دِیَۃُ الْمَرْأَۃِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ دِیَۃِ الرَّجُلِ
عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے (حدیث نبوی)
اسلام میں عورت کی دیت

پیش لفظ

ہر کس از دستِ غیر نالہ کند
سعدیؔ از دستِ خویشتن فریاد

اسلام اور قرآن کا نام لے کر اسلام کے طے شدہ مسائل کو ایسے نازک دور میں چیلنج کیا جارہا ہے جب کہ اسلامی نظام کے نفاذ کا موقع ہے۔ پچھلے دنوں تدبر اور الاعلام میں رجم کے خلاف بڑی شد و مد کے ساتھ مضامین شائع ہوئے فقیر نے نہایت بسط و تفصیل سے قوی دلائل کے ساتھ ان کا رد کیا اور اسے رجم اسلامی سزا ہے کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع کردیا گیا۔
اب عورت کی نصف دیت کے خلاف ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا جو اخبارات کے ذریعے پورے ملک میں پھیلا دیا گیا۔ فقیر نے ایک مبسوط مضمون اس کے رَد میں لکھا جس کا اکثر حصہ اخبارات میں شائع ہوچکا ہے۔ اگر اسلام اور قرآن کے منکرین کی طرف سے دین کے ان متفقہ مسائل کے خلاف آواز اٹھتی تو کوئی حیرت ہوتی نہ شکایت مگر تعجب اور افسوس اس بات پر ہے کہ اسلام اور قرآن کا نام لیکر اسلامی اور قرآنی احکام کو مسخ کرنے کی سعی مذموم کی جارہی ہے جو ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
دیت کے بارے میں فقیر کا یہ پورا مضمون کچھ ترمیم اور اضافہ کے ساتھ اب کتابی شکل میں شائع ہورہا ہے۔
علالت و ضعف اور دیگر علمی مصروفیات کے باوجود اثباتِ مدعیٰ اور ازالۂ شکوک و شبہات کی فقیر نے پوری کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کوشش کو کامیابی سے ہمکنار فرماکر شرفِ قبول عطا فرمائے۔ (آمین)

سید احمد سعید کاظمی
۲۳؍جنوری ۱۹۸۵ء


مسئلہ دیت میں دلائل پر کلام کرنے سے پہلے عرض کروں گا کہ احکامِ شرعیہ جن حکمتوں اور مصلحتوں پر مبنی ہیں اور جو اسرار الٰہیہ ان میں پائے جاتے ہیں کتاب و سنت کی روشنی میں اگر انہیں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ حقیقت واضح ہوکر سامنے آجائے گی کہ عورت کے قتل عمد میں قصاص اور اس کے قتل خطاء میں نصف دیت کا حکم کتاب و سنت کی روح کے عین مطابق ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے دو باتیں پیش نظر رکھی جائیں، ایک یہ کہ مسلمان عورت اور مسلمان مرد انسان اور مسلمان ہونے میں مساوی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ عورت کی خلقت میں مرد کی بہ نسبت کمزوری اور کمی پائی جاتی ہے۔
یوں تو انسان مطلقاً ضعیف پیدا کیا گیا۔ عام اس سے کہ وہ مرد ہو یا عورت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور انسان ضعیف پیدا کیا گیا سورۂ نساء آیت نمبر ۲۸۔
یہی وجہ ہے کہ اسے اعمالِ شاقہ کا مکلف نہیں بنایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا سورۃ بقرہ آیت ۲۸۶
لیکن مرد کی بہ نسبت عورت زیادہ کمزور ہے اور اس کی خلقت میں مرد کی خلقت سے کمی پائی جاتی ہے، اسی لیے عورت کو صنفِ نازک سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ نزاکت درحقیقت اس کی کمزوری اور خلقت میں کمی ہے۔
عربی میں عورتوں کو نساء کہا جاتا ہے جو نسی العمل سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ہیں ترک العمل (المنجد ص ۸۰۷)
عمل طاقت سے ہوتا ہے۔ لہٰذا ترک عمل طاقت نہ ہونے کا مشعر ہوگا۔
مرد کو اہلِ عرب لفظ الرجل سے تعبیر کرتے ہیں جس کا اصل مادہ قوت کے معنی میں آتا ہے۔ (روح المعانی پ ۲ ص ۱۱۶، تفسیر ملخصاص ۳۷۱ ج ۲)
ہذا ارجل الرجلین کے معنی ہیں اشد الرجلین یعنی دو آدمیوں میں جو زیادہ طاقتور ہو اُسے ارجل الرجلین کہا جاتا ہے۔ (تاج العروس ص ۳۳۵ ج ۷)
لسان العرب میں ہے
الرجلۃ القوۃ علی المشی اسی میں ہے رجل رجیل قوی علی المشی نیز رجل صلب (لسان العرب ج ۱۱ ب لام ص ۲۷۱)
امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں رجل راجل، ای قوی علی المشی مفردات راغب ص ۱۸۹۔ خلاصہ یہ کہ مرد کی بہ نسبت عورت کے جسمانی روحانی علمی اور عملی قویٰ خلقۃً کمزور اور ناقص ہیں۔ اسی لیے مرد نبی ہوئے مگر کوئی عورت نبی نہیں ہوئی۔ قرآن مجید میں ہے۔
ہم نے آپ سے پہلے مردوں ہی کو رسول بناکر بھیجا جن کی طرف ہم نے وحی کی۔ (سورۃ یوسف آیت ۱۰۹، النحل آیت ۴۲، الانبیاء آیت نمبر۷)
انسانیت اور اسلام میں تساوی کا تقاضا یہ ہے کہ مرد عورت احکام شرعیہ میں مساوی ہوں اور عورت کے فطری ضعف اور خلقی کمزوری کا مقتضیٰ عدم مُساوات ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے حکمت کے مطابق عدل و انصاف کے ساتھ دونوں تقاضوں کو پورا کردیا۔ مثلاً عقائد و ایمانیات اور ارکانِ اسلام کے وجوب میں مساوات رکھی، ضرورت دین کی تصدیق اور ایمان، مرد و عورت دونوں پر یکساں واجب ہے۔ فی الجملہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کی فرضیت میں بھی مرد عورت دونوں مساوی ہیں اور عدمِ مُساوات کے تقاضے کی تکمیل کے لئے بعض احکام میں عورت کو مرد کے مساوی نہیں رکھا گیا۔ مثلاً نکاح میں عورتوں کیلئے مہر مرد پر واجب ہے۔ عورت پر مرد کے لئے مہر واجب نہیں۔ مرد عورت کو طلاق دے سکتا ہے۔ عورت کو صرف خلع کا حق حاصل ہے۔ وہ مرد کو طلاق نہیں دے سکتی۔ مرد کے لئے چار عورتوں کو اپنے نکاح میں جمع کرنا جائز ہے۔ عورت کے لئے ایک سے زیادہ مردوں سے بیک وقت نکاح کرنا جائز نہیں، اسی طرح مرد عورتوں پر قوام ہیں، عورتیں مردوں پر قوامات نہیں، مردوں پر عورتوں کا نفقہ واجب ہے، عورتوں پر مردوں کا نفقہ واجب نہیں، ارشاد خداوندی ہے۔
مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ (سورۃ النساء آیت ۱۱)
اس فرمانِ الٰہی کے خصوص میں بھی عورت پر مرد کو فضیلت حاصل ہے۔ یہاں پر عورت کا حصہ مرد سے آدھا ہے کیونکہ اپنے اہل کی عفت و عصمت کی نصرت و حمایت اپنی قوت کے ساتھ مرد ہی کرسکتا ہے۔ عورت اپنی خلقی کمی اور فطری کمزوری کی وجہ سے یہ فریضہ سرانجام نہیں دے سکتی۔ نیز یہ کہ مردوں پر مصارف کثیرہ کا بوجھ ہے جو عورتوں پر نہیں۔ اس لئے یہاں مرد کا حصہ دوگنا ہے۔ اُس میں عورت مرد کے مساوی نہیں۔ یہ سب مرد کے فضائل ہیں۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی حجۃ اللہ البالغہ ص ۱۵۲ ج نمبر۲ میں فرمایا کہ قصاص میں مرد عورت کی برابری جنسِ انسانیت میں دونوں کے مساوی ہونے کا تقاضا ہے اور دیت میں مرد عورت کا برابر نہ ہونا دیگر امورِ مذکورہ میں ان کے مساوی نہ ہونے اور مرد کے افضل ہونے کا مقتضیٰ ہے۔ معلوم ہوا کہ عورت کی دیت کا مرد کے برابر نہ ہونا عورت کی خلقی کمی اور اس کے فطری ضعف پر مبنی ہے۔ ان چند سطور سے پہلے شاہ صاحب نے عورت کی دیت کو مرد کی دیت کے برابر قرار نہیں دیا بلکہ عورتوں کی دیت کو آپس میں مماثل اور مساوی قرار دیا۔
امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی
وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ کے تحت یہی بات فرمائی کہ مرد کا عورت سے افضل ہونا امر معلوم ہے۔ اس کے باوجود اس مقام پر اس فضیلت کا ذِکر فرمانا دو وجوہ پر مبنی ہے۔ پہلی وجہ میں عورت پر مرد کی فضیلت کے آٹھ امور بیان کرتے ہوئے فرمایا پہلا امر عقل ہے جس میں مرد کو عورت پر فضیلت حاصل ہے۔ (تفسیر کبیر ص ۳۷۱ ج ۲)
شاہ ولی اللہ اور بعض دیگر علماء کے کلام میں عمل بالقیاس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ دلیل قیاسی ہے یا رائے کو اس میں دخل ہے بلکہ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دلیلِ سمعی (کتاب و سنت) سے عورت کی نصف دیت کا ثابت ہونا خلافِ عقل نہیں بلکہ عقل سلیم، قیاس صحیح اور اصابتِ رائے کا مقتضیٰ بھی یہی ہے۔ حجۃ اللہ البالغہ اور تفسیر کبیر کے اقتباسات سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور امام فخر الدین رازی علیہ الرحمۃ کے نزدیک حکمِ شرعی اور مرادِ الٰہی یہی ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے۔ ارشادِ خدا وندی ہے اور جس نے خطا کے طور پر کسی مومن کو قتل کیا تو ایک مسلمان غلام یا باندی کا آزاد کرنا ہے اور دیت ہے سپرد کی ہوئی اس (مقتول) کے اہل کی طرف (سورۃ نساء آیت ۹۲)
اس آیت میں مومن کے قتل خطا میں کفارہ کے بعد وجوب دیت کا حکم مذکور ہے۔ یہاں لفظ مومن عام ہے۔ اس میں مرد یا عورت کی کوئی تخصیص نہیں۔ دونوں اس میں شامل ہیں۔
اسی طرح وجوب دیت کا حکم بھی عام ہے۔ اس میں بھی کوئی تخصیص نہیں۔ مومن مرد ہو یا عورت ہر ایک کے قتل خطا میں دیت واجب ہے لیکن مقدارِ دیت قرآن مجید میں کہیں مذکور نہیں۔ مقدار کے بارے میں لفظ دیت مجمل ہے۔
تفسیر قرطبی میں ہے
ولم یعین اللّٰہ فی کتابہ مایعطی فی الدیۃ (قرطبی ص ۳۱۵ ج ۳)
اسی آیت کے تحت تفسیر مظہری میں ہے وہی
مجملۃ فی المقدار ومن یجب علیہ بینہ النبی ﷺ (تفسیر مظہری ص ۱۸۵ ج ۲) اسی طرح ص ۱۹۳ پ ۵ پر ہے لان الدیۃ لفظ مجمل ورد بیانہ من النبی ﷺ (مظہری)
بدائع الصنائع میں ہے
انہ مجمل فی بیان القدر والوصف فبین علیہ الصلوۃ والسلام قدر الدیۃ بدائع الصنائع امام ابوبکر بن مسعود کاسانی (ص۲۵۷ ج ۷) السنۃ (للامام محمد بن نصر المروزی ص ۶۰)
قرآن کے مجمل کی تفسیر اگر قرآن میں نہ ہو تو رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی طرف رجوع کیا جائیگا۔ کسی کو اپنی رائے سے اس کی تفسیر کرنے کا حق نہیں۔ حکم قرآنی ہے نماز قائم کرو اورزکوٰۃ دو (بقرہ آیت ۴۳)
یہ آیت، وجوبِ صلوٰۃ و زکوٰۃ میں واضح ہے لیکن مقادیر زکوٰۃ اور نمازوں کی تعداد، اسی طرح تعداد رکعت کے بارے میں یہ آیت مجمل ہے۔ کسی کی رائے کو اس میں دخل نہیں۔ تفسیر بالرائے کرنے والا حدیث پاک کی روشنی میں ناری ہے۔
مقدارِ دیت کے اجمال کا بیان بھی سنت و حدیث ہی کی روشنی میں معلوم ہوسکتا ہے۔ کسی کو اپنی رائے سے اس کی تفسیر کرنا جائز نہیں۔ واضح رہے کہ قصاص کے علاوہ مال کی کسی مقدار پر آپس میں صلح کرلیں۔ اس مال کو بدلِ صلح کہا جاتا ہے اور قتل خطا میں قصاص کا حکم نہیں۔ صرف دیت ہے اگر مرد ہو تو مقدار دیت سو اونٹ ہے اور عورت کے قتل میں اس کی دیت کی مقدار مرد کی دیت کا نصف ہے یعنی پچاس اونٹ چنانچہ مقدارِ دیت کے اس اجمال کی تفصیل مندرجہ ذیل احادیثِ نبویہ کی روشنی میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ قتل خطا میں مرد کی دیت کی مقدار رسول اللہﷺ نے سو اونٹ مقررفرمائی۔
(۱) عمرو بن شعیب اپنے والد شعیب سے، وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو بن عاص) سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو بطورِ خطا قتل کردیا جائے اس کی دیت سو اونٹ ہے۔ (نساء ص ۲۱۴ ج ۲، ابوداؤد ۶۲۴ ج ۲)
(۲) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی رسول اللہﷺ سے روایت کیا نبی کریمﷺ نے فرمایا قتل خطا شبہ عمد کی دیت، جو کوڑے یا لاٹھی سے قتل کیا گیا ہو سو اونٹ ہے۔ (نسائی ص ۲۱۴، ج ۲۔بیہقی ص ۷۳ ج ۸)
(۳) رسول اللہﷺ نے فرمایا سن لو بیشک قتل خطا شبہ عمد کی دیت، جو کوڑے یا لاٹھی یا پتھر سے قتل کیا گیا ہو، سو اونٹ ہے۔ (نسائی ۲۱۴ ج ۲، بیہقی ص ۷۳ ج ۸)
ان احادیث میں مرد کی دیت کی مقدار بیان فرمائی گئی ہے۔ عورت کی دیت کی مقدار ذیل کی احادیث میں مذکور ہے۔
(۴) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہے۔ (سنن کبریٰ للبیہقی ص ۹۵ ج ۸)
(۵) نسائی شریف میں ہے عمرو بن شعیب اپنے والد شعیب سے وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو بن عاص) سے روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا عورت کی دیت مرد کی دیت کی طرح ہے یہاں تک کہ وہ تہائی کو پہنچ جائے۔ (نسائی شریف ص ۲۱۴ ج ۲)
(۶) حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا عورت کی دیت مرد کی دیت کی مثل ہے یہاں تک کہ وہ تہائی کو پہنچ جائے اور یہ منقولہ میں ہے یعنی اس زخم میں جس میں ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ سے الگ ہوجائے پھر جو منقولہ سے زائد ہو وہ مرد کی دیت کا نصف ہوگا۔ جو کچھ بھی ہو۔ (جراحۃ ہو یا جان) (مصنف عبدالرزاق ص ۳۹۶ ج ۹ متوفی ۲۱۱ھ)
(۷) حضرت عکرمہ نے نبی کریمﷺ سے حدیثِ سابق کی مثل روایت کی (مصنف عبدالرزاق ص ۳۹۶، ج ۹)
قرآن کریم میں لفظِ دیت کے اجمال کی تفصیل رسول اللہﷺ کے فرمان کی روشنی میں ہمارے سامنے آگئی کہ قتل خطا کی صورت میں مرد کی دیت کی مقدار سو اونٹ ہے اور عورت کے قتل خطا میں دیت کی مقدار مرد کی دیت کا نصف ہے۔ یعنی پچاس اونٹ۔ آیت کریمہ کا اجمال دور ہوجانے کے بعد اس آیت قرآنیہ سے قتل خطا میں مقدارِ دیت واضح ہوگئی اور آیت کریمہ کا یہ مفہوم متعین ہوگیا کہ مومن کے قتل خطا میں کفارہ واجب ہے اور مقتول کے اہل کو دیت ادا کرنا بھی یقینا واجب ہے۔ دیت کے واجب ہونے میں مرد و عورت مساوی ہیں مگر مقدارِ دیت میں مساوی نہیں۔ مرد کی دیت سو اونٹ ہے اور عورت کی دیت اس کا نصف ہے یعنی پچاس اونٹ۔ دیت اور اس کی مقدار عقل و قیاس سے بالا تر اور محض بیانِ شارع پر موقوف ہے۔ کسی کی رائے کو اس میں دخل نہیں۔ اس لئے اس باب میں موقوف حدیثیں بھی مرفوع کا حکم رکھتی ہیں۔ چند احادیثِ موقوفہ درج ذیل ہیں۔
(۸) امام عبدالرزاق نے معمر سے اس نے ابن ابی نجیح سے اس نے مجاہد سے اس نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کی۔ انہوں نے فرمایا کہ پانچ اونٹ تک مرد و عورت برابر ہیں۔ مجاہد نے کہا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ عورت کے لئے ہر چیز میں نصف ہے یعنی اس کے زخم و جان دونوں کی دیت نصف ہے۔ (مصنف عبدالرزاق ص ۳۹۷ ج ۹)
اس حدیث کو طبرانی نے بھی روایت کیا۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ لیکن مجاہد نے عبد اللہ بن مسعود سے نہیں سنا۔ (مجمع الزوائد ص ۲۹۹، ج ۶)
(۹) ابراہیم (نخعی) حضرت عمر بن خطاب اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں دونوں نے فرمایا عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہے۔ جان میں اور اس کے ماسوا میں (السنن الکبریٰ ص ۹۶ ج ۸)
(۱۰) شعبی حضرت زید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا مردوں اور عورتوں کے زخم تہائی تک برابر ہیں جو زیادہ ہو وہ نصف پر ہے اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا دانت اور موضحہ (جس زخم میں ہڈی ظاہر ہوجائے) کے سوا کیونکہ ان کی دیت برابر ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول شعبی کو زیادہ پسند تھا۔ (بیہقی ص ۹۶ ج ۸)
بیہقی نے کہا اس حدیث کو ابراہیم نخعی نے زید بن ثابت اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ وہ سند منقطع ہے اور شقیق نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی وہ سند موصول ہے۔ (بیہقی ص ۹۶، ج ۸)
(۱۱) ابن شہاب اور مکحول اور عطا سے روایت ہے تینوں نے کہا ہم نے لوگوں کو اس بات پر پایا کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ مبارکہ میں آزاد مسلمان مرد کی دیت سو اونٹ تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی قیمت لگا کر شہریوں پر ایک ہزار دینار یا بارہ ہزار درہم مقرر فرمائے اور مسلمان آزاد عورت کی دیت جب کہ وہ شہری آبادیوں سے ہو پانچ سو دینار یا چھ ہزار درہم مقرر فرمائے۔ اگر شہری عورت کا قاتل دیہاتی ہو تو اس کی دیت پچاس اونٹ ہے اسی طرح دیہاتی عورت کو اگر کوئی دیہاتی قتل کرے تو اس کی دیت بھی پچاس اونٹ ہے۔ دیہاتی کو سونے چاندی کی تکلیف نہیں دی جائیگی۔ (السنن الکبریٰ ص ۹۵، ج ۱)
(۱۲) امام محمد بن نصر مروزی فرماتے ہیں ہم سے اسحاق نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہمیں خبردی ابواسامہ نے وہ محمد بن عمر و بن علقمہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے دیات کے بارے میں ایک حکم نامہ لکھا جس میں انہوں نے اس بات کا ذکر فرمایا کہ مسلمان مرد کی دیت رسول اللہﷺ کے عہدِ مبارک میں سو اونٹ تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت میں ان کی قیمت لگاکر شہریوں پرایک ہزار دینار یا بارہ ہزار درہم مقرر فرمائے اور مسلمان آزاد عورت کی دیت عہد رسالت مآب ا میں پچاس اونٹ تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی قیمت لگا کر پانچ سو دینار یا چھ ہزار درہم مقرر فرمائے۔ (کتاب السنۃ ص ۶۳ طبع ریاض مؤلفہ: امام محمد بن نصر مروزی)
(۱۳) ابن ابی نجیح اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے مکہ مکرمہ میں ایک عورت کو پامال کرکے ہلاک کردیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کے قتل میں آٹھ ہزار درہم ادا کئے جائیں۔ چھ ہزار عورت کی پوری دیت اور دو ہزار اس کا تہائی حصہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اس زائد تہائی حصے کا حکم بطورِ تغلیظ تھا کہ حرم مکہ میں اس نے قتل کیا۔ (السنن الکبریٰ ص ۹۵ ج ۸)
(۱۴) امام عبدالرزاق صاحب مصنف معمر سے روایت کرتے ہیں۔ معمر نے زہری سے روایت کی کہ امام زہری نے فرمایا کہ مرد و عورت کی دیت برابر ہے۔ یہاں تک کہ دیت کے تیسرے حصے تک پہنچ جائے اور یہ جائفہ میں ہے یعنی اس زخم میں جو پیٹ کی گہرائی تک پہنچ جائے۔ پھر تہائی حصے تک پہنچنے کے بعد عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہے۔ (مصنف عبدالرزاق ص ۳۹۴، ج ۹)
(۱۵) امام عبدالرزاق ابن جریح سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا مجھے ہشام بن عروہ نے عروہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی وہ فرماتے ہیں۔ عورت کی دیت مرد کی دیت کے برابر ہے۔ یہاں تک کہ تہائی کو پہنچ جائے۔ پھر تہائی تک پہنچنے کے بعد عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے۔ (مصنف عبد الرزاق ص ۳۹۴، ج ۹)
(۱۶) حضرت شریح سے روایت ہے کہ ہشام ابن ہبیرہ نے خط میں ان سے سوال کیا۔ حضرت شریح نے انہیں جواب میں لکھا کہ ہر چھوٹے اور بڑے موجب دیت زخم میں عورت کی دیت مرد سے آدھی ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عورت کے قتل خطا میں عورت کی دیت کو مرد کی دیت کا نصف کہتے تھے سوائے دانت اور موضحہ کے کہ ان دونوں میں مرد و عورت برابر ہیں اور زید بن ثابت کہتے تھے کہ خطا کی صورت میں عورت (کے زخموں) کی دیت مرد کی دیت کی مثل ہے۔ یہاں تک کہ وہ ثلث کو پہنچے۔ تہائی سے زائد ہوجائے تو مرد کی دیت کا نصف ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ص ۷۰۱، ج ۱۰)
(۱۷) امام مالک، ابن شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں اور عروہ بن زبیر سے بھی انہیں روایت پہنچی کہ زہری اور عروہ بن زبیر دونوں کا قول عورت کے بارے میں سعید بن مسیب کے قول کی مثل ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کے تہائی حصے تک مرد کے برابر ہوگی مرد کی دیت کے تہائی حصہ تک پہنچنے کے بعد عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہوگی۔ (موطا امام مالک ص ۶۷۰)
(۱۸) حضرت شریح سے روایت ہے انہو ں نے فرمایا کہ حضرت عمر کے پاس سے عروہ بارقی یہ حکم میرے پاس لے کر آئے کہ مردوں اور عورتوں کے زخم دانت اور موضحہ میں برابر ہیں۔ اس سے زیادہ میں عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ مخطوطہ ص ۷۰۰، ج ۱۰)
(۱۹) امام محمد بن حسن شیبانی فرماتے ہیں ہمیں امام ابوحنیفہ نے خبر دی وہ حماد سے روایت کرتے ہیں۔ حماد ابراہیم سے، ابراہیم نخعی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے راوی ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے۔ جان میں ہو یا اس کے ماسوا جراحات میں (کتاب الحجہ ص ۲۷۲، ج ۴)
(۲۰) ابراہیم (نخعی) حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے۔ جاں میں اور اس کے علاوہ (جراحات) میں (السنن الکبریٰ للبیہقی ص ۹۶، ج ۸)


ازالہ شبہات:
پوری قوت سے کہا جارہا ہے کہ بیہقی نے وفیہ ضعف کہہ کر حدیث معاذ بن جبل کے ضعیف ہونے کا فیصلہ کردیا۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ امام بیہقی نے اس حدیث کو ضعیف نہیں کہا بلکہ اس کی دوسری سند کو ضعیف کہا ہے جیسا کہ وہ متصلاً فرمارہے ہیں۔ بطریق عبادہ بن نسی یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں ضعف ہے دوسری سند کا ضعف ہمیں مضر نہیں بلکہ تعدد طرق موجب تقویت حدیث ہے۔ ابن ترکمانی نے بھی اس کے تحت لکھا ہے میں کہتا ہوں ظاہر یہ ہے کہ بیہقی کا قول وفیہ ضعف وجہ اخیر (دوسری سند) کے بارے میں ہے۔
یہاں یہ شبہ وارد کرنا بھی صحیح نہیں کہ اگلے باب دیۃ جراح المرأۃ میں جہاں عورت کے زخموں کی دیت سے متعلق حدیثیں وارد ہیں۔ امام بیہقی کا یہ قول منقول ہے۔
وروی عن معاذ بن جبل عن ا لنبیﷺ باسناد لایثبت مثلہ یعنی غیر ثابت سند کے ساتھ نبی ﷺ کی حدیث معاذ بن جبل سے مروی ہے۔
اس لئے کہ اس قول میں سیاق و سباق کے پیشِ نظر ہماری منقولہ حدیث معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مراد نہیں ہوسکتی۔ اگر ایسا ہوتا تو امام بیہقی باب سابق میں حدیث کی دوسری سند کو ضعیف کہنے کی بجائے اسی مقام پر
باسناد لایثبت مثلہ فرمادیتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ معلوم ہوا کہ امام بیہقی دوسرے باب میں معاذ بن جبل کی جس روایت کے متعلق باسناد لا یثبت مثلہ فرمار ہے ہیں وہ معاذ بن جبل کی کوئی ایسی ہی روایت ہوسکتی ہے جو زخموں کی دیت کے بیان میں احادیث باب کے ہم معنی ہو اور وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وہی حدیث مرفوع ہے جو ایک سند ضعیف کے ساتھ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ دیت جراحات و اعضاء کے متعلق اسی کتاب الدیات میں اس سے قبل تین جگہ وارد کر چکے ہیں اور اس کے متعلق وفیہ ضعف کی تصریح بھی انہوں نے فرمادی ہے۔
دیکھئے امام بیہقی فرماتے ہیں۔
(۱) ابو یحییٰ ساجی نے بطریق عبادہ بن نسی، ابن غنم، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً سند ضعیف کے ساتھ روایت کیا
وفی السمع مأۃ من الابل اور سماعت میں سو اونٹ دیت ہے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی ص ۸۵ ج ۸)
(۲) ابو یحییٰ ساجی کی ان مرویات میں جو اپنی سند کے ساتھ انہوں نے معاذ بن جبل سے مرفوعاً روایت کیں حضورﷺ کی یہ حدیث بھی ہے
وفی العقل مائۃ من الابل (عقل میں سو اونٹ دیت ہے) (بیہقی ص ۹۰ ج ۸)
الحمد للہ ثابت ہوگیا کہ
باسناد لا یثبت مثلہ سے مراد یہی ضعیف حدیث ہے نہ کہ ہماری پیش کردہ حدیث۔
تینوں جگہ واؤ عاطفہ معطوف علیہ کو چاہتا ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ امام بیہقی نے ہر جگہ اختصار کیا ہے اور پورا متنِ حدیث کسی ایک جگہ وارد نہیں کیا۔
متنِ حدیث کا جو حصہ یہاں مذکور نہیں ممکن ہے کہ اس میں
دیۃ المرأۃ علی النصف من دیۃ الرجل کا جملہ بھی شامل ہو۔ اس تقدیر پر امام بیہقی کا قول وروی ذالک من وجہ آخر عن عبادۃ بن نسی وفیہ ضعف بھی اسی غیر ثابت اور ضعیف سند کی طرف راجع ہوگا۔ بہر صورت سند ضعیف اور غیر ثابت کا مصداق بے غبار ہوکر سامنے آگیا اور ہماری پیش کردہ حدیث معاذ بن جبل کے ضعف کا وہم ہبایٔ منثورًا ہوگیا۔
ابن ترکمانی کا اس مقام پر یہ کہنا کہ اور اس کلام کا ظاہر یہ ہے کہ یہ حدیث کی دونوں سندوں کو شامل ہے۔ خود اُن کے قول اول کے معارض ہے جو اس سے پہلے متصلاً مذکور ہے اور قبل ازیں ہم اسے نقل بھی کرچکے ہیں۔ لہٰذا اس قول سے حدیث معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا غیر ثابت ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ رہا ابن حجر کا یہ کہنا کہ عمر و بن حزم رضی اللہ عنہ کی حدیث طویل میں رسول اللہﷺ کا قول مبارک عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے نہیں ہے یہ جملہ صرف بیہقی نے معاذ بن جبل کی حدیث سے روایت کیا اور کہا یہ اسناد غیر ثابت ہے اگر اس قول کو ہماری پیش کردہ حدیث کے بارے میں تسلیم کرلیا جائے تو ہمارے اس بیان کی روشنی میں یہ بیہقی کے قول کی ایسی توجیہ ہوگی جس سے وہ خود بھی راضی نہیں۔
بیہقی نے یہ کب کہا کہ روایت معاذ بن جبل عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے کسی ایک سند صحیح سے بھی ثابت نہیں۔ اگر ہم یہ تسلیم ہی کرلیں کہ ہماری ہی پیش کردہ حدیث کے بارے میں ابن حجر کا یہ قول ہے تو ان کی یہ لغزش ایسی ہی ہوگی جیسی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے لغزش سرزد ہوئی جس کا اعتراف ابن حجر نے
ولا بدللجواد من کبوۃ کے الفاظ میں کیا ہے۔ (مقدمہ فتح الباری ص ۱۰۵، ج ۲)
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی حدیث طویل کے بارے میں انشاء اللہ ہم مفصّل کلام کریں گے۔
مزید برآں اس امر پر اصرار شدید ہے کہ حدیث معاذ بن جبل کے تین راوی (حفص بن عبداللہ، ابراہیم بن طہمان اور بکر بن خنیس) مطعون ہیں اور اس کی سند منقطع ہے۔ (ملی ایڈیشن نوائے وقت ۳۰؍اگست ۱۹۸۴ء)
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں راوی ثقہ اور قابلِ اعتماد ہیں۔
ملاحظہ ہو۔
(۱) حفص بن عبداللہ کے بارے میں نسائی نے کہا اس میں کوئی مضائقہ نہیں ابن حبان نے اس کو ثقہ راویوں میں ذِکر کیا۔ یہ صحیح بخاری، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ کے راوی ہیں۔ (تہذیب التہذیب ص ۴۰۳، ج ۲)
(۲) ابراہیم بن طہمان کے متعلق ابن مبارک نے کہا صحیح الحدیث ہے امام احمد ابوحاتم اور ابوداؤد نے کہا ثقہ ہے۔ ابوحاتم نے اتنی بات اور زیادہ کہی کہ وہ نہایت سچا ہے۔ حسن الحدیث ہے ابن معین اور عجلی نے کہا اس میں کوئی مضائقہ نہیں عثمان بن سعید دارمی نے کہا یہ حدیث میں ثقہ تھا۔ ائمہ حدیث اس کی حدیث کے ہمیشہ خواہشمند رہتے تھے اور اس میں رغبت رکھتے تھے اور اس کی توثیق کرتے تھے۔ صالح بن محمد نے کہا ثقہ ہے حسن الحدیث ہے۔ کچھ ارجاء فی الایمان کی طرف مائل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دِلوں میں اس کی حدیث کی محبت پیدا کردی۔ نہایت کھری اور عمدہ روایت والا ہے۔ اسحاق بن راہویہ نے کہا وہ صحیح الحدیث تھا۔ حسن الروایۃ، کثیر السماع تھا۔ خراسان میں اس سے زیادہ حدیث روایت کرنے والا، دوسرا کوئی نہ تھا اور ثقہ ہے۔ ابراہیم بن طہمان صحاح ستہ کا راوی ہے۔ (تہذیب التہذیب ص ۱۲۹، ج ۱)
اگر کسی راوی کے حق میں ضعف کا قول یا کوئی جرح مذکور ہے تو وہ جرح مبہم ہے۔ جس کا محدثین کے نزدیک کوئی اعتبار نہیں، بالخصوص جس کی تعدیل و توثیق ائمہ حدیث سے منقول ہو۔ اس کے حق میں جرح مبہم قطعاً کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ایسی جرح و تضعیف توصحیحین کے راویوں کے حق میں بھی کی گئی ہے کیا بخاری و مسلم کی حدیثیں بھی ضعیف ہیں؟
یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاذ بن جبل کی یہ حدیث صحاح ستہ میں موجود نہیں۔ میں عرض کروں گا کہ صحیح حدیث کی یہ تعریف کس نے کی ہے کہ وہ صحاح ستہ میں ہو پھر یہ کہ حدیث کی اصل تو اس کے راوی ہیں اور حدیث معاذ بن جبل کے راوی صحاح ستہ کی ہر کتاب میں موجود ہیں بعض صحیحین میں اور بعض بقیہ صحاح ستہ میں جیسا کہ ہم ثابت کرچکے ہیں۔ اس مقام پر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ معاذ بن جبل کی نصف دیت والی حدیث کو بیہقی سے پہلے کسی نے اپنی کتاب میں درج نہیں کیا۔
میں عرض کروں گا کہ حدیث معاذ بن جبل نہ سہی عورت کی نصف دیت میں دیگر احادیث مرفوعہ اور بکثرت احادیث موقوفہ تو پہلے محدثین نے اپنی کتابوں میں روایت کی ہیں جو سب صحیح و ثابت ہیں جیسا کہ ہم ابھی نقل کرچکے ہیں اور عنقریب تفصیلی کلام کریں گے۔
رہی یہ بات کہ ساڑھے چار سو برس کے بعد بیہقی نے پہلی مرتبہ یہ حدیث اپنی کتاب میں درج کی تو یہ بالکل ایسی بات ہے جیسے آریہ اور عیسائی کہا کرتے ہیں کہ تمہارا قرآن بھی نبی کی وفات کے سالہا سال بعد حضرت عثمان کی خلافت میں جمع کیا گیا اور تمہارے رسول کی حدیثیں دو سو برس کے بعد جمع ہوئیں۔ منکرین حدیث یہ بھی کہتے ہیں کہ دو سو برس کے بعد لوگوں نے اپنی کتابوں میں حدیثیں لکھ دیں۔ ایسی حدیثوں کا کیا اعتبار؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ بکثرت وہ احادیث جو امام بخاری سے پہلے ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں درج کی تھیں امام بخاری نے انہیں اپنی صحیح میں داخل نہیں کیا اور بعض ایسی حدیثیں صحیح بخاری میں شامل کردیں جو ان سے پہلے محدثین کی کتابوں میں نہیں پائی جاتیں۔ اصل بات یہ ہے کہ محض لوگو ں کے جذبات سے کھیلنے کے لئے ایسی باتیں کہی جارہی ہیں جن کا حقیقت اور واقعیت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ انقطاع سند کا دعویٰ بھی بلاسند ہے۔ شاید عنعنہ کی وجہ سے یہ وہم پیدا ہوا مگر یہ صحیح نہیں۔ اس لئے کہ اس عنعنہ میں کسی راوی کے حق میں موجب جرح تدلیس ثابت نہیں اور کتب اسماء الرجال کی روشنی میں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ان سب راویوں کی لقاء یا امکان اپنے مروی عنہ سے ثابت ہے لہٰذا انقطاع کا وہم بے بنیاد ہے۔ اگر کسی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے تو یہ ہمیں مضر نہیں، کتب علوم حدیث کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ بعض صحیح حدیثوں کو ضعیف کہا گیا ہے۔ دیکھئے وار قطنی وغیرہ نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی دو سو دس حدیثوں پر اعتراضات کئے لیکن چند احادیث کے سوا وہ سب حدیثیں صحیح ہیں۔
مقدمہ فتح الباری ص ۱۱۰، ج ۲، تدریب الراوی ص ۷۲، حاشیہ شرح نخبہ للقاری ص ۶۵ طبع استنبول
پھر یہ کہ تلقی بالقبول کے بعد حدیث کا ضعف باقی نہیں رہتا بلکہ وہ واجب العمل ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ انشاء اللہ آگے چل کر ہم تفصیل سے بیان کریں گے۔
ازالۂ شبہات کے بعد حدیث معاذ بن جبل کا صحیح، ثابت اور واجب العمل ہونا بے غبار ہوگیا۔ اس کے بعد حق پسندی اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اسے تسلیم کرلیا جائے۔ احادیث موقوفہ حدیث معاذ بن جبل ص کی قوی تائید کرتی ہیں۔ ان میں جو مرسل ہیں وہ بھی ثابت اور صحیح کے حکم میں ہیں۔ جیسا کہ آگے چل کر ہم مفصّل بیان کریں گے۔ الحمدللہ اب واضح ہوگیا کہ آیت کریمہ
دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ میں لفظ دیت جو مقدار میں مجمل تھا۔ احادیث منقولہ بالا سے اس کی تفسیر ہوگئی اور ظاہر ہوگیا کہ دیت رجل کی مقدار سو اونٹ ہے اور عورت کی دیت کی مقدار اس کا نصف یعنی پچاس اونٹ۔
قرآن کی مجمل تفسیر سے جو حکم ثابت ہوگا وہ قرآن ہی کا حکم قرار پائے گا۔ معلوم ہوا عورت کی دیت کا مرد کی دیت سے نصف ہونا حکم قرآنی ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کتاب عمرو بن حزم کی طویل حدیث میں غیر مسلم کی نصف دیت کا ذکر ہے۔ اگر عورت کی دیت نصف ہوتی تو اس کا ذِکر بھی ضرور ہوتا۔ ثابت ہوا کہ عورت کی دیت نصف نہیں بلکہ وہی پوری د یت ہے جس کا ذکر
دیۃ النفس مائۃ ابل کے ضمن میں اس حدیث میں وارد ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کے طویل حصے میں مرد ہی کی دیات مذکور ہیں۔ غیر مسلم کی نصف دیت کا ذِکر بھی اسی لئے وارد ہے کہ وہ مرد ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے طویل حصے میں مرد کے خاص اعضاء کی دیات مذکور ہیں۔ عورت کے کسی عضو خاص کا کوئی ذکر نہیں۔ اگر اس حدیث کے احکام دیات مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی شامل ہوتے تو جس طرح مرد کے خاص اعضاء کی دیت کے احکام مذکور ہوئے عورت کے بھی کسی خاص عضو کی دیت کا حکم مذکور ہوتا مگر ایسا نہیں۔ معلوم ہوا کہ قائلین مساوات نے حدیث کے جس طویل حصہ کو پیش نظر رکھا ہے اس کا تعلق صرف مرد سے ہے عورت سے نہیں۔ عورت کی دیت کا ذِکر حدیث کے آخر میں
دیۃ المرأۃ نصف دیۃ الرجل کے الفاظ میں مذکور ہے۔ جس پر حدیث عمرو بن جزم کے ضمن میں مفصل کلام آرہا ہے۔
یہ بھی کہا گیا کہ کیسا ظلم ہے کہ مرد کے ایک عضو خاص کی دیت سو اونٹ ہوں اور پوری عورت کی دیت پچاس اونٹ، گویا عورت کی قدر و منزلت مرد کے ایک عضو ِ حقیر کے برابر بھی نہیں۔ عورت کا کیا قصور ہے یہی کہ اس نے مرد کو جنا اور وہ اس کی ماں ہے اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔
میں جواباً عرض کروں گا کہ عورت کی دیت سو اونٹ تسلیم کرنے والے عمرو بن حزم کی اسی حدیث سے استدال کرتے ہیں جس میں مرد کے اس عضو ِ حقیر کی دیت سو اونٹ مذکور ہے۔ اس صورت میں بقول ان کے صرف یہی ظلم نہ ہوگا کہ جس عورت نے مرد کو جنا، جس کے قدموں کے نیچے اس کی جنت ہے اس کا مرتبہ مرد کے عضو ِ حقیر کے برابر کردیا جائے بلکہ لازم آئے گا کہ پورا مرد ہی اپنے عضو ِ حقیر کے مساوی ہو جائے۔ کیا کسی انسان کو اس خاص عضو ِ حقیر کے مساوی قرار دینا انسان کی تحقیر و تذلیل اور اس پر ظلم نہیں۔ اگر یہ ظلم نہیں تو سمجھ لیجئے کہ پہلی بات بھی ظلم نہیں بلکہ اسے ظلم سمجھنا ہی ظلم ہے کیونکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو ظلم کہنا ظلم عظیم ہے۔ عورت کی دیت کا نصف ہونا اگر ظلم ہے تو میراث میں اس کے حصہ کا مرد کے حصے سے نصف ہونا بھی ظلم ہوگا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے
وَلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ فرماکر عورت کا حصہ مرد کے حصے سے نصف مقرر فرمایا ہے۔ یہاں بھی آپ کہہ دیجئے کہ عورت کا کیا قصور ہے۔ صرف یہی کہ وہ مرد کی ماں ہے اور اس کے پاؤں تلے اس کی جنت ہے۔
افسوس! احکامِ الٰہیہ کی حکمتوں کو نظر انداز کرکے اسلامی احکام کے خلاف لوگوں کے جذبات کو ابھارنے کے لئے ایسی باتیں کہی جارہی ہیں۔
 

ہوم پیج