عورت کی نصف دیت پر فقہایٔ امت کا اجماع ہے

عہدِ رسالت اور خلافتِ راشدہ کے دور میں عورت کی نصف دیت پر صحابہ کرام اور علماء کا تعامل روایات منقولہ کے ضمن میں وضاحت کے ساتھ ہم پیش کرچکے ہیں جس پر کسی صحابی یا تابعی نے انکار نہیں کیا۔ یہ صحابہ کرام اور تابعین عظیم کا اجماع سکوتی ہے۔ اتباع تابعین سے لیکر الاصم اور ابنُ علیہ (جن کے متعلق ہم آگے چل کر کلام کریں گے) کے سوا کسی کا اختلاف ہمارے سامنے نہیں آیا۔ آئمہ اربعہ اور ان کے سب متبعین بلکہ تمام محدثین عورت کی نصف دیت پر متفق ہیں۔ امام فخر الدین رازی اور شاہ ولی اللہ کے کلام میں نصف دیت کے قائلین کو اکثر فقہا کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس سے یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ اکثر کا قول ہے اس پر اجماع نہیں۔
حالانکہ اکثر فقہا کے الفاظ کا تعلق دیت اطراف و جراحات سے ہے کیونکہ بعض فقہا اطراف و جراحات میں عورت کی دیت کو مرد کی دیت کے مساوی کہتے ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ دیت مرد کی دیت کا تہائی حصہ ہے البتہ اکثر فقہاء کا قول یہی ہے کہ وہ نصف ہے جب کہ جان کی دیت میں عورت کی دیت کا مرد کی دیت سے نصف ہونا اجماعی مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اکثر فقہا کے الفاظ جراحات کی نصف دیت کے بارے میں ہیں۔ جان کی دیت کا نصف ہونا محض اکثر کا قول نہیں بلکہ سب کا اتفاقی اور اجماعی مذہب ہے اور خود امام رازی اور شاہ ولی اللہ بھی عورت کی دیت کو مرد کی دیت سے اقل مانتے ہیں جیسا کہ ہم ان کی عبارات کے اقتباسات اس سے پہلے نقل کرچکے ہیں۔
بالفرض اگر اکثر فقہاء کے الفاظ کو عورت کی جان کی دیت سے متعلق مان لیا جائے تو یہ ان حضرات کے ہاں صرف
الاصم اور ابن عُلیہ کے لحاظ سے استعمال کئے گئے اگر ان کے علاوہ کسی اور کا بھی اختلاف ہوتا تو اس کا ذِکر آجاتا لیکن ان دو کے سوا کسی نے کوئی تیسرا نام ذِکر نہیں کیا۔ کل میں سے اگر دو بھی الگ ہوجائیں توبقیہ کو اکثر ہی کہا جائے گا۔
عورت کی نصف دیت کے خلاف ابوبکر ا لاصم اور ابن عُلیہ کا قول کوئی وقعت نہیں رکھتا کہ یہ دونوں استاد شاگرد معتزلی بلکہ جہمی اور گمراہ ہیں۔ دراصل الاصم اور ابن عُلیہ کے الفاظ سے ان دونوں کے بارے میں اشتباہ واقع ہوا ہے۔ فی الواقع اصم بھی دو ہیں اور ابن عُلیہ بھی دو ، ایک اصم ابوالعباس ہیں دوسرا اصم ابوبکر، اسی طرح ایک ابن عُلیہ، اسمٰعیل بن عُلیہ ہیں جو ابن عُلیہ کہلانا پسند نہیں کرتے تھے اور دوسرا ابن عُلیہ ابراہیم بن اسماعیل بن عُلیہ۔
(۱) ابوالعباس اصم امام ہیں۔ ثقہ ہیں اور مشرق کے عظیم محدث مولود ۲۴۷ھ متوفی ۳۴۶ھ (تذکرۃ الحفاظ ص ۸۶۰، ج ۳)
(۲) اسی طرح اسمٰعیل بن علیہ بھی اجلۂ محدثین میں ہیں جن کے متعلق امام ذہبی نے لکھا حافظ ہیں یعنی اعلیٰ درجہ کے ثقہ ہیں ان کے بارے میں شعبہ کا قول ہے کہ یہ سید المحدثین تھے (ان کی کنیت ابوبشر ہے) ان کی کوئی تصنیف و تالیف نہیں پائی جاتی، زیاد بن ایوب نے کہا میں نے اسماعیل بن علیہ کی کبھی کوئی کتاب نہیں دیکھی ان کی ولادت ۱۱۰ھ اور وفات ۱۹۳ھ میں ہوئی (تذکرۃ الحفاظ جلد اوّل ص ۳۲۳)
(۳) ابوبکر اصم کے متعلق علامہ حافظ ابن حجر نے فرمایا ابوبکر اصم کا نام عبدالرحمن بن کیسان ہے۔ یہ معتزلی تھا۔ اصول میں مقالات اس کی تصنیف ہے۔ اس کے بعد علامہ ابن حجر نے فرمایا کہ عبدالجبار ہمدانی معتزلی نے ابوبکر اصم کو اپنے طبقات معتزلہ میں ذِکر کیا اور اس کے متعلق کہا کہ وہ نہایت فصیح متقی اور فقیہہ تھا۔ اس کی ایک عجیب تفسیر ہے۔ اس کے ساتھ ہی فرمایا ومن تلامذتہ ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ یعنی ابوبکر اصم کے شاگردوں میں سے ابراہیم بن اسمٰعیل بن علیہ تھا۔ (لسان المیزان، جلد سوم، ص ۴۲۷)
(۴) ابراہیم بن اسمٰعیل بن ابراہیم بن مقسم ابواسحق البصری الاسدی، یہ ابن عُلیہ کے نام سے مشہور تھا ان متکلمین میں سے تھا جو خلق قرآن کے قائل ہیں (یعنی معتزلہ) امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اس کے مناظر جاری رہتے تھے۔ یہ ابوبکر الاصم کے غلاموں یعنی اس کے شاگردوں میں سے تھا۔ امام شافعی نے فرمایا، ابن علیہ گمراہ ہے۔ موضع باب السؤال میں بیٹھ کر لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔ ابن عبدالبر نے کہا، اہلسنّت کے نزدیک اس کے مذاہب مہجور ہیں۔ اس کا قول اس قابل ہی نہیں کہ اسے خلاف سے تعبیر کیا جائے۔ ابن یونس نے تاریخ الغرباء میں کہا کہ فقہ میں اس کی کئی تصنیفات ہیں جو جھگڑے کے مشابہ ہیں۔ ابوالحسن العجلی نے کہا کہ ابراہیم بن علیہ جہمی خبیث ملعون تھا (ملخص از تاریخ بغداد للخطیب جلد نمبر۶، ص ۲۰ تا ۲۳ لسان المیزان لابن حجر جلد اوّل ص ۳۴، ۳۵ میزان الاعتدال جلد اوّل ص ۱۱)
ان اقتباسات سے صاف ظاہر ہے کہ ابوبکر اصم اور ابراہیم بن علیہ دونوں معتزلی اور گمراہ تھے۔ دونوں صاحب تصانیف ہیں۔ فقہ، تفسیر اور اصول میں انہیں دونوں کی کتابیں پائی جاتی ہیں۔ اس کے برخلاف سید المحدثین اسمٰعیل بن علیہ کی کوئی تصنیف نہیں جسے ان کے کسی قول کا ماخذ قرار دیا جاسکے۔ پھر یہ کہ اسمٰعیل بن علیہ جیسے صحیح الاعتقاد متقی عالمِ دین سے یہ توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ اجماع صحابہ و تابعین کے خلاف کوئی راہ اختیار کریں۔
جب یہ ثابت ہوگیا کہ کہ ابوبکر الاصم معتزلی ہے اور ابن علیہ اس کا شاگرد ہے تو اس کے بعد اس بات میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ یہ ابن علیہ نہیں بلکہ ابراہیم ابن علیہ ہے جو اپنے استاذ ابوبکر الاصم کی طرح معتزلی بلکہ جہمی ہے۔ اس لیے عورت کی نصف دیت کے خلاف دونوں میں سے ایک کا قول بھی اجماع کو مضر نہیں بلکہ یہ دونوں خرق اجماع کے مرتکب ہوکر خود مجرم قرار پائیں گے۔
یہ صحیح ہے کہ بعض معتزلہ ہمارے فقہاء میں شمار کئے گئے اور ان کے اقوال کو بھی اقوال فقہا میں شامل کیا گیا لیکن ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس سے یہ ظاہر ہو کہ جمہور فقہاء کے خلاف کسی معتزلی کا قول اہل حق نے قبول کیا ہو چہ جائیکہ اجماع فقہا کے خلاف معتزلی اور جہمی کا قول تسلیم کرلیا جائے۔
اب اجماع فقہاء و علماء کے ثبوت میں حسب ذیل عبارات ملاحظہ فرمایئے۔ پہلے تفسیری عبارات نقل کی جاتی ہیں۔
(۱)
دیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل یعنی عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہے (تفسیر خازن جلدا ص۳۸۲، تفسیر مظہری جلد ۲ ص ۱۹۰، ۱۹۱، تفسیر روائع البیان للصابونی جلد ۱، ص ۵۰۴)
(۲)
لان دیۃ المؤمنۃ لا خلاف بین الجمیع الا من لا یعد خلاف انہا علی النصف من دیۃ المؤمن وذلک غیر مخرجہا من ان تکون دیۃ
یعنی چونکہ مسلمان عورت کی دیت کے بارے میں ایسے غیر معتبر شخص کے سوا جس کا اختلاف کوئی وقعت نہیں رکھتا تمام علماء کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ مسلمان عورت کی دیت مسلمان مرد سے نصف ہے اور اس کا نصف ہونا اسے دیت ہونے سے خارج نہیں کرتا۔ (تفسیر ابن جریر جلد ۵، ص ۱۲۳)
(۳)
اجمع العلماء ان دیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل یعنی علماء کا اجماع ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے( تفسیر قرطبی ص ۳۲۵، ج ۳)
(۴)
ودیۃ المرأۃ ومثلہا الخنثیٰ نصف دیۃ الرجل یعنی عورت اور اسی طرح خنثیٰ کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے۔ (تفسیر المنار ص ۳۳۳، ج ۵)

 

ہوم پیج