علماء حدیث کی عبارات

وان کان انثیٰ فخمسون وہذا مجمع علیہ یعنی اگر زندہ ساقط ہوکر مرنے والا بچہ لڑکی ہو تو اس کی دیت پچاس اونٹ ہیں اور اس پر اجماع ہے۔ (نووی شرح صحیح مسلم ص ۶۲، ج ۲)
(۲)
وذلک لان دیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل لقولہ ں فی حدیث معاذ دیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل
یہ اس لئے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے۔ حدیث معاذ بن جبل کی وجہ سے جو انہوں نے مرفوعاً روایت کی رسول اللہﷺ نے فرمایا عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے۔ (سبل السلام ص ۳۳۳، ج ۳)
(۳)
فاذا تجاوزت الثلث وبلغ العقل نصف الدیۃ صارت دیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل
جب عورت کی دیت مرد کی دیت کے تہائی حصہ سے متجاوز ہوکر نصف تک پہنچ جائے تو وہ مرد کی دیت سے نصف ہوجائیگی۔ (زہر الربیٰ شرح نسائی للسیوطی ص ۴۵، ج ۸)


مذاہب ائمہ فقہ
(۱) امام محمد بن حسن شیبانی فرماتے ہیں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے عورت کی دیت کے متعلق فرمایا کہ عورت کی تمام دیتیں جراحات میں ہو ںیا جان میں۔ مرد کی دیت سے نصف ہیں۔ (کتاب الحجۃ جلد ۴، ص ۲۷۶)
(۲) حاشیہ مؤطا امام محمد میں ہے عورت کی دیت ہمارے نزدیک مرد کی دیت کا نصف ہے۔ سفیان ثوری، لیث، ابن ابی لیلیٰ، ابن شبرمہ اور ابن سیرین سب کا یہی قول ہے۔ (التعلیق الممجد ص ۲۸۹، حاشیہ نمبر۴، مرقاۃ شرح المشکوٰۃ جلد ۴ ص ۲۸)
(۳) مؤطا امام مالک میں ہے تہائی حصے تک پہنچنے کے بعد عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے۔ (مؤطا امام مالک طبع جدید ص ۶۷۰)
(۴) امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الام میں فرمایا میں نے قدیم اور جدید اہل علم میں سے کسی کو اس بات کا مخالف نہیں پایا کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے اور وہ پچاس اونٹ ہیں۔ (کتاب الام جلد ۵، ص ۱۰۶)
(۵) امام احمد بن حنبل کا مذہب فقہ حنبلی کی مشہور کتاب الروض المزبع میں اس طرح منقول ہے۔ اہل کتاب وغیرہ غیر مسلمین کی عورتوں کی دیت کی طرح مرد کی دیت کا نصف ہے۔ (الروض المزبع جلد دوم ص ۳۳۹)


فقہا کی عبارات فقہ حنفی
(۱) جان اور اس کے ماسوا میں عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہے۔ اصل عبارت یہ ہے
دیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل فی النفس وفی ما دونہا کنز الدقائق ص ۳۶۴، زیلعی علی الکنز جلد ۶ ص ۱۲۸، فتح القدیر شرح ہدا یۃ جلد ۹، ص ۲۱۰، عنایہ شرح ہدا یۃ جلد ۸، ص ۳۰۶، مبسوط امام سرخسی جلد ۲۶ ص ۷۸، مجمع الانہر جلد ۲، ص ۶۳۹، درالمنتقیٰ شرح الملتقیٰ جلد ۲، ص ۶۳۹، در مختار بہامش رد المحتار جلد ۵، ص ۴۰۷، خانیہ جلد ۳، ص ۴۴۹، کتاب الدرر جلد ۲، ص ۱۰۳، فتاویٰ خیریہ جلد ۲ ص ۳۰۶، فتاویٰ عالمگیری جلد ۶ ص ۲۳، بحرالرائق علی الکنز جلد ۸، ص ۳۲۹، عینی شرح کنز ص ۳۷۷، ہدایہ شرح بدایہ جلد ۴ ص ۵۸۲)
(۲)
قال ابن عبدالبرو ابن المنذر اجمع اہل العلم علی ان دیتہا نصف دیۃ الرجل ابن عبدالبر اور ابن المنذر نے کہا علماء کا اجماع ہے کہ عور ت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے (البنایہ شرح الہدایہ للعینی جلد ۴ ص ۴۸۵)
(۳)
فان کان انثیٰ فعلیہ دیۃ اثنیٰ وہو نصف دیۃ الذکرسواء کان الجانی ذکرا او انثیٰ لاجماع الصحابۃ ث علی ذالک اگر عور ت مقتولہ ہو تو اس کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے۔ قاتل خواہ مرد ہو یا عورت اس لئے کہ اس پر صحابہ کا اجماع ہے۔ (بدائع الصنائع جلد ۷، ص ۳۱۲)
(۴)
واما المرأۃ فدیتہا نصف دیۃ الرجل بلا خلاف عورت کی دیت بغیر کسی اختلاف کے مرد کی دیت سے نصف ہے۔  (الجوہرۃ النیرّہ جلد ۲ ص ۲۱۵)
(۵)
وان کان ینتقص بدل د مہا عن بدل دم الذکر یعنی عورت کے خون کا بدلہ مرد کے خون کے بدلے سے کم ہے۔  (نور الانوار ص ۲۹۷)


فقہ مالکیہ و شافعیہ اور حنبلیہ!
(۱) وامادیۃ المرأۃ فانہم اتفقوا علی انہا علی النصف من دیۃ الرجل عورت کی دیت کے بارے میں اس بات پر اتفاق ہے کہ اس کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے۔ (بدایۃ المجتہد جلد اوّل ص ۲۴۹)
(۲)
ودیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے۔  (الاحکام السلطانیہ قاضی ابویعلی حنبلی ص ۲۵۸)
(۳)
(ودیۃ المرأۃ) الحرۃ المسلمۃ (علی النصف من دیۃ الرجل، الحر المسلم) یعنی آزاد مسلمان عورت کی دیت آزاد مسلمان مرد کی دیت سے نصف ہے (الفواکہ الاوانی جلد ۲ ص ۲۰۴) علی رسالۃ ابن ابی زید القیروانی المالکی للشیخ احمد بن غنیم سالم بن مہنا النضراوی المالکی)
(۴)
فدیۃ الحرۃ المسلمۃ من الابل خمسون ۱ھ مسلمان آزاد عورت کی دیت پچاس اونٹ ہے۔  (الشرح الصغیر جلد ۴ ص ۳۷۶، ۳۷۷)
(۵)
والمرأۃ والخنثٰی کنصف رجل نفسا وجرحا ۱ھ عورت اور خنثیٰ دونوں کی دیت زخم اور جان دونوں میں مرد کی دیت کا نصف ہے۔ (منہاج للنواوی الشافعی جلد ۴، ص ۵۶، ۵۷)
(۶)
واجمعوا علی ان دیۃ المرأۃ الحرۃ المسلمۃ فی نفسہا علی النصف من دیۃ الرجل ۱ ھ علماء کا اجماع ہے کہ آزاد مسلمان عورت کی جان کی دیت آزاد مسلمان مرد کی دیت کا نصف ہے۔ (المیزان الکبریٰ للشعرانی ۱۳۸، ج ۲ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمہ جلد ۲ ص ۱۴۰)
(۷)
(ودیۃ انثی بصفتہ) ای حرۃ مسلمۃ (نصف دیتہ) حکاہ ابن المنذر و ابن عبدالبر اجماعاً وفی کتاب عمرو بن حزم دیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل مسلمان آزاد عورت کی دیت مسلمان آزاد مرد کی دیت سے نصف ہے۔ ابن المنذر اور ابن عبدالبر نے اس پر اجماع کیا اور عمرو بن حزم کی کتاب میں ہے۔ عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے۔ (شرح منتہی الارادات جلد ۳ ص ۳۰۷)
(۸)
ومن المتفق علیہ ان دیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے۔ (التشریع الجنائی الاسلامی جلد اوّل ص ۶۶۹ عبدالقادر عودہ)


اجماع
اجماع پر تفصیلی کلام کرنے کا موقع نہیں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ اجماع حجت شرعیہ ہے۔ صحابہ کا اجماع قولی، حدیث متواتر کی طرح ایسا قطعی ہے کہ اس کے انکار کو علماء نے کفر قرار دیا۔ اس کے بعد صحابہ کا اجماع سکوتی ہے جس میں بعض صحابہ کی نص موجود ہو اور بعض کا سکوت۔ یہ بھی قطعی ہے لیکن ایسا قطعی نہیں جس کا منکر کافر قرار پائے۔ اس کے انکار کرنے والے کو علماء نے ضال یعنی گمراہ قرار دیا ہے۔ (دیکھیئے نور الانوار ص ۲۲۶، ۲۲۷، حاشیہ قمر الاقمار ۲)
(مزید تفصیل کے لئے دیکھئے تلویح توضیح جلد ۲)
 

ہوم پیج