بد عقیدہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
فتاویٰ عالمگیری کا پس منظر

محترم مولانا احمد سعید کاظمی
السلام علیکم! آپ کا خطبۂ استقبالیہ پڑھ کر بے حد متاثر ہوا۔ چند سوالات لکھ رہا ہوں، جوابات سے مطمئن فرمائیں۔
خلاصہ سوال نمبر۱: وہابی نجدی امام کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو جن لوگوں نے پاکستان میں ایسے لوگوں کے پیچھے نمازیں پڑھیں اور جو لوگ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں حج کے موقع پر حرمین طیبین میں ایسے لوگوں کے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں ان کی نمازوں کا کیا حکم ہے؟
خلاصہ سوال نمبر۲: محکمہ اوقاف کی تحویل میں جو مساجد ہیں ان میں وہابی، دیوبندی وغیرہ ہر قسم کے امام ہیں غیر مذہب والے امام کے پیچھے نماز درست ہوگی یا نہیں نیز محکمہ اوقاف کا قیام شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
خلاصہ سوال نمبر۳: کیا رسول اللہ ﷺ کے نور و بشر کے بارے میں قبر و قیامت میں سوال ہوگا؟ اور کیا یہ مسئلہ عقائد میں شامل ہے؟
خلاصہ سوال نمبر۴: اذان سے پہلے یا اس کے بعد صلوٰۃ و سلام پڑھنے کو لازم سمجھنا کیسا ہے؟ اس کے بغیر اذان شرعاً جائز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ نیز
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ اور اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ الخ دونوں کا شرعی مقام متعین کیا جائے۔
خلاصہ سوال نمبر۵: ٹی بی کے مریض کو حرکت کرنے سے طبیب روک دے وہ نماز کس طرح پڑھے؟
خلاصہ سوال نمبر۶: فتاویٰ عالمگیری کا مدوّن کون ہے؟ کس سنہ میں اس کی تدوین ہوئی؟ اور اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ خلاصہ مکتوب مورخہ ۱۴؍نومبر ۱۹۷۸ء


۲۴؍نومبر ۱۹۷۸ء
محترم و مکرم جناب سیف اللہ خان صاحب زید مجدہ
وعلیکم السلام ثم السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہٗ
محبت نامہ ملا۔ یاد فرمائی کا شکریہ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو دارین کی نعمتوں سے نوازے۔ آمین۔ آپ کے سوالات کا نہایت جامع اور اصولی طور پر جواب لکھ رہا ہوں۔ آپ جیسے صاحب فہم و خرد سے قوی امید ہے کہ غور سے ملاحظہ فرمائیں گے۔
پہلے اور دوسرے سوال کا جواب سمجھنے کے لئے ایک مختصر تمہید عرض کرتا ہوں اگر اس تمہید کو غور سے پڑھ لیا جائے تو ا نشاء اللہ نہایت آسانی سے جواب سمجھ میں آجائیگا۔ تمام اہلِ اسلام کے نزدیک یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ کسی امام کے پیچھے صحتِ اقتداء کے بغیر نماز درست نہیں ہوسکتی۔ جس کے لئے مقتدی و امام کے مابین ایک مخصوص رابطہ قائم ہوجانا ضروری ہے۔ اس مخصوص رابطہ کے بغیر صحتِ اقتداء متصور نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ رابطہ ظاہری، مادی ا ور جسمانی نہیں بلکہ یہ رابطہ صرف باطنی، روحانی اور اعتقادی ہے جسکا وجود امام اور مقتدی کے درمیان اصولی اعتقاد میں موافقت کے بغیر ناممکن ہے۔ شرک توحید کے منافی ہے اور کفر و جاہلیت اسلام اور ایمان سے قطعاً متضاد ہے۔ اگر مقتدی جانتا ہے کہ میرا کوئی عقیدہ امام کے نزدیک شرک جلی یا کفر و جاہلیت ہے تو دونوں کے درمیان اعتقادی موافقت نہ رہی اور اس عدم موافقت کے باعث صحت اقتداء کی بنیاد منہدم ہوگئی۔ ایسی صورت میں اس امام کے پیچھے اس کی نماز کا صحیح ہونا کیوں کر متصور ہوسکتا ہے؟ اس دعویٰ کی دلیل یہ ہے کہ مثلاً کسی منکر ختم نبوت کے پیچھے کسی مسلمان کی نماز نہیں ہوتی کیونکہ مقتدی ختم نبوت کا اعتقاد رکھتا ہے اور امام ختم نبوت کا منکر ہے۔ دونوں کے درمیان اعتقادی موافقت نہ ہونے کی وجہ سے صحتِ اقتداء کی بنیاد باقی نہ رہی۔ لہٰذا نماز نہ ہوئی توضیح مدعا کے لئے ہدایہ سے ایک جزئیہ کا خلاصہ پیش کرتا ہوں کہ اگر امام کی جہت تحری مقتدی کی جہت تحری سے مختلف ہو اور تاریکی یا کسی اور وجہ سے مقتدی کو اس اختلاف کا علم نہ ہوسکے تو اس کی نماز درست ہے اگر مقتدی امام کی جہتِ تحری کا علم رکھتے ہوئے اس کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے تو اس کی نماز فاسد ہوگی۔
صاحبِ ہدایہ نے اس فساد کی دلیل دیتے ہوئے فرمایا
لِاَنَّہٗ اِعْتَقَدَ اِمَامَہٗ عَلَی الْخَطَائِ یعنی فسادِ صلوٰۃ کی دلیل یہ ہے کہ مقتدی نے اپنے امام کے خطاء پر ہونے کا اعتقاد کیا۔ اس سے واضح ہوا کہ نماز درست ہونے کیلئے ضروری ہے کہ مقتدی امام کے خطاء پر ہونے کا معتقد نہ ہو یعنی مطابقتِ اعتقادی ضروری ہے بشرطیکہ مقتدی امام کی خطاء سے باخبر ہو اگر وہ امام کی خطاء سے لا علم ہے تو ایسی صورت میں اس کی نماز ہوجاتی ہے۔
اس مختصر تمہید پر غور کرنے سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ مقتدی جب یہ جانتا ہو کہ امام کے اعتقاد میں رسول اللہ ﷺ کے لئے علم غیب ماننا کفر و شرک ہے اور امام کے عقیدے میں انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے استمداد بلکہ توسّل تک شرک ہے اور امام مزاراتِ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام و مزاراتِ اولیائے عظام علیہم الرحمۃ والرضوان کے لئے سفر کرنے بلکہ مزارات کی تعظیم تکریم کو بھی شرک قرار دیتا ہے اور مقتدی ان تمام امور کو توحید اور اسلام کے عین مطابق سمجھتا ہے تو ایسی صورت میں عدم موافقت کی وجہ سے صحتِ اقتداء کی بنیاد مفقود ہے پھر نماز کیوں کر درست ہوسکتی ہے۔


مقتدی کی تین قسمیں:
رہا یہ امر کہ ایامِ حج وغیرہ میں ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کی نمازوں کا کیا حکم ہوگا تو میں عرض کروں گا کہ ہزاروں لاکھوں مسلمان جن کے اصولی عقائد امام سے مختلف ہیں۔ ان کی تین قسمیں ہیں۔ اول وہ جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان اصولی عقائد میں امام کا عقیدہ ہم سے مختلف ہے۔ ان کا حکم تمہید کے ضمن میں واضح ہوگیا ایسے لوگ اپنے علم کے متقضاء کے مطابق یقینا مجتنب رہیں گے۔ دوم وہ مسلمان جو یہ جانتے ہیں کہ امام کے بعض عقائد ہمارے عقائد سے مختلف ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ اختلاف اصولی عقائد میں ہے اور ہمارے عقائد امام کے نزدیک کفر و شرک، معصیت و جاہلیت کا حکم رکھتے ہیں۔ یہ مسلمان محض حرمِ مکہ و حرم مدینہ اور مسجد حرام و مسجد نبوی کی عظمتوں اور عشق و محبت الٰہی و رسالت پناہی کے جذبات سے متاثر ہو کر اپنی غلط فہمی کی بناء پر اس امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کی اس خطا کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت ورأفت کے پیشِ نظر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ رب کریم ان کی نمازوں کو رائیگاں نہیں فرمائے گا۔
سوم وہ مسلمان جنہیں سرے سے امام کے ساتھ اختلاف عقائد ہی نہیں وہ محض سادہ لوح ہیں۔ عشق و محبت سے سرشار ہوکر حرم مکہ اور حرم مدینہ میں حاضر ہوئے اور انہوں نے بحالتِ لا علمی اس امام کے پیچھے نمازیں پڑھیں ان کے متعلق بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عفو و کرم سے ان کی نمازوں کو ضائع نہ ہونے دے گا۔ دوم اور سوم قسم کے مسلمانوں کی خطاء قابل عفو ہے۔ طبرانی میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے صحیح مرفوع حدیث مروی ہے
رُفِعَ عَنْ اُمَّتِیْ الخَطَائُ وَ النِّسْیَانُِ وَمَا اسْتُکْرِ ہُوْا عَلَیْہِ اٹھالیا گیا میری امت سے خطاء اور نسیان کو اور اس چیز کو جس پر وہ مجبور کئے گئے یعنی ان تینوں حالتوں میں ان کا مواخذہ نہ ہوگا۔
مثنوی شریف میں مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور بکریاں چرانے والے ایک گڈریے کا واقعہ بطور تمثیل لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بکریاں چرانے والا گڈریا اللہ تعالیٰ سے محبت میں کہہ رہا تھا کہ اے اللہ اگر تو میرے پاس آئے تو تجھے نہلاؤں۔ تیرے بالوں میں کنگھی کروں۔ تجھے دودھ پلاؤں، تیرے پاؤں دباؤں۔
سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اسے سختی سے ڈانٹا اور ایسی باتوں سے منع فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ اے موسیٰ! میرا بندہ میری محبت میں مجھ سے مخاطب تھا۔ آپ نے اسے کیوں روکا؟
مولانا روم علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔

وحی آمد سوئے موسیٰ از خدا
بندۂ مارا چرا کردی جُدا؟
تو برائے وصل کردن آمدی
نے برائے فصل کردن آمدی

میرا مقصد اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنے سے صرف یہ ہے کہ سچی محبت اور سچا عشق اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں کا موجب ہوتا ہے اس لئے اگر سچی محبت اور عشق والے مسلمان نے غلط فہمی یا بے خبری میں ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھ لی تو رحمتِ خداوندی سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ بے نمازی قرار نہیں پائے گا اور اللہ اس کا مواخذہ نہ فرمائے گا۔ مزید وضاحت کے لئے عرض ہے کہ وہ ہزاروں لاکھوں مسلمان جن کا ذِکر سطور بالا میں ہوچکا ہے اور ان کی تین قسمیں بھی بیان کی جاچکی ہیں اور ان تینوں قسموں کا حکم بھی مذکور ہوچکا ہے۔ ان تین نمازیوں کی طرح ہیں جن کے پاس نجاست لگا ہوا کپڑا ہے اور اس پر جو نجاست لگی ہوئی ہے وہ مقدار اتنی زیادہ ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے اس کپڑے سے نماز جائز نہیں۔
ایک نمازی وہ ہے جس نے جان لیا کہ کپڑے پر نجاست ہے اور یہ بھی جان لیا کہ اتنی نجاست کے ہوتے ہوئے نماز نہیں ہوسکتی ظاہر ہے کہ وہ اپنے اس علم کی بناء پر ایسے کپڑے کے ساتھ نماز پڑھنے سے اجتناب کرے گا۔ دوسرا نمازی وہ ہے جو اس کپڑے کی نجاست کو جانتا ہے مگر غلط فہمی کی بناء پر یہ نہیں جانتا کہ اس نجاست سے نماز نہیں ہوسکتی اب اگر وہ شخص نماز کی محبت اور کمالِ شوق الی الصلوٰۃ کی بناء پر اس کپڑے کے ساتھ نماز پڑھ لے تو رحمتِ الٰہیہ سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ نہ فرمائے گا اور اس کے شوق و محبت کی بناء پر اس کی نماز کو ضائع نہ ہونے دے گا۔ تیسرا نمازی وہ ہے جو سرے سے کپڑے کی نجاست کا علم ہی نہیں رکھتا اور کمال شوقِ عبادت اور نماز کی محبت میں اس کپڑے کے ساتھ نماز پڑھ لیتا ہے فضل ایزدی اور کرمِ خداوندی سے اس کے بارے میں بھی یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے دامنِ عفوو کرم میں چھپا لے گا اور اس کی نماز مردود نہ ہوگی۔ یہ صحیح ہے کہ جاننے والے ایسے لوگوں کو صحیح بات ضرور بتائیں گے لیکن اس کے باوجود بھی اگر کسی کو صحیح بات نہ پہنچ سکے تو حکم مذکور مجروح نہ ہوگا۔
(۲) دوسرے سوال کا بقیہ جزو کا جواب یہ ہے کہ اوقاف کی مساجد وغیرہ پر اسلامی احکام کے موافق اور واقف کی غرض کے مطابق مالِ وقف کو صرف کرنے کیلئے محکمۂ اوقاف کا قیام ضروری ہے۔


بے عیب بشریت
جواب نمبر۳: نور و بشر کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں رسول اللہﷺ کے لئے لفظ نور بھی وارد ہے اور لفظ بشر بھی مثلاً قرآن مجید میں ہے
قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِیْنٌ یہاں لفظِ نور سے رسول کریمﷺ مراد ہیں۔ نیز قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا
قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ہَلْ کُنْتُ اِلَّابَشَرًا رَّسُوْلًا آپ کہہ دیجئے میرا رب پاک ہے میں بشر رسول ہی ہوں۔
قبر و قیامت میں ایمان کے بارے میں سوال ہوگا اور قرآن و حدیث کی ہر بات کو تسلیم کئے بغیر ایمان متصور نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا قرآن و حدیث پرایمان رکھنے کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان رسول اللہﷺ کو نور بھی مانیں اور بشر بھی تسلیم کریں لیکن حضورﷺ کو ایسا بشر نہ مانیں جس میں بشریت کا کوئی عیب ہو کیونکہ حضورﷺ حقیقی معنیٰ میں محمد ہیں اور لفظ محمد کے معنی ہیں بے عیب اسی طرح حضورﷺ کے نور کے بارے میں بھی ضروری ہے کہ وہ حضورﷺ کو ایسا نور تسلیم کریں کہ بے عیب بشریت اس کے منافی نہ ہو۔
اجمالی طور پر یہ اعتقاد مسلمان کی نجات کے لئے کافی ہے۔ یہی صحیح عقیدہ ہے اور یہی قیامت میں سرخروئی کا باعث ہوگا ۔ انشاء اللہ تعالیٰ


اذان کے بعد صلوٰۃ و سلام
جواب نمبر۴: قبل الاذان اور بعد الاذان صلوٰۃ و سلام ہر گز مذموم نہیں۔ نہ بدعت شرعیہ ہے جسے بدعتِ ضلالت کہا جائے بلکہ امر مستحسن ہے جس کی اصل کتاب و سنت میں موجود ہے۔ کتاب اللہ میں
صَلُّوْا وَسَلِّمُوْا کا ارشاد جس میں کوئی تخصیص و تقیید نہیں بلکہ بعض احادیث میں اذان کے بعد صلوٰۃ و سلام کا حکم صراحۃً وارد ہے۔ چنانچہ علامہ ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے جو ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ کے استاد ہیں۔ اپنے فتاویٰ کبریٰ میں صحیح مسلم اور ابن ماجہ کے علاوہ سنن اربعہ کی وہ احادیث نقل فرمائی ہیں جن میں اذان کے بعد اور دعائے وسیلہ سے پہلے نبی کریمﷺ پر صلوٰۃ بھیجنے کا حکم وارد ہے۔ مثلاً یہ حدیث نقل فرمائی۔
عَنِ النَّبِیِّ ا اِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَایَقُوْلُ ثُمَّ صَلُّوْا عَلَیَّ فَاِنَّہٗ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ صَلٰوۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ بِہَا عَشَرًا ثُمَّ سَلُوا اللّٰہَ لِیَ الْوَسِیْلَۃَ (مسلم)
نبی کریمﷺ نے فرمایا جب تم مؤذن سے اذان سنو تو اس کی مثل کہو۔ پھر مجھ پر درود پڑھو بے شک جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے۔ پھر میرے لئے وسیلہ طلب کرو یعنی اذان کے بعد والی دعا وسیلہ پڑھو، اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا البتہ اذان کے ساتھ صلوٰۃ و سلام کو اس طرح لازم سمجھنا کہ اس کے بغیر اذان ہی صحیح نہ ہو ہر گز درست نہیں مگر کوئی مسلمان اس طرح لزوم کا قائل نہیں۔ نماز میں درود ابراہیمی سنت ہے اس کے علاوہ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اور اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ دونوں کے مقام میں شرعاً کوئی تفاوت نہیں۔


مریض کی نماز
جواب نمبر۵: اگر کوئی مریض کھڑا ہوکر یا بیٹھ کر نماز پڑھنے کی قدرت نہیں رکھتا تو وہ لیٹ کر نماز پڑھے، رکوع و سجدہ سر کے اشارے سے ادا کرے سجدہ کے لئے جو اشارہ ہو اس میں رکوع کی بہ نسبت سر کو زیادہ جھکائے، اشارہ سے نماز پڑھنا اس وقت جائز ہے جبکہ حرکت سے خوفِ ہلاکت یا مضرتِ شدیدہ کا خطرہ لاحق ہو۔


فتاویٰ عالمگیری کی تدوین

جواب نمبر۶: فتاویٰ عالمگیری کو اورنگزیب عالمگیر بادشاہ کے حکم سے اس زمانے کے اولوا العزم علمائے اہلسنّت محققین اور راسخین فی العلم نے مدوّن کیا جن میں سے بعض علماء کرام کے اسمائے گرمی حسب ذیل ہیں۔
(۱) شیخ نظام الدین برہانپوری رحمۃ اللہ علیہ جو تدوینی کمیٹی کے سربراہ تھے۔
(۲) شیخ نظام الدین ٹھٹھوی سندھی
(۳) ابوالخیر ٹھٹھوی
(۴) قاضی رضی الدین بھاگلپوری
(۵) مولانا محمد جمیل جونپوری
(۶) مفتی وجیہہ الدین گوپاموی
(۷) مفتی ابوالبرکات دہلوی
(۸) شیخ احمد بن ابی المنصور گوپاموی جو ملا جیون رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں۔
(۹) قاضی عصمت اللہ لکھنوی
(۱۰) مولانا عبدالفتاح صمدانی
(۱۱) مولانا محمد سعید شہید سہالوی
اس فتاویٰ کی تدوین کا آغاز ۷۸-۱۰۷۷ھ میں ہوا اور تکمیل ۸۶-۱۰۸۵ھ میں ہوئی۔ فقہ حنفی کی بے شمار کتابوں میں پھیلے ہوئے مسائل کو یکجا کرنے کے لئے فتاویٰ عالمگیری کی تدوین ہوئی تاکہ علماء و حکام کے لئے لوگوں کو مسائل بتانے اور فقہ حنفی کے مطابق احکام پر عمل کرنے اور پیش آمدہ معاملات و مقدمات کا ان کے مطابق فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔
باوجود انتہائی مصروفیات کے آپ کے تمام سوالات کے جوابات میں نے لکھ دئیے ہیں امید ہے آپ تسلی اور اطمینان کے ساتھ ان جوابات کو پڑھیں گے۔ خدا کرے آپ مطمئن ہوجائیں۔

تصدیقات والسلام مع الاکرام
سید احمد سعید کاظمی
 

ہوم پیج