اتباع و اطاعت

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ فرما کر ہمیں یہ بتا دیا کہ اتباع رسول اللہﷺ کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کی محبوبیت ہے۔ محبوب کا دشمن کبھی محبوب نہیں ہو سکتا۔ پھر خدا کے محبوب کا دشمن خدائے قدوس کو محبوب کیونکر ہو سکتا ہے۔ ثابت ہوا کہ اس آیۃ مبارکہ میں اتباع کے معنی بغیر محبت رسول کے ان کے سنن کریمہ کو نقل کرنا نہیں بلکہ فَاتَّبِعُوْنِیْ کے معنی ہیں کہ حبیب ِ خدا ﷺ کی محبت کے نشہ میں مخمور اور ان کے جذبات الفت سے مجبور ہو کر بتقضائے الفت و محبت ان کی اداؤں کے سانچہ میں ڈھل جاؤ۔ یہ اتباع قطعاً حضور ﷺ کی محبت کی دلیل ہے مگر بات جہاں تھی وہیں رہی۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں یہ کیسے معلوم ہو کہ فلاں گروہ یا فلاں شخص حضور سید عالم ﷺ کی الفت و محبت کے ساتھ ان کی سنن کریمہ پر عمل کر رہا ہے اور فلاں آدمی بغیر محبت کے محض نقالی میں مصروف ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ محبت کا صحیح معیار نہ ملنے کی وجہ سے ہم اس اشکال کو حل کرنے سے عاجز رہے۔ آیئے دین متین کی روشنی میں محبت کا صحیح معیار تلاش کریں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ادب مفرد میں بہ سند ِ صحیح یہ حدیث روایت کی
قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حبک الشیٔ یعمی ویصم
حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انسان کو جب کسی سے محبت ہو جاتی ہے تو وہ محبت اس کو (محبوب کا عیب دیکھنے سے) اندھا اور (محبوب کا عیب سننے سے) بہرا کر دیتی ہے۔
اس حدیث مبارک سے روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا کہ محبت کا ناقابل تردید اور صحیح معیار یہ ہے کہ مدعی محبت کی آنکھ اور کان محبوب کا عیب دیکھنے اور سننے سے پاک ہو۔ عقل سلیم کے نزدیک بھی محبت کا صحیح معیار یہی ہے۔ کیوں کہ محبت کا مرکز حسن و جمال ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ محبت والی آنکھ کو محبوب کی ذات میں کوئی عیب نظر آئے اور اگر کسی کو محبوب میں عیب و نقائص نظر آتے ہیں تو وہ اپنے دعوائے محبت میں جھوٹا ہے۔
اسی معیار پر موجودہ اسلامی فرقوں کو پرکھ لیجئے! کوئی گروہ خلفاء راشدین اور محبوبین رسول ﷺ کو کافر و منافق کہہ کر ذاتِ پاک مصطفیٰ ﷺ پر کفر و نفاق کی محبت کا عیب لگا رہا ہے، کوئی آلِ اطہار کی شان میں گستاخیاں کر کے سرور عالم ﷺ کی شان گھٹا رہا ہے، کسی نے آقائے نامدار ﷺ کے کمالِ خاتمیت کا انکار کر کے تنقیص شان نبوت پر کمر باندھی ہوئی ہے۔ کوئی جماعت تاجدار مدنی ﷺ کی مقدس حدیثوں کی محبت کا انکار کر کے سرکار کی توہین میں مصروف ہے۔ کسی نے آقائے دو عالم ﷺ کے کمالات علمیہ و عملیہ کا انکار کر کے تنقیص رسالت کی۔ کوئی کہتا ہے نعوذ باللہ وہ مر کر مٹی میں مل گئے۔ وہ ہمارے جیسے بشر ہیں وہ ہمارے بڑے بھائی کے برابر ہیں۔ نعوذ باللہ ان کا علم شیطان و ملک الموت سے بھی کم ہے۔
کوئی علی الاعلان کہہ رہا ہے کہ ان سے بے شمار غلطیاں ہوئیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا۔
معمولی سمجھ رکھنے والا انسان اس حقیقت کو نہایت آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ عقل و شرع سے جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ اہل محبت کو محبوب میں کوئی عیب نظر نہیں آتا۔ نہ ان کا کان محبوب کا عیب سن سکتا ہے۔ تو جس قوم کا شب و روز یہی وطیرہ ہو کہ قرآن و حدیث اور دلائل عقلیہ و نقلیہ سے آقائے نامدار حضرت محمد عربیﷺ کی ذاتِ اقدس میں عیوب و نقائص ثابت کرنے کے در پئے ہو وہ کیونکر سرکار کی محبت کے دعوے میں صادق ہو سکتی ہے۔
محبت والی آنکھ کو محبوب کا واقعی عیب نظر نہیں آتا۔ حضور سید عالم حضرت محمد رسول اللہﷺ تو بے عیب ہیں۔ جسے بے عیب میں عیب نظر آئے اس کا دعوائے محبت کہاں تک درست ہو گا ؎

چشم بد اندیش کہ برکندہ باد
عیب نماید ہنرش در نظر


(۴)

عَنْ اَنَسٍ اَنَّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ کَانَ اِذَا قُحِطُوْا اِسْتَسْقٰی بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِب فَقَالَ اَللّٰھُمَّ اِنَّا کُنَّا نَتَوَّسَلُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا فَتُسْقِیْنَا وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَیْکَ بِعَمِّ نَبِیِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ فَیُسْقَوْنَ (رواہ البخاری)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ، حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے باران رحمت طلب کرتے اور کہتے کہ اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں (بلا واسطہ) تیرے نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا وسیلہ پیش کیا کرتے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ تُو ہمیں سیراب فرما دیا کرتا تھا۔ اے مولا! (اب) ہم تیری بارگاہ قدس میں تیرے پیارے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چچا کا وسیلہ لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ ہمیں سیراب فرما دے (اس وسیلہ کا نتیجہ یہ ہوتا کہ) وہ سیراب کر دئیے جاتے۔ اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا۔
اس حدیث مبارک سے ثابت ہوا کہ طلب حاجات میں اللہ کے نیک بندوں کا وسیلہ پکڑنا جائز ہے۔ منکرین وسیلہ کی طرف سے اگر یہ کہا جائے کہ اس حدیث سے زندوں کا وسیلہ پکڑنا جائز ثابت ہوتا ہے مُردوں کا نہیں۔ اس لئے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ زندہ تھے۔ بلکہ اگر غور کیا جائے تو اسی حدیث سے فوت شدہ بزرگوں کے توسل کی نفی ہوتی ہے۔ کیوں کہ حدیث میں مذکور ہے کہ اے اللہ ! ہم تیرےنبی ﷺکا وسیلہ پکڑا کرتے تھے۔ اب تیرے نبی کے چچا حضرت عباس کا وسیلہ پکڑتے ہیں صحابہ کرام حضور ﷺ کی زندگی میں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا وسیلہ پکڑتے تھے۔ اگر کسی بزرگ کے فوت ہو جانے کے بعد اس کا وسیلہ جائز ہوتا تو صحابہ کرام حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد بھی حضور ہی سے توسل کرتے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بجائے حضرت عباس سے توسل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ کسی بزرگ کے فوت ہو جانے کے بعد اس سے توسل جائز نہیں۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ حدیث مبارک میں نہایت واضح اور غیر مبہم الفاظ میں توسل مذکور ہے۔ جس میں زندہ اور مردہ کاکوئی تفاوت نہیں اور نہ حدیث کا کوئی لفظ فوت شدہ بزرگوں سے توسل کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔ رہا یہ امر کہ صحابہ کرام  نے حضورﷺ کا وسیلہ یہاں کیوں نہ پکڑا تو جواباً عرض ہے کہ کسی حدیث میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وسیلہ بنانے کی نفی نہیں بلکہ کثرت احادیث سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ حضور سید عالم ﷺ کے وصال کے بعد بھی سرکار سے توسل کو جائز سمجھتے تھے۔ اس باب میں البتہ یہاں ایک شبہ باقی رہ جاتا ہے۔ وہ یہ کہ جب زندہ اور فوت شدہ دونوں قسم کے بزرگوں کا وسیلہ پکڑنا جائز ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاص موقع پر رسول اللہﷺ کی بجائے حضرت عباس سے توسل کیوں کیا تو اس کے جواب میں حدیث اعرابی جو شفاء السقام میں منقول ہے رفع شبہات کے لئے کافی ہے جس میں مذکور ہے کہ صحابہ کرام کی موجودگی میں وہ اعرابی سید عالم ﷺ کے مزار مقدس پر حاضر ہوااور سرکار سے توسل کیا وہ اعرابی اپنے گناہوں کی مغفرت کی حاجت لے کر مزار پر انوار پر حاضر ہوا تھا۔ سرکار ابد قرار ﷺ کے توسل کی برکت سے اس کی حاجت پوری ہوئی اور قبر انور سے آواز آئی
ان اللّٰہ قد غفرلک بے شک اللہ تعالیٰ نے تیرے گناہوں کو معاف فرمادیا نیز مشکوٰۃ شریف ص۵۴۵ باب الکرامات میں بروایت دارمی ایک حدیث مرقوم ہے۔ وہو ہذا
عَنْ اَبِی الجَوْزَاء قَالَ قُحِطَ اَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ قَحْطًا شَدِیْداً فَشَکَوْا اِلٰی عَائِشَۃَ قَالَتْ اُنْظُرُوْا قَبْرَ النَّبِیّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاجْعَلُوْ ا مِنْہُ کُویً اِلَی السَّمَائِ حَتّٰی لَا یَکُوْنَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ السَّمَائِ سَقْفٌ فَفَعَلُوْا فَمُطِرُوْا مَطَرًا حَتّٰی نَبَتَ الْعَشَبُ وَ سَمَنَتِ الْاِبِلُ حَتّٰی تَفَتَّقَتْ مِنَ الشحم فَسُمِّیَ عَامَ الْفَتَقِ رَوَاہ الدَارمی۔
حضرت ابوالجوزاء سے روایت ہے کہ ایک سال اہلِ مدینہ سخت قحط میں مبتلا ہو گئے تو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس شکایت لائے۔ انہوں نے فرمایا حضور ﷺ کے مزار اقدس کو دیکھو اور مزار اقدس سے ایک روشن دان آسمان کی طرف کھول دو۔ یہاں تک کہ مزار انور اور آسمان کے درمیان چھت نہ ہو۔ اہل مدینہ نے ایسے ہی کیا۔ تو خوب بارش ہوئی حتیٰ کہ جانوروں کا چارہ بھی بکثرت پیدا ہوا اور اونٹ چربی سے خوب موٹے ہو گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ چربی سے پھٹے جاتے ہیں تو اس سال کا نام عام الفتق رکھ دیا گیا۔ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام حضور ﷺ کی حیاتِ ظاہری میں بھی قحط سالی اور خشک سالی میں بھی حضور ﷺ سے توسل کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصالِ اقدس کے بعد بھی مزارِ انور سے توسل کیا اور حضور ﷺ کے توسل کی برکت سے خلق اللہ اسی طرح خوشحال ہوئی، جس طرح پہلے ہوتی تھی۔ اس مبارک حدیث سے آفتاب عالمتاب سے زیادہ روشن اور واضح ہو گیا کہ صحابہ کرام حضور ﷺ کے وصال کے بعد حضور ﷺ سے توسل کرتے تھے اور دونوں توسلوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ دیکھئے سرکار کی ظاہری حیات میں بھی بارانِ رحمت کی طلب اور قحط سالی دور ہونے کے لئے توسل کیا گیا اور وصال کے بعد بھی قبر انور سے خشک سالی دور ہونے اور بارانِ رحمت نازل ہونے کے لئے توسل کیا گیا۔ اب معترض کا یہ کہنا کہ فوت شدہ بزرگوں سے توسل جائز نہیں۔ نیز یہ کہ صحابہ کرام بعد از وصال حضور ﷺ سے توسل نہ کرتے تھے کیونکر درست ہو سکتا ہے؟ دوسرے شبہ کا جواب یہ ہے کہ اگر غور کیا جائے تو اچھی طرح واضح ہو جائے گا کہ یہاں حضرت عباس کی ذات سے توسل نہیں۔ یہ توسل بھی حضور سید عالم ﷺ ہی سے ہے۔ کیوں کہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں
اِنَّا نتوسل الیک بِعَمِّ نَبِیِّکَ اے اللہ! ہم تیرے نبی کے چچا کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں۔ عم مضاف ہے نبی کی طرف یعنی حضرت عباس سے جو توسل کیا جا رہا ہے وہ اس نسبت اور اضافت کی بنا پر ہے جو انہیں حضور سید عالم ﷺ کے ساتھ ہے۔ اس نسبت سے قطع نظر کر کے توسل نہیں۔ جب توسل کا دارومدار اس نسبت و اضافت پر ہوا تو ثابت ہوا کہ یہ توسل حضرت عباس سے نہیں بلکہ حضور ﷺ سے ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قبل الوصال حضور ﷺ سے بلا واسطہ توسل ہوتا تھا اور یہ توسل بالواسطہ ہے۔
اور بالواسطہ توسل میں حکمت یہ ہے کہ اگر صحابہ کرام ہمیشہ بلا واسطہ توسل کرتے اور حضور سید عالم ﷺ کی ذاتِ گرامی کا بغیر واسطہ کے وسیلہ اختیار کرتے رہتے۔ نیز سرکار مدینہ ﷺ کے کسی غلام کے واسطہ سے کبھی توسل نہ کرتے تو منکرین وسیلہ کہہ دیتے کہ حضور ﷺ کے سوا کسی سے توسل جائز ہی نہیں۔ اگر جائز ہوتا تو صحابہ کرام کبھی تو کسی غیر نبی کا وسیلہ پکڑتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس کے واسطہ سے توسل کر کے اس دعویٰ پر دلیل قائم کر دی کہ جس طرح حضور ﷺ سے بلا واسطہ توسل جائز ہے، اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے غلاموں کے واسطہ سے بھی بلاشبہ توسل جائز اور صحیح ہے۔ اب قیامت تک ہر ولی اللہ اور بزرگ کے ساتھ وسیلہ پکڑنے کا جواز ظاہر ہو گیا۔
مختصر یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے توسل فرما کر توسل کو آگے بڑھایا اور وسیلہ کو عام کیا اور اس امر پر نص فرما دی کہ یہ توسل حضور ﷺ کے ساتھ نسبت اور اضافت پر مبنی ہے۔ لہٰذا قیامت تک اللہ تعالیٰ کا جو نیک بندہ بھی اس نسبت اور اضافت کے شرف سے مشرف ہو، اس کے ساتھ وسیلہ اختیار کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔


(۵)

عَنْ عُمَرَ رضی اللہ عنہ قَالَ قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ا مَقَامًا فَاَخْبَرَنَا عَن بَدَ أِ الْخَلْقِ حَتّٰی دَخَلَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ مَنَازِلَھُمْ وَاَھْلُ النَّارِ مَنَازِلَھُمْ حَفِظَ ذٰلِکَ مَنْ حَفِظَہٗ وَنَسِیَہٗ مَنْ نَسِیَہٗ رواہ البخاری ص ۴۵۳ ج۔ ۱
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ہمارے درمیان ایک مقام پر کھڑے ہوئے تو سرکار دو عالم ﷺ نے ہمیں ابتداء پیدائش عالم سے خبر دینی شروع کی۔ یہاں تک کہ جنتی اپنی جگہوں میں داخل ہو گئے اور دوزخی اپنی جگہوں میں داخل ہو گئے۔ اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا۔
اس حدیث مبارک کا مطلب یہ ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نے ابتداء عالم سے انتہا تک کائنات کے ذرہ ذرہ کا حال بیان فرما دیا۔
اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ سے مسلم شریف میں بایں الفاظ مروی ہے
عن عمرو بن اخطب الانصاری رضی اللہ عنہ قال صلی بنا رسول اللہﷺ یوما الفجر وصعد علی المنبر فخطبنا حتّی حضرت الظھر فنزل فصلّی ثم صعد المنبر فخطبنا حتی حضرت العصر ثم نزل فصلی ثم صعد المنبر فخطبنا حتی غربت الشمس فاخبرنا بما کان وبما ھو کائن اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ قَالَ فَاَعْلَمُنَا اَحْفَظُنَا۔ مشکوٰۃ ص ۵۴۳
حضرت عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف فرما ہو کر ہمیں خطبہ سنایا یہاں تک کہ ظہر کا وقت آ گیا پھر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام ممبر سے اترے اور نماز پڑھنے کے بعد پھر منبر پر رونق افروز ہو گئے اور خطبہ فرمایا، حتیٰ کہ عصر کا وقت آ گیا حضور ﷺ نے منبر سے اتر کر عصر کی نماز ادا فرمائی۔ اس کے بعد پھر منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ فرمایا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور اس دوران میں (فجر سے مغرب تک) حضور سید عالم ﷺ نے ہمیں ان تمام چیزوں کی خبر دی جو ہو گئیں اور جو ہونے والی ہیں۔ ہم میں وہ سب سے زیادہ علم والا تھا جو ہم سب سے زیادہ حضور ﷺ کی بیان فرمودہ چیزوں کو یاد رکھنے والا تھا۔
بخاری اور مسلم کی ان دونوں حدیثوں سے حضور سید عالم جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے تمام ما کان وما یکون کا علم روز روشن کی طرح ثابت ہوا۔ منکرین صاحبان ان دونوں حدیثوں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان حدیثوں کا یہ مطلب نہیں کہ حضور ﷺ نے ابتداء سے انتہا تک تمام مخلوقات کے حالات بیان فرما دئیے بلکہ قرب قیامت کے فتنے مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ قیامت کے قریب جو فتنے پیدا ہونے والے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان فتنوں کو فجر سے مغرب تک بیان فرمایا۔
منکرین کے اس جواب سے یہ حقیقت بالکل بے نقاب ہو جاتی ہے کہ ان کے دل آقائے نامدار تاجدار مدنی جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عداوت سے لبریز ہیں۔ وہ ایک آن کے لئے اس بات کو گوارا نہیں کر سکتے کہ حضور ﷺ کے لئے کوئی کمال ثابت ہو۔ دونوں حدیثوں کے الفاظ پر غور فرمایئے۔ پہلی حدیث جو بخاری کی روایت ہے، میں صاف موجود ہے
فاخبرنا عن بدأ الخلق (الحدیث) حضور ﷺ نے ابتداء خلق سے ہمیں خبر دی۔ یہاں تک کہ دوزخی دوزخ میں اور جنتی جنت میں داخل ہو گئے اور دوسری حدیث جو مسلم نے روایت کی ہے اس میں یہ جملہ صراحۃً موجود ہے فاخبرنا بما کان وبما ھو کائن رسول اکرم ﷺ نے ہمیں ان تمام چیزوں کی خبر دی جو ہو چکیں اور جو ہونے والی ہیں۔
ناظرین کرام انصاف فرمائیں گے کہ دونوں میں سے ایک حدیث میں بھی فتنوں کا ذکر نہیں بلکہ ابتداء سے انتہا تک تمام مخلوقات کے حالات کی خبر دینا مذکور ہے اور تمام گزشتہ اور آئندہ چیزوں سے اخبار وارد ہے۔ ایسی صورت میں حدیثوں کو فتنوں کی خبر میں منحصر کرنا فتنہ شدیدہ میں مبتلا ہونا نہیں تو اور کیا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ منکر ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ کے علم اقدس کی وسعتوں کا ذکر نہیں سن سکتا۔ اس کی دلی عداوت اسے مجبور کرتی ہے کہ باوجود اقامۃ دلیل کے حبیب ِ خدا ﷺ کی وسعت علمی کو سمیٹ کر کسی نہ کسی طرح تنگی اور اختصار کے دائرہ میں محصور و متصور کیا جائے۔ اب دیکھئے محدثین اور شارحین حدیث ان دونوں حدیثوں کا کیا مطلب بیان فرماتے ہیں۔
علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ شارح بخاری حضرت عمر کی حدیث کے تحت ارقام فرماتے ہیں
والغرض انہ اخبر عن المبدأ والمعاش والمعاد جمیعاً اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مبدأ، معاش اور معاد کی خبر دی۔ اس کے بعد فرماتے ہیں وَفِیْہِ دَلَالَۃٌ عَلٰی اَنَّہٗ اخبر فی المجلس الواحد بجمیع احوال المخلوقات من ابتدائھا اِلیٰ انتھائھا وفی ایراد ذالک کُلّہ فِیْ مَجلِسٍ وَّاحِدٍ اَمرٌ عظیمٌ مِنْ خوارق العادۃ وکیف وقد اعطی جوامع الکلم مع ذالک
اور اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ حضور ﷺ کا ابتداء سے انتہا تک ایک ہی مجلس میں تمام مخلوق کے احوال کا وارد فرمانا خوارق عادات سے امر عظیم (جیسے عظیم الشان معجزہ) ہے اور اس کا انکار کس طرح کیا جاتا ہے حالانکہ عظیم الشان معجزہ کے باوجود حضور ﷺ کو جوامع الکلم (بے شمار معانی کثیرہ کو جمع کرنے والے کلمے) بھی عطا فرمائے ہیں۔ عینی جزء ۱۵ صفحہ نمبر ۱۱۰مطبوعہ پاکستان۔ عینی کی اس ایمان افروز عبارت نے منکرین کی عیاری کا پردہ چاک کر دیا اور واضح طور پر بتا دیا کہ حضور سید عالم ﷺ نے صرف تین فتنوں ہی کا بیان نہیں فرمایا بلکہ ابتداء سے انتہا تک مخلوقات کے تمام احوال کو بیان فرما دیا۔ حضور اکرم سید عالم ﷺ کے اس بیان مبارک پر منکرین ہی کو یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ صبح سے شام تک ایک دن میں مخلوقات کے تمام احوال ابتداء سے انتہا تک کس طرح بیان فرما دئیے۔ مومن کے دل میں تو اس شبہ کی قطعاً گنجائش نہیں کیونکہ وہ اپنے آقا و مولا ﷺ کے معجزات عظیمہ پر ایمان رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جس ذات مقدسہ کو یہ طاقت حاصل ہے کہ زمین پر کھڑے ہو کر آسمان پر چاند کے دو ٹکڑے فرما سکتے ہیں اور ڈوبے ہوئے سورج کو واپس لا سکتے ہیں بلکہ اپنے رب کریم کے حکم سے رات کے قلیل ترین حصہ میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور وہاں سے ساتوں آسمانوں اور عرش و کرسی تک جا کر واپس آ سکتے ہیں۔ ان کے لئے یہ کیا دشوار ہے کہ صبح سے شام تک ایک دن میں ابتداء عالم سے انتہا تک ذرّہ ذرّہ کے تمام احوال کو بیان فرما دیں۔ والحمد للّٰہ علیٰ اِحسانہ !

(۶)

مسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
مَنْ اَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ خَیْرًا وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ وَمَنْ اَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ شَرًّا وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ اَنْتُمْ شُھَدَائُ اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ اَنْتُمْ شُھَدَائُ اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ اَنْتُمْ شُھَدَائُ اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ (مشارق الانوار) ج، ص ۵۴۲
ترجمہ: تم نے خوبی کے ساتھ جس کی تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی تم نے برائی کی اس کے لئے نار جہنم واجب ہو گئی۔ تم اللہ کے گواہ ہو اس کی زمین میں۔ تم اللہ کے گواہ ہو اس کی زمین میں۔ تم اللہ کے گواہ ہو اس کی زمین میں۔
ایک دولفظوں کے اختلاف کے ساتھ یہ حدیث بخاری شریف میں بھی موجود ہے۔ مشکوٰۃ شریف کی ایک حدیث میں پورا واقعہ اس طرح مروی ہے کہ ایک جنازہ میں صحابہ کرام نے ایک میت کی خوبیوں کے ساتھ تعریف کی۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا قد وجبت بے شک واجب ہو گئی۔ پھر دوسرا جنازہ گزرا تو صحابہ کرام نے اس کی برائی بیان کی۔ حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا قد وجبت بے شک واجب ہو گئی۔ صحابہ کرام نے عرض کیا حضور کیا چیز واجب ہو گئی؟ تو سرکارِ دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کی تم نے تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے مذمت کی اس کے لئے دوزخ واجب ہو گئی۔ تم اللہ کے گواہ ہو اللہ کی زمین پر۔ تین مرتبہ حضور ﷺنے اس کلمہ کی تکرار فرمائی۔
یہ بات محتاجِ بیان نہیں کہ حضرات صحابہ کرام کو خدائی گواہ ہونے کا جو شرف حاصل ہوا وہ صرف اس لئے کہ انہیں بارگاہِ نبوّت سے قوی نسبت اور گہرا تعلق تھا
معلوم ہوا کہ اللہ کے وہ خاص بندے جنہیں بارگاہِ رسالت سے غیر منقطع نسبت و رابطہ اور ختم نہ ہونے والا تعلق حاصل ہے، وہ اللہ کی زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔ جھوٹی گواہی ہر طرح مذموم ہے۔ چہ جائیکہ سرکاری گواہ جھوٹی گواہی دیں پھر احکم الحاکمین جل مجدہٗ کے گواہ کس طرح جھوٹی گواہی دے سکتے ہیں اور کوئی درست کلمہ اور راہِ صواب کے خلاف امر کیوں کر ان سے سرزد ہو سکتا ہے۔ اسی واسطے حضور اکرم ﷺ نے اپنے غلاموں سے ارشاد فرمایا کہ تم نے جس کی تعریف کر دی اس کے لئے جنت واجب ہو گئی اور تم نے جس کی برائی بیان کر دی ا س کے لئے دوزخ واجب ہو گئی تم اللہ کی زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔ یعنی بحیثیت گواہِ خداوندی ہونے کے تمہارے منہ سے نکلی ہوئی بات غلط نہیں ہو سکتی جو کچھ تم کہہ دیتے ہو قلم قدرت بھی اس کی تائید و تصدیق فرما دیتا ہے۔
اس مضمون کی تائید میں مسلم شریف جلد ثانی کتاب الدیات ص ۵۹ میں ایک اور حدیث بھی وارد ہوئی اور اس لئے ہم مسلم شریف سے وہ حدیث نقل کرتے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ نے ایک آدمی کو زخمی کر دیا یہ مقدمہ حضور ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں پیش ہوا۔ سرکارِ مدینہ ﷺ نے فرمایا قصاص ادا کرو۔
ربیع کی والدہ نے عرض کیا، حضور! کیا ام حارثہ سے قصاص لیا جائے گا؟ خدا کی قسم اس سے ہرگز قصاص نہ لیا جائے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا، سبحان اللہ! اے ام ربیع! قصاص تو اللہ کی کتاب کا حکم ہے۔ ام ربیع نے پھر کہا، خدا کی قسم! اس سے کبھی قصاص۱؎ نہ لیا جائے گا۔ کچھ دیر آپس میں گفتگو ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ مستحق قصاص نے قصاص معاف کر دیا اور وہ دیت پر راضی ہو گئے۔
حضور اکرم نورِ مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا
اِنَّ مِنْ عِبَادِاللّٰہِ لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَبَرَّہٗ ط
ترجمہ: بے شک اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے بندے ہیں، اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں تو البتہ اللہ تعالیٰ ان کو (ان کی قسم میں) بری فرما دیتا ہے۔
امام نووی اس حدیث کے تحت ارقام فرماتے ہیں
معناہ لا یحنثہ لکرامۃ علیہ
اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ وہ بندہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت مکرم و معظم ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس کو اس کی قسم میں حانث نہیں فرماتا۔
اس حدیث کا مضمون حدیث سابق
انتم شھداء اللّٰہ فی الارض کے مضمون کی واضح طور پر تائید کر رہا ہے۔
بے شک اللہ کے خاص بندے جن کے قلوب انوارِ نبوت کے جلوؤں سے معمور ہیں اللہ کی زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔ ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات رائیگاں نہیں جاتی مولانا روم علیہ الرحمۃ نے سچ فرمایا۔ ع

گفتۂ او گفتۂ اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبد اللہ بود

اللہ کے نیک اور متقی بندے چونکہ اللہ کی زمین پراللہ کے گواہ ہیں اور ان کی زبانیں لغو و غلط سے پاک ہیں۔ ان کا کلام نادرستی اور کجروی سے مبرّا ہے۔ اس لئے بارگاہِ ایزدی میں وہ مستجاب الدعوات بھی ہیں ان کا اجماع اور اجتہاد و قیاس حجۃ شرعیہ ہے۔
حدیث مبارک کے اس مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے اندازہ فرمایئے کہ جن کے غلاموں کی یہ شان ہے خود ان کا کیا مرتبہ ہو گا۔ اس مقام پر ان لوگوں کو خاص طور پر غور کرنا چاہئے جو حضور ﷺ کے حق میں یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ نعوذ باللہ حضور ﷺ کی دعائیں بھی ردّ ہو جاتی ہیں اور حضور ﷺ سے لغزشیں اور غلطیاں سرزد ہوئیں۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِی الْاَلْبَابِ

اگلا صفحہ
 

ہوم پیج