اور اس پر عمل کرنا کسی طرح ممکن نہیں۔ دیکھئے قرآن مجید میں
اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ کا حکم بے شمار جگہ موجو د ہے کہ نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو لیکن پورے قرآن میں کسی جگہ نماز پڑھنے کا طریقہ اور اس کی ترتیب مذکور نہیں۔ نمازوں کی تعداد کا ذِکر بھی قرآن میں نہیں نہ کسی نماز کی رکعتوں کی تعداد قرآن میں مذکور ہے نماز کی صفت، کیفیت، ترتیب و دیگر مسائل کا ذکر قرآن میں مصرح نہیں اسی طرح مقادیر زکوٰۃ کہ کس چیز کی کتنی زکوٰۃ دی جائے مقدارِ نصاب و دیگر شرائط و احکامِ زکوٰۃ قرآن میں نہیں پائے جاتے حج کے سب احکام اور روزہ کے تمام مسائل کی تفصیل قرآن میں کہیں نہیں پائی جاتی۔
یہ جملہ احکام اور مسائل احادیث صحیحہ میں وارد ہیں اور عہد رسالت سے لیکر آج تک اُمتِ مسلمہ کے معمولات میں شامل ہیں کسی نے انہیں خلافِ قرآن کہنے کی جرأت نہیں کی۔ ان تمام احکام و مسائل کا بیان منصبِ رسالت میں شامل ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے منصب کے مطابق انہیں بیان فرمایا اور امتِ مسلمہ نے انہیں قبول کرکے ان کے مطابق عمل کیا۔
اللہ تعالیٰ کے احکم الحاکمین ہونے میں کوئی شک نہیں حقیقی حکم اسی کا ہے اور احکم الحاکمین حقیقی وہی ہے اور یہ حقیقت بھی شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنا نائب بنایا، قانون، حکم اور ہر فیصلہ کا بنیادی مرکز اور سرچشمہ اپنے رسول ہی کی ذات کو قرار دیا اور قرآن مجید میں اعلان فرمایا۔
فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (النساء آیت ۶۵)
اے رسول! آپ کے رب کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ وہ اپنے ہر اختلاف میں آپ کو حاکم مانیں۔ پھر جو بھی آپ فیصلہ کردیں اپنے دل میں اس سے تنگی محسوس نہ کریں اور دل و جان سے اسے پوری طرح مان لیں۔
یہ آیت کریمہ علیٰ رؤوس الاشہاد اعلان کر رہی ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کے رسول ہی حاکم ہیں۔ انہیں اختیار ہے کہ وہ اللہ کے نائب ہونے کی حیثیت سے جو چاہیں فیصلہ فرمادیں
(مِمَّا قَضَیْتَ) میں مَا عام ہے ان کے ہر فیصلہ کو (خواہ وہ قرآن میں مذکور ہو یا نہ ہو) بلا چون و چرا تسلیم کرنا مدار ایمان ہے اس کے بعد بھی رسول کے قول و فعل کو حجت شرعیہ نہ سمجھنا ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔
(۳) منکرین رجم کے مغالطہ کی تیسری بنیاد یہ ہے کہ قرآن مجید میں زنا کی سزا سو کوڑے مارنا مقرر کی گئی ہے رجم کا قول قرآن کی مقرر کی ہوئی حد کے خلاف ہے۔
اس کا ازالہ یہ ہے کہ ہر زانی کی سزا کسی کے نزدیک بھی رجم نہیں ہے۔ یہ سزا صرف اس کے لئے ہے جو آزاد اور شادی شدہ ہو۔ قرآن میں زانی کی سزا سو کوڑے بیان کی گئی ہے مگر وہاں آزاد شادی شدہ کی قید مذکور نہیں۔ اگر آیت قرآنیہ میں یہ قید پائی جاتی تو رجم کی سزا کو قرآن کے خلاف کہنا صحیح ہوتا۔
ابتدائے اسلام میں سورئہ نساء کے نازل ہونے تک زِنا کی کوئی حد مقرر نہیں ہوئی تھی۔ صرف یہ حکم نازل ہوا تھا کہ کسی عورت سے بدکاری سرزد ہوجائے تو اس پر چار مسلمان مرد گواہ بنائے جائیں اور تاحیات اس عورت کو گھر میں بند رکھا جائے اور اگر دو مرد بے حیائی کا کام کریں تو انہیں تکلیف پہنچائی جائے۔
چنانچہ سورۂ نساء میں ارشاد فرمایا:-
وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَہِدُوْا فَاَمْسِکُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰہُنَّ الْمَوْتُ اَوْیَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاًO وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا مِنْکُمْ فَاٰذُوْہُمَا ج فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْہُمَا ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًاO (النساء آیت ۱۵-۱۶)
اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کرے اس پر چار مسلمان مرد گواہ بنالو۔ اگر وہ گواہی دیدیں تو انہیں گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے۔ یا اللہ اُن کے لئے کوئی راستہ مقرر کردے اور تم میں سے دو مرد جو بدکاری کریں تو انہیں تکلیف پہنچاؤ۔ اس کے بعد اگر وہ توبہ کرلیں اور ٹھیک ہوجائیں تو ان کی طرف توجہ نہ کرو بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا، رحمت فرمانیوالا ہے۔
اس آیت میں بدکار عورتوں کا یہ حکم بیان کیا گیا کہ انہیں گھروں میں بند رکھا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائیں یا ان کے مرنے سے پہلے اللہ ان کے لئے کوئی راہ پیدا کردے۔ یعنی حد کا کوئی حکم نازل فرمادے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور ان کے لئے ایک سبیل پیدا کردی جس کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس طرح فرمائی
لہن سبیلا یعنی الرجم للثیب والجلد للبکر (بخاری شریف جلد ثانی ص ۶۵۷) یعنی ان بدکار عورتوں کے لئے جو سبیل اللہ نے مقرر فرمائی وہ یہ ہے کہ شادی شدہ کے لئے رجم ہے اور کنواری کے لئے کوڑے ہیں۔ غیر شادی شدہ آزاد بدکار عورت کا حکم آیت کریمہ اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ میں مذکور ہے یعنی (آزاد غیر شادی شدہ) زانیہ اور (آزاد غیر شادی شدہ) زانی کا حکم یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور شادی شدہ آزاد زانی و زانیہ کے لئے قرآن مجید میں رجم کی آیت نازل ہوئی تھی مگر اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی اور حکم باقی رہا۔
بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا لوگو! میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں جس کا کہنا میرے لئے مقدر کردیا گیا ہے۔ میں نہیں جانتا شاید میری موت میرے سامنے ہو۔ جو شخص میری بات کو سمجھ کر اسے یاد رکھے اسے چاہیے کہ جہاں تک وہ پہنچ سکتا ہو، وہاں تک میری بات لوگوں کو بتا دے اور جسے خوف ہو کہ اس بات کو نہ سمجھ سکے گا تو میں اسے اپنے اوپر جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دیتا وہ بات یہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان پر کتاب نازل فرمائی جو کچھ اللہ نے کتاب میں نازل فرمایا اس میں رجم کی آیت بھی تھی۔ ہم نے وہ آیت پڑھی اور اسے سمجھا اور اسے یاد رکھا۔ رسول اللہﷺ نے رجم کیا اور حضور کے بعد ہم نے بھی رجم کیا مجھے خوف ہے کہ طویل زمانہ گزر جانے کے بعد کوئی کہنے والا کہدے کہ خدا کی قسم اللہ کی کتاب میں ہم رجم کی آیت نہیں پاتے تو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے فریضہ کو ترک کرکے گمراہ ہوجائیں۔ اللہ کی کتاب میں رجم حق ہے ہر اس آزاد مرد اور عورت پر جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا بشرطیکہ شرعی گواہ قائم ہوجائیں یا (عورت کا) حمل ظاہر ہوجائے یا اقرار ہو۔ (بخاری شریف جلد ثانی ص ۱۰۰۹، مسلم شریف ج ۲ ص ۶۵، موطا امام مالک ص ۲۴۹)
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ قرآن مجید کی آیت
اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ میں سو کوڑوں کی سزا کا ذِکر آزاد غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لئے ہی ہے اور رجم کی سزا کا تعلق غیر شادی شدہ سے نہیں بلکہ وہ شادی شدہ کے لئے مخصوص ہے۔ صرف اتنی بات ہے کہ غیر شادی شدہ کی سزا قرآنِ پاک کے الفاظ میں صراحۃً مذکور ہے اور شادی شدہ کی سزا صراحۃً حدیث اور سنت نبوی میں وارد ہے اور ہم بار ہا بتا چکے ہیں کہ وہ احادیث جن میں رجم کی سزا مذکور ہے وہ متواترۃ المعنیٰ ہونے کی وجہ سے قطعی الثبوت ہیں جس طرح قرآن کی آیات وحی الٰہی ہیں اسی طرح سنت اور حدیثِ نبوی بھی وحی الٰہی ہے اور اسی بناء پر اس کا دلیل شرعی ہونا ہم قرآن مجید سے ثابت کرچکے ہیں۔ جو چیز قرآن سے ثابت ہو، اس سے جس حکم کا ثبوت ہوجائے وہ عین قرآن کے مطابق ہے اسے خلافِ قرآن کہنا کسی طرح درست نہیں۔
ہم ابھی بتا چکے ہیں کہ قبلۂ اولیٰ کے قبلہ ہونے کا حکم قرآن میں وارد نہیں بلکہ حدیث سے ثابت ہے اسی طرح پانچ نمازیں، ان کی تعداد رکعات اور ادا کرنے کی ترکیب مثلاً نماز میں رکوع، سجود، قیام اور قعود اور ان سب ارکان کی ترتیب سب سنت نبوی سے ثابت ہے۔ اگر سنت اور حدیث کو نظر انداز کرکے صرف
اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ کو سامنے رکھ لیا جائے تو نہ اقامتِ صلوٰۃ کے حکم پر عمل ہو سکتا ہے نہ ہی ایتاء زکوٰۃ کے فریضہ سے سبکدوش ہونا ممکن ہے اس لئے سنت اور حدیث کو لازمی طور پر تسلیم کرنا پڑے گا تاکہ قرآن کے معنیٰ سمجھ میں آجائیں اور مرادِ الٰہی کے مطابق احکام قرآنیہ پر عمل کرنا ممکن ہو۔
آیتِ رجم کا نزول اور اس کا منسوخ التلاوۃ ہونا احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں واضح ہوچکا ہے اس کے باوجود ہم نزولِ الفاظ، اور نسخِ تلاوۃ کے قطعی اور متواتر ہونے کا قول نہیں کرتے لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ رجم کے معنیٰ تواتر اور قطعیت کے ساتھ قرآن پاک میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَعِنْدَہُمُ ا لتَّورٰۃُ فِیْہَا حُکْمُ اللّٰہِO (المائدہ آیت ۴۳) اور اے رسول! (وہ یہودی) کس طرح آپ کو اپنا حَکَم بناتے ہیں حالانکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم پایا جاتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں لفظ
حُکْمُ اللّٰہِ کے معنیٰ متواتر صرف رجم ہیں اور رسول اللہﷺ سے لیکر آج تک یہی معنیٰ تواتر سے منقول ہوتے چلے آئے جس طرح قرآن کے الفاظ منقولہ متواترہ قرآن ہیں بالکل اسی طرح الفاظ قرآن کے معانی منقولہ متواترہ بھی قرآن ہیں اسی لئے کہا گیا کہ القرآن اسم للنظم والمعنی جمیعا یعنی قرآن لفظ اور معنیٰ کے مجموعہ کا نام ہے، بے شک لفظ رجم اس آیت میں صراحۃً مذکور نہیں لیکن حُکْمُ اللّٰہِ کے معنیٰ چونکہ رجم ہی ہیں اس لئے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ رجم کے معنیٰ اللہ کی کتاب میں حق ہیں کتاب اللہ میں اگر کسی نے رجم کی نفی کی ہے تو اس سے مراد صرف لفظ رجم ہے اس کے معنیٰ کی نفی مراد نہیں اور معنیٰ جب تواتر سے ثابت ہیں تو یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ قرآن میں رجم حق ہے یعنی اس کا حکم موجود ہے اس کے بعد یہ حقیقت خوب واضح ہوجاتی ہے کہ اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ میں سو کوڑوں کی سزا آزاد کنوارے غیر شادی شدہ لوگوں کے لئے ہی مخصوص ہے اور شادی شدہ آزاد مرد و عورت کی سزا رجم ہے اور ان دونوں سزاؤں میں قطعاً کوئی تعارض نہیں اس لئے کہ دونوں کا محل جداگانہ ہے سورۃ النور کی آیت میں جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ غیر شادی شدہ مجرم مراد ہیں اور حکم اللّٰہ یعنی رجم شادی شدہ آزاد مجرموں کے لئے ہے۔
اب اچھی طرح واضح ہوگیا کہ رجم کی سزا قرآنی سزا ہے اور اسے غیر اسلامی قرار دینا باطل محض اور قرآن کے خلاف ہے یہاں یہ شبہ کہ یہ لفظ حکم اللّٰہ بمعنیٰ رجم تورات میں پایا جاتا ہے۔ قرآن سے اس کا کوئی تعلق نہیں، ہر گز صحیح نہ ہوگا اس لئے کہ تورات کے جس حکم کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حکم اللّٰہ فرمادیا اور اسے برقرار رکھا تو وہ اب بعینہٖ قرآن کا حکم ہے اور اس کے قرآنی حکم ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوسکتا۔
رجم کی سزا کو مائۃ جلدۃ کے خلاف سمجھنے والے اسی غلط فہمی کا شکار ہیں کہ سو کوڑوں کی سزا ہر قسم کے زنا کے لئے ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں۔

اگلا صفحہ

ہوم پیج