کتاب الحدیث

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ المسلم من سلم المسلمون من لسانہٖ ویدہ والمؤمن من امنہ الناس علیٰ دمائہم واموالہم رواہ الترمذی والنسائی وزاد البیھقی فی شعب الایمان بروایۃ فضالۃ والمجاھد من جاھد نفسہ فی طاعۃ اللّٰہ والمھاجر من ھجر الخطایا والذنوب (کتاب الایمان)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان وہ ہے کہ سالم رہیں مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے اور مومن وہ ہے جسے امین بنائیں لوگ اپنی جانوں اور اپنے مالوں پر۔ اس حدیث کو ترمذی، نسائی نے روایت کیا اور زیادہ کیا بیہقی نے شعب الایمان میں بروایت حضرت فضالہ اور مجاہد وہ ہے جس نے جہاد کیا اپنے نفس سے اللہ تعالیٰ کی طاعت میں اور مہاجر وہ ہے جس نے چھوڑ دیا خطاؤں اور گناہوں کو


تشریح
حضور سید عالم ﷺ نے اس حدیث مبارکہ میں اسلام اور ایمان کی تعریف بیان نہیں فرمائی بلکہ اسلام اور ایمان کی خوبیوں اور کمال کا ذکر فرمایا ہے۔
اسی طرح مجاہد سے مجاہد بالسیف بمعنی معروف مراد نہیں بلکہ یہاں وہ مجاہد حقیقی مراد ہے جو جہاد اکبر کے ساتھ جہاد کرنے والا ہو۔
مسلمان کی زبان اور ہاتھ سے کسی مسلمان کو ناحق تکلیف پہنچنا اسلام کی شان سے بعید ہے۔ اسلام سلامتی کا علمبردار ہے اور مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ ہر حال میں سلامتی کا حامل ہو۔ مضمونِ حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ زبان سے جتنی تکلیفیں پہنچائی جا سکتی ہیں مثلاً کسی پر جھوٹی تہمت رکھنا، غیبت کرنا، گالی دینا، سختی اور درشتی کے کلمات ناحق کسی مسلمان کے حق میں ادا کرنا، کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں۔ اسی طرح جو تکلیفیں ہاتھ سے پہنچائی جا سکتی ہیں مثلاً ناحق مارنا، ایذاء رسانی کے لئے ہاتھ سے اشارہ کرنا ناحق ستانے کے لئے کسی کے حق میں کچھ لکھنا سب اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور ایک مسلمان کے لئے ہرگز لائق نہیں کہ وہ کسی مسلمان کے ساتھ اس قسم کی ایذاء رسانی کا وطیرہ اختیار کرے۔
علیٰ ہٰذا القیاس مومن کی شان یہ ہے کہ لوگوں کو اس کے کمالِ ایمان اور تقویٰ کی بناء پر اس پر اتنا اعتماد ہو کہ لوگ اپنی جانوں اور مالوں کی امانتیں بلا تامل اس کے سپرد کر دیں اور ان کے دل میں اس کے خائن ہونے کا گمان پیدا نہ ہو۔
یہ بات اسی وقت ہو سکتی ہے جب کسی شخص کا کردار اتنا بلند ہو کہ لوگوں کے ذہن میں اس کی طرف سے کسی قسم کی بد اخلاقی اور خیانت کا شائبہ تک ہونے نہ پائے
مسلم اور مومن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی اس قدر قیمتی، اہم اور جامع ہے کہ اسلامی معاشرہ کے ہر پہلو کی مکمل اصلاح اس میں موجود ہے۔ گھریلو زندگی، بیرونی تعلقات، آپس کے معاملات سب کو حاوی ہے اور مسلمان کی زندگی کے ہر گوشے کے لئے اس میں نیکو کاری اور پاکیزگی کی تعلیم پوری جامعیت کے ساتھ موجود ہے۔ خصوصاً مومن کے بارے میں حضورﷺ کا ارشاد تو بہت ہی اہم ہے۔ جس کی روشنی میں ہر شخص اپنے ایمان و اسلام کا صحیح جائزہ لے سکتا ہے اور وہ اس طرح کہ جس شخص کی امانت و دیانت پر لوگوں کو جتنا قوی اعتماد ہو، اسی قدر اس کا ایمان و اسلام قوی ہو گا۔ جو شخص یہ معلوم کرنا چاہے کہ میں کس درجہ کا مومن ہوں وہ اپنے بارے میں لوگوں کے اعتماد کو دیکھے۔ اگر اس کو یہ معلوم ہو جائے کہ لوگ اپنی جانوں اور مالوں کی امانت بے دریغ مجھے سپرد کرنے کے لئے آمادہ ہیں تو سمجھ لے کہ میرا ایمان فی الواقع قوی اور مضبوط ہے اور اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی شخص اپنی جانوں اور مالوں کی امانت میرے حوالے کرنے کے لئے تیار نہیں تو وہ سمجھ لے کہ میرا ایمان کمزور ہے اور میں جب تک اپنی اس کمزوری کا ازالہ نہ کر لوں اس وقت تک مومن کامل نہیں ہوسکتا۔
بالکل اسی طرح مجاہد کی نشانی یہ ہونی چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طاعت میں اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرے۔ مقصد یہ ہے کہ نفس امارہ انسان کو برائی کی طرف لاتا ہے اور گناہ و معصیت کی رغبت دلاتا ہے۔ ایسی صورت میں حقیقی جہاد یہ ہے کہ انسان نفس امارہ کے ساتھ جنگ کرے اور اسے مغلوب کر کے اللہ تعالیٰ کی طاعت اور تقویٰ کی راہ اختیار کرے۔
یہ مرتبہ مراتب کمال میں بلند ترین مقام رکھتا ہے۔ اگر مسلمان اس ارشادِ نبوی پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں توانسانیت کے تمام مراحل اسی ایک نقطہ میں طے ہو سکتے ہیں۔
مہاجر کے بارے میں بھی رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث پاک میں ارشاد فرمایا۔ وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہاں لفظ مہاجر سے بھی بمعنی معروف مہاجر مراد نہیں بلکہ وہ حقیقی مہاجر مراد ہے جو صغیرہ کبیرہ گناہوں کو چھوڑ کر شیطان سے نجات حاصل کر لے اور بارگاہِ ربوبیت میں قرب کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہو۔
مسلم و مومن، مجاہد و مہاجر کی جو تعریف ان جامع اور مختصر الفاظِ حدیث میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے، وہ بنی نوع انسان کی فلاح و نجات اور تمام دینی و دنیوی فوز وفلاح کا ایسا جامع بیان ہے جس کو مسلمان عملی طور پر اختیار کر لیں تو ان کی تمام مشکلات حل ہو سکتی ہیں اور دین و دنیا کی ہر حاجت پوری ہو سکتی ہے۔ کسی مرحلہ پر وہ ناکام و نامراد نہیں ہو سکتے بلکہ ان کا ہر سانس شاد کامی اور فائزالمرامی پر منتج ہو سکتا ہے

(۲)

منکرین حدیث کہتے ہیں کہ اگر حدیث کے بغیر قرآن کریم پر صحیح طور پر عمل کرنا ناممکن ہو تو قرآن کریم ناقص قرار پائے گا اور کلام الٰہی کا ناقص ہونا محال ہے۔ اس لئے قرآن کریم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے حدیث کو ضروری قرار دینا باطل ٹھہرا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کسی حال میں حدیث کا محتاج نہیں۔
حدیث کے محتاج ہم ہیں کہ جب تک بیانِ رسالت کی روشنی نہ ہو ہم قرآن مجید کے معانی نہیں سمجھ سکتے۔
اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے صرف اتنی بات کا ذہن نشین کر لینا کافی ہے کہ اللہ جل جلالہٗ کی ہر نعمت اور اس کی ذات صفات کے ساتھ صحیح معنی میں ایمان لانا ناممکن ہے تاوقتیکہ اللہ جل جلالہٗ کے رسولوں پر ایمان نہ لایا جائے۔
اب اگر منکرین ثبوت میں یہ کہہ دیں کہ ایمان باللہ کے لئے ایمان بالرسول ہرگز ضروری نہیں ورنہ اللہ جل جلالہٗ نعوذ باللہ ناقص ٹھہرے گا تو منکرین حدیث کے پاس اس کا کیا جواب ہے۔
فما جوابکم فھو جوابنا۔
انکارِ حدیث کے ضمن میں یہی کہا جاتا ہے کہ حدیثوں کا ذخیرہ رسول اللہ ﷺ کے دو سو برس کے بعد جمع کیا گیا ہے، لہٰذا قابل قبول نہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جمع و ترتیب کا مؤخر ہونا کسی چیز کے غیر معتبر ہونے کو مستلزم نہیں۔ قرآن مجید بھی عہد رسالت کے بعد جمع ہوا ہے۔
مصاحف متعارفہ کے جامع سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں۔ قرآن مجید کے منازل سبعہ متداولہ اور تیس پاروں میں اس کا منقسم ہونا اور اعراب مروجہ فی زماننا نیز علامات مد و شد وقف وصل وغیرہ نزول قرآن سے سالہاسال بعد وجود میں آئے لیکن اس تاخیر کی وجہ سے قرآن کریم کے کسی زیر و زبر نقطہ میں مومن کے لئے تردّد اور شک و شبہ کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔
اس مقام پر بعض سادہ لوح حضرات کو یہ شبہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ احادیث کا ذخیرہ بکثرت موضوع اور ضعیف روایتوں سے پُر ہے۔ اس لئے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اس کے متعلق گزارش ہے کہ جب رب العٰلمین  نے قرآن مجید کو قیامت تک کے لئے بنی نوع انسان کا ضابطہ ٔ عمل اور دستور حیات بنا کر نازل فرمایا تو لازم ہے کہ اس کا بیان بھی اس کے ساتھ ساتھ قیامت تک باقی رہے۔
ہم ثابت کر چکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ قرآن کریم کی صحیح تفسیر ہے اور حضور ﷺ مفسر قرآن مجید ہیں اور یہ بات قرآن مجید سے ثابت ہو چکی ہے کہ احادیث بھی وحی الٰہی ہیں اور جس طرح قرآن منزل من اللّٰہ ہے اسی طرح بیانِ حدیث بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے۔ احادیث ِ رسول ﷺ بیان القرآن ہیں۔ اس طرح دشمنانِ حدیث اپنے ناکام مقاصد میں خائب و خاسر ہوئے۔
واضعین حدیث اور دشمنانِ دین متین نے سر توڑ کوشش کی کہ غلط اور جھوٹی روایات کی تاریکیوں میں صحیح حدیثوں کو چھپا دیں اس مقصد کے لئے ان بدبختوں نے کذب و وضع کا ایک پہاڑ کھڑا کر دیا لیکن شمع رسالت کے پروانوں نے اپنی تمام کوششیں صحیح حدیثوں کو غلط اور جھوٹی روایتوں سے ممتاز کرنے میں صرف کر دیں۔ علم الاسناد اور اسماء الرجال کی بنیاد ڈالی گئی۔ اصولِ حدیث مرتّب کئے گئے راویوں کی جرح و تعدیل اور احادیث کی چھان بین کے لئے امت مسلمہ نے جو کچھ کیا (یا قدرت نے جو کچھ کروایا) وہ کسی سے مخفی نہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کذب و وضع کی مہیب تاریکیوں میں بھی رسول اکرم نور مجسم ﷺ کی نورانی ادائیں چمکتی رہیں۔
یُرِیدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَ فْوَاھِھِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکَا فِرُوْنَo اور احادیث صحیح غلط اور جھوٹی روایتوں سے ممتاز ہو گئیں۔ یہ بھی قرآن کریم کی دلیل صداقت اور حضورﷺ کی شان اعجاز ہے کہ بیان قرآن اور سیرت پاک کو واضعین و ظالمین کی طاغوتی طاقتیں نہ مٹا سکیں جس قادر مطلق علیم حکیم نے قرآن کریم کی حفاظت فرمائی اسی نے اپنی قدرت سے بیان قرآن کو محفوظ رکھا اور آئندہ بھی اسے محفوظ رکھے گا۔ وما ذالک علی اللّٰہ بعزیز۔

حدیث نمبر ۱:
عن عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ قال قال سمعت رسول اللّٰہ ﷺ علیہ وسلم انما الا عمال با لنیات وانما لا مرئ مانوٰی فمن کانت ھجرتہ الیٰ دنیا یصیبھا اوالیٰ امراۃ ینکحھا فھجرتہ الیٰ ماھاجر الیہ۔(بخاری شریف)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اعمال صرف نیتوں سے ہیں اور انسان کے لئے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی تو جس کی ہجرت دنیا کی طرف ہو کہ اس کو پہنچے یا کسی عورت کی طرف ہو کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔
فائدہ : محدثین کرام اپنی تالیفات میں عموماً اس حدیث کو پہلے لکھتے ہیں۔ اس سے ان کی مرادقصد صحیح اخلاصِ نیت اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی ہوتی ہے۔
ابو داؤد کا قول ہے کہ وہ چار ہزار حدیثیں جن میں مسائل دینیہ کی تفصیل ہے انسان کو اپنے دین کیلئے اس میں سے چار حدیثیں کافی ہیں۔
انما الاعمال بالنیات
عمل صرف نیت میں ہے
الحلال بَیِّنٌ والحرام بَیِّنٌ
حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر
ومن حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ
آدمی کے حسن اسلام سے یہ بات ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جو اسے نفع نہ دے
ولا یکون المؤمن مؤمنا حتی یرضیٰ لاخیہ ما یرضی لنفسہٖ
اور اس وقت تک مومن، مومن نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی مومن کیلئے اس چیز کو پسند کرے جسے اپنے لئے پسند کرتا ہے
معلوم ہوا کہ حدیث
انما الاعمال بالنیات ایک ہزار حدیثوں کے برابر ہے۔
قاضی عیاضی نے کہا! ائمہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ثلثِ اسلام ( دین کا تہائی حصہ) ہے۔
ائمہ ثلاثہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک تقدیر حدیث اس طرح ہے۔ ( صحت الا عمال بالنیات) اعمال کی صحت نیتوں سے ہے۔
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
ثواب الاعمال لا یکون الا بالنیۃ عملوں کا ثواب بغیر نیت کے نہیں ہوتا۔
جن کاموں سے ثواب متعلق ہوتا ہے وہ دو قسم ہیں۔ عبادت مقصودہ۔ جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ اور عبادات غیر مقصودہ۔ جیسے وضو، غسل، طہارت وغیرہ۔ عبادات مقصودہ کی وہ حقیقت جو شرعاً معتبر ہے صرف ثواب ہے۔ اگر ثواب کو ان عبادتوں سے الگ کر لیا جائے تو ان کی حقیقت ہی باقی نہ رہے اور عبادات غیر مقصودہ کی حقیقت ثواب نہیں ہوتی۔ وہ کسی عبادت مقصودہ کے لئے آلہ ہوتی ہیں۔ اگر ثواب کو ان سے علیٰحدہ کر لیا جائے تووہ عباداتِ مقصودہ کے لئے آلہ رہیں گی۔
امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر عمل کا ثواب نیت سے ہے۔ نیت ہو گی تو ثواب ہوگا ورنہ نہیں۔
اگر عبادات مقصودہ میں نیت نہ کی توان کا ثواب نہ ہوگا اور چونکہ ان کی حقیقت ثواب ہی تھی لہذا اس کے نہ ہونے سے ان کی حقیقت باطل ہوجائے گی اور شرعاً عبادتیں صحیح نہ ہوں گی۔ جیسے نماز روزہ وغیرہ میں اگر نیت نہ کی جائے تو نماز روزہ صحیح نہ ہو گا اور اگر عبادات غیر مقصودہ میں نیت نہ کی جائے تو ثواب نہ ہو گا لیکن ان عبادتوں کی حقیقت چونکہ عین ثواب نہیں اس لئے باوجود ثواب نہ ہونے کے یہ کام شرعاً صحیح قرار پائیں گے۔ مثلاً غسل و وضو وغیرہ بغیر نیت کے صحیح ہیں۔ نماز کا آلہ ہونے کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں اگرچہ نیت نہ ہونے کی وجہ سے ثواب سے خالی ہیں۔
اگر اس مقام پر یہ شبہ پیدا کیا جائے کہ تیمم بھی عبادت غیر مقصودہ ہے اور وہ بغیر نیت کے صحیح نہیں ہوتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ تیمم میں جو نیت فرض ہے وہ حصول ثواب کے لئے نہیں بلکہ تیمم کو وضو کے قائم مقام کرنے کے لئے ہے۔ حصولِ ثواب کے لئے نیت ِ ثواب بالکل علیٰحدہ ہے۔ اگر وہ نیت ہو گی تو ثواب ہو گا ورنہ تیمم ہو جائے گا ثواب نہ ملے گا۔

(۳)

عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺ لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہٖ وولدہ والناس اجمعین (متفق علیہ)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص مومن (کامل) نہیں ہو سکتا تاوقتیکہ میں اس کی طرف اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ایمان کا دارومدار حضور سید عالم ﷺ کی محبت پر ہے۔ جس مومن کے دل میں سرکار دو عالم ﷺ کی محبت کامل ہو گی اس کا ایمان کامل ہو گا ورنہ ناقص اور اگر نعوذ باللہ کسی کے دل میں حضورﷺ کی محبت مطلقاً نہیں تو وہ قطعاً ایمان سے محروم ہے ۔

ہوم پیج