ایک شبہ کا ازالہ

اس مقام پر اگر یہ شبہ کیا جائے کہ ترمذی کی حدیث میں بھی یہی دعا صیغۂ نداء کے بغیر مروی ہے اگر تھانوی صاحب نے اختصار کردیا تو کیا ہوا؟ ابو عیسیٰ ترمذی نے بھی تو صیغۂ ندا کو حذف کرکے اختصار سے کام لیا ہے۔
اس کا ازالہ یہ ہے کہ ترمذی میں صرف یا محمد کا لفظ نہیں۔ باقی خطاب کے الفاظ بعبارت ذیل موجود ہیں ملاحظہ فرمائیے
انی قد توجہت بک الی ربی تھانوی صاحب نے صرف یا محمد کو حذف نہیں کیا بلکہ پوری سطر صاف کر گئے۔ رہا لفظ یا محمد کا نہ ہونا تو میں عرض کروں گا کہ ایک ہی حدیث کے بعض طرق میں اگر بعض ایسے الفاظ مروی ہوں جو کسی دوسرے طریق میں نہیں تو اس کی وجہ سے ان کا نہ ہونا لازم نہیں آتا۔ یہ نسخوں کا اختلاف نہیں کہ جس میں سہل انگاری کو دخل ہو یہ تو طرق روایت کا تفاوت ہے۔ ابوعیسیٰ ترمذی نے نہ اس روایت کا انکار کیا، نہ اختصار کا دعویٰ کیا بلکہ ایک طریقہ کو ذِکرکردیا۔ دوسرے طریق میں یہی روایت یا محمد کے الفاظ سے جب وارد ہوگئی تو اب یا محمد کا روایت ہونا متعین ہوگیا جس کا انکار یا اختصار نہ امام ابوعیسیٰ ترمذی نے کیا نہ کسی دوسرے محدّث نے۔ البتہ تھانوی صاحب کو یہ جرأت ضرور ہوئی کہ انہوں نے حدیث کے الفاظ واردہ و ماثورہ مرویہ میں کمی کردی۔
علاوہ ازیں یہ کہ اس صورت میں تھانوی صاحب کو اختصار کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ وہ صاف لکھ دیتے کہ میں نے ترمذی کی روایت میں یا محمد کے الفاظ نہیں پائے۔ اس لئے انہی کو نقل کردیا۔ بلا وجہ اختصار کا دعویٰ کرکے انہوں نے اپنے سر پر اختصارِ حدیث کا بوجھ اٹھایا۔ بات یہی ہے کہ ترمذی یا کسی دوسری کتاب میں صیغۂ نداء کا نہ پایا جانا اس کے مروی ہونے پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ بعض طرق میں اس کا وارد ہوجانا اس کی روایت کو متعین کردیتا ہے۔ اب اس کے بعد اس میں اختصار کرنا یقینا تحریف حدیث ہے جس کا ارتکاب صرف تھانوی صاحب نے کیا ہے۔ ابوعیسیٰ ترمذی یا کسی دوسرے محدث کے دامن کواس جرأت عظیمہ کی وجہ سے ملوث نہیں کیا جاسکتا۔
اس کے بعد تھانوی صاحب کے اس دعویٰ کو ملاحظہ فرمایئے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد تشہد میں صیغۂ ندا چھوڑ دیا تھا اور وہ التحیات میں
السلام علی النبی پڑھتے تھے۔ تھانوی صاحب نے بخاری شریف کتاب الاستیذان کی جس حدیث سے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہ ان کے دعویٰ کے ثبوت سے بالکل ساکت ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث حسب ذیل ہے۔
کنا نقول فی حیات رسول اللّٰہ ﷺ السلام علیک ایہا النبی فلما قبض قلنا السلام یعنی علی النبی
تھانوی صاحب نے اس حدیث کے معنیٰ یہ سمجھ لئے کہ عبداللہ بن مسعود یہ فرمارہے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی تو ہم نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ چھوڑ دیا اور اس کی بجائے السلام علی النبی کہا۔ حالانکہ ان معنیٰ پر حدیث کی دلالت نہیں۔ یہ تو ایک احتمال ہے جس سے استدلال کرنا سراسر باطل اور علم و دانش کے خلاف ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے الفاظ قلنا سلام پر ختم ہوجاتے ہیں۔ یعنی علی النبی ۔ راوی کا قول ہے عبداللہ بن مسعود کا قول نہیں۔ اس تقدیر پر حدیث میں دو احتمال پیدا ہوگئے ہیں۔
ایک یہ کہ ہم نے صیغۂ ندا کو چھوڑ کر صرف السلام علی النبی پر اکتفا کرلیا لیکن یہ معنی آئمہ اربعہ کے نزدیک مردود ہیں۔ اس لئے کہ کسی امام نے صیغۂ ندا کے بغیر تشہد نقل نہیں کیا۔ امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل کے مذہب میں بھی تشہد پڑھا جاتا ہے۔ جس میں ندا اور خطاب کے صیغے موجود ہیں۔ اگر صیغۂ ندا کا ترک اس حدیث کا مدلول ہوتا، تو کسی امام کا مذہب تو ان صحابہ کے مذہب کے مطابق ہوتا۔ لیکن کسی نے السلام علی النبی پڑھنے کو اپنا مذہب قرار نہیں دیا یہ ثابت ہوا کہ اس حدیث کا مدلول صیغۂ ندا اور خطاب کا ترک نہیں بلکہ یہ صرف احتمال ہے جو ثبوت دعویٰ کے لئے کافی نہیں ہوسکتا۔ دوسرا احتمال یہ کہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد ہم نے تشہد میں حضور پر سلام پڑھنا ترک نہیں کیا بلکہ بعد الوفات بھی ہم بدستور
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ پڑھتے رہے چونکہ دونوں احتمال پیدا ہوگئے اس لئے اس حدیث میں کسی ایک معنیٰ پر دلالت باقی نہ رہی اور تشہد میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ پڑھنا احادیثِ صحیحہ اور مذاہب ائمہ اربعہ سے ثابت ہے۔ لہٰذا اس کا مخالف احتمال مرجوح ہوکر مردود قرار پائے گا۔ دیکھئے ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں۔
واما قول ابن مسعود کنا نقول فی حیاۃ رسول اللّٰہ ﷺ السلام علیک ایہا النبی فلما قبض علیہ السلام قلنا السلام علی النبی فہو روایۃ ابی عوانہ وروایۃ البخاری الاصح منہا بینت ان ذلک لیس من قول ابن مسعود بل من فہم الراوی عنہ ولفظہا فلما قبض قلنا السلام، یعنی علی النبی فقولہ قلنا السلام یحتمل انہ ارادبہ استمر رنابہ علی ماکنا علیہ فی حیاتہ ویحتمل انہ، اراد عرضنا عن الخطاب واذا احتمل اللفظ لم یبق فیہ دلا لۃ کذا ذکرہ ابن حجر، مرقاۃ المفاتیح جلد ۱ ص ۵۵۸
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ ہم نے حضور ﷺ کی حیات میں السلام علی النبی کہا ابوعوانہ کی روایت ہے بخاری کی روایت میں جو اس کے مقابل اصح ہے، یہ الفاظ نہیں۔ بخاری شریف کے الفاظ یہ ہے کہ
فلما قبض قلنا سلام یعنی علی النبی جب حضور ﷺ کی وفات ہوگئی تو ہم نے سلام کہا یعنی نبی کریم ﷺ پر بخاری کی اس روایت نے بیان کردیا کہ یہ قول حضرت ابن مسعود کا نہیں، بلکہ راوی کا قول ہے۔ اس نے اپنی فہم کے مطابق اپنے لفظوں میں بیان کردیا اور اس قول میں بھی دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ جس طرح حضور ﷺ کی حیاتِ ظاہری میں ہم اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّکہا کرتے تھے۔ اسی طرح حضور کی وفات کے بعد بھی کہتے رہے، دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے خطاب چھوڑ دیا۔ جب الفاظ میں احتمال پیدا ہوگیا تو دلالت (قطعیہ) باقی نہ رہی۔
الحمد للّٰہ! ہمارے اس بیان اور ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کی اس عبارت کی روشنی میں تھانوی صاحب کا یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہوا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی وفات کے بعد صیغۂ خطاب ترک کردیا تھا۔
بعض لوگ اس بات پر انتہائی زور دیتے ہیں کہ متابعات اور شواہد کی روشنی میں ابوعوانہ کی روایت کے بموجب یہ بات بالکل صحیح ہے کہ صحابہ کرام نے حضور کی وفات کے بعد
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کی بجائے السلام علی النبی کہنا شروع کردیا تھا۔ میں ان سے دریافت کرتا ہوں کہ اگر آپ کی یہ بات صحیح ہے تو پھر آپ صحابہ کرام کے مذہب کے موافق علی النبی کیوں نہیں پڑھتے۔ خود تھانوی صاحب عمر بھر اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ پڑھتے اور پڑھواتے رہے۔ ثابت ہوا کہ تھانوی صاحب کا یہ دعویٰ اُن کے اپنے نزدیک بھی باطل ہے۔
ناظرین کرام! غور فرمائیں کہ تھانوی صاحب کا حدیثِ رسول ﷺ میں ردو بدل کرنا، بلکہ تقریباً پوری سطر غائب کردینا کس قدر شدید مداخلت فی الدین ہے اور حدیث رسول اللہ ﷺ پر کیسی عظیم قسم کی زیادتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ منکرینِ حدیث کو بھی ایسی جرأت نہیں ہوسکتی۔

فاعتبروا یا اولی الابصار
 

ہوم پیج