تکمِلہ

عورت کی دیت کو مرد کی دیت کے مساوی کہنے والے سورۂ النساء کی آیت قتل خطاء میں مؤمناً کے عموم میں مطلقاً ہر مومن اور ہر مومنہ کو شامل کرتے ہیں اور دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ میں مقدار دیت کو سو اونٹ میں منحصر کرکے مومنہ کی دیت سو اونٹ ثابت کرتے ہیں۔
اس کے برعکس ہمارا مؤقف یہ ہے کہ لفظ مومن مذکر کا صیغہ ہے۔ وہ اپنے وضعی اور حقیقی معنیٰ کے اعتبار سے مومنہ کو شامل نہیں اور آیت کریمہ میں لفظ مومن کو علی الاطلاق مومن اور مومنہ کے ہر فرد کے لئے عام کرنا بھی درست نہیں مثلاً ہماری دشمن قو م سے (دارالحرب میں رہنے والا) مسلمان مرد ہو یا عورت اس لفظ مومن میں ہر گز شامل نہیں۔ البتہ اس آیت کریمہ میں لفظ مومن اصالۃً مومنین کے اور تبعاً و تغلیباً مومنات کے ان تمام افراد کو عام ہے جن کے لئے عصمتِ مؤثمہ کے ساتھ عصمت متقومہ بھی ثابت ہو یعنی اسلام کی وجہ سے جن کی جان کو تلف کرنا شرعاً ممنوع ہو اور ساتھ ہی دارالاسلام میں اقامت پذیر ہونے کی وجہ سے جن کی جانیں اور اموال شرعاً محفوظ ہوں۔ تنہا عصمتِ مؤثمہ موجب کفارہ ہوجاتی ہے۔ موجب دیت نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ دشمن قوم سے کسی مسلمان کو بطور خطا قتل کردینا موجب کفارہ ہوسکتا ہے لیکن عصمت متقومہ یعنی دارالاسلام میں قیام پذیر ہونے کی وجہ سے (عام اس سے کہ مقیم مسلمان ہو یا کافر، آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، اور کافر بھی مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ کافرذمی یا مستامن ہوکر دارالاسلام میں مقیم ہو۔ اگر ان میں سے کسی کو کوئی مسلمان خطاء ً قتل کردے تو اس کے قتل میں کفارہ کے ساتھ دیت بھی ضرور واجب ہوگی۔ عصمت متقومہ ہی وجوبِ دیت کا سبب ہے۔
ہمارے اجلہ فقہاء اور مفسرین کرام نے تصریح کی ہے کہ شرطِ وجوبِ دیت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک عصمت، یعنی معصوم الدم ہونا، دوسری تقوم یعنی دارالسلام میں اقامت پذیر ہونا۔ اگر کوئی شخص مسلمان ہونے کی وجہ سے معصوم الدّم ہو لیکن دار السلام میں قیام نہیں رکھتا۔ بلکہ دارالحرب میں ہے تو اس کے قتلِ خطاء میں صرف کفارہ ہے، دیت نہیں۔ وجوبِ دیت کے لئے ضروری ہے کہ مقتول اسلام یا میثاق یا استیمان کی وجہ سے معصوم الدم بھی ہو اور دارالاسلام میں قیام پذیر بھی ہو اس میں مرد، عورت، آزاد، غلام، مومن، ذمی، مستامن (کافر) سب کا حکم یکساں ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے
شرط اصل الوجوب فنوعان احدہما العصمۃ وہو ان یکون المقتول معصوما
یعنی اصل وجوب دیت کی شرط دو قسم ہے: ایک عصمت، یعنی مقتول کا معصوم الدم ہونا، اس کے بعد آگے چل کر فرماتے ہیں:
الثانی التقوم وہو ان یکون المقتول متقوما
شرط کی دوسری قسم تقوم ہے، یعنی مقتول کا دارالاسلام میں مقیم ہونا، بدائع الصنائع: ج ۷، ص ۲۵۲، زیلعی علی الکنز: ج ۲، ص ۱۲۸، تکملہ بحرالرائق ج ۸، ص ۳۲۹، مجمع الانہر ج ۲، ص ۶۳۹، تفسیر مظہری ج ۲، ص ۱۹۲)
اس مقام پر یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ وجوب دیت کی دلیل سورۃ النساء کی یہی ایک آیت ہے جس میں دو جگہ
دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ کے الفاظ وارد ہیں۔ بدائع الصنائع میں ہے۔
ان وجوب الدیۃ لم یعرف الابنص الکتاب العزیز وہو قولہ تبارک وتعالی: وَمَنْ قَتَلَ مُؤْ مِنًا خَطَأً فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْ مِنَۃٍ وَّ دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ
یعنی وجوبِ دیت کی معرفت ہمیں قرآن مجید کی صرف اس آیت سے حاصل ہوئی
وَمَنْ قَتَلَ مُؤْ مِنًا خَطَأً (ا لآیہ)۔ ثابت ہوا کہ وجوب دیت کی دلیل یہی آیت ہے اور لفظ دیت میں دونوں جگہ اصالۃً یا تبعاً سب دیات شامل ہیں اور وہ احادیث جن میں مرد، عورت، غلام یا ذمی کی دیت کا ذِکر آیا ہے ان سب کی بنیاد بھی یہی آیت کریمہ ہے اور وہ سب احادیث اسی قرآنی دیت کی مقدار کے اجمال کا بیان ہیں۔ اگرچہ لفظ مومن مذکر ہی کے لئے وضع کیا گیا ہے، عورت اس صیغہ میں شامل نہیں مگر بدلیل وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ اور اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَائِ مرد اصل کا درجہ رکھتا ہے اور عورت تبعاً مرد کے حکم میں شامل اور اس کے ساتھ ملحق ہے، جس طرح قتل کی وہ اقسام جو آیت میں مذکور نہیں اور ا ن میں دیت واجب ہوتی ہے، وجوب دیت میں وہ قتلِ خطاء کے ساتھ ملحق ہیں یا جیسے مستامن، وجوب دیت میں ذمی کے ساتھ ملحق ہے، قرآن مجید میں اس کی واضح مثالیں موجود ہیں، مثلاً حَتّٰی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیْنَۃِ میں تثنیہ کی ضمیر کا مرجع صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام ہیں، کیوں کہ وہی دونوں اصل ہیں۔ اگرچہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام بھی ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے۔ (قسطلانی شرح بخاری ج ۷، ص ۲۵۲)
لیکن ان کا ذِکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ اصل کے ساتھ تابع کا ذِکر ضروری نہیں ہوتا، وہ اپنی اصل کے حکم میں تبعاً شامل ہوتا ہے۔ اسی نوعیت سے اکثر احکامِ شرعیہ میں عورتوں کا مردوں کے حکم میں شامل ہونا قرآن مجید میں بکثرت وارد ہے۔ مثلاً
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ o لَا تَجْعَلُوْا دُعَآئَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآئِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا اور لَا تَرْفَعُوْآ اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ
یہ سب مذکر کے صیغے ہیں اور اصالۃً مردوں کے لئے نازل ہوئے لیکن ان میں عورتیں بھی مردوں کے ساتھ تبعاً شامل ہیں۔ صراحۃً عورتوں کے ذِکر کے ساتھ احکام نازل نہ ہونے کی بناء پر ہی حضرت ام عمارہ انصاریہ رضی اللہ عنھا نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا تھا۔
ماارٰی کل شئ الاللرجال وما اری للنساء یذکرن بشئ فنزلت، اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ (الآیۃ)
یعنی میں ہر چیز میں مردوں ہی کا ذِکر دیکھتی ہوں، عورتوں کا ذِکر کسی شے میں نہیں پاتی۔
اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی
اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ(الآیہ) (جامع ترمذی ج ۲، ص ۱۵۲، ۱۵۳)
حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے تحت اسی حدیث کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بروایت امام احمد و نسائی اور ابن جریر، نقل کیا (تفسیر ابن کثیر ج ۳، ص ۴۸۷)
سورئہ احزاب کی آیت
اَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ میں بھی یہی حکمت پائی جاتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ سورۂ احزاب ۵ ؁ھ میں نازل ہوئی۔ جب کہ نماز مردوں اور عورتوں پر بہت پہلے ہی فرض ہوچکی تھی مگر اقامتِ صلوٰۃ کا حکم سورۂ احزاب سے پہلے ہی مذکر ہی کے صیغوں کے ساتھ نازل ہوا تھا۔ عورتوں پر صلوٰۃ و زکوٰۃ کی فرضیت مردوں کے ساتھ تبعاً ثابت تھی۔
خلاصہ یہ کہ آیتِ قتلِ خطا میں لفظ دیت دونوں جگہ اصالۃً مردہی کے لئے ہے جیسا کہ امام محمد بن حسن شیبانی اور ابوبکر جصاص رحمۃ اللہ علیہما نے فرمایا اور اسی بنیاد پر انہوں نے ذمی کی دیت کو مسلمان کی دیت کے برابر ثابت کیا لیکن انہوں نے مقدار دیت کے اجمال کی مطلقاً نفی کرکے وجوبِ دیت میں کسی کے تبعاً شامل ہونے کا انکار نہیں فرمایا اور بالنسبۃ الی کتاب اللہ، مقدار میں دیت کو مجمل اور مبہم ہی قرار دیا۔ ذمی کے مرد ہونے کی حیثیت سے عرف و عادت میں اس کی دیت سو اونٹ متعارف تھی مگر ذمی ہونے کی حیثیت سے متعارف نہ تھی۔ امام ابوبکر جصاص نے ذمی کی دیت کا ابہام دور کرنے کے لئے وہ حدیثیں وارد کیں جن میں ذمی کی مقدار دیت کا بیان ہے اور بعض مفسرین، جیسے امام قرطبی نے ان احادیث کو وارد کیا، جن میں مرد کی مقدارِ دیت کا بیان ہے اور بعض دوسرے مفسرین و محدثین نے مقدارِ دیت کے اجمال کے بیان میں ان احادیث کو وارد کیا، جن میں مومن مرد، عورت اور غلام سب کی مقدارِ دیت وارد ہے، جیسے صاحبِ تفسیر مظہری کہ انہوں نے مقدار دیت کو مجمل کہہ کر اس کے بیان میں مرد، عورت اور غلام سب کی مقدارِ دیت پر مشتمل احادیث کو وارد کر کے مقدارِ دیت کے اجمال و ابہام کا بیان وارد فرمایا اور امام محمد بن نصر مروزی نے مقدار دیت کو مبہم اور مجمل کہہ کر مردوں اور عورتوں، دونوں کی مقدار دیت پر مشتمل احادیث کو اپنی کتاب السنۃ میں وارد فرماکر اس اجمال و ابہام کا بیان فرمایا۔
کسی شخص کا یہ کہنا کہ لفظ دیت بیان مقدار میں بالکل مجمل نہیں، قطعاً غلط اور واقع کے خلاف ہے۔ امام ابوبکر جصاص نے بھی ذمی کی دیت کو بحیثیت ذمی ہونے کے مبہم اور مجمل مانا ہے۔ اس کے بیان میں انہوں نے رسول اللہﷺ کی حدیثیں وارد کی ہیں اور دیت مومن کو بھی اجلہ مفسرین نے باعتبارِ مقدار مبہم اور مجمل کہا۔ جس کے بیان میں انہوں نے مومن، مومنہ، عبد و حُر سے متعلق احادیث مقدار دیات کو وارد کیا۔ جن سے ہر ایک کی مقدار دیت کا بیان ہمارے سامنے آگیا۔ جیسا کہ پہلے بیان کرچکا ہوں۔
دیت مومن میں مومنہ کی دیت کو شامل نہ مانے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ امام ابوبکر جصاص نے لفظ دیت کو صرف مرد کی دیت کے لئے خاص کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ عورت کی دیت کو دیت نہیں کہا جاتا جب تک کہ اسے
نصف الدیۃ یا دیۃ المرأۃ کی قید کے ساتھ مقیّد نہ کیا جائے۔ چنانچہ مسلم و ذمی کی دِیت کے مساوی ہونے کی بحث میں امام جصاص تحریر فرماتے ہیں۔
ان دیۃ المرأۃ لا یطلق علیہا اسم الدیۃ وانما یتناولہا الا اسم مقیدا ألاتری انہ یقال دیۃ المرأۃ نصف الدیۃ
یعنی عورت کی دیت پر
الدیۃ کا لفظ نہیں بولا جاتا، لفظ الدیۃ عورت کی دیت کو اسی وقت شامل ہوگا جب کہ وہ المرأۃ کی قید سے مقیّد ہو۔ دیۃ المرأۃ نصف الدیۃ کا مقولہ سب لوگ جانتے ہیں۔ (احکام القرآن ج ۲ ص ۲۹۰)
میں عرض کروں گا کہ اس میں شک نہیں کہ عورت کی دیت کے لئے
نصف الدیۃ اور دیۃ المرأۃ کے الفاظ مقیّد ہوکر بھی اکثر مستعمل ہیں، لیکن امام جصاص کے اس قول کو قاعدہ کلیہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے اکثر یہ قرار دیا جائے کیونکہ عورت کی دِیت پر الدیۃ کا لفظ قید مذکور کے بغیر متعدد احادیث و استعمالات میں وارد ہے بلکہ خود امام جصاص کے قول میں بھی لفظ الدیۃ اس قید کے بغیر اسی احکام القرآن میں موجود ہے۔ دیکھئے عورت کی دیت کے بارے میں وہ فرماتے ہیں۔
ان النبی ﷺ اوجب الدیۃ علی عاقلۃ القاتلۃ (ج ۲، ص ۲۸۰)
یہاں امام جصاص نے لفظ
الدیۃ کو صرف عورت کی دیت کے لئے استعمال کیا ہے۔ بخاری شریف میں مرد و عورت دونوں کے لئے لفظ الدیۃ اس قید کے بغیر متعدد مقامات پر وارد ہے۔ دیکھئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کان فی بنی اسرائیل القصاص ولم تکن فیہم الدیۃ اسی صفحہ پر دوسری جگہ ہے فالعفو ان یقبل الدیۃ فی العمد تیسری جگہ وارد ہے فَمَنْ اعْتَدیٰ بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌo قتل بعد قبول الدیۃ ج ۲، ص ۶۴۶ اور ج ۲ ص ۱۰۱۶ پر ہے عن مجاہد عن ابن عباس قال کان فی بنی اسرائیل قصاص ولم تکن فیہم الدیۃ اسی صفحہ پر دوسری جگہ ہے قال ابن عباس فالعفو ان یقبل الدیۃ فی العمد ان تمام مقامات پر لفظ الدیۃ مرد اور عورت دونوں کی دِیت کے لئے ہے صرف عورت کی دیت کے لئے بھی قید مذکور کے بغیر لفظ الدیۃ متعدد احادیث میں وارد ہے۔ نسائی شریف میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فقضٰی رسول اللہﷺ علی عصبۃ القاتلۃ بالدیۃ ان کی ایک اور روایت میں ہے فقضٰی رسول اللہﷺ بالدیۃ علی عصبۃ القاتلۃ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے فقضی علی العاقلۃ الدیۃ (نسائی ج ۲ ص ۲۱۶) ان سب روایات میں لفظ الدیۃ بلاقید صرف عورت کی دیت کے لئے وارد ہوا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ خود ابوبکر جصاص نے بھی ان روایات کو، جن میں بلا قید لفظ الدیۃ عورت کی دیت کے لئے وارد ہے۔ اپنی تفسیر احکام القرآن میں نقل فرمایا (دیکھئے ج ۲، ص ۲۷۹، ۲۸۰) واقعہ یہ ہے کہ بعض قواعد بظاہر قواعد کلیہ نظر آتے ہیں لیکن غور کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ کلیہ نہیں۔ جیسے نورالانوار میں قاعدہ بیان کیا النکرۃ اذا اعیدت معرفۃ کانت الثانیۃ عین الاولی واذا اعیدت نکرۃ کانت الثانیۃ غیر الاولیٰ (ص ۷۹) حالانکہ اس قاعدے کی کلیت آیت کریمہ وَہُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ اِلٰـہٌ وَّفِی الْاَرْضِ اِلٰـہٌ (سورۂ زخرف: آیت ۸۴) سے منقوض ہے۔
امام ابوبکر جصاص رحمۃ اللہ علیہ کی عظمتِ شان اور تبحر علمی حقیقتِ ثابتہ ہے۔ علماء نے انہیں فقہا کے چوتھے طبقہ (اصحابِ تخریج) میں شمار کیا اور بعض اہل علم نے ان کے رسوخ فی العلم اور کمال فضل و شرف کی بناء پر انہیں طبقہ ثالثہ (مجتہدین فی المسائل) کا اہل سمجھا۔ اس کے باوجود ان کے ساتھ بعض محققین کے مناقشات مشہور و معروف ہیں۔ مثلاً علامہ جمال الدین محمود ابن احمد البخاری الحصیری الکبیر (مولود ۵۴۲ھ متوفیٰ ۶۳۶ھ) اپنی شرح علی الجامع الکبیر للامام محمد بن حسن الشیبانی، مسمّٰی بہ التقریر میں ان مسائلِ کثیرہ میں امام جصاص کا مناقشہ کرتے ہیں۔ جن مسائل میں امام جصاص منفرد تھے۔ (مقدمہ الجامع الکبیر ص ۵) صرف یہی نہیں بلکہ علامہ ابن عابدین شامی نے لکھا
قال الصغار کثیر اماجر بنا الطحاوی فلم نجدہ غالطا وکثیرا ماجر بنا الجصاص فوجد ناہ غالطا (رد المحتار علی الدرالمختار ج ۲، ص ۲۱۶)
لیکن اتنی بات سے ائمۂ دین کے فضل و شرف میں کوئی نقص لازم نہیں آتا۔ دیکھئے امام ترمذی کیسے عظیم و جلیل امام المحدثین ہیں، انہوں نے اپنی جامع ترمذی میں حضرت ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا
لم یسمع من ابیہ ولا یعرف اسمہ (ص ۴) علامہ بدرالدین عینی نے امام ترمذی کا رد کرتے ہوئے طبرانی اور حاکم کی روایات سے ابوعبیدہ کی سماع اُن کے والد حضرت عبداللہ بن مسعود سے ثابت کی اور امام ترمذی کے قول ولا یعرف اسمہ کے خلاف ان کا نام عامر بتایا اور بروایت ابی عبیدہ عن عبداللہ ابن مسعود، جامع ترمذی ہی سے وہ تین حدیثیں نقل کیں جنہیں امام ترمذی نے حسن کہا ہے۔ امام عینی نے امام ترمذی پر رد کرتے ہوئے فرمایا ومن شرط الحدیث الحسن ان یکون متصل الاسناد عند المحدثین (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ص ۷۲۴، ج ۱) غور فرمایئے، امام ترمذی حضرت عبداللہ بن مسعود سے ابوعبیدہ کے سماع کا انکار کرچکے ہیں، اس کے بعد وہ تین حدیثوں کو کس طرح حسن قرار دے رہے ہیں جب کہ حدیث حسن کے لئے متصل الاسناد ہونا محدثین کے نزدیک شرط ہے۔ اسی طرح امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جو امیر المؤمنین فی الحدیث ہیں ان کے اوہام بھی محدثین کے نزدیک مشہور و معروف ہیں۔ مگر اس کے باوجود نہ امام ترمذی کا تساہل ان کی عظمتِ شان میں کسی قدح کا موجب ہے نہ امام بخاری کے اوہام ان کی جلالتِ شان میں کمی کا باعث ہیں۔ اسی طرح امام جصاص کی عظمتِ شان میں بھی کوئی نقص لازم نہیں آتا۔
اس کے بعد میں عرض کروں گا کہ کتبِ فتاویٰ میں اس مال کو دیت کہا گیا ہے جو جان کا بدلہ ہو۔ دُر مختار میں ہے
الدیۃ فی الشرع اسم للمال الذی ہو بدل النفس لا تسمیۃ للمفعول بالمصدرلانہ من المنقولات الشرعیۃ (الدرالمختار شرح تنویر الابصار، کتاب الدیات بہامش شامی ج ۵، ص ۶:۴) نیز یہ کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کا بعض حصہ نہیں بلکہ فی نفسہا وہ دیتِ کاملہ ہے لیکن وہ دیت انثیٰ ہے۔ (بدائع الصنائع ج ۷ ص ۲۵۸) جس طرح وجوبِ دیت کی دلیل سورۂ نساء کی آیت وَمَنْ قَتَلَ مُؤْ مِنًا خَطَائً میں دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ کے سوا کوئی اور نہیں، اسی طرح کفارۂ قتل کی دلیل بھی صرف یہی آیت کریمہ ہے فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ اب اگر لفظ مؤمنا میں مؤمنہ کو تبعاً بھی شامل نہ مانا جائے اور دیت و کفارہ کے حکم میں اس کے شمول کا قول نہ کیا جائے اور مقدار دیت کو مومن و مومنہ کے حق میں مجمل نہ مانا جائے، اور اس توجیہ کو تفسیر بالرّائ قرار د یا جائے تو مومنہ کے قتلِ خطاء میں نہ کفارہ ثابت ہوگا اور نہ دیت، جب کہ فتاویٰ قاضی خان میں ہے رجل ضرب امرأۃ فی ادب فماتت، قال ابوحنیفۃ رحمۃ اللّٰہ علیہ الدیۃ و الکفارۃ (قاضی خان بہامش عالمگیری ج ۳، ص ۴۴۴، طبع مصر) اس عبارت میں عورت کے قتلِ خطا میں وجوبِ کفارہ کی تصریح ہے اور ساتھ ہی عورت کی دیت کو بغیر قید کے لفظ الدیۃ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔
بالفرض اگر دیت سے قطع نظر کرکے یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ مومن میں مومنہ ہر گز شامل نہیں ، تو ایسی صورت میں مؤمنہ وجوب کفارہ کے حکم میں کیسے شامل ہوگی اور اس کے قتلِ خطا میں کفارے کی دلیل کہاں سے آئے گی؟
ان دلائل کی روشنی میں لفظ مومن میں مومنہ کے تبعاً شمول کے بعد اگر لفظ دیت کو بیان مقدار میں مجمل تسلیم نہ کیا جائے تو عورت کی دیت بھی سو اونٹ قرار پائے گی جو احادیث نبویہ اور اجماعِ امت کی روشنی میں قطعاً باطل ہے اس لئے ماننا پڑے گا کہ لفظ دیت قرآنِ مجید میں بیان مقدار میں مجمل ہے۔
معلوم ہوا کہ لفظ مومن میں مومنہ تبعاً شامل ہے اور آیت کریمہ میں
فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ اور وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلیٰ اَہْلِہٖ کے جملے دونوں کے قتلِ خطاء میں وجو ُبِ کفارہ اور وجوبِ دیت کی دلیل ہیں، البتہ لفظ دیت بیانِ مقدار میں مجمل ہے، اس کا بیان احادیث و اجماعِ اُمت کی صورت میں ہمارے سامنے آگیا جس کے ذریعے مرد و عورت ہی کی نہیں بلکہ غلام کی مقدارِ دیت بھی ہمیں معلوم ہوگئی۔
وکذالک وجوب الکفارۃ والدیۃ فی قتل الخنثی خطاء لا یثبت الابعد قول الشمول فی عموم ہذہ الایۃ واجمال لفظ الدیۃ فی المقدار، واللّٰہ تعالیٰ اعلم، وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین

ہوم پیج