قائلین مساوات کا ائمہ ھُدیٰ پر الزام

قائلین مساوات نے امام محمد بن حسن شیبانی اور امام ابوبکر جصاص جیسے ائمۂ ہدیٰ پر بھی یہ الزام عائد کیا کہ انہوں نے سورۂ نساء کی اسی آیت وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً سے استدلال کرتے ہوئے ذمی کافر کی دیت کو مومن کی دیت کے برابر قرار دیا لیکن مسلمان عورت کی دیت کو نصف ہی رکھا اور اس طرح اسے ایمان سے بھی خارج کردیا۔
میں عرض کروں گا کہ ائمۂ دین کے حق میں یہ طعن ہر گز قابل التفات نہیں۔ مومن اور ذمی کافر کی دیت کے مساوی ہونے پر اس آیت کریمہ سے استدلال بالکل صحیح ہے لیکن مرد عورت کی دیت کا مساوی ہونا اس آیت سے قطعاً ثابت نہیں ہوتا۔ امام محمد اور امام ابوبکر جصاص کا یہ استدلال چار وجوہ پر مبنی ہے۔ ایک یہ کہ لفظ مومن مذکر کا صیغہ ہے جو مومن مرد کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ مومنہ عورت کو اپنی وضع کے اعتبار سے وہ شامل نہیں۔ دوسرا یہ کہ لفظ دیت کا اطلاق سو اونٹ پر ہوتا ہے جو مرد کی کامل دیت ہے۔ تیسرا یہ کہ اس آیت میں (معاہد (ذمی) کے لئے لفظ کان وارد ہے۔ وہ بھی مذکر کا صیغہ ہے۔ اپنی اصل وضع کے اعتبار سے عورت کو شامل نہیں۔ چوتھا یہ کہ
دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ کے الفاظ مومن اور اہل میثاق (ذمی کافر) دونوں کے لئے یکساں وارد ہوئے ہیں جو مرد کے اعتبار سے سو اونٹ ہی کے معنیٰ میں استعمال ہوتے ہیں۔ ثابت ہوا کہ جس طرح مومن مرد کی دیت سو اونٹ ہے اسی طرح ذمی کافر مرد کی دیت بھی سو اونٹ ہے۔ (ملخصاً از احکام القرآن للامام ابی بکر الجصاص ص ۲۹۰، کتاب الحجۃ للامام محمد بن حسن الشیبانی ص ۳۵، ج ۴)
خلاصہ یہ کہ مومن اور لفظ
کان دونوں مذکر کے صیغے ہیں۔ ان کا مصداق وضعی اور حقیقی معنیٰ کے اعتبار سے صرف مقتول مرد ہے۔ مقتولہ عورت نہیں۔ لہٰذا لفظ دیت باعتبار صیغۂ مذکر دیت کاملہ کے معنیٰ میں ہے۔ پھر یہ کہ اہل میثاق کے لئے بھی دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ کے الفاظ وارد ہیں۔ لہٰذا مومن مرد اور ذمی کافر کی دیت کا مساوی ہونا واضح طور پر ثابت ہوگیا۔
یہ تفصیل اس اختلافی مسئلہ سے متعلق تھی کہ احناف کے نزدیک مسلمان اور ذمی کافر کی دیت برابر ہے اور شوافع کے نزدیک ذمی کافر کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر نہیں لیکن مرد عورت کی دیت میں قطعاً کوئی اختلاف نہیں وہ دورِ جاہلیت میں بھی متعارف تھی اس وقت دستور یہی تھا کہ مرد کی دیت پوری (سو اونٹ) اور عورت کی دیت اس کا نصف (پچاس اونٹ) ہوتی تھی۔ پھر اسلام نے قصاص و دیت کے معاملے میں خلاف دستور ہر قسم کے ظلم و تعدی کو مٹاکر اہل دستور کے مطابق مرد و عورت کی مقدار دیت علی الترتیب وہی سو اونٹ اور پچاس اونٹ برقرار رکھی جس پر ہم اس سے پہلے تفصیلاً مضبوط دلائل قائم کرچکے ہیں۔ رہا یہ امر کہ آیت کریمہ
وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًاخَطَأً میں مومن کے ساتھ مومنہ کو بھی ہم نے شامل کرلیا ہے تو مخفی نہ رہے کہ یہ شمول صیغہ کے اعتبار سے نہیں۔ اہل علم جانتے ہیں کہ لفظ مومن مذکر کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ اس کے وضعی حقیقی، معنیٰ ایمان والے مرد کے سوا کچھ نہیں۔ اگر مذکر کا صیغہ اپنی وضع کے اعتبار سے مؤنث کو بھی شامل ہو تو قرآن مجید کے حسب ذیل تمام استعمالات معاذ اللہ غلط قرار پائیں گے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والے مرد اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ نے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ (احزاب)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کے لئے مشترک اوصاف حسنہ اور مشترک اجر و ثواب کا حکم بیان فرمایا ہے۔ مگر اس کے باوجود مذکر کے صیغے میں مؤنث شامل نہیں۔ نہ مؤنث کے صیغے میں مذکر شامل ہیں۔ قرآن کریم میں ہر جگہ اگر مذکر کے صیغوں میں عورتیں شامل ہوتیں تو
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اور اَلْمُؤْمِنُوْنَ کے عموم میں بلا تخصیص ہر جگہ عورتیں شامل رہتیں مگر ایسے نہیں بلکہ اس کے برعکس بکثرت آیات قرآنیہ ایسی ہیں جہاں اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اور اَلْمُؤْمِنُوْنَ میں مردوں کے ساتھ عورتیں قطعاً شامل نہیں مثلاً
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلاَّ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ (الاحزاب آیت ۵۳)
اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو مگر اسی وقت جب تمہیں کھانے کے لئے آنے کی اجازت دی جائے۔
یہاں
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا میں عورتیں شامل نہیں نیز فرمایا
وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِآل عمران آیت ۱۲۱)
اور صبح کے وقت آپ اپنے اہل کے پاس سے تشریف لائے اور ایمان والوں کو مورچوں پر بٹھا رہے تھے۔
یہاں بھی المؤمنین سے صرف مرد مراد ہیں ایسی صورت میں یہ کہنا کہ آیت کریمہ
مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا میں لفظ مؤمن سے عورت کو خاص کرنا اسے ایمان سے خارج کردینا ہے لاعلمی پر مبنی ہے۔ لفظ مومن کے صیغے میں عورت شامل ہی نہیں تو اسے خاص کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًاخَطَأً میں لفظ مؤمن کے وضعی اور حقیقی معنیٰ کے اعتبار سے ہم نے مومنہ کو مومن کے ساتھ شامل نہیں کیا بلکہ بطور مجاز تغلیباً اور ضمناً صرف اس بناء پر ہم نے مومنہ کو مومن کے ساتھ شامل مانا ہے کہ نفس وجوب دیت اور کفارہ کا حکم دونوں کے لئے یکساں ہے اور وصف ایمان دونوں میں مشترک ہے۔ اس لئے اس لحاظ سے تغلیباً وہ مومنہ کو بھی شامل ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی بکثرت مثالیں موجود ہیں مثلاً آیت کریمہ اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ میں لفظ مؤمنون ضمناً مؤمنات کو بھی شامل ہے۔ علامہ خازن نے وَارْکَعِیْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ پر کلام کرتے ہوئے فرمایا
وانما قال ارکعی مع الراکعین ولم یقل مع الراکعات لان لفظ الراکعین اعم فیدخل فیہ الرجال و النساء (تفسیر خازن ص ۲۲۸، ج ۱)
حدیث ِ نبوی:
اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ مَانَہَی اللّٰہُ عَنْہُ (صحیح بخاری ص ۶ ج ۱)
المسلم، المسلمون، المہاجر کے الفاظ تغلیباً مسلمہ، مسلمات اور مہاجرہ کو بھی شامل ہیں بنا بریں اگر یہ کہہ دیا جائے کہ قتل خطا کی آیت میں اسی لحاظ سے لفظ
مؤمن تغلیباً مؤمنہ کو بھی شامل ہے اور قتل خطاء کی صورت میں مومن اور مومنہ دونوں کی دیت کا وجوب اس آیت سے ثابت ہے اور وجوب کفارہ اور وجوب دیت کے حکم میں مومنہ اور مومن دونوں شامل ہیں تو یہ کسی دلیل شرعی کے خلاف نہ ہوگا۔
اس مقام پر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ لفظ
مؤمن خاص النوع ہے۔ اسے مومنہ کے لئے عام تسلیم کرنا صحیح نہیں کیوں کہ عموم و خصوص باہم متقابلین ہونے کی وجہ سے جمع نہیں ہوسکتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ خصوص باعتبار نوع کے ہے اور عموم وصف عام اور افراد کے لحاظ سے لہٰذا دونوں کے جمع ہونے سے کوئی استحالہ لازم نہیں آتا۔
یہاں ایک شبہ یہ بھی وارد کیا جاتا ہے کہ لفظ مومن نکرہ حیز اثبات میں ہے اور حیز اثبات میں نکرہ ہمیشہ خاص ہوتا ہے۔ میں عرض کروں گا کہ حیز اثبات میں نکرہ کا ہمیشہ خاص ہونا ہر گز صحیح نہیں۔ بلکہ حسب اقتضاء مقام وہ عام بھی ہوسکتا ہے جیسے
تمرۃ خیر من جرادۃ اور قرآن مجید میں ہے عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّااَحْضَرَتْ اور عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ ان سب مثالوں میں نکرہ حیز اثبات میں واقع ہونے کے باوجود عام ہے بلکہ وصف عام کے ساتھ تو نکرہ اکثر عام ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو (التوضیح علی التنقیح ص ۲۵۰، ج ۱) لہٰذا لفظ مومن خاص النوع ہونے کے باوجود مومنہ کو شامل ہوسکتا ہے۔ مگر یہ شمول صرف وجوب کفارہ اور وجوب دیت میں ہے۔ مقدار دیت میں نہیں یعنی جس طرح مرد کے قتل خطاء میں دیت اور کفارہ واجب ہیں اسی طرح بلا تخصیص عورت کے قتل خطاء میں بھی یقینا دیت اور کفارہ واجب ہیں۔ یہ بات علیحدہ ہے کہ مقدار دیت دونوں کی ایک دوسرے سے مختلف ہے جس کی تعیین قرآن مجید میں کہیں وارد نہیں ہوئی۔ اس لئے مقدار دیت بنسبت کتاب اللہ مجمل ہے۔ اس کا بیان احادیث و آثار اور اجماع امت میں وارد ہے اور لوگوں کے عرف و عادت یا بیان شارع سے اس کی تعیین ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم بار بار اس پر تنبیہہ کرچکے ہیں۔
آیت کریمہ
مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا میں لفظ مومن مذکر کا صیغہ اس لئے وارد ہوا کہ فعل قتل ہمیشہ سے اکثر و بیشتر مردوں کے آپس میں واقع ہوتا رہا ہے۔ عموماً مرد ہی قاتل اور مرد ہی مقتول ہوتے ہیں۔ عورت کسی کو قتل کردے یا کوئی شخص عورت کو قتل کردے نسبتاً بہت کم ایسا ہوتا ہے۔ قانون کی زبان میں بھی قاتلہ و مقتولہ کی بجائے (بصیغہ مذکر) قاتل و مقتول ہی کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ فی الجملہ عورت بھی اپنی خصوصیت کے ساتھ ضمناً ان میں شامل ہوتی ہے لیکن اصالۃً قانون کا تعلق مرد ہی سے ہوتا ہے۔ اسی اصل کے مطابق دیۃ النفس اور دیۃ المؤمن میں النفس اور المؤمن سے مرد ہی مراد ہے عورت نہیں۔
امام ابوبکر جصاص نے اس مقام پر مومن کے معنیٰ رجل مؤمن بیان فرمائے اور النفس کے معنی نفس الحر یعنی آزاد مرد بیان فرمائے۔
(دیکھئے تفسیر احکام القرآن ص ۲۹۰، ج ۲)
امام ابوبکر جصاص نے ذمی کی دیت پر کلام کرتے ہوئے آیت کریمہ میں لفظ دیت کو اس اعتبار سے ظاہر و مبین قرار دیا کہ نزول آیت سے پہلے لوگوں کے عرف و عادت میں اس کی مقدار سب لوگوں کے نزدیک معلوم اور معین تھی لیکن اس اعتبار سے قرآن مجید میں مقدار دیت کا ذِکر کہیں وارد نہیں ہوا۔ اسے مبہم اور مجمل کہا اور رسول کریم ا کے فعل مبارک کو اس کا بیان قرار دیا۔ جیسا کہ وہ فرماتے ہیں۔
وایضالمالم یکن مقدار الدیۃ مبینا فی الکتاب کان فعل النبی ﷺ فی ذلک واردا للبیان(احکام القرآن للجصاص ص ۲۹۱، ج ۲)
سابقاً تفسیر قرطبی اور مظہری کے حوالے سے بھی ہم نقل کرچکے ہیں کہ امام قرطبی نے بھی آیت قرآنی میں لفظ دیت کو بیان مقدار میں مبہم و مجمل قرار دیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ
ولم یعین اللّٰہ فی کتابہ مایعطی فی الدیۃ(احکام القرآن للقرطبی، ص ۳۱۵، جزو ۵)
نیز اسی آیت کے تحت تفسیر مظہری میں ہے۔
وہی مجملۃ فی المقدار ومن یجب علیہ بینہ النبی
یعنی لفظ دیت بیان مقدار میں مجمل ہے اور اس بارے میں بھی کہ وہ کس پر واجب ہے یہ دونوں باتیں رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائیں۔ (تفسیر مظہری ص ۱۸۵، ج ۱)
ایسی صورت میں ہمارا یہ کہنا بلا شبہ صحیح ہوگا کہ عورت کی نصف دیت کی احادیث و روایات جو اصول محدثین کے مطابق یقینا صحیح و ثابت اور تلقی بالقبول کی بناء پر حجت شرعیہ ہیں اور اجماع امت بھی ان کے مطابق ہے مومن کی مقدار دیت کے قرآنی اجمال کی تفسیر کرتی ہیں جس کے بعد کوئی ابہام باقی نہیں رہتا اور بات واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ عورت کی نصف دیت کا حکم سورۂ نساء کی آیت مذکورہ بالا سے ثابت ہے اور یہ کہ امام محمد بن حسن شیبانی و دیگر ائمہ ہدیٰ پر جو طعن کیا گیا ہے وہ قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے۔
حیرت ہے کہ ان قائلین مساوات نے اجماع امت کو یہ کہہ کر پس پشت ڈال دیا کہ بیسوں ایسے اجماع ہیں جن کے خلاف ائمہ فقہا کے اقوال پائے جاتے ہیں لیکن ہمارے اس پیش کردہ اجماع کے خلاف آج تک کسی فقیہ یا امام کا کوئی قول یہ لوگ پیش نہ کرسکے۔ نہ انشاء اللہ قیامت تک پیش کرسکیں گے۔
انتہائی تگ و دو کے بعد صرف ابوبکر اصم اور ابن علیہ کا نام یہ لوگ پیش کرسکے ہیں۔ ابوبکر اصم کے بارے میں ہم اس سے پہلے حافظ ابن حجر کا قول بحوالہ (لسان المیزان ص ۴۲۷، ج ۳) نقل کرچکے ہیں کہ وہ معتزلی تھا اور عبدالجبار ہمدانی معتزلی نے اپنے طبقات معتزلہ میں اس کا ذکر کیا اس طرح اس کے شاگرد ابن علیہ کے متعلق بھی بحوالہ تاریخ بغداد للخطیب ص ۲۰، ۲۳، ج ۶، لسان المیزان، ابن حجر ص ۳۲، ۳۵، ج ۱، میزان الاعتدال ص ۱۱، ج ۱، ہم سابقاً نقل کرچکے ہیں کہ وہ ضال و مضل اور جہمی خبیث تھا۔ اس کا قول اس قابل ہی نہیں کہ اسے خلاف سے تعبیر کیا جائے ثابت ہوا کہ ان دونوں کا خلاف ہمارے پیش کردہ اجماع کے لئے قطعاً مضر نہیں بلکہ یہ دونوں خرقِ اجماع کے مرتکب ہوکر خود مجرم ہیں۔
پھر انتہائی حیرت و استعجاب اس امر پر ہے کہ قائلین مساوات نے ہماری پیش کردہ احادیث و آثار و روایات کے مطابق اجماع امت ہونے کے باوجود انہیں مجروح، منقطع ضعیف اور مردود کہہ دیا۔ جب کہ محدثین نے اپنے اصول کے مطابق انہیں صحیح و ثابت اور مقبول قرار دیا۔ جیسا کہ ہم اجلّہ محدثین کی عبارات و اقوال بحوالہ تمہید ص ۳۰ جلد ۱ تذکرۃ الحفاظ ص ۸۱ ج ۱، تہذیب التہذیب ص ۶۷ ج ۵ تدریب الراوی ص ۱۲۴ نقل کرچکے ہیں۔
لیکن قائلین مساوات اپنے دعویٰ کے ثبوت میں صحیح حدیث تو درکنار کوئی ایک ضعیف روایت بھی پیش نہ کرسکے۔ جس میں یہ مذکور ہو کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کے برابر ہے۔ ان حضرات کے پاس نہ قرآن کی کوئی آیت ہے نہ حدیث۔
صرف ایک حدیث
المسلمون تتکا فاء دماؤہم سے مسلمان مرد و عورت کی دیت کے مساوی ہونے پر استدلال کرتے ہیں۔ یہاں بھی ان کے استدلال کی بنیاد صرف یہی ہے کہ انہوں نے مذکر کے صیغے میں مؤنث کو شامل کرکے عموم کا سہارا لیا جس کا اصولی طور پر غلط ہونا ہم بیان کرچکے ہیں۔
علاوہ ازیں اگر اس حدیث کی رو سے تمام مسلمانوں کے خون کو مطلقاً باہم متماثل مان لیا جائے تو لازم آئے گا کہ ہر مسلمان کے قتل خطاء کی سزا یکساں ہو۔ حالانکہ عامۃ المسلمین کے قتل خطاء کی سزا کفارہ
مع الدیۃ ہے۔ جیسا کہ اسی سورۃ نساء کی آیت میں وارد ہے کہ جس نے کسی مومن کو بطور خطاء قتل کیا تو (اس کی سزا) ایک مسلمان غلام یا باندی کا آزاد کرنا ہے اور دیت ہے جو اس کے اہل کے سپرد کی ہوئی ہے۔
اس کے بعد اسی آیت میں متصلاً مذکور ہے کہ اگر مقتول تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ مومن ہو تو اس کے قتل خطاء کی سزا صرف کفارہ ہے یعنی ایک مسلمان غلام یا باندی کا آزاد کرنا ہے۔ دیت نہیں۔ مقام غور ہے کہ جب حدیث کی رو سے تمام مسلمانوں کے خون مطلقاً مساوی ہیں یعنی سب کے قتل خطاء کی سزا یکساں ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ عامۃ المسلمین کا خون بہانے کی سزا کفارہ اور دیت دونوں کا مجموعہ ہو اور دشمن قوم سے تعلق رکھنے والے مؤمن کا خون بہانے کی سزا دیت کے بغیر محض کفارہ ہو۔ کیا سب مسلمانوں کے خون کے مطلقاً مساوی ہونے کا یہی مفہوم ہے۔ ایسی صورت میں یہ حدیث قرآن کی نص صریح کے خلاف قرار پائے گی جو کتاب اللہ کے مقابلے میں کسی طرح قابل عمل نہیں ہوسکتی۔ معلوم ہوا کہ یہ استدلا ل قطعاً غلط اور ناقابل قبول ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قتل ہونے والے مسلمان نوعیتِ قتل کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ مثلاً مقتول عمداً مقتول خطاء پھر وہ مقتول مسلمان اپنی خصوصیات کے اعتبار سے بھی مختلف اقسام پر مشتمل ہیں۔ کوئی مرد ہے کوئی عورت، کوئی عامۃ المسلمین میں سے ہے کوئی مسلمان ہونے کے باوجود دشمن قوم سے متعلق ہے۔ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس قسم کے مقتول مسلمان ہوں ان کے خون آپس میں مماثل ہیں جو مقتول جس قسم سے متعلق ہوگا اس کے قتل کی سزا وہی ہوگی جو اس قسم کے دیگر افراد کے قتل کی سزا ہے۔ مثلاً مومن مرد و عورت کے قتل عمد کی سزا قصاص ہوگی اور قتل خطاء کی صورت میں عامۃ المسلمین میں سے اگر کسی کو قتل کردیا جائے تو اس کی سزا کفارہ مع الدیۃ ہوگی اور دشمن قوم سے تعلق رکھنے والے ہر مومن مرد و عورت کے قتل کی سزا بغیر دیت کے کفارہ ہوگی۔ اس طرح اگر کوئی مسلمان مرد مقتول ہوجائے تو اس کے قتل کی سزا کفارہ کے ساتھ پوری دیت ہوگی اوراگر کوئی مسلمان عورت قتل کردی جائے تو اس کے قتل کی سزا کفارہ کے ساتھ نصف دیت ہوگی۔
قائلین مساوات کا اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ایمان والے مردوں اور عورتوں کے خون آپس میں مماثل ہیں اور اس بناء پر دونوں کی دیت برابر ہے غلط ثابت ہوا۔ صحیح یہی ہے کہ ہر قسم کے مقتولین مسلمین کے خون ان کے آپس میں ایک دوسرے کے مماثل ہیں۔ یہی بات بحوالہ حجۃ اللہ البالغہ ص ۱۵۲ شاہ ولی اللہ کی عبارت سے ہم نقل کرچکے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ عورتوں کے خون ان کے آپس میں ایک دوسرے سے متماثل ہیں اسی لئے عورتوں کی دیت ایک ہے۔
زیرِ نظر مضمون کا آخری حصہ پڑھ کر بے ساختہ زبان پر
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ جاری ہوجاتا ہے۔ حق کو باطل کے پردوں میں چھپانے کی پوری کوشش کی گئی ہے مگر یاد رہے کہ اَلْحَقُّ یَعْلُوْا وَلَا یُعْلـٰی کوئی مانے یہ نہ مانے حق ہمیشہ غالب ہی رہے گا کسی کے مغلوب کرنے سے مغلوب نہ ہوسکے گا۔ دیکھئے اس مضمون کے آخر میں بڑی قوت کے ساتھ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آیت قرآنی کا منشاء محض وجوب دیت میں مرد و عورت کو برابر کرنا ہر گز نہ تھا بلکہ مقصودِ قرآن ہی مقدارِدیت میں برابری پیدا کرنا تھا۔ گویا مفسرین و محدثین اور علماء مجتہدین، تابعین و خلفایٔ راشدین میں سے کسی ایک نے بھی آیت قرآنی کے منشاء کو نہ سمجھا اور مقصود قرآن کو پانے سے ساری امت مسلمہ بے بہرہ رہی۔ آج صرف ایک شخص نے آیت قرآنی کے منشاء کو سمجھا اور مقصودِ قرآن کو پالیا۔ افسوس صد افسوس!
اس دعویٰ کی دلیل میں کہا گیا کہ وجہ یہ ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے دورِ جاہلیت کے عربوں میں دیت کا ایک باقاعدہ نظام موجود تھا جس کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت منکشف ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ دورِ جاہلیت کے عرب مرد و عورت دونوں میں سے کسی کے لئے بھی نفس وجوب دیت کے منکر نہ تھے بلکہ ان کے ہاں فرق ہی مقدار دیت کے اعتبار سے تھا۔ یعنی آیت کریمہ میں مردو عوت کی دیت کے وجوب کا حکم اس لئے نہیں کہ ایام جاہلیت کے لوگ دونوں کے حق میں وجوب دیت کا حکم پہلے ہی مانتے تھے۔ ایسی صورت میں آیت قرآنی میں وجوب کا حکم نازل کیا جانا تحصیل حاصل کے مترادف ہوگا۔ یہاں اس حقیقت کو نظر انداز کردیا گیا کہ قرآن کا حکمِ وجوب، حکمِ شرعی ہے۔ دورِ جاہلیت میں شرع موجود ہی نہ تھی تو حکم شرعی کا وجود اس زمانے میں پایا جانا کیوں کر متصور ہوسکتا ہے۔ جاہلیت کے لوگ اپنے دستور کے مطابق مردو عورت کے لئے دیت کو واجب سمجھتے ہوں گے مگر ایسے وجوب کو حکم شرعی نہیں کہا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ حکم نازل فرماکر مردو عورت کی دیت کو شرعاً واجب قرار دے دیا۔ جسے تحصیل حاصل کہنا محض لاحاصل بلکہ اصطلاحات شرعیہ سے ناواقف ہونے کی دلیل ہے پھر یہ کہ بدل نفس کی مقدار معلوم کا نام دیت ہے۔ اہل جاہلیت جن کے متعلق کہا گیا کہ وہ مرد و عورت دونوں کے قتل خطاء میں وجوب دیت کے قائل تھے۔ یقینا وہ ہر ایک کی مقدار دیت کو ضرور جانتے ہوں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ ظلم و تعدی کے طور پر کسی سے زیادہ دیت وصول کرلیں یا ادا کرتے وقت کسی کو کم ادا کریں۔ یا کسی وقت دیت کی ایک مقدار مقرر کرلیں اور کسی دوسرے وقت اسے کم کردیں یا بڑھادیں۔ اس کے باوجود آج تک یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ مرد و عورت کی مقدار دیت ان کے دستور میں کسی وقت بھی مساوی رہی ہو۔ بلکہ عورت کی دیت کا مرد کی دیت سے نصف ہونا ضرور ثابت ہے۔ جیسا کہ ہم بار بار متنبہ کرچکے ہیں۔مختلف ادوار اور مختلف قبائل میں اور مختلف قسم کے اشخاص کے لئے جاہلیت کے زمانے میں مقدار کا کم و بیش ہونا کہیں ثابت نہیں۔ اس عدم مساوات کو ان کے ظلم و تعدی میں شامل نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کا دستور تھا کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہوتی تھی۔ دیت میں ہر قسم کے ظلم و تعدی کو اسلام نے مٹادیا۔ لیکن عورت کی دیت کا مرد کی دیت سے نصف ہونا ان کا دستور تھا جسے اسلام نے برقرار رکھا۔
اس کے بعد قائلین مساوات کا یہ کہنا کہ اسلام اور قرآن نے مرد و عورت کی ایک ہی مقدار دیت مقرر فرمادی۔ بہت بڑی جسارت اور اسلام و قرآن پر افتراء ہے کسی دلیل شرعی یا آیت قرآنی میں عورت کی مقدار دیت کا مرد کے مساوی ہونا مذکور نہیں۔ لہٰذا یہ قول پوری امت مسلمہ کی تضلیل و تفسیق کے مترادف ہے۔
قائلین مساوات کے یہ مضامین اس اعتبار سے اور بھی زیادہ اندوہناک ہیں کہ ان میں ائمۂ مجتہدین مثلاً امام اعظم ابوحنیفہ اور امام مالک رضی اللہ عنہم کے نام لیکر ان کی علمی و اجتہادی عظمتوں کو قارئین کی نظروں میں حقیر اور بے وقعت کرنے کی سعی نامسعود کی جارہی ہے۔ کیا یہ حضرات ایسے ناسمجھ اور بے علم تھے کہ اپنے ہی اصول اور دلائل کے نتائج کو نہ سمجھ سکے حالانکہ قرآن و حدیث کے علوم اور مکمل دین ان ہی حضرات کے ذریعے ہمیں پہنچا۔ ان مقدسین کے بارے میں اس قسم کے مضامین شائع کرنا عامۃ المسلمین کو ان سے متنفر کرنا ہے اس دور پرُفتن میں ائمہ ہدیٰ کے خلاف یہ محاذ آرائی بے شمار فتنوں کو جنم دے سکتی ہے۔ ہماری نوجوان تعلیم یافتہ نسل کے اذہان اس سے متاثر ہوکر آئمہ ہدیٰ سے بدظن ہوسکتے ہیں۔ پھر ممکن ہے کہ وہ الحاد اور دہریت کی راہیں اختیار کرلیں۔ میں اپنے ملک کے معزز اخبارات سے دردمندانہ اپیل کروں گا کہ وہ ایسے مضامین شائع نہ کریں تاکہ مزید فتنوں کے دروازے نہ کھلیں اور ملت اسلامیہ انتشار سے محفوظ رہے۔
 

ہوم پیج