ایک شبہ کا ازالہ

قائلین مساوات کا ایک بنیادی شبہ باقی رہتا ہے جس کا ازالہ ضروری ہے وہ یہ کہ بعض روایات و عبارات میں دیۃ النفس مائۃ من الابل کے الفاظ وارد ہیں۔ ان الفاظ سے وہ یہ سمجھے کہ یہاں لفظ النفس کے مفہوم میں عورت اور مرد دونوں شامل ہیں اور اس کے عموم کا مقتضیٰ یہ ہے کہ سو اونٹ دونوں کی دیت قرار پائے۔
اس شبہ کا ازالہ یہ ہے کہ لفظ نفس کا مفہوم یقینا مرد اور عورت دونوں کی جان کو شامل ہے لیکن متکلم کی مراد میں مرد کے ساتھ عورت شامل نہیں۔ جس کی دلیل وہ روایات ہیں جن میں عورت کی دیت کا مرد کی دیت سے نصف ہونا وارد ہے۔ ضروری نہیں کہ لفظ میں عموم ہو تو متکلم کی مراد میں بھی عموم پایا جائے۔ بعض اوقات مفہوم میں عموم ہوتا ہے لیکن متکلم کی مراد میں خصوص پایا جاتا ہے۔ خود قرآن مجید میں اس کی
متعدد مثالیں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْنَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ہُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اَوْلِیَائَ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ o وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْاہَا ہُزُوًا وَّلَعِبًا ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّ یَعْقِلُوْنَo (المائدہ آیت ۵۷، ۵۸)
اے ایمان والو! ان کافروں اور اہل کتاب کو اپنا دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو کھیل تماشا اور مذاق بنا رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اگر تم مومن ہواور جب تم نماز کے لئے ندا کرتے ہو وہ اسے ہنسی کھیل بنالیتے ہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ لوگ سمجھتے نہیں۔
اس آیت کریمہ میں لفظ
اَلَّذِیْنَ کا مفہوم مرد و عورت سب کو شامل اور عام ہے اور نَادَیْتُمْ کی ضمیر مرفوع کا مرجع اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ہے مگر عورتوں کا نماز کیلئے اذان دینا جائز نہیں اس لئے کہ یہ مردوں کے ساتھ خاص ہے۔ اس قرینہ کی وجہ سے اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے صرف ایمان والے مرد مراد ہیں۔ عورتیں مراد نہیں۔ اسی طرح آیات کریمہ
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَo الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلٰوتِہِمْ خَاشِعُوْنَo وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَo وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فَاعِلُوْنَo وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَ o اِلاَّ عَلٰٓی اَزْوٰجِہِمْ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْن o(المؤ منون آیت ۱ تا ۶)
بے شک فلاح پائی ان ایمان والوں نے جو اپنی نمازوں میں عاجزی کرتے ہیں اور جو بیہودہ باتوں سے بچتے ہیں اور جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور جو اپنی پارسائی کی حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی منکوحہ بیویوں یا اپنی باندیوں کے تو وہ ان میں ملامت کئے ہوئے نہیں۔
ان آیات مقدسہ میں
اَلْمُؤْمِنُوْنَ کا مفہوم مرد و عورت سب کو عام ہے لیکن اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ کے الفاظ اس بات کا قرینہ ہیں کہ اَلْمُؤْمِنُوْنَ عام ہے۔ اگر اس میں عورتیں شامل ہوں تو جس طرح مردوں کے لئے ان کی باندیاں حلال ہیں۔ عورتوں کے لئے بھی ان کے غلام حلال قرار پائیں گے جو بداہۃً باطل ہے۔ رہے وہ احکام جو ان دونوں مقام کی آیتوں میں مردوں اور عورتوں سب کے لئے عام ہیں تو عورتوں کا ان احکام کے ساتھ مکلف ہونا قرآن مجید کی دوسری آیات سے ثابت ہے۔ ان آیات کے عموم میں عورتیں شامل نہیں۔
اسی طرح
دیۃ النفس مائۃ من الابل میں لفظ نفس سے عورت کی جان مراد نہیں۔ کیونکہ اس کی دیت نصف ہونے کے بارے میں جو احادیث و آثار وارد ہیں وہ اس بات کا قرینہ ہیں کہ دیۃ النفس کے الفاظ میں لفظ نفس سے صرف مرد کی جان مراد ہے عورت کی جان مراد نہیں۔
الحمدللّٰہ! قائلین مساوات کے تمام شبہات کا ازالہ ہوگیا اور ہم نے کتاب و سنت، اجماع امت، مفسرین و محدثین اور ائمہ اربعہ اور عامۃ الفقہاء کے حوالہ جات سے ثابت کردیا کہ قتل خطا میں عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے اگرچہ یہ مسئلہ قیاسی نہیں عقل ورائے سے بالاتر ہے لیکن اس کے باوجود عقل سلیم قیاس صحیح اور اصابت رائے اس کا مؤید ہے جس کی طرف ہم اس سے پہلے اشارہ کرچکے ہیں لیکن قائلین مساوات ایسی کوئی دلیل اور کوئی روایت پیش نہ کرسکے جس میں عورت کی دیت کا مرد کے مساوی ہونا صراحۃً مذکور ہو نہ علماء امت میں سے کسی کا قول ان کی تائید میں سامنے آیا۔


مذاہب اربعہ سے خروج جائز نہیں!
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا چونکہ مذاہب اربعہ کے سوا اور کوئی راستہ باقی نہیں رہا اس لئے ان ہی کی اتباع سوادِ اعظم کی اتباع ہے۔ ان سے باہر جانا سوادِ اعظم سے خروج قرار پائے گا۔ (عقد الجید ص ۳۳) عورت کی نصف دیت کے مسئلہ میں مذاہب اربعہ متفق ہیں ان کا انکار بہت بڑی جسارت بلکہ صراطِ مستقیم سے انحراف ہوگا۔
قائلین مساوات کا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اس دور میں عورتیں ملازمت کرکے گھریلو اخراجات کی کفیل ہوتی ہیں لہٰذا ان کی دیت مردوں کی دیت کے برابر ہونی چاہیے۔
حالانکہ یہ امور ایسے نہیں جو دیت کی مقدار پر اثر انداز ہوں۔ دیکھئے محنت کرکے بچوں کی روزی کمانے والے ہنرمند اور بے کار بیٹھنے والے بے ہنر کی دیت مساوی ہوتی ہے۔
ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جرم کی نوعیت کے پیشِ نظر ا گر قاضی سمجھتا ہو کہ اصل دیت کے علاوہ کچھ زائد رقم مقتولہ کے ورثاء کو دلانا مناسب ہے تو اپنی صوابدید کے مطابق ایسا کرنے کا اسے اختیار ہونا چاہیے بشرطیکہ وہ زائد رقم محض بطور تغلیظ ہو اسے دیت قرار نہ دیا جائے جیسا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بروایت بیہقی ہم نقل کرچکے ہیں کہ انہوں نے ایک ایسے قاتل سے جس نے کسی عورت کو (غلطی سے) حرم مکہ میں پامال کرکے ہلاک کردیا تھا آٹھ ہزار درہم مقتولہ کے ورثاء کو دلائے۔ چھ ہزار دیت کے اور دو ہزار بطور تغلیظ اس لئے کہ حرم میں اس سے جرم سرزد ہوا تھا لیکن اس زائد رقم کو دیت قرار دینا ہر گز جائز نہ ہوگا۔
مرد عورت کی دیت کو برابر کہنے والے اپنے اس غلط نظریئے کی تائید کے لئے ائمہ ہدیٰ کی طرف بے بنیاد اقوال منسوب کر رہے ہیں اور بعض فقہاء کی عبارات سے غلط نتائج نکالنے میں مصروف ہیں چنانچہ نوائے وقت ۱۵؍نومبر ۱۹۸۴ء ؁ کی اشاعت میں مرد عورت کی دیت میں برابری کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا جس میں بحوالہ
الاکلیل فی استنباط التنزیل کہا گیا کہ کفارے کی برابری سے مقدار دیت کی برابری کا استدلا ل امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا پیش کردہ ہے اور یہ دلیل امام اعظم کی پیش کردہ تھی جبکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے اس دلیل اور کتاب کا کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ کتاب امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۹۱۱ھ) کی طرف منسوب ہے۔ امام سیوطی کے استنباط کو امام ابوحنیفہ (متوفی ۱۵۰ھ) کا پیش کردہ استدلال اور امام ابوحنیفہ کی پیش کردہ دلیل کہنا یقینا علمی خیانت ہے۔ اسی طرح المنتقیٰ امام مالک کی نہیں بلکہ ابوالولید باجی کی تصنیف ہے۔ اُن کے قول کو امام مالک کا قول کہنا بھی قطعاً بے بنیاد اور خلاف واقع ہے پھر یہ کہ ان دونوں کتابوں کی عبارتوں سے مرد و عورت کی دیت کے برابر ہونے کا جو نتیجہ اخذ کیا گیا ہے قطعاً غلط اور ناقابل التفات ہے۔ الاکلیل اور المنتقیٰ دونوں کی زیر نظر عبارات کا تعلق مردو عورت کی دیت سے نہیں بلکہ الاکلیل کی عبارت مومن و کافر کی دیت کی مساوات کے بارے میں ہے اور المنتقیٰ کی عبارت تغلیظ دیت کی نفی سے متعلق ہے جنہیں کھینچ تان کر مرد و عورت کی دیت سے متعلق کیا جارہا ہے۔
سیوطی کے استنباط کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ مومن و کافر کے قتل خطاء کی سزا میں کفارہ اور دیت دونوں کا ذِکر آیت کریمہ میں وارد ہے۔ جب کافر کے قتل کی سزا میں کفارہ کم نہیں ہوا تو اس کی دیت کی مقدار میں کس طرح کمی ہوسکتی ہے۔ جب مومن و کافر کا کفارہ یکساں ہے تو دونوں کی دیت بھی یکساں ہوگی اور ابوالولید باجی کی عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ حرم میں قتل واقع ہونے کی وجہ سے جب کفارے کی مقدار میں زیادتی نہیں ہوئی تو حرم کی وجہ سے دیت کی مقدار کیوں کر بڑھائی جاسکتی ہے یعنی حرم کی وجہ سے کفارے کی مقدار کا زیادہ نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ حرم کے لحاظ سے دیت کی مقدار میں بھی زیادتی نہ کی جائے گی۔ ادنیٰ سمجھ رکھنے والا آدمی بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ کمی اور بیشی دونوں امور اضافیہ سے ہیں۔ جب تک کسی چیز کی مقدار معین اور معلوم نہ ہو اس میں کمی بیشی متصور نہیں۔ قتل خطا کے کفارے کی مقدار کا معین اور معلوم ہونا آیت کریمہ سے واضح ہے لیکن دیت کی مقدار پورے قرآن مجید میں کہیں نہیں۔ ایسی صورت میں دیت کی مقدار معین کا علم لوگوں کے عرف و عادت اور تعامل کے ذریعے ہوگا یا بیان شارع سے اسلام سے پہلے عرف و عادت اور لوگوں کے تعامل میں مرد کی دیت سو اونٹ اور عورت کی دیت اس کا نصف مقرر تھی۔ جس کے ثبوت میں ہم اس سے پہلے المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ص ۵۹۳ ج ۵ کے حوالے سے لکھ چکے ہیں
وَتَکُوْنُ دِیَۃُ الْمَرْاَۃِ نِصْفَ دِیَۃِ الرَّجُلِ عورت کی دیت، مرد کی نصف دیت کے برابر ہوتی تھی۔ جسے اسلام نے بھی برقرار رکھا۔ جیسا کہ احادیث و آثار اور اجماع امت کے حوالے سے تفصیلاً گزر چکا ہے اور یہی بیان شارع ہے۔ لوگوں کے عرف و عادت اور بیان شارع، دونوں کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ مرد کی دیت کی معلوم و معین مقدار سو اونٹ تھی اور عورت کی دیت کی معلوم و معین مقدار پچاس اونٹ تھی۔ لہٰذا امام سیوطی کے استنباط مذکور کا خلاصہ یہ نکلا کہ جب مومن و کافر دونوں کے قتل کا کفارہ برابر ہے تو ان کی دیت بھی برابر ہوگی۔ کافر کی دیت مومن کے برابر اور کافرہ کی دیت مومنہ کی دیت کے مساوی رہے گی یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ کافر کی دیت پچاس اونٹ ہوجائے اور کافرہ کی دیت پچیس اونٹ رہ جائے۔ ہمارے اس بیان سے ابوالولید باجی کے قول کا مفہوم بھی بخوبی واضح ہوگیا۔ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ دیت کا وجوب محض فعل قتل سے متعلق ہے حرم میں ہو یا غیر حرم میں۔ حرم میں قتل کرنے سے جب کفارہ نہیں بڑھتا تو دیت کیسے بڑھ سکتی ہے یعنی فعل قتل اگر حرم میں بھی واقع ہوجائے تو دیت وہی رہے گی جو لوگوں کے عرف وعادت اور بیان شارع کی روشنی میں معلوم و معین ہے۔ مرد کی دیت اپنی مقدار معین (سو اونٹ) سے نہ بڑھے گی۔ اسی طرح عورت کی دیت بھی اپنی مقدار معین (پچاس اونٹ) سے زیادہ نہ ہوگی۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ عورت کے قتل کا کفارہ بھی وہی ہے جو مرد کے قتل کا کفارہ ہے تو کیا وجہ ہے کہ کفارے کی مقدار تو وہی رہے اور دیت کی مقدار سو اونٹ سے کم ہوکر پچاس اونٹ رہ جائے قطعاً غلط ہے۔ عورت کی مقدار دیت جو عرفاً و شرعاً معلوم و متعین ہے وہ سو اونٹ نہیں بلکہ پچاس اونٹ ہی ہے جس میں کمی بیشی واقع نہیں ہوئی۔
یہ صحیح ہے کہ سورۂ نساء کی آیت
وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأًکا لفظ مومن وجوب کفارہ اور وجوب دیت کے اعتبار سے تغلیباً مومنہ کو بھی شامل ہے۔ دونوں کے قتل خطا میں کفارہ بھی واجب ہے اور دیت بھی لیکن ظاہر ہے کہ لفظ مومن خاص النوع ہے صرف مرد کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ وہ اپنے وضعی اور حقیقی معنیٰ کے اعتبار سے عورت کو شامل نہیں۔ اسی طرح وَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍم بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ میں لفظ کان بھی مذکر کا صیغہ ہے جس سے مراد کافر ہے اور وہ اپنے وضعی اور حقیقی معنی کے اعتبار سے کافرہ کو شامل نہیں لیکن وجوب کفارہ اور وجوب دیت کے اعتبار سے وہ کافرہ عورت کو اسی طرح شامل ہے جس طرح لفظ مومن مومنہ کو۔ یہ صحیح ہے کہ مسلمان مرد و عورت کے لئے اس آیت میں قتل خطا کی سزا کے طور پر دیت اور کفارے کا ذِکر بھی اسی طرح اکٹھا ہے جس طرح مسلم اور ذمی کے لئے تھا لیکن یہ صحیح نہیں کہ ان کی مقدار دیت کی برابری کفارے کی بناء پر تسلیم کی گئی ہے بلکہ ان کی دیت کی مقدار معین میں کمی بیشی کا نہ ہونا کفارے میں کمی بیشی نہ ہونے کی بنا پر تسلیم کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس دلیل کی رو سے یہ تسلیم کرنا ضروری ہو گیا کہ مرد و عورت کی دیت کی مقدارِ معین علی الترتیب سو اور پچاس اونٹ میں اس لئے کمی بیشی نہیں ہوسکتی کہ دونوں کے قتل خطا کے کفارے کی مقدار میں کمی بیشی ناممکن ہے۔

 

ہوم پیج