لفظ نبی کی تحقیق
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلیٰ َرسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ َوعَلیٰ اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ

ابھی چند دن پہلے اسی رمضا ن شریف میں فیصل آباد سے ایک پمفلٹ کی فوٹو سٹیٹ کاپی بذریعہ ڈاک موصول ہوئی۔ اس پمفلٹ کا لکھنے والا کوئی شدید معاند معلوم ہوتا ہے۔ جسے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے انتہائی بغض ہے۔ وہ اعلیٰ حضرت کے معتقدین کو ملت بریلویہ سے تعبیر کرتا ہے

{معاند مذکور نے مسئلہ علم غیب کے ضمن میں لکھا}
۱: اصطلاحی نبی کے معنیٰ غیب کی خبر دینے والے کے نہیں۔
۲: اصطلاحی نبی
نبائٌ سے ماخوذ نہیں بلکہ اصطلاحی نبی نَبْوَۃٌ یا نَبَاوَۃٌ سے ماخوذ ہے۔
اس نے اپنی تائید میں ائمہ لغت کی جو عبارات نقل کیں سب میں قطع و برید اور انتہائی خیانت سے کام لیا اور بعض مقامات پر اپنی جہالت کا بھی مظاہرہ کیا۔ جس کی تفصیل قارئین کے سامنے آرہی ہے۔
پمفلٹ مذکور میں بروایت حاکم ایک اعرابی کا یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ اس نے رسول کریم ﷺ کو ہمزہ کے ساتھ نبیٔ اللّٰہ کہا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس پر انکار فرماتے ہوئے فرمایا، میں ہمزہ کے ساتھ نبیٔ اللّٰہ نہیں بلکہ بغیر ہمزہ کے نبیّ اللّٰہ ہوں۔ معاند نے اس کے معنیٰ بیان کرنے میں انتہائی خیانت سے کام لیا اور اس کے بارے میں محدثین اور اہل لغت کے اقوال اور بالخصوص یہ قول کہ اعرابی کی یہ روایت صحیح نہیں، بلکہ ضعیف اور منقطع ہے۔ ازروئے خیانت نقل نہیں کیا اور حاکم کے متساہل ہونے کو بھی نظر انداز کر دیا۔ انشاء اللہ ہم ان سب حقائق کو دلائل کے ساتھ بیان کریں گے۔
اس معاند نے اپنی جہالت کا ثبوت دیتے ہوئے ہمزہ کے ساتھ لفظ نبیٌٔ کو لغت ردی بمعنیٰ غیر فصیح قرار دیا۔
پھر مزید جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر ہمزہ لفظ نبیٌّ کونبیٌٔ بالہمزہ سے بلاغت کے اعتبار سے زیادہ بلیغ کہا۔ صرف یہی نہیں بلکہ بعض ائمہ کے کلام میں لفظ اجود کو نقصانِ جودت کے معنیٰ میں سمجھا اور ہمزہ کے ساتھ لفظ نبیٌٔ کی فصاحت کے خلاف بطورِ استدلال کہا کہ قرآن مجید میں نبیٌّ بلا ہمزہ آیا ہے اور یہ نہ دیکھا کہ ہمزہ کے ساتھ نبیٌٔ پورے قرآن میں حضرت امام نافع کی قرأۃ ہے اور یہ قرأۃ ان سات قرأتوں میں سے ہے جو سب متواتر ہیں اور ان کے متواتر ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں۔ جس کی تفصیل آ رہی ہے۔
علاوہ ازیں اس معاند نے امام راغب اور صاحب روح المعانی پر بہتان باندھا کہ اعرابی کا منشاء حضور پر کہانت کا الزام لگانا تھا۔ حضور نے یہ تنقید فرما کر غیب دانی اور کہانت کے الزام سے اپنی بریت کا اعلان فرما دیا۔ اس عبارت میں انکار کی بجائے تنقید کا لفظ معاند کی جہالت ہے اور اس مضمون کا امام راغب اور صاحب روح المعانی کی طرف منسوب کرنا، ان دونوں بزرگوں پر بہتان تراشی ہے۔ نہ امام راغب نے اعرابی کی روایت ِ مذکورہ کا یہ مفہوم بیان کیا اور نہ صاحب روح المعانی نے
وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مُوْسیٰ کے تحت اس کہانت اور غیب دانی کا کوئی ذکر کیا۔
عبارات ِ علماء میں اس معاند کی قطع و برید اور خیانت کے ساتھ اس کی جہالت کی تفصیل میں جانے سے پہلے نبی اور رسول کی تعریف علمائے متکلمین کی زبان سے سن لیجئے اس کے بعد لفظ غیب اور نبی پر علماء مفسرین و محدثین اور ائمہ لغت کی عبارات ملاحظہ فرمائیے۔ معاند کی خیانت آپ کے سامنے بے نقاب ہو کر آ جائے گی۔
۱: نبی اور رسول کی تعریف کرتے ہوئے شرح عقائد نسفی میں علامہ تفتا زانی  نے فرمایا
ھُوَ اِنْسَانٌ بَعَثَہُ ش الِیَ الْخَلْقِ لِتَبْلِیْغِ الْاَحْکَامِ
نبی اور رسول وہ انسان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تبلیغ احکام کے لئے مخلوق کی طرف مبعوث فرمایا۔
احکام عملی ہوں جیسے عبادات و معاملات وغیرہ یا اعتقادی مثلاً مرنے کے بعد اٹھنا، فرشتوں، جنت، دوزخ پر یقین رکھنا اور وہ تمام امور جو لوگوں سے غائب ہیں وہ سب غائب ہیں۔ جن کی تبلیغ کے لئے نبی مبعوث ہوتا ہے اور ان سب امور غیبیہ کی انہیں خبر دیتا ہے۔ اس تعریف سے ظاہر ہو گیا کہ غیب کی خبر دینے والے کو نبی اور رسول کہتے ہیں۔ اب لفظ غیب پر مفسرین کی عبارات ملاحظہ فرمائیے۔
۲: امام نسفی نے بالغیب کے تحت فرمایا
مَاغَابَ عَنْہُمْ مِّمَّا اَنْبَأہُمْ بِہِ النَّبِیُّ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ مِنْ اَمْرِ الْبَعْثِ وَالنُّشُوْرِ وَالْحِسَابِ وَ غَیْرِذٰلِک(مدارک ج ۱، ص ۲۱)
یعنی غیب سے مراد ہر وہ چیز ہے جو لوگوں سے غائب ہو۔ جس کی خبر نبی کریم ﷺنے ان کو دی۔ مرنے کے بعد اٹھنا، حشر و نشر، حساب اور اس کے علاوہ۔
۳: امام قرطبی نے
اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ میں لفظ غیب کی تفسیر میں متعدد اقوال نقل کرتے ہوئے فرمایا۔
وَقَالَ آخَرُوْنَ الْقُرْآنُ وَمَا فِیْہِ مِنَ الْغُیُوْبِ وَقَالَ آخَرُوْنَ الْغَیْبُ کُلُّ مَا اَخْبَرَ بِہِ الرَّسُوْلُ عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ مِمَّا لَا تَہْتَدِیْ اِلَیْہِ الْعُقُوْلُ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَالْحَشْرِ وَالنَّشْرِ وَالصِّرَاطِ وَالْمِیْزَانِ وَالْجَنَّۃِ وَالنَّارِ۔
ایک قول یہ ہے کہ یہاں الغیب سے مراد قرآن اور اس کے غیوب ہیں۔ دوسرے علماء نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی غیب کی وہ سب خبریں مراد ہیں جو انسانی عقول سے بالا تر ہیں، جیسے علاماتِ قیامت، عذاب قبر، حشر و نشر، پل صراط، میزان، جنت اور دوزخ
تمام اقوال کے بعد ابن عطیہ کا محاکمہ نقل فرماتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں۔
وَہٰذِہِ الْاَقْوَالُ لَا تَتعَارَضُ، بَلْ یَقَعُ الْغَیْبُ عَلیٰ جَمِیْعِہَا (قرطبی ص ۱۶۳ ج ۱)
یعنی ان تمام اقوال میں کوئی تعارض نہیں بلکہ ان سب چیزوں کو غیب کہا جاتا ہے۔ انتہیٰ
۴: جلالین میں ہے (بالغیب)
بِمَا غَابَ عَنْہُمْ مِنَ الْبَعْثِ وَالْجَنَّۃِ وَالنَّارِ (جلالین ص ۲)
یعنی غیب ہر وہ چیز ہے جو لوگوں سے غائب ہو۔ جیسے مرنے کے بعد اٹھنا اور جنت و دوزخ۔ انتہیٰ
۵: بیضاوی میں
یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کے تحت ہے۔
وَالْمُرَادُ بِہِ الْخَفِیُّ الَّذِیْ لَا یُدْرِکُہُ الحِسُّ وَلَا یَقْتَضِیْہِ بَدَاہَۃُ الْعَقلِ۔ (بیضاوی ص ۲۸)
یعنی غیب سے مراد ہر وہ پوشیدہ چیز ہے جو ادراکِ حواس اور عقل سے بالا تر ہو۔ انتہیٰ
اس کے بعد لفظ غیب پر ہم ائمہ لغت کی عبارات نقل کرتے ہیں۔
۶: لغت قرآن کے عظیم و جلیل امام شیخ ابو القاسم الحسین الراغب الاصفہانی الغیب کے تحت فرماتے ہیں۔
وَالْغَیْبُ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالیٰ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ مَالَا یَقَعُ تَحْتَ الْحَوَاسِّ وَلَا تَقْتَضِیْہِ بَدَاہَۃُ الْعُقُوْلِ وَاِنَّمَا یُعْلَمُ بِخَبْرِ الْاَنْبِیَائِ انتہیٰ (مفردات ص ۳۷۳)
یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ میں الغیبسے مراد وہ چیزیں ہیں جو حواس اور عقول سے بالا تر ہوں۔ انبیاء کی خبر کے بغیر ان کا علم حاصل نہ ہو سکے۔
۷: لغت عرب کے امام الائمہ ابو الفضل جمال الدین محمد بن مکرم بن منظور الافریقی المصری اپنی شہرئہ آفاق تصنیف لسان العرب میں اور شارح قاموس امام لغت الامام محب الدین ابو الفیض سید محمد مرتضیٰ الحسینی الواسطی الزبیدی الحنفی اپنی عظیم و جلیل تصنیف تاج العروس میں فرماتے ہیں
قَالَ اَبُوْ اِسْحَاقَ الزَّجَّاجُ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالیٰ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ اَیْ بِمَا غَابَ عَنْہُمْ فَاَخْبَرَ ہُمْ بِہِ النَّبِیُّ ﷺ مِنْ اَمْرِ الْبَعْثِ وَالْجَنَّۃِ وَالنَّارِ وَکُلُّ مَاغَابَ عَنْہُمْ مِّمَّا اَنْبَأہُمْ بِہٖ فَہُوَ غَیْبٌ (لسان العرب ص ۶۵۴ ج ۱ تاج العروس ص ۴۱۶ ج ۱)
یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کی تفسیر میں ابو اسحاق زجاج نے کہا کہ وہ ہر اس غیب پر ایمان لاتے ہیں جس کی خبر نبی کریم ﷺ نے انہیں دی مرنے کے بعد اٹھنے، جنت اور دوزخ کی اور ہر وہ چیز جو ان سے غائب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جس کی انہیں خبر دی وہ غیب ہے۔
ائمہ تفسیر و ائمہ لغت کی ان تمام عبارات سے ثابت ہو گیا کہ غیب کی خبر دینے والے کو نبی اور رسول کہتے ہیں۔
اب ہم لفظ النبی پر علماء مفسرین اور علمائے لغت کی عبارت پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے۔
۸: الامام محی السنہ علاؤ الدین علی بن محمد المعروف بالخازن
وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیِّیْنَکے تحت فرماتے ہیں۔
اَلنَّبِیُّ مَعْنَاہُ اَلْمُخْبِرْ مِنْ اَنْبَأَ یُنْبِیُٔ وَقِیْلَ ہُوَ بِمَعْنَی الرَّفِیْعِ مَاخُوْذٌ مِّنَ النَّبْوَۃِ وَہُوَ الْمَکَانُ الْمُرْتَفَعُ۔ انتہیٰ (خازن ص ۵۶ ج۱)
یعنی النبی کے معنیٰ ہیں خبر دینے والایہ
اَنْبَائَ یُنْبِئُ سے ماخوذ ہے۔اور کہا گیا کہ وہ الرفیع (بلند رتبہ) کے معنیٰ میں ہے۔ اَلنَّبْوَۃُ سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنیٰ بلند جگہ کے ہیں۔انتہیٰ
۹۔ علامہ نسفی نے
وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیِّیْنَ کے تحت فرمایا بِالْہَمْزَۃِ نَافِـعٌ وَکَذَابَابَہٗ۔ انتہیٰ (مدارک ص ۵۴۔ ج ۱)
یعنی
اَلنَّبِیْئِیْنَ ہمزہ کے ساتھ ہے اور یہ نافع کی قرأۃ ہے۔ نافع نے لفظ النبئ کو پورے قرآن میں ہمزہ کے ساتھ پڑھا۔ خواہ مفرد ہو یا جمع۔
۱۰: شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی آیت کے تحت فرمایا
قَرَأَ نَافِعٌ بِہَمْزَۃٍ النَّبِیْئِیْنَ وَالنَّبِئ وَالْاَنْبِئَآئَ وَالنُّبُوْئَ ۃَ وَتَرَکَ الْقَالُوْنُ الْہَمْزَۃُ فِی الْاَحْزَابِ لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ وَبُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّا اَلْآیَہ فِی الْوَصْلِ خَاصَّۃً بِنَائً عَلیٰ اَصْلِہٖ فِی الْہَمْزَتَیْنِ الْمَکْسُوْرَتَیْنِ وَاِذَا کَانَ مَہْمُوْزًا فَمَعْنَاہُ الْمُخْبِرُ مِنْ اَنْبَأَ یُنْبِئُ وَنَبَّأَ یُنَبِّئُ وَالْبَاقُوْنَ بِتَرْکِ الْہَمْزَۃِ فَحِیْنَئِذٍ تَرْکُ الْہَمْزَۃِ اِمَّا اَنْ یَّکُوْنَ لِلتَّخْفِیْفِ لِکَثْرَۃِ الْاِسْتَعْمَالِ اَوْ یَکُوْنَ مَعْنَاہُ الرَّفِیْعُ مِنَ النَّبْوَۃِ وَہِیَ الْْمَکَانُ الْمُرْتَفَعُ۔ انتہیٰ (تفسیر مظہری جلد ۱ ص ۷۶)
امام نافع نے
اَلنَّبِیْئِیْنَ اَلنَّبِیْ ئِ اَلْاَنْبِئَاء اور اَلنُّبُوْئَ ۃَ کو ہمزہ کے ساتھ پڑھا، ان کے شاگرد قالون نے سورئہ احزاب کی دو آیتوں لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ اور بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّا میں خاص حالت وصل میں ہمزہ ترک کر دیا۔ اپنے اس قاعدہ کے مطابق کہ جب دو ہمزہ مکسورہ جمع ہو جائیں تو پہلے کو یا سے بدل دیا جاتا ہے (چونکہ اس سے پہلے یا تھی اس لئے اسے یا میں مدغم کر دیا) تو جب لفظ نبی مہموز یعنی ہمزہ کے ساتھ ہو تو اس کے معنیٰ مخبر ہیں۔ اَنْبَا َٔ، یُنْبِی ُٔ ، نَبَّا َٔ ، یُنَبِّی ُٔ سے ماخوذ ہے اور ائمہ قرأۃ نے ترک ہمزہ کے ساتھ پڑھا اس وقت ترک ہمزہ کثرتِ استعمال کی وجہ سے تخفیف کے لئے ہو گا۔ یا اس کے معنیٰ اَلرَّفِیْع (بلند مرتبہ) ہوں گے۔ نَبْوَۃٌ سے ماخوذ ہو گا اور اس کے معنیٰ بلند مقام کے ہیں۔ (انتہیٰ)
۱۱: امام قرطبی فرماتے ہیں۔
وَقَرَأَ نَافِعٌ اَلنَّبِیْئِیْنَ بِالْہَمْزِ حَیْثُ وَقَعَ فِی الْقُرْآنِ اِلَّا فِیْ مَوْضِعَیْنِ فِیْ سُوْرَۃِ الْاَحْزَابِ اِنْ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ وَ لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّا اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ فَاِنَّہٗ قَرَئَ بلَا مَدٍّ وَّلَا ہَمْزٍ۔ وَاِنَّمَا تَرَکَ ہَمْزَ ہٰذَیْنِ لِاِ جْتِمَاعِ ہٰذَیْنِ مَکْسُوْرَتَیْنِ وَتَرَکَ الْہَمْزَۃَ فِیْ جَمِیْع ذٰلِکَ الْبَاقُوْنَ۔ فَاَمَّا مَنْ ہَمَزَ فَہُوَ عِنْدَہٗ مِنْ اَنْبَأَ اِذَا اَخْبَرَ وَاِسْمُ فَاعِلِہٖ مُنْبِئٌ وَقَدْ جَائَ فِیْ جَمْعِ نَبِیْ ٍٔ نُبَائُ وَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسِ السُّلَمِیُّ یَمْدَحُ النَّبِیَّ ﷺ

یَا خَاتَمَ النُّبَأئِ اِنَّکَ مُرْسَلٌ
بِالْحَقِّ کُلُّ ھُدَی السَّبِیْلِ ھُدَاکَ

ھٰذَامَعْنیٰ قِرَأَۃِ الْہَمْزِ۔ وَاخْتَلَفَ الْقَائِلُوْنَ بِتَرْکِ الْہَمْزِ
فَمِنْہُمْ مَّنِ اشْتَقَّ اِشْتِقَاقَ مَنْ ہَمَزَ، ثُمَّ سَہَّلَ الْہَمْزَ، وَمِنْہُمْ مَنْ قَالَ ہُوَ مُشْتَقٌّ مِنْ نَبَا یَنْبُوْ اِذَا ظَہَرَ۔ فَالنَّبِیُّ مِنَ النُّبُوَّۃِ وَہُوَا لْاِرْتِفَاعُ فَمَنْزِلَۃُ النَّبِیِّ رَفِیْعَۃٌ۔
(ص۴۳۱ ج ۱)
اور امام نافع نے
النبیئین ہمزہ کے ساتھ پڑھا۔ جہاں بھی قرآن میں یہ لفظ واقع ہوا۔ سوا دو جگہ کے سورہ احزاب کی آیت۔۱
اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ اور لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّا اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ
انہوں نے ان دونوں آیتوں میں النبی مد اور ہمزہ کے بغیر پڑھا۔ یہاں ان کا ترک ہمزہ صرف اس لئے ہے کہ ان دونوں آیتوں میں دو ہمزہ مکسورہ جمع ہو گئے۔ باقی قراء نے ترکِ ہمزہ کے ساتھ
النبیّون پڑھا۔ جنہوں نے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ان کے نزدیک لفظ نبی انبأ سے ماخوذ ہے۔ اس کا اسم فاعل مُنْبِیٌٔ ہے اور نَبِیٌّ کی جمع صرف انبیاء آتی ہے اور ہمزہ کے ساتھ نَبِیٌٔ کی جمع نُبَأئُ بھی آتی ہے۔ حضرت عباس بن مرداس سلمی (صحابی) نے رسول اللہ ﷺ کی مدح کرتے ہوئے کہا

یَا خَاتَمَ النُّبَائِ اِنَّکَ مُرْسَلٌ
بِالْحَقِّ کُلُّ ھُدَی السَّبِیْلِ ھُدَاکَ

یعنی اے خاتم النبیین بے شک آپ رسول برحق ہیں۔ راہِ نجات کی ہر ہدایت آپ کی ہدایت ہے۔
یہ معنیٰ قرأۃ بالہمزۃ کے ہیں اور ترکِ ہمزہ کے قائلین میں اختلاف ہے۔ بعض نے اس کا اشتقاق ہمزہ سے مانا۔ پھر ہمزہ کی تسہیل کر دی اور بعض نے کہا
نَبَا یَنْبُو سے مشتق ہے۔ جس کے معنیٰ ظہر ہیں۔اور نبی نَبْوَۃْ سے ماخوذ ہے۔ نَبْوَۃْ کے معنیٰ ہیں بلندی لہٰذا نبی کا مرتبہ بلند ہوتا ہے۔
آگے چل کر فرمایا
وَیُرْوٰی اَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِیِّ ﷺ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِی َٔ اللّٰہِ: وَہَمَزَ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ لَسْتُ بِنَبِیِٔ اللّٰہِ۔ وَہَمَزَ وَلٰکِنِّیْ نَبِیُّ اللّٰہِ وَلَمْ یَہْمِزْ قَالَ اَبُوْ عَلِیٍّ ضُعِّفَ سَنَدُ ہٰذَا الْحَدِیْثِ وَمِمَّا یُقَوِّیْ ضُعْفَہٗ اَنَّہٗ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَدْ اَنْشَدَہٗ الْمَادِحُ، یَا خَاتَمَ النُّبَأئِ وَلَم یُؤْثِرْ فِیْ ذٰلِکَ اِنْکَارٌ
مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے کہا
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیْ َٔ اللّٰہ اور لفظ نبی کو ہمزہ سے ادا کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا، میں ہمزہ کے ساتھ نبیٔ اللّٰہ نہیں بلکہ میں ہمزہ کے بغیر نبیّ اللّٰہ ہوں۔ ابو علی نے کہا اس حدیث کی سند ضعیف ہے ۔ امام قرطبی نے فرمایا اس حدیث کے ضعیف ہونے کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حضور ﷺ کی مدح کرنے والے شاعر (صحابی) نے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے یَا خَاتَمَ النبأء کہا۔ (جب کہ نبأء صرف ہمزہ کے ساتھ لفظ نبیْ ٌٔ کی جمع کے لئے آتا ہے) اور اس میں حضور کا انکار منقول نہیں ہوا۔ (انتہیٰ) (قرطبی ص ۴۳۱ ج ۱)
امام قرطبی کی اس عبارت سے لفظ نبیٔ کو قرأۃ بالہمزہ اور انباء سے اس کے مشتق ہونے پر روشنی پڑنے کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آ گئی کہ وہ مخبر کے معنیٰ میں ہے اور لفظ انبیاء نبی بالہمزہ اور بغیر ہمزہ دونوں کی جمع ہے۔ اور نبأء صرف
نَبِیْ ٌٔ بالہمزہ کی جمع ہے اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ صحابی نے نبی کو مخاطب کر کے ہمزہ کے ساتھ خاتم النبأء کہا ہے۔ اگر یہ حضور کو ناپسند ہوتا تو فوراً انکار فرما دیتے۔ سب سے اہم بات جو امام قرطبی کی اس عبارت سے ثابت ہوئی یہ ہے کہ جس روایت میں رجلِ اعرابی کا حضور ﷺ کو ہمزہ کے ساتھ یا نبیٔ اللّٰہ کہنا اور حضور ﷺ کا انکار فرمانا منقول ہے، صحیح نہیں بلکہ ضعیف ہے اور اس کے ضعف کی دلیل حضرت عباس بن مرداس کا مذکورہ بالا شعر ہے۔
مخفی نہ رہے کہ امام قرطبی کے مطابق اعرابی کی روایت مذکورہ کو دیگر علماء بالخصوص ائمہ لغت نے بھی امام حاکم کی تصحیح کے باوجود ضعیف قرار دیا ہے، کیوں کہ امام حاکم محدثین کے نزدیک تصحیح میں متساہل ہیں۔ جیسا کہ انشاء اللہ ائمہ لغت کی عبارات کے ضمن میں ہم اس پر دلائل قائم کریں گے۔
معاند کی یہ انتہائی خیانت ہے کہ اس نے ائمہ لغت کی عبارات سے وہ حصہ نقل کیا جو اسے مفید ِ مطلب نظر آیا حالانکہ وہ ہرگز اسے مفید نہیں، جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔
۱۱: امام اثیر الدین ابو عبداللہ محمد بن یوسف الشہیر بابی حیان اپنی تفسیر البحر المحیط
میں فرماتے ہیں۔
وَقَرَأ نَافِعٌ بِہَمْزِ النَّبِیْئِیْنَ وَالنَّبِیْ ِٔ وَالْاَنْبِیَائِ وَالنُّّبُوْئَ ۃِ اِلَّا اَنَّ قَالُوْن اَبْدَلَ وَاَدْغَمَ فِی الْاَحْزَابِ فِیْ وَہَبَت نَفْسَہَالِلنَّبِیِّ وَفِیْ لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّا اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ فِی الْوَصْلِ وَقَرَأَ جُمْہُوْرٌ بِغَیْرِ ہَمْزٍ۔ انتہیٰ  (البحر المحیط ص ۳۷ ج۱)
یعنی نافع نے
النبیئین اور النبیٔ اور الانبئاء اور النبوء ۃ سب کو ہمزہ کے ساتھ پڑھا لیکن قالون نے سورہ احزاب کی دو آیتوں وَھَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ او ر لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ میں حالت وصل میں ابدال اور ادغام کیا اور جمہور نے بغیر ہمزہ کے پڑھا۔ (انتہیٰ)
حضرات محدثین او رائمہ لغت حدیث نے بھی لفظ نبی کو نبأسے ماخوذ مانا ہے اور نبی کے معنیٰ مخبر عن اللّٰہ اور نبوۃ کے معنیٰ اطلاع علی الغیب لکھے ہیں۔
۱۳: محدثِ جلیل امام لغت ِ حدیث علامہ الشیخ محمد طاہر صاحب مجمع بحار الانوار لفظ  نبی کے تحت فرماتے ہیں
ھُوَبِمَعْنیٰ فَاعِلٍ مِنَ النَّبَأِ اََلْخَبَرِ لِاَنَّہٗ اَنبَأَ عَنِ اللّٰہِ یَجُوْزُ تَخْفِیْفُ ھَمْزَتِہٖ وَ تَحْقِیْقُہَا
یعنی لفظ نبی اللہ میں نبی فاعل کے معنیٰ میں ہے۔
نبأٌ سے ماخوذ ہے۔ نبأٌ خبر کو کہتے ہیں۔ کیوں کہ نبی (ﷺ) نے اللہ کی طرف سے خبر دی، لفظ نبی کے ہمزہ کی تخفیف و تحقیق دونوں جائز ہیں۔
اس کے بعد فرمایا
وَقِیْلَ ھُوَ مُشْتَقٌّ مِّنَ النَّبَاوَۃِ وَھُوَ الشَیْئُ الْمُرْتَفَعُ وَمِنَ الْمَھْمُوْزِ شِعْرُ ابْنِ مِرْدَاس یَا خَاتَمَ النُّبَأَئِ اِنَّکَ مُرْسَلٌ انتہیٰ (مجمع بحار الانوار ص ۳۲۹ ج۔ ۳)
یعنی بعض نے کہا کہ وہ نباوۃ سے مشتق ہے اور وہ شے مرتفع ہے اور مہموز سے عباس بن مرداس کا یہ شعر ہے
یَا خَاتَمَ النُّبَأَئِ اِنَّکَ مُرْسَلٌ
اے خاتم النبیئین بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔
یہ پورا شعر ہم قرطبی کے حوالے سے نقل کر چکے، جس کو انہوں نے ایک اعرابی کے یا نبی ٔ اللّٰہ! کہنے اور نبیٔ بالہمزۃ پر رسول اللہ ﷺ کے انکار کی روایت کے ضعیف ہونے کی تائید میں نقل کیا ہے۔ صاحب مجمع بحار الانوار نے بھی اسے نقل کر کے اس روایت کے ضعف کی طرف اشارہ کر دیا۔ جس کی تائید مزید وضاحت کے ساتھ ان شاء اللہ تاج العروس کی عبارات سے قارئین کے سامنے آ رہی ہے۔
۱۴: متکلمین نے بھی نبی اصطلاحی کو
نبأٌ سے مشتق مانا ہے۔ شرح مواقف  میں ہے
اَلنَّبِیْئُ وَاشْتِقَاقُہٗ مِنَ النَّبَائِ فَہُوَ حِیْنَئِذٍ مَھْمُوْزٌ لٰکِنَّہٗ یُخَفَّفُ وَیُدْغَمُ وَھٰذَ الْمَعْنیٰ حَاصِلٌ لِّمَنِ اشْتَھَرَ بِھٰذَا الْاِسْمِ لِاِنْبَائِہٖ عَنِ اللّٰہِ تَعَالیٰ، وَقِیْلَ النّبیُّ ھُوَ مُشْتَقٌّ مِّنَ النُّبُوَّۃِ وَھُوَ الِْارْتِفَاعُ۔ انتہیٰ (شرح مواقف ص ۲۱۷ ج۔ ۸)
النبی کا اشتقاق
نبأٌ سے ہے، ایسی صورت میں وہ مہموز ہے لیکن اسے مخفف اور مدغم کر دیا جاتا ہے اور یہ معنیٰ ہر اس مقدس انسان کے لئے حاصل ہیں جو نبی کے نام سے مشہور ہوا۔ کیوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دیتا ہے۔
اور کہا گیا کہ النبی النبوۃ سے مشتق ہے۔ جس کے معنیٰ ہیں بلند ہونا۔ (انتہیٰ)
۱۵: شرح عقائد نسفی کے شارح علامہ عبدالعزیز پر ہاروی رحمۃ اللہ علیہ نے لفظ  نبی کے اشتقاق میں متعدد اقوال نقل کرنے کے بعد بطور محاکمہ شرح الشافیہ کی عبارت نقل کرتے ہوئے فرمایا
جَائَ النَّبِیْئُ مَھْمُوْزًا فِی الْقِرَائَ اتِ السَّبْعِ وَالثَّانِیْ بِاَنَّ الْحَدِیْثَ غَیْرُ صَحِیْحٍ وَاِنْ رَوَاہُ الْحَاکِمُ لِاَنَّ فِیْ سَنَدِہٖ حَمْرَانَ مِنْ غُلَاۃِ الشِّیْعَۃِ وَلَـوْسُلِّمَ فَلَعَلَّ الْاَعْرَابِیَّ اَرَادَ اشْتِقَاقَہٗ مِنْ نَبَأتُ الْاَرْضَ اِذَا خَرَجْتُ مِنْہَا اِلَی الْاُخْرٰی (نبراس ص ۸)
یعنی لفظ النبی ہمزہ کے ساتھ قراء آتِ سبعہ میں سے ہے اور دوسرے یہ کہ اعرابی کی حدیث صحیح نہیں، اگرچہ اسے حاکم نے روایت کیا، کیوں کہ اس کی سند میں حمران ہے جو غلاۃ شیعہ سے ہے اور اگر بالفرض اس روایت کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو اعرابی کے نبیٔ اللّٰہ کہنے پر حضور ﷺ کا انکار اس لئے نہیں تھا کہ لفظ نبی مہموز نہیں بلکہ اعرابی نے عرب کے ایک محاورے
نَبَاء تُ الْاَرْضَ (میں ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف نکلا) سے اخذ کر کے خَارِجٌ کے معنیٰ میں ہمزہ کے ساتھ حضور کو نبیٌٔ کہا تھا۔ جس پر حضور نے انکار فرمایا۔ انتہیٰ
اس عبارت سے واضح ہو گیا کہ نبیٔ ہمزہ کے ساتھ نبأ سے ماخوذ ہے اور یہ قراء آتِ سبعہ میں سے ہے۔ اعرابی کی حدیث سے اس کے خلاف استدلال صحیح نہیں۔ کیوں کہ وہ حدیث اپنی سند کے اعتبار سے خود غیر صحیح ہے۔
۱۶: لغت ِ قرآن کے امام علامہ راغب اصفہانی نبوۃ کے معنیٰ بیان کرتے ہوئے
فرماتے ہیں
اَلنُّبـــُوَّۃُ سِفَارَۃٌ بَیْنَ اللّٰہِ وَبَیْنَ ذَوِی الْعُقُوْلِ مِنْ عِبَادِہٖ بِاِزَاحَۃِ عِلَّتِہِمْ فِیْ اَمْرِ مَعَادِ ہِمْ وَمَعَاشِہِمْ وَالنَّبِیُّ لِکَوْنِہٖ مُنَبِّأً بِمَا تَسْکُنُ اِلَیْہِ الْعُقُوْلُ الذَّکِیَّۃُ وَھُوَ یَصِحُّ اَنْ یَّکُوْنَ فَعِیْلًا بِمَعْنٰی فَاعِلٍ لِقَوْلِہٖ تَعَالیٰ نَبِیْٔ عِبَادِیْ وَقُلْ اَؤُنَبِّئُکُمْ وَاَنْ یَّکُوْنَ بِمَعْنی الْمَفْعُوْلِ لِقَوْلِہٖ نَبَّأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ (مفردات ص ۴۹۹)

نبوۃ اللہ تعالیٰ اور اس کے ذوی العقول بندوں کے درمیان سفارت کا نام ہے جو ان کے تمام دنیوی اور اخروی امور سے ہر قسم کی خرابی دور کرنے کے لئے ہوتی ہے اور اس کو نبی اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ایسی خبریں دیتا ہے جن کی وجہ سے پاکیزہ عقول کو تسکین و طمانیت حاصل ہوتی ہے۔ لفظ نبی کا فعیلٌ بمعنیٰ فاعلٌ ہونا بھی صحیح ہے جس کی دلیل یہ دو آیتیں ہے
نَبِّیْٔ عِبَادِیْ (میرے بندوں کو خبر دیجئے اور قُلْ اَؤُنَبِّئُکُمْ (فرما دیجئے کیا میں تمہیں خبر دوں) اور بمعنیٰ مفعول بھی ہو سکتا ہے، جس کی دلیل نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ ہے یعنی علیم خبیر نے مجھے خبر دی۔
اس کے بعد فرماتے ہیں
وَقَالَ بَعْضُ الْعُلَمَائِ ھُوَ مِنَ النُّبُوَّۃِ اَیِ الرِّفْعَۃِ وَسُمِّیَ نَبِیًّا لِرِفْعَۃِ مَحَلِّہٖ عَنْ سَائِرِ النَّاسِ اَلْمَدْلُوْلِ عَلَیْہِ وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا فَالنَّبِیُّ بِغَیْرِ الْھَمْزِ اَبْلَغُ مِنَ النَّبِیْئِ بِالْھَمْزِ لِاَنَّہٗ لَیْسَ کُلُّ مُنَـبِّـأٍ رَفِیْعَ الْقَدْرِ وَالْمَحَلِّ
بعض علماء نے کہا کہ لفظ نبی نبوۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ ہیں رفعۃ اور وہ نبی کے نام سے اس لئے موسوم ہوا کہ باقی سب لوگوں سے اس کا مقام بلند ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا قول
وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا دلالت کرتا ہے۔ لہٰذا نبی بغیر ہمزہ کے، ہمزہ کے ساتھ لفظ نبیٔ سے ابلغ ہے۔ کیوں کہ ہر مُنَبِّیٔ (خبر دینے والا) رَفِیْعُ الْقَدْرِ وَالْمَحَل نہیں ہوتا۔ (انتہیٰ) (مفردات صں ۵۰۰)
یہاں زیادۃِ معنیٰ کی وجہ سے لفظ ابلغ استعمال ہوا ہے۔ بلاغت کے اعتبار سے نہیں جیسا کہ معاند نے سمجھا، کیوں کہ بلاغت کلمہ کی صفت نہیں بلکہ کلام کی صفت ہے۔
۱۷: دیکھئے قاضی بیضاوی نے الرحمٰن کو الرحیم سے محض زیادۃِ معنیٰ کی وجہ سے ابلغ کہا ہے۔ (بیضاوی ص ۵)
اس کے بعد لفظ النبی کے ماخذ اشتقاق اور اس کے معنیٰ کی وضاحت کے لئے ہم آئمہ لغت عرب کی عبارات ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔
۱۸: امام لغت صاحب ِ قاموس فرماتے ہیں
وَالنَّبِیْئُ الْمُخْبِرُ عَنِ اللّٰہِ تَعَالیٰ وَتَرْکُ الْھَمْزِ الْمُخْتَارُ جمع اَنْبِیَائُ وَنُبَأئُ وَاَنْبَائُ وَالنَّبِیْئُوْنَ وَالْاِسْمُ النُّبُوْئَ ۃُ۔ انتہیٰ (القاموس المحیط۔ ج ۱ ص ۲۹)
یعنی ش تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے والے کو
نبیٌٔ کہتے ہیں اور ہمزہ کا ترک مختار ہے۔ اس کی جمع انبیاء، نباء، انبائٌ اور النبیئون ہے اور اسم النبوء ۃ ہے۔ انتہیٰ
صاحب قاموس کے علاوہ بعض دیگر علماء اور آئمہ لغت نے بھی ترکِ ہمزہ کو مختار کہا ہے، جس کے معنیٰ معاند نے غلط سمجھے، ترکِ ہمزہ کا مختار ہونا محض کثرتِ استعمال میں تخفیف کی وجہ سے ہے۔ ورنہ تواتر ِ قراء ۃ کے اعتبار سے لفظ النبی بالھمزہ اور بلا ہمزہ دونوں مختار ہیں۔ کیوں کہ دونوں قراء آتِ سبعہ متواترہ میں سے ہیں۔ جیسا کہ آئمہ مفسرّین کی عبارات سے ہم ثابت کر چکے ہیں اور اس پر مزید کلام آگے بھی آ رہا ہے۔

تنبیہہ ضروری
قاضی بیضاوی نے
مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ میں مَالِکِ کی قرأ ۃ پر مَلِک کی قرأۃ کو ترجیح دیتے ہوئے وَھُوَ الْمُخْتَار کہا
جس پرمحشی نے علامہ خفا جی سے نقل کرتے ہوئے لکھا
۱۹: اَلْاَوْلیٰ اَنْ لَّا یُوْصَفَ اَحَدُھُمَا بِالْمُخْتَارِ لِمَا یُوْھِمُ اَنَّ الْاُخْرٰی بِخِلَافِہٖ مَعَ اَنَّ الْقِرَائَ تَیْنِ مُتَوَاتِرَتَنِ
یعنی بہتر یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک قرأۃ کو مختار نہ کہا جائے کیوں کہ اس سے وہم پیدا ہوتا ہے کہ دوسری قرأۃ مختار نہیں باوجودیکہ دونوں قرأتیں متواترہ ہیں۔ (بیضاوی حاشیہ ۵؎ ص۷)
شیخ زادہ نے بھی قاضی بیضاوی کے قول وھو مختار پر کلام کرتے ہوئے لکھا کہ مصنف نے اپنی قرأۃ
مَلِکِ یَوْمِ الدِّیْن کو مختار کہہ کر اسے ترجیح دی اور اسی طرح مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کی قرأۃ والوں نے اپنی قرأۃ کو دوسری قرأۃ پر ترجیح دی۔ ایسی ترجیح جس سے دوسری قرأۃ کا ساقط ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ وَھٰذَا غَیْرُ مَرْضِیٍّ لِاَنَّ کِلْتَیْھِمَا مُتَوَاتِرۃٌ یعنی یہ نا پسندیدہ ہے اس لئے کہ دونوں قرأتیں متواتر ہیں۔
معلوم ہوا کہ دو متواتر قرأتوں میں سے ایک قرأۃ کو اس طرح ترجیح دیتے ہوئے مختار کہنا کہ دوسری قرأۃ کا غیر مختار ہونا ظاہر ہوتا ہو یا اس کا وہم پیدا ہوتا ہو پسندیدہ نہیں۔
معاند کی جسارت ملاحظہ فرمائیے کہ اس نے نبیٌٔ بالھمزہ کی قرأۃ متواترہ کو فصاحت و بلاغت کے خلاف سمجھا۔ یہاں تک کہ نعوذ باللہ اسے لغت ِ ردی قرار دے کر بالکل ہی ساقط کر دیا۔ جب کہ نبیٌٔ بالھمزہ اور بلا ہمزہ دونوں قرأتیں متواترہ ہیں۔
ہمزہ کے ساتھ
النبیُٔ امام نافع کی قرأۃ ہے جو قراء آتِ سبعہ متواترہ سے ہے۔ جیسا کہ ہم تفسیر قرطبی، تفسیر مدارک، تفسیر مظہری اور تفسیر بحر محیط کی عبارات سے ثابت کر چکے ہیں۔
۲۱،۲۲۔ ائمہ قراء سبعہ اور ان کی قرا ء ات کا بیان اور یہ کہ امام نافع قرایٔ سبعہ میں شامل ہیں اور اہل مدینہ نے ان کی قرأت کو اختیار کیا۔ نہایت بسط و تفصیل کے ساتھ تفسیرِ اتقان جزیٔ اوّل ص ۸۲ اور مناہل العرفان جزیٔ اوّل ص ۴۰۹ میں مرقوم ہے۔
۲۳: تفسیر اتقان جزیٔ اوّل ص ۸۳ میں یہ تصریح بھی موجود ہے
لِاَنَّ السَّبْعَ لَمْ یُخْتَلَفْ فِیْ تَوَاتُرِھَا یعنی قراء اتِ سبعہ کے متواتر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہوا۔
۲۴۔ ۲۵: لسان العرب جلد ۱ ص ۱۶۳، تاج العروس جلد ۱ ص ۱۲۲ میں ہے
وَقَالَ الفَّرَّائُ اَلنَّبِیُّ ھُوَ مَنْ اَنْبَائَ عَنِ اللّٰہِ فَتُرِکَ ھَمْزُہٗ قَالَ وَاِنْ اُخِذَتْ مِنَ النُّبُوَّۃِ وَالنَّبَاوَۃِ وَھِیَ الِْارْتِفَاعُ اَیْ اَنَّہٗ اَشْرَفَ عَلٰی سَائِرِ الْخَلْقِ فَاَصْلُہٗ غَیْرُ الْھَمْزِ (انتہیٰ)
یعنی فراء نے کہا نبی وہ ہے جس نے اللہ کی طرف سے خبر دی اس کا ہمزہ متروک ہو گیا۔ فراء نے کہا اگر لفظ نبی نبوۃ یا نباوۃ سے ماخوذ ہو جس کے معنیٰ ہیں بلند ہونایعنی نبی باقی سب مخلوق پر بلند مرتبہ ہو گیا تو اس تقدیر پر اس کی اصل ہمزہ کے بغیر ہے۔ انتہیٰ
سیبویہ کے نزدیک بھی لفظ نبی اصل میں مہموز اللام ہے۔
۲۶: دیکھئے شرح شافیہ میں ہے
وَکَذَا النَّبِیُّ اَصْلُہٗ عِنْدَ سِیْبْوَیْہِ اَلْہَمْزُ (شرح شافیہ جلد اول ص ۲۱۲ طبع بیروت)
نبی کی اصل سیبویہ کے نزدیک ہمزہ کے ساتھ ہے۔
۲۷: صاحب نبراس نے بھی فرمایا کہ سیبویہ اور دیگر محققین کا مذہب یہ ہے کہ نبی  (بالھمزہ) مہموز اللام ہے۔ (نبراس ص ۸)
سیبویہ کا یہ مذہب مذکور ہے کہ لفظ نبی کا ماخذ نبأہے اور مہموز اللام ہے۔
۲۸۔۲۹: لسان العرب جلد اول ص ۱۶۳، تاج العروس جلد اول ص ۱۲۱۔ ۱۲۲ میں تفصیل
کے ساتھ مرقوم ہے۔ اسی وضاحت کے ضمن میں علامہ زبیدی نے فرمایا
قَالَ سِیْبْوَیْہ لَیْسَ اَحَدٌ مِّنَ الْعَرَبِ اِلَّا وَیَقُوْلُ تَنَبَّأَ مُسَیْلَمَۃُ بِالْہَمْزِ غَیْرَ اَنَّہُمْ تَرَکُوْا فِی النَّبِیِّ الْہَمْزَ
یعنی سیبویہ نے کہا کہ عرب کا ہر شخص
تَنَبَّأَ مُسَیْلَمَۃُ ہمزہ کے ساتھ کہتا ہے۔ بجز اس کے کہ انہوں نے النبی میں ہمزہ کو ترک کر دیا ہے۔
معاند نے تاج العروس سے سیبویہ کا مذہب نقل کرتے ہوئے انتہائی خیانت اور عبارت میں قطع و بُرید سے کام لیا۔
۳۰: تاج العروس کی اصل عبارت اس طرح ہے
وَقَالَ سِیْبْوَیْہ الْھَمْزُ فِی النَّبِیْ ِٔ لُغَۃٌ رَدِیَّۃٌ یَعْنِی لِقِلَّۃِ اِسْتِعْمَالِھَا لَا لِاَنَّ الْقِیَاسَ یَمْنَعُ مِنْ ذٰلِکَ۔ انتہیٰ (تاج العروس ج۱ ص ۱۲۲)
یعنی سیبویہ نے کہا لفظ نبی میں ہمزہ لغت ردیہ ہے یعنی اس کی قلت استعمال کی وجہ سے، نہ اس لئے کہ قیاس اس سے روکتا ہے۔
معاند نے لغت ردیہ کے بعد کی عبارت نقل نہیں کی اور ازروئے خیانت اسے چھوڑ دیا۔ کیوں کہ لفظ ِ ردیہ کے معنیٰ پر اس سے روشنی پڑتی تھی۔
صاحب تاج العروس نے
یَعْنِی لِقِلَّۃِ اِسْتِعْمَالِھَا کہہ کر سیبویہ کی مراد ظاہر کی کہ صرف قلت ِ استعمال کی بنا پر اسے لغتِ ردیہ کہا گیاہے۔ یہ نہیں کہ قیاس اس سے روکتا ہو۔
۳۱: لسان العرب میں بھی یہی عبارت بلفظہا مرقوم ہے۔ (لسان العرب ص ۱۶۲، ج۔ ۱)
معاند کے ہاتھ کی صفائی دیکھئے کہ دونوں کتابوں کی عبارت منقولہ نقل نہیں کی۔ صرف لغت ردیہ کا لفظ نقل کر دیا۔ محض یہ تاثر دینے کے لئے کہ ہمزہ کے ساتھ لفظ نبیٌٔردی ہونے کی وجہ سے لغتِ قرآن نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح زجَّا ج کے قول میں
وَاْلاَجْوَدُ تَرْکُ الْھَمْزِ کے معنیٰ بھی یہ نہیں کہ ہمزہ کے ساتھ النبیُٔ جیّد نہیں ہے بلکہ یہ لفظ اجود محض کثیر الاستعمال ہونے کے معنیٰ میں ہے۔
سیبویہ اور زجاج دونوں کے قول کی مراد ظاہر ہے۔ سیبویہ نے ہمزہ کے ساتھ النبیٔ کو قلیل الاستعمال کہا اور زجاج نے بغیر ہمزہ کے لفظ نبی کو اجود کہہ کر کثیر الاستعمال قرار دیا۔ جسے معاند نے اپنی جہالت سے جیّد کے خلاف سمجھا اور یہ نہ دیکھا کہ زجاج نے خود وضاحت کے ساتھ یہ بات کہی کہ اہل مدینہ کی ایک جماعت نے ہمزہ کے ساتھ
النبیُٔ  پڑھا اور پورے قرآن میں ان کی قرأۃ النبیُٔ  کے ہمزہ کے ساتھ ہے۔
۳۲: علامہ زبیدی تاج العروس میں
النبیُٔ  کے تحت فرماتے ہیں
وَفِی النِّھَایَۃِ فَعِیْلٌ بِمَعْنیٰ فَاعِلٍ لِلْمُبَالَغَۃِ مِنَ النَّبَأِ اَلْخَبَرِ لِاَنَّہٗ اَنْبَأَ عَنِ اللّٰہِ اَیْ اَخْبَرَ قَالَ وَیَجُوْزُ فِیْہِ تَحْقِیْقُ الْھَمْزِ وَتَخْفِیْفُہٗ یُقَالُ نَبَأَ وَنَبَّأَ وَأَنْبَأَ۔ انتہیٰ (تاج العروس ج۔۱ ص ۱۲۱)
یعنی نہایہ میںہے کہ
نبیٌٔ فعیلٌ کے وزن پر فَاعِلٌ کے معنیٰ میں ہے۔ مبالغہ کے لئے یہ نبأ سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ ہیں خبر، اس لئے کہ نبی نے، ش تعالیٰ کی طرف سے خبر دی۔ صاحب ِ نہایہ نے کہا کہ لفظ نبی میں ہمزہ کی تحقیق اور تخفیف دونوں جائز ہیں۔ محاورہ عرب میں کہا جاتا ہے۔ نَبَأَ وَنَبَّأَ وَاَنْبَأَ یعنی اس نے خبر دی۔ انتہیٰ
معاندکی ایک اور خیانت ملاحظہ فرمائیے۔ کنز العمال سے حدیث اعرابی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اعرابی نے حضور ﷺ سے کہا اے غیب دان! حضور ﷺ نے فرمایا، میں غیب دان نہیں۔ میں تو رفیع المنزلۃ ہوں۔

اگلا صفحہ
 

ہوم پیج