ادعیہ ماثورہ میں الفاظ کا رد و بدل جائز نہیں

تھانوی صاحب کی یہ دیدہ دلیری کہ انہوں نے الفاظ حدیث میں اختصار کر دیا انتہائی موجب حیرت ہے کیا انہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ ادعیہ ماثورہ میں اختصار تو درکنار الفاظ کا ردو بدل بھی ناجائز ہے۔ دیکھئے صحیحین میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک دُعا تلقین فرمائی۔ جس کے آخر میں یہ الفاظ تھے۔ اٰمنت بکتابک الذی انزلت وبنبیک الذی ارسلت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے یہ الفاظ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے سامنے دوبارہ پڑھے تو بنبیک کی بجائے برسولک پڑھ دیا۔ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا لا وبنبیک نہیں بلکہ بنبیک کہو۔ حالانکہ حضور ﷺ نبی بھی ہیں اور رسول بھی۔ مگر چونکہ دعا میں الفاظ ماثورہ کو بدلنا جائز نہ تھا۔ اس لئے حضور ﷺ نے اُن پر رد فرمایا اور وہی الفاظ ادا کرنے کی تاکید فرمائی جو حضور ﷺ تلقین فرماچکے تھے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں۔
وقال ابن حجر فی بعض طرقہ عن البراء قال قلت ورسولک الذی ارسلت فقال ونبیک والاظہر واللّٰہ اعلم فی وجہ الردان الادعیۃ الواردۃ لا تغیر عن الفاظہا الخ (مرقاۃ جلد ۳ ص ۹۷ طبع مصر)
ترجمہ: علامہ ابن حجر نے کہا اس حدیث کے بعض طرق میں حضرت براء سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے
ورسولک الذی ارسلت کے الفاظ کہے۔ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ ورسولک نہ کہو بلکہ ونبیک ہی کہو اس رد کی سب سے زیادہ ظاہر وجہ واللہ تعالیٰ اعلم یہ ہے کہ جو دعائیں شرع مطہرہ میں وارد ہیں وہ اپنے الفاظ سے متغیر نہیں کی جاتیں۔
ثابت ہوا کہ ادعیہ ماثورہ کے الفاظ میں اختصار تو درکنار تغیر بھی باطل و مردود ہے۔ اس کے باوجود بھی تھانوی صاحب نے اختصار فی الحدیث کی جرأت فرمائی۔ معاذ اللّٰہ۔
یہ حدیث جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں، صحیح بخاری و صحیح مسلم دونوں کتابوں میں وارد ہے۔ دیکھئے بخاری شریف جلد ثانی ص ۹۳۴ اور مسلم شریف جلد ثانی ص ۳۴۸
حاشیہ بخاری میں کرمانی سے منقول ہے۔
وفیہ دلیل علی ان رعایۃ الالفاظ المرویۃ امرمہم فیہ حکمۃ بالغۃ (حاشیہ ۲ ؎ بخاری ص ۹۳۴)
یعنی اس حدیث میں اس امر پر دلیل ہے کہ الفاظ مرویہ کی رعایت امر عظیم اور مہتمم بالشان ہے جس میں حکمتِ بالغہ پائی جاتی ہے۔
افسوس، تھانوی صاحب نے کرمانی کی تصریح کو بھی نظر انداز کردیا۔
اسی حدیثِ براء بن عازب کے تحت علامہ نووی شارح مسلم فرماتے ہیں۔
واختار المازری وغیرہ ان سبب الانکار ان ہذا ذکر ودعا فینبغی فیہ الاقتصار علی اللفظ الوارد بحروفہ وقد یتعلق الجزاء بتلک الحروف ولعلہ اوحی الیہ ا بہذہ الکلمات فیتعین ادائہا بحر وفہا وہذا القول حسن (شرح نووی علی الصحیح المسلم جلد ثانی ص ۳۴۸)
ترجمہ: اور اختیار کیا مازری وغیرہ نے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ ﷺ کے انکار کا سبب یہ تھا کہ یہ ذِکر اور دُعا ہے اس لئے اس میں اسی لفظ پر اقتصار کرنا چاہیے جو اس کے حروف کے ساتھ وارد ہوا ہے اور بسا اوقات جزاء بھی انہی حروف کے ساتھ متعلق ہوتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں کلمات کے ساتھ حضورﷺکی طرف وحی کی گئی ہو تو ان کلمات کا انہی حروف کے ساتھ ادا کرنا متعین ہوگا اور یہ قول بہت اچھا ہے۔
تعجب ہے تھانوی صاحب نے شارحین حدیث کی ان تمام تصریحات کو دیکھنے کی بھی زحمت گوارا نہ فرمائی اور قطعاً نہ سوچا کہ اگر انہی کلمات اور حروف کے ساتھ یہ دُعا حضور ﷺ کی طرف وحی کی گئی ہو تو ان حروف و کلمات کے ساتھ ان کا ادا کرنا یقینا متعین ہوگا۔ ایسی صورت میں کلمات کا اختصار وحی الٰہی میں تحریف صریح قرار پائے گی۔ جس شخص کے دِل میں ذرا بھی خوفِ خدا وندی ہو وہ کبھی ایسی جرأت نہیں کرسکتا۔
بلکہ میں تو یہ عرض کروں گا کہ بموجب آیۃ کریمہ
وَمَایَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِنْ ہُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی اغلب یہی ہے کہ ادعیہ واردہ اور اذکار ماثورہ کے حروف و کلمات بھی حضورﷺ کی طرف وحی کئے جاتے ہیں۔ کلماتِ وحی الٰہی میں اختصار کی جرأت اسی شخص کو ہوسکتی ہے جس کے دِل میں نہ وحی الٰہی کی کوئی عظمت ہو نہ خدا کے خوف کا کوئی اثر پایا جائے۔

 

ہوم پیج