علامتِ محبت

اس مقام پر یہ بات بہت ہی قابل غور ہے کہ تمام اسلامی فرقے حضور ﷺ کی محبت کے مدعی ہیں۔ محبت ایسی چیز نہیں جو ظاہر ہو۔ اس کا تعلق دل سے ہے اور ظاہر ہے کہ دلوں کا حال ہمیں معلوم نہیں ہو سکتا۔ ایسی صورت میں ہم کس گروہ کو حضور ﷺ کا محب قرار دے کر اسے مومن سمجھیں اور کس فرقے کے دعوائے محبت کو غلط جان کر اسے ناری قرار دیں۔
اس الجھن کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم دین متین اور عقل سلیم کی روشنی میں محبت کا ایسا معیار تلاش کریں جس کے ذریعہ حقیقت واقعیہ منکشف ہو جائے اور ہم بخوبی جان لیں کہ اصلی محبت کا حامل کون ہے؟
اس سلسلہ میں بعض حضرات کا مسلک یہ ہے کہ محبت کا معیار محبوب کی اتباع اور اس کی پیروی ہے۔ قاعدہ ہے۔ ع۔
ان المحب لمن یحب مطیع محب محبوب کا مطیع اور تابع فرمان ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد فرمایا
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ
میرے حبیب (ﷺ)! آپ فرما دیجئے کہ اے لوگو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اللہ تمہیں محبوب بنا لے گا
آیۃ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ محبت کی شرط اتباع و اطاعت ہے۔ لہٰذا جو گروہ متبع سنت اور پابند شریعت ہے وہی رسول اللہ ﷺ کا محب اور صحیح معنی میں مومن ہے۔
اس کے متعلق گزارش ہے کہ اتباع و اطاعت جسے معیار محبت قرار دیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے؟ کیا حضور ﷺ کے اقوال مبارکہ و اعمالِ مقدسہ کے مطابق مطلقاً عمل کرنے کا نام اتباع و اطاعت ہے یا اس میں کوئی قید بھی ملحوظ ہے۔ اگر مطلق عمل یعنی حضور ﷺ کے ان اعمالِ مقدسہ کی صرف نقل کو اتباع و اطاعت قرار دیا جائے جن کی موافقت شرعاً مطلوب ہے تو وہ تمام منافقین اور اعداء دین حضور ﷺ کے متبع اور اللہ تعالیٰ کے محبوب قرار پائیں گے جو باوجود منافق ہونے اور اپنے دل میں سرکار ابد قرار ﷺ کی عداوت رکھنے کے نماز، روزہ اور دیگر اعمالِ حسنہ کرتے تھے۔ قرآن و حدیث سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ منافقین کلمۂ شہادت پڑھتے تھے، نمازیں ادا کرتے اور مسجدیں بھی تعمیر کراتے تھے۔ جہاد میں بھی شریک ہوتے تھے۔ صحاح کی حدیثوں میں یہاں تک وارد ہوا کہ ایک بے دین و گمراہ قوم آخر زمانہ میں پیدا ہو گی۔ وہ قرآن پڑھے گی، مگر قرآن ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا۔ سچے اور خالص مسلمان ان کی نمازوں کے مقابلہ میں اپنی نمازوں کو حقیر جانیں گے! ایسی صورت میں اس ظاہری اتباع و اطاعت اور سنن کریمہ کی نقل کو کیونکر معیارِ محبت اور دلیل ایمان قرار دیا جا سکتا ہے۔
معلوم ہوا کہ سرکارِ دو عالم ﷺ کی سنن کریمہ اور آپ کے اقوال و اعمال مقدسہ کی نقل محض اتباع اور اطاعت نہیں نہ یہ نقل خالص معیارِ محبت اور دلیل ایمان ہے یہ تو نری نقالی ہے جو کسی حال میں محمود و مستحسن نہیں ہو سکتی بلکہ اگر ایسی نقالی کو تضحیک و تمسخر پر محمول کیا جائے توبعید از عقل نہ ہو گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اتباع و اطاعت کے معنی پر غور کیا جائے اور صحیح معیارِ محبت تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔

ہوم پیج