حضرت عمرو بن شعیب اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی حدیثیں ہمارے خلاف نہیں

حضرت عمرو بن شعیب اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی حدیثوں کو ہمارے خلاف کہا جارہا ہے۔ حالانکہ ان دونوں میں مرد و عورت کے زخموں کی دیت کا اختلاف وارد ہے۔ جان کی دیت کے بارے میں کوئی اختلاف ان میں مذکور نہیں۔ ہمارا کلام صرف جان کی دیت میں ہے۔ زخموں کی دیت سے اس کا تعلق نہیں۔ زخموں کی دیت کے بارے میں مذاہب علماء مختلف ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ دیت جراحات کے بارے میں آثار میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن جان کی دیت میں کوئی مختلف روایت وارد نہیں ہوئی۔ اسی لئے اس میں مذاہب علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پایا گیا۔ عمر و بن شعیب اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی یہ دونوں حدیثیں بھی اس مسئلہ میں ہماری مؤید ہیں۔
دیکھئے پہلی حدیث میں
حتی الثلث کے الفاظ اس امر کی روشن دلیل ہیں کہ عورت کی دیت کا مرد کی دیت کے مساوی ہونا ثلث تک ہے۔ اس کے بعد یہ تساوی باقی نہیں رہتی۔ تساوی کے بعد عورت کی دیت نصف ہی رہ جاتی ہے۔ اس طرح دوسری حدیث بھی ہمارے موقف کی دلیل ہے کیوں کہ اس میں تمام زخموں میں عورت کی دیت کا مرد کے مساوی ہونا مذکور ہے۔ اگر جان میں بھی تساوی ہوتی تو مطلقاً اس کی دیت کو مرد کی دیت کے مساوی فرمادیا جاتا۔ معلوم ہوا کہ اس حدیث کی رو سے بھی جان کی دیت میں عورت مرد کے مساوی نہیں۔


مراسیل
علامہ ابن عبدالبر حدیث مرسل کے بارے میں جمہور علمائے محدثین کا مذہب نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
فمر اسیل سعید بن المسیب و محمد بن سیرین و ابراہیم النخعی عند ہم صحاح
سعید بن المسیب، محمد بن سیرین اور ابراہیم نخعی کے مراسیل محدثین کے نزدیک صحیح ہیں۔ (التمہید شرح الموطا جلد اوّل ص ۳۰)
اسی طرح شعبی کے مراسل بھی سب محدثین کے نزدیک بالاتفاق صحیح ہیں۔
امام ذہبی نے فرمایا
قال احمد العجل مرسل الشعبی صحیح لا یکاد یرسل الاصحیحا (تذکرۃ الحفاظ جلد اوّل ص ۸۱) شعبی کی مرسل الشعبی صحیح ہے وہ صرف صحیح کا ارسال کرتے ہیں غیر صحیح کا ارسال نہیں کرتے۔ علامہ ذہبی نے آگے چل کر فرمایا کہ شعبی نے پانچ سو صحابہ کو پایا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی رجم کے باب میں شعبی سے حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی حدیث روایت کی صحیح بخاری میں ہے
حدثنا آدم قال حدثنا شعبۃ قال حدثنا سلمۃ بن کہیل قال سمعت الشعبی یحدث عن علی حین رجم المرأۃ یوم الجمعۃ قال رجمتہا بسنۃ رسول اللّٰہ ﷺ
یعنی شعبی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے دِن جب ایک عورت کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے رجم کیا تو فرمایا میں نے اس عورت کو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق رجم کیا ہے۔  (صحیح بخاری جلد دوم ص ۱۰۰۶)
اگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے امام شعبی کی روایت صحیح نہ ہوتی تو امام بخاری اسے اپنی جامع میں ہرگز داخل نہ کرتے۔
امام ابوداؤد سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ شعبی کی مرسل میرے نزدیک ابراہیم نخعی کی مرسل سے زیادہ محبوب ہے۔ (تہذیب التہذیب جلد ۵، ص ۶۷) اور ابن معین کا قول ہے کہ میرے نزدیک ابراہیم نخعی کی مراسیل شعبی کی مراسیل سے زیادہ محبوب ہیں (تدریب الراوی شرح تقریب نواوی ص ۱۲۴)
ابوداؤد اور ابن معین دونوں کے قول سے ثابت ہوا کہ شعبی اور نخعی دونوں کی مراسیل صحت و ثبوت میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔
اس بیان سے عورت کی نصف دیت کے ثبوت میں حضرت عمر بن خطاب، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت زید بن ثابت انصاری  سے امام شعبی و ابراہیم نخعی کی مراسیل جو ہم نے پیش کیں ائمہ محدثین کی تصریحات کی روشنی میں ان کا صحیح و مقبول ہونا ثابت ہوگیا۔ اس کے بعد انہیں مردود کہنا قول مردود ہے۔


ضروری تنبیہ
ہم بتاچکے ہیں کہ قرآن میں لفظ دیت بیان مقدار کے لحاظ سے مجمل ہے۔ امام ابوالنصر مروزی اپنی تصنیف جلیل السنۃ میں فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے
وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا کے ضمن میں لفظ دیت کا ذِکر فرمایا اور بیان مقدار میں اسے مجمل اور مبہم رکھا اس کی تفسیر بذریعہ وحی رسول اللہﷺ کو تعلیم فرمائی۔ حضورﷺ نے مسلمان مرد کی دیت سو اونٹ مقرر فرمادی۔ (السنۃ ص ۶۰)
معلوم ہوا کہ مقدار دیت کی تعیین صرف وحی الٰہی سے ہے عقل اور رائے کو اس میں کوئی دخل نہیں اور علمائے محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ایسی کوئی بات رسول اللہﷺ کی طرف نسبت کئے بغیر صحابی بیان کردے تو وہ بات صحابی کی نہ ہوگی بلکہ حضورﷺ کا فرمان قرار پائے گی۔ ایسی موقوف حدیث حکماً مرفوع ہوتی ہے۔ (دیکھئے شرح نخبہ طبع اصح المطابع کراچی ص ۸۲، ۸۳، تدریب الراوی ص ۱۱۴)
اس تحقیق کے بعد یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوگئی کہ امام شعبی اور امام نخعی کی روایات منقولہ سابقہ میں حضرت عمر بن خطاب، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت زید بن ثابت انصاری  سے جو عورت کی نصف دیت مروی ہے وہ ان صحابہ کرام کا قول نہیں بلکہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے اور یہ روایات منقولہ حکما مرفوع ہیں۔
قائلین مساوات برملا کہہ رہے ہیں کہ عورت کی نصف دیت کے ثبوت میں اگر ایک صحیح حدیث بھی ہمیں مل جائے تو ہم اپنے موقف سے دستبردار ہوجائیں گے۔ اگر واقعی وہ اپنے اس قول میں مخلص ہیں تو اب انہیں بلا تامل تسلیم کرلینا چاہیے کہ واقعی عورت کی دیت نصف ہے۔
عورت کی نصف دیت کے ثبوت میں احادیث منقولہ میں سے اگر ان کے زعم میں کوئی حدیث ضعیف بھی ہو تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ احادیث صحیحہ سے ان کی تائید و تقویت کے بعد وہ ضعیف نہیں رہتی پھر یہ کہ تعدد طرق سے ضعیف حدیث بھی قوی ہوجاتی ہے۔ (حاشیہ ملا علی قاری برشرح نخبۃ الفکر مطبوعہ استنبول ص ۱۱۲)
علاوہ ازیں حدیث ضعیف کو اگر تلقی بالقبول حاصل ہوجائے تو اس کے متعلق امام سخاوی فتح المغیث میں فرماتے ہیں مذہب صحیح کے مطابق وہ معمول بہ ہوتی ہے کہ وہ حدیث متواتر کے درجہ میں آجاتی ہے (فتح المغیث جلد اوّل ص ۲۲۸)
ایسی صورت میں ضعف کا بہانہ بھی عذرِ لنگ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ ایسی بے شمار ضعیف حدیثیں موجود ہیں جو تعاملِ امت کی وجہ سے صحیح اور مقبول ہیں۔ مثال کے لئے میں امام ترمذی کی صرف ایک حدیث پیش کرتا ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے بغیر کسی عذر کے دو نمازیں جمع کیں وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں داخل ہوگیا امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دینے کے باوجود فرمایا
والعمل علٰی ہذا عند اہل العلم (سنن ترمذی جلد اوّل ص ۲۶)
معلوم ہوا کہ ضعیف حدیث تعاملِ امت کے باعث ضعیف نہیں رہتی بلکہ وہ مقبول اور معمول بہ ہوجاتی ہے۔

 

ہوم پیج