تھانوی صاحب کی جرأت و بے باکی
(حدیث شریف میں ترمیم کر ڈالی)

مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نے ابن ماجہ شریف کی روایت منقولہ بالا میں رسول اللہ ﷺ کی تلقین فرمائی ہوئی دعا کے الفاظ میں یا محمد انی قد توجہت بک الیٰ ربی کے الفاظ نکال دئیے اور اپنی کتاب، مناجاتِ مقبول ص ۱۱۴ مطبوعہ اصح المطابع بقول شخصے عذر گناہ بد تر از گناہ یہ لکھ دیا کہ
اختصرتہ لان النداء الوارد فیہ لا دلیل علی بقائہ بعد حیاتہ علیہ السلام یعنی میں نے صیغہ نداء اور خطاب کی تمام عبارات نکال کر اس حدیث کو اس لئے مختصر کردیا کہ اس حدیث میں (یا محمد کے الفاظ) جو ندا اور خطاب کے الفاظ وارد ہیں۔ حضور ﷺ کی حیات کے بعد ان کے باقی رہنے پر کوئی دلیل نہیں۔
میں عرض کروں گا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خود بنفس نفیس یہ الفاظ تلقین فرمائے تو اب صیغۂ ندا و خطاب کا ہونا اصل قرار پاگیا اور قاعدہ ہے کہ اصل اپنی بقا میں محتاجِ دلیل نہیں ہوتی، بلکہ عدم بقا خلافِ اصل ہونے کے باعث محتاج دلیل ہوگا تھانوی صاحب کا اصل کو محتاجِ دلیل قرار دینا علم و عقل کی روشنی میں انتہائی تعجب انگیز ہے۔
علاوہ ازیں عہدِ خلافت عثمانیہ میں حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کا ایک حاجتمند کو یہی دُعا بصیغۂ ندا و خطاب تلقین کرنا بروایت طبرانی ہم ابھی نقل کرچکے ہیں۔ اس سے بڑھ کر بقاء اور نداء پر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے؟ رہی یہ بات کہ اس وقت کے مسلمان خوش عقیدہ تھے، اس زمانہ میں فسادِ عقیدہ امر مشاہدہ ہے۔ لہٰذا حفاظتِ عوام کے لئے صیغۂ نداء کو حذف کرنا ضروری ہے تو یہ اور بھی زیادہ تعجب انگیز اور مضحکہ خیز ہے اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ تشہد سے بھی
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کو حذف کردینا ضروری ہے۔ تھانوی صاحب نہ معلوم کس موڈ میں لکھ گئے انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ ابن ماجہ والی دعا تو کبھی کوئی مسلمان پڑھتا ہوگا لیکن اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ تو ہر مسلمان شب و روز ہر نماز میں پڑھتا ہے۔ حفاظتِ عوام کے لئے تو نماز سے صیغۂ نداء کا حذف کرنا سب سے زیادہ ضروری تھا۔ جب نماز میں اس کا باقی رہنا محتاجِ دلیل نہیں تو دعاء حاجت میں اس کی بقاء کیوں کر محتاجِ دلیل ہوسکتی ہے۔ اس کے جواب میں تھانوی صاحب کا یہ فرمانا کہ التحیات میں صیغۂ ندا مقرون بالسلام ہے اور سلام بارگاہِ رسالت میں پیش ہوتا ہے اس لئے نداء کا صیغہ مضر نہیں قطعاً بے سود ہے۔ اس لئے کہ بارگاہِ رسالت میں صرف صلوٰۃ و سلام ہی پیش نہیں ہوتا بلکہ امت کے تمام اعمال بھی پیش ہوتے ہیں۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے اور ظاہر ہے کہ یہ دُعا بھی ایک عمل بلکہ عملِ صالح ہے۔ باقی اعمال کے ساتھ یہ عمل بھی بارگاہِ رسالت میں ضرور پیش ہوگا۔ ایسی صورت میں دونوں یکساں ہوگئے۔ تشہد کا صیغۂ ندا سلام کے ضمن میں پیش ہوا اور دعائے حاجت کا یہ صیغۂ نداء (یا محمد انی قد توجہت بک الیٰ ربی) اعمالِ حسنہ کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں پیش ہوا نہ وہ مضر رہا نہ ہی یہ ایسی صورت میں تھانوی صاحب کی تفریق بالکل بے سود ہوکر رہ گئی۔
پھر یہ کہ تھانوی صاحب جب صیغۂ نداء مقرون بالسلام کو جائز سمجھتے ہیں تو وہ اس دُعا میں
یا محمد الخ کو حذف کرنے کی بجائے اس کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم لکھ دیتے تاکہ یہاں بھی صیغۂ ندا مقرون بالسلام ہوکر مضر نہ رہتا اور دُعا پڑھنے والے کو درود و سلام پڑھنے کی فضیلت بھی حاصل ہوجاتی اور حدیث میں کانٹ چھانٹ کی نوبت بھی نہ آتی۔ خصوصاً ایسی صورت میں جب کہ بموجب احادیث صحیح دُعا کے ساتھ درود و سلام پڑھنا قبولیتِ دعا کا موجب ہے۔
 

ہوم پیج