کتاب عمرو بن حزم کی حدیث پر کلام

حدیث عمرو بن حزم سند کے لحاظ سے صحیح نہیں۔ اس کے ناقلین نے ایک دوسرے سے اختلاف کیا۔ امام نسائی نے اس کا حسب ذیل عنوان قائم کیا ذِکر حدیث عمرو بن حزم فی العقول واختلاف الناقلین لہٗ امام نسائی نے اس کے ناقلین ورواۃ کا ایک دوسرے پر اختلاف بھی نقل کیا اور الفاظ متن میں بھی ایک دوسرے کا اختلاف بیان کیا۔ (دیکھئے سنن نسائی جلد دوم ص ۲۱۸) علاوہ ازیں اس کے بعض رواۃ ضعیف اور مجروح ہیں ان کے آخر سند میں ہونے کی وجہ سے سب اسانید ضعیف قرار پاتی ہیں۔ غالباً اسی لئے ابن حزم نے اس کی صحت کا انکار کیا دیکھئے (المحلی ص ۴۰۵ ج ۱۰)
البتہ تلقی بالقبول کے باعث فی الجملہ متن حدیث کی شہرت اشبہ بالتواتر ہوگئی اور اسی تلقی بالقبول کی بناء پر اسے صحیح کہا گیا۔
اس مکتوب میں دیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل کا جملہ بھی یقینا موجود ہے جسے امام موفق الدین ابن قدامہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف المغنی اور امام ابوالقاسم الرافعی اپنی تصنیف شہیر شرح الوجیز، ان کے علاوہ علامہ منصور بن یونس البہوتی متوفی ۱۰۱۵ھ اپنی تصنیف جلیل شرح منتہی الارادات ص ۳۰۷ ج ۳ میں تینوں عمرو بن حزم کی کتاب کے حوالے سے اس جملہ کو نقل کر رہے ہیں۔ علامہ البہوتی نے ایک دوسری تصنیف الروض المرجع ص ۳۳۹ میں بھی بحوالہ کتاب عمرو بن حزم اس جملہ
دیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل کو نقل فرمایا۔ حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ ونہ کی کتاب مذکور میں اس جملہ کے موجود ہونے پر یہ امر بھی شاہد عادل ہے کہ امام حاکم نے مستدرک میں اسی کتاب عمرو بن حزم کی روایت کے ضمن میں فرمایا
ہذا حدیث کبیر مفسر فی ہذا الباب یشہد لہ امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز (مستدرک ص ۳۹۷ ج ۱)
یہ حدیث کبیر ہے جو اس باب میں مفسر ہے اس کے لئے امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز شہادت دیتے ہیں۔
یہی امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز جو حدیث عمرو بن حزم کے شاہد ہیں خلیفہ عادل ہیں۔ خلفایٔ راشدین میں انہیں شامل کیا گیا ہے۔ اپنے عہد ِ خلافت میں ایک حکمنامہ جاری فرماتے ہیں جسے امام محمد بن نصر مروزی متوفی ۲۹۴ھ کی کتاب السنۃ کی حسب ذیل روایت میں ملاحظہ فرمایئے۔ ہم سے حدیث بیان کی اسحق نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابواسامہ نے وہ محمد بن عمر و بن علقمہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا حضرت عمر بن عبدالعزیز نے دیات کے بارے میں ایک حکم نامہ لکھا۔ اس حکم نامہ میں یہ ذِکر فرمایا رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں دیت سو اونٹ تھی پھر حضرت عمر بن خطاب نے ان کی قیمت لگاکر شہریوں پر ایک ہزار دینار یا بارہ ہزار درہم مقرر فرمائے اور مسلمان آزاد عورت کی دیت رسول اللہﷺ کے زمانے میں پچاس اونٹ تھی، حضرت عمر بن خطاب نے ان کی قیمت لگاکر شہریوں پر پانچ سو دینار یا چھ ہزار درہم مقرر فرمائے۔ (انتہیٰ)
تعجب ہے جن لوگوں نے حضرت عمرو بن حزم کی کتاب دیکھی تک نہیں صرف اس کے مختلف حصوں کی کچھ روایات ان کے پیشِ نظر ہیں وہ تو عورت کی نصف دیت کو کتاب عمرو بن حزم کے خلاف کہہ رہے ہیں اور امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز جو بنفسِ نفیس اس خط کے شاہد ہیں اپنے حکمنامہ میں عہد رسالت میں سو اونٹ کی دیت کا ذکر فرماکر صاف لفظوں میں تحریر فرمارہے ہیں کہ آزاد مسلمان عورت کی دیت رسول اللہﷺ کے زمانہ مبارکہ میں پچاس اونٹ تھی۔
عورت کی نصف دیت اگر کتاب عمرو بن حزم کے خلاف ہوتی تو حضرت عمر بن عبدالعزیز کس طرح اپنے حکمنامے میں لکھواسکتے تھے کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ مبارکہ میں عورت کی دیت پچاس اونٹ تھی۔ ثابت ہوا کہ عورت کی نصف دیت کا ذکر عمرو بن حزم کی اس کتاب میں موجود تھا جو رسول اللہﷺ نے لکھوائی تھی۔ کسی محدث کا اس جملے کو اپنی کتاب میں درج نہ کرنا اس بنا پر نہیں کہ یہ عمرو بن حزم کی حدیث کا جزو نہیں بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس طویل حدیث کے متعدد حصے مختلف اسانید کے ساتھ مروی ہوئے۔ ہر سند میں حدیث کا کوئی نہ کوئی حصہ رہ گیا۔ کتب احادیث کا غور سے مطالعہ کرنے کے بعد یہ حقیقت آفتاب سے زیادہ روشن ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ مصنف عبدالرزاق، موطا امام مالک، سنن نسائی وغیرہ سب میں اس حدیث کی روایات اسی نوعیت سے پائی جاتی ہیں۔ اگر فی الواقع یہ جملہ کتاب عمرو بن حزم میں نہ ہوتا تو سیدنا فاروقِ اعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عورت کی دیت میں سو اونٹ کی بجائے ہر گز پچاس اونٹ کی قیمت نہ لگاتے۔ نہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رسول اللہﷺ کے زمانہ میں عورت کی دیت کے پچاس اونٹ ہونے کا ذِکر فرماتے نہ موفق ابن قدامہ اس کو درج کرتے، نہ رافعی کبیر اس کو اپنی تصنیف میں درج فرماتے، نہ علامہ منصور بن یونس البہوتی اپنی کتابوں میں بحوالہ کتاب عمرو بن حزم اسے وارد کرتے۔ اگر کسی کا یہ گمان ہے کہ ان اجلّہ ائمہ کرام اور علماء اعلام نے جن میں حضرت عمر بن عبدالعزیز ہی نہیں بلکہ سیدنا فاروق اعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں عورت کی نصف دیت کو رسول اللہﷺ کے لکھوائے ہوئے خط اور عہد رسالت کی طرف خلاف واقع اپنی طرف سے منسوب کردیا تو کیا وہ کہہ سکے گا کہ معاذ اللہ یہ سب حضرات
مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ
کے مصداق ہوکر ناری ہیں۔
نَعُوْذُ بِاللّٰہِ ثُمَّ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ
علامہ ابن حجر کا تلخیص حبیر میں یہ کہنا کہ جملہ
دیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل
عمرو بن حزم کی کتاب میں ثابت نہیں قلت تدبر پر مبنی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ تلخیص حبیر علامہ ابن حجر کی انہیں تصانیف میں شامل ہے جن پر انہوں نے نظر ثانی نہیں فرمائی۔ بقول ان کے ان کی ایسی کتابوں کا عدد کثیر ہے لیکن ان کے مندرجات کمزور اور ناقابلِ اعتماد ہیں۔ جیسا کہ علامہ سخاوی نے
الضوء ا للامع میں ابن حجر کا یہ مقولہ نقل کیا ہے اور مقدمہ فتح الباری کے سرورق پر بھی ان کا یہ مقولہ درج ہے۔ کاش علامہ ابن حجر کو نظر ثانی کا موقع ملتا تو وہ غور و فکر کے بعد ضرور اپنے اس قول سے رجوع فرمالیتے۔
السنۃ سے ہماری منقولہ حدیث میں تین باتیں بالصراحۃ مذکور ہیں۔
(۱) حضرت عمر بن عبدالعزیز کا اپنے حکم نامہ میں عورت کی نصف دیت لکھوانا
(۲) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مرد کی دیت میں سو اونٹ اور عورت کی دیت میں پچاس اونٹ کے حساب سے قیمت لگانا۔
(۳) رسول اللہﷺ کے زمانہ اقدس میں مرد کی دیت کا سو اونٹ اور عورت کی دیت کا پچاس اونٹ ہونا۔
یہ حدیث اپنی سند کے لحاظ سے ایسی قوی صحیح اور ثابت ہے کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
(۱) اس کے پہلے راوی امام محمد بن نصر مروزی (مولود ۲۰۲ھ، متوفی ۲۹۴ھ) ہیں جن کے متعلق حاکم کا قول ہے کہ وہ اپنے زمانے میں بلا اختلاف عُلمایٔ حدیث کے امام ہیں۔ صاحب محلی ابو محمد ابن حزم ظاہری نے اُن کی تعریف کرتے ہوئے کہا، صحابہ کے بعد علم حدیث میں محمد بن نصر مروزی جیسا اتم ہمارے علم میں کوئی نہیں۔ تقریب التہذیب ص ۲۳۵ میں ہے۔ محمد بن نصر مروزی ثقہ ہیں، حافظ ہیں، امام ہیں (علم کا) پہاڑ ہیں۔
(۲) دوسرے راوی اسحاق بن راہویہ متوفی ۲۳۸ھ ائمہ اعلام میں سے ایک ہیں، ثقہ ہیں، حجۃ ہیں۔ (میزان الاعتدال ص ۱۸۲، ۱۸۳، ج ۱)
(۳) تیسرے راوی ابواسامہ حماد بن اسامہ بن زید متوفی ۲۰۱ھ ثقہ ہیں۔ اثبت ہیں اور نہایت سچے ہیں۔ ابن سعد نے کہا ثقہ ہیں کثیر الحدیث ہیں۔
(۴) چوتھے راوی محمد بن عمرو بن علقمہ بن وقاص اللیثی متوفی ۱۴۵ھ ہیں۔ (تہذیب التہذیب) نسائی نے کہا کہ ان میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ یہ ثقہ ہیں۔ یحییٰ بن معین نے کہا ثقہ ہیں۔ علی بن المدینی ابوحاتم الرازی نے کہا سب نے ان کی توثیق کی۔ ابن حبان نے ان کو ثقات میں شمار کیا۔ مالک نے ان سے مؤطا میں روایت کی۔ (میزان الاعتدال ص ۲۷۶، ج ۱)
تقریب التہذیب اور تہذیب میں بھی ان روات کی تعدیل و توثیق منقول ہے۔ ہماری اس تحقیق کے بعد حدیث عمر و بن حزم سے متعلقہ شکوک و شبہات کا پوری طرح استیصال ہوگیا اور ساتھ ہی یہ حقیقت بھی آفتاب سے زیادہ روشن ہوکر سامنے آگئی کہ عہد رسالت سے لیکر عہد تابعین و اتباع تابعین زمانۂ خیر القرون تک عورت کی نصف دیت میں کسی کا اختلاف نہیں پایا گیا۔ اسی کو اجماع کہتے ہیں۔
دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ کا ترجمہ دِیَۃٌ مَّعْرُوْفَۃٌ بھی کیا جارہا ہے۔ محض اس لئے کہ اس ترجمہ کرنے والوں کے خیال میں دستور یہی تھا کہ مرد ہو یا عورت مقدارِ دیت سب کے لئے ایک ہی تھی لیکن اس کے برخلاف ہم ثابت کرچکے ہیں کہ عہد رسالت میں یہ دستور نہ تھا بلکہ دستور یہ تھا کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی تھی۔ رہا دورِ جاہلیت تو اس میں بھی مقدار دیت میں یہی دستور تھا کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف تھی۔ دیکھئے المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ص ۵۹۳ ج ۵، جس میں جاہلیت کا دستور صراحۃً مذکور ہے۔ وتکون دیۃ المرأۃ نصف دیۃ الرجل کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہوتی تھی۔ انتہیٰ۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی قبیلہ نے مرد کی دیت دس اونٹ مقرر کی تو اس کے دستور میں عورت کی دیت پانچ اونٹ تھی۔ کسی نے مرد کی دیت سو اونٹ مقرر کیے تو اس کے مطابق عورت کی دیت پچاس اونٹ تھی۔ (علیٰ ہذا القیاس)
بہر صورت مقدار دیت میں عہد جاہلیت کا دستور یہی تھا کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف تھی۔
مختصر یہ کہ لفظ
مُسَلَّمَۃٌ کے ترجمہ میں تحریف کے باوجود بھی قائلین مساوات کا دعویٰ ثابت نہ ہوا۔

حدیث المسلمون تتکافؤ دماؤہم کا صحیح مفہوم
عورت کی مقدار دیت کو مرد کی دیت کے برابر ثابت کرنے کے لئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی اس حدیث مرفوع کو بڑے شد و مد سے پیش کیا جارہا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا مسلمانوں کے خون برابر ہیں بیشک سب مسلمانوں کے خون مرد ہو ںیا عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے برابر ہیں لیکن مردو عورت کی دیت کا مقدار میں برابر ہونا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا نہ اس مقصد کے لئے حضور نے یہ حدیث فرمائی۔
اس حدیث کا پس منظر یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں معزز اور طاقتور قبیلے کے کسی آدمی کو کمزور قبیلے کا کوئی شخص قتل کردیتا تو وہ اپنے ایک مقتول کے بدلے میں کمزور قبیلے کے کئی آدمیوں کو قصاص میں قتل کرتا تھا۔ اپنے قبیلے کی مقتولہ عورت کے بدلے میں خواہ اس کی قاتلہ دوسرے کمزور قبیلے کی عورت ہی کیوں نہ ہو کمزور قاتلہ کے قبیلے کے مرد کو قتل کردیتا تھا۔ اپنے غلام کے بدلے میں کمزور قبیلے کے آزاد کو قتل کرتا تھا۔ بعض قبیلوں نے اپنے مقتولین کی دیت اپنی طرف سے مقرر کردی تھی۔ بایں طور کہ وہ اپنے ایک مقتول کے بدلے میں خواہ وہ مرد ہو یا عورت دو دیتیں بلکہ بعض اوقات دو سے بھی زیادہ قاتل کے قبیلے سے وصول کرتے تھے۔ طاقتور قبیلہ اپنے مقتول کے بدلے میں کمزور قبیلے سے قصاص ہی لیتا لیکن اگر اس طاقتور قبیلے کا کوئی شخص کمزور قبیلے کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو قصاص کی بجائے ساٹھ وسق کھجوریں بطور دیت اسے دینے پر اکتفا کرتا۔ (المفصّل ص ۵۹۳، ج ۵)
اسی حدیث کے تحت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مرقات شرح مشکوٰۃ میں امام بغوی کی شرح السنۃ سے اس حدیث کے معنی اس طرح نقل کئے امام بغوی نے فرمایا کہ اس حدیث (تتکافاء) سے رسول اللہﷺ کی مراد یہ ہے کہ سب مسلمانوں کے خون قصاص میں برابر ہیں۔ مسلمانوں میں سے رزیل کے بدلے شریف اور صغیر کے بدلے کبیر اور جاہل کے بدلے عالم، مرد کے بدلے عورت سے قصاص لیا جائے گا۔ اگرچہ مقتول شریف یا عالم ہو اور قاتل رزیل یا جاہل ہو۔ بہر صورت قاتل ہی سے قصاص لیا جائے گا۔ اسلام میں قاتل کے علاوہ کسی دوسرے کو قتل نہ کیا جائے گا جیسا کہ اہل جاہلیت کرتے تھے کہ وہ کسی شریف کے بدلے اس کے رزیل قاتل سے قصاص لینے پر قطعاً راضی نہ ہوتے تھے جب تک کہ قاتل کے قبیلے سے متعدد افراد کو قتل نہ کردیتے۔ (المرقاۃ ص ۱۶ ج ۴) یعنی دورِ جاہلیت میں قصاص میں لوگوں کے خون برابر نہ تھے۔
رسول اللہﷺ نے
المسلمون تتکافؤ دماء ہم فرماکر قصاص میں سب مسلمانوں کا خون برابر قرار دے دیا۔ دیت میں بھی مسلمانوں کے خون کی مساوات اس طرح ہے کہ اسلام نے اس بات کو جائز قرار نہیں دیا کہ کسی مسلمان کے خون کی ایک دیت ادا کردی جائے اور کسی کے خون کے بدلے دو یا اس سے زیادہ دیتیں وصول کرلی جائیں۔
سب مسلمان مردوں کی دیت کی مقدار باہم مساوی ہے اور تمام مسلمان عورتوں کی مقدار دیت ان کے آپس میں برابر ہے جیسا کہ ہم اس سے پہلے حجۃ اللہ البالغہ سے بھی نقل کرچکے ہیں۔
فکل امرأۃ مکافئۃ لکل امرأۃ ولذالک کانت دیات النساء واحدۃ
تمام عورتیں آپس میں ایک دوسری کے مساوی ہیں۔ اسی لیے عورتوں کی دیت ایک ہے (حجۃ اللہ البالغہ ص ۱۵۲)
المعتصر من المختصر اشعۃ اللمعات ومرقاۃ کی سب عبارات کا یہی مفہوم ہے۔
مرد و عورت کی مقدار دیت کا مساوی ہونا ہر گز ان سے مفہوم نہیں ہوتا جس کی روشن دلیل یہ ہے کہ ملا علی قاری نے بھی مرقاۃ میں عورت کی نصف دیت کا اجماعی قول ذِکر کیا۔ وہ فرماتے ہیں
وفی کتاب الرحمۃ واجمعوا علی ان دیۃ المرأۃ المسلمۃ فی نفسہا علی النصف من دیۃ الرجل الحر المسلم انتہیٰ۔
یعنی کتاب الرحمۃ میں ہے اس بات پر اجماع ہے کہ آزاد مسلمان عورت کی جان کی دیت مسلمان آزاد مرد کی دیت سے نصف ہے۔ آگے چل کر فرماتے ہیں۔
وقال الشمنی والدیۃ للمرأۃ نصف ماللرجل فی النفس اومادونہا
شمنی نے کہا کہ جان یا اس کے ماسوا میں عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ص ۲۸، ج ۴، طبع مصر)
اسی طرح شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ مشکوٰۃ کی شرح لمعات میں شکم مادر کے بچے کی دیت کے متعلق فرماتے ہیں کہ
ان سقط حیاثم مات فیجب فیہ کمال دیۃ الکبیر فان کان ذکرا وجبت مائۃ من البعیر وان کان انثیٰ فخمسون لان دیۃ الانثیٰ نصف دیۃ الرجل کہ اگر وہ بچہ ساقط ہوکر مر گیا تو اس میں بڑے آدمی کی پوری دیت واجب ہے اگر وہ بچہ لڑکا ہے تو سو اونٹ دیت واجب ہوگی اور اگر لڑکی ہے تو پچاس اونٹ اس لئے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے۔ (حاشیہ نمبر۹، مشکوٰۃ ص ۳۰۲)
 

ہوم پیج