حصہ دوم

دعویٰ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ حاضر ناظر ہیں۔ جسمانیت اور بشریت کے ساتھ نہیں بلکہ بایں طور کہ عالم کا ذرہ ذرہ روحانیت و نورانیت نبی کریم ﷺ کی جلوہ گاہ ہے اور روحانیت و نورانیت محمد یہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ و التحیہ کے لئے قرب اور بعد مکان یکساں ہے۔ کیوں کہ عالم خلق زمان و مکان کی قید سے مقید ہوتا ہے لیکن عالم امران قیود سے پاک ہے لہٰذا بیک وقت متعدد مقامات پر رسول اللہ ﷺ کا تشریف فرما ہونا اور ایک ہی وقت میں دور دراز مقامات کثیرہ اور امکنہ متعددہ میں حضور نبی کریم ﷺ کو اہل اللہ کا دیکھنا اور کھلم کھلا بیداری میں حضور ﷺ کی زیارت سے مشرف ہونا دلائل کی روشنی میں ایسا واضح امر ہے جس کا انکار کوئی متدین مسلمان نہیں کر سکتا۔ اس دعویٰ کی تنقیحات حسب ذیل ہیں۔
۱: نبی کریم ﷺ نور ہیں۔
۲: نبی کریم ﷺ تمام دنیا کو اپنی نظر مبارک سے دیکھ رہے ہیں۔
۳: مقامات کثیرہ و امکنہ متعددہ میں حضور ﷺ کا تشریف فرما ہونا نہ صرف ممکن بلکہ امر واقع ہے۔
اب ان تنقیحات پر نمبر وار دلائل ملاحظہ فرمائیے
تنقیح نمبر ۱
قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنٌ o جلالین شریف میں اس آیت کے تحت ہے (قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ) ھُوَ النَّبِیُّ علامہ صاوی اس پر فرماتے ہیں سمی نورا لانہ اصل کل نور حسی و معنوی۔ترمذی شریف جلد ۲ ص ۵۶۸ مطبوعہ فخر المطابع دہلی ۱۲۷۰ ھ سطر ۱۵،
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا فِیْ قَلْبِیْ وَنُوْرًا فِیْ قَبْرِیْ وَنُوْرًا مِّنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَ نُوْرًا مِنْ خَلْفِیْ وَ نُوْرًا عَنْ یَمِیْنِیْ وَ نُوْرًا عَنْ شِمَالِیْ وَ نُوْرًا مِنْ فَوْقِیْ وَ نُوْرًا مِّنْ تَحْتِیْ وَ نُوْرًا فِیْ سَمْعِیْ وَ نُوْرًا فِیْ بَصَرِیْ وَ نُوْرًا فِیْ شَعْرِیْ وَ نُوْرًا فِیْ بَشْرِیْ وَ نُوْرًا فِیْ لَحْمِیْ وَ نُوْرًا فِیْ دَمِیْ وَ نُوْرًا فِیْ عِظَامِیْ اَللّٰھُمَّ اَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا وَ اَعْطِنِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا وَّفِیْ رِوَایَۃٍ وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا کماحکاہ القسطلانی فی المواھب و ذکرہ الزرقانی ایضاً (جلد رابع ص ۲۲۰)
اس مبارک حدیث میں اس امر کی تصریح موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے تمام اعضاء مبارکہ کے نور ہونے کی دعا فرما کر اس امر کا اظہار فرما دیا کہ ہم جسمانی طور پر بھی نور ہیں۔ اس مقام پر یہ شبہ وارد کرنا کسی طرح درست نہیں ہو سکتا کہ اگر نبی کریم ﷺ ابتداء سے نور ہوتے تو
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ نُوْرًا فرما کر نور بننے کی دعا کیوں فرماتے؟ اس لئے کہ کسی نعمت کے لئے دعا کرنے سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ وہ نعمت قبل از دعا حاصل نہیں۔
حضور ﷺ کی نورانیت جو کتاب و سنت سے ثابت کی گئی اس کے خلاف
مشھود لھم بالخیر حضرات صحابہ تابعین ومن بعد ہم ائمہ مجتہدین و محدثین و علماء راسخین میں سے کسی نے تصریح نہیں کی۔ اس لئے اگر اس معنیٰ پر اجماعِ امت کا ادعاء کیا جائے تو بعید از صواب نہ ہو گا۔ چونکہ قیاس ہمیشہ مسائل غیر منصوصہ میں ہوتا ہے ا ور یہ مسئلہ کتاب و سنت میں منصوص ہے۔ اس لئے خلافِ قیاس بھی نہیں۔

تنقیح نمبر ۲
نبی کریم ﷺ تمام دنیا کو اپنی نظر مبارک سے ملاحظہ فرما رہے ہیں۔
قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا۔ (پ۲۲۔ سورۃ احزاب)
اس آیہ ٔ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ماسوا دیگر اوصافِ جمیلہ کے شاہد اور سراجِ منیر کی نورانی صفتوں سے اپنے حبیب ﷺ کو متصف قرار دیا ہے۔
شاہدًا کے معنیٰ حاضر و ناظر ہیں۔
مفرداتِ امام راغب اصفہانی ص ۲۶۹ پر ہے۔
الشھود والشھادۃ الحضور مع المشاھدۃ اما بالبصر او بالبصیرۃ
نبی کریم ﷺ بصر یا بصیرت کے ساتھ مشاہدہ فرماتے ہوئے حاضر ہیں۔
اب رہا یہ سوال کہ یہ کس چیز پر حاضر ہیں؟ اس کا جواب علامہ ابو السعود سے لیجئے۔ وہ فرماتے ہیں
(انا ارسلنٰک شاھدًا) علی من بعث الیھم تراقب احوالھم وتشاھد اعمالھم وتتحمل عنھم الشھادۃ بما صدر عنھم من التصدیق والتکذیب و سائر ما ھم علیہ من الھدٰی و الضلال وتؤدیھا یوم القیٰمۃ اداء مقبولا مالھم وما علیھم۔ (تفسیر ابو سعود جزء ۶ ص ۷۹۰)
اے نبی (ﷺ)! بے شک ہم نے بھیجا آپ کو شاہد (حاضر و ناظر) بنا کر ان سب پر جن کی طرف آپ رسول بنا کر بھیجے گئے۔ آپ ان کے احوال کی نگہبانی فرماتے ہیں اور ان کے اعمال کا مشاہدہ فرماتے ہیں یعنی ان سب کے کاموں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور آپ ان سے تحمل شہادت فرماتے ہیں یعنی ان کے گواہ بنتے ہیں ان تمام چیزوں پر جو ان سے صادر ہوئیں تصدیق سے اور تکذیب سے اور باقی ان تمام چیزوں سے جن پر وہ ہیں ہدایت اور گمراہی سے اور آپ اس شہادت کو ادا فرمائیں گے قیامت کے دن جو ادا ہوئی ہو گی ان تمام باتوں میں جو ان کے فائدے کے لئے ہوں گی اور ان تمام باتوں میں بھی جو ان کے نقصان کے لئے ہوں گی۔
بیضاوی شریف جلد ۲ ص ۱۹۷ مطبوعہ مصر میں ہے
(شاھدًا) علی من بعثت الیھم بتصدیقھم و تکذیبھم ونجاتھم و ضلالھم
مدارک التنزیل جلد ۳ ص ۲۳۵ پر ہے
(یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا) علی من بعثت الیھم بتکذیبھم وتصدیقھم
جلالین مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۲۵۳ پر ہے
شاھدًا علیٰ من ارسلت الیھم
جمل جلد ۳ ص ۴۴۲ پر ہے
قولہ علیٰ من ارسلت الیھم ای تترقب احوالھم وتشاھد اعمالھم و تتحمل الشھادۃ علیٰ ما صدر عنھم من التصدیق والتکذیب و سائر ما ھم علیہ من الھدیٰ والضلال تؤدیھا یوم القیٰمۃ اداء مقبولا فیما لھم وفیما علیھم
روح المعانی پارہ ۲۲ ص ۴۲ پر ہے
(یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا) علیٰ من بعثت الیھم تراقب احوالھم و تشاھد اعمالھم وتتحمل عنھم الشھادۃ بما صدر عنھم من التصدیق و التکذیب و سائر ماھم علیہ من الھدی والضلال وتؤدیھا یوم القیٰمۃ اداء مقبولا فیما لھم وما علیھم
اسی قسم کی عبارت تفسیر کبیر جلد ۶ ص ۷۸۸ پر ہے
تفاسیر کی عباراتِ منقولہ سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ حضور ﷺ ان سب پر حاضر و ناظر ہیں جن کی طرف آپ رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اب یہ عرض کرتا ہوں کہ کائنات میں سے کس کس کی طرف رسول بن کر تشریف لائے ہیں تو سنیئے۔
صحیح مسلم کی حدیث طویل میں وارد ہے۔ رسول اکرم ا نے ارشاد فرمایاہے
اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً یعنی میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
مسلم شریف جلد ۱ ص ۱۹۹ کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ، مشکوٰۃ کتاب الفتن باب فضائل سید المرسلین جلد ۲ ص ۲۰۷۔
عباراتِ مذکورہ کو حدیث شریف سے ملایئے اور یوں کہیے کہ
شَاھِدًا عَلٰی مَنْ اُرْسِلْتَ اِلَیْھِمْ وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً
حضور ﷺ ان تمام پر شاہد ہیں جن کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے اور وہ ساری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ لہٰذا ساری مخلوق پر شاہد اور حاضر و ناظر ہیں۔
اب لغت حدیث سے بھی اس مضمون کو ثابت کرتا ہوں۔ ملاحظہ فرمایئے مجمع بحار الانوار جلد ۲ ص ۲۲۰
وانا شھید ای اشھد علیکم باعمالکم فکانی باق معکم انا شھید علیٰ ھٰؤلاء ای اشفع واشھد بانھم بذلوا ارواحھم للّٰہ وفیہ ان تعدیہ ینا فیہ فمعناہ حفیظ علیھم اراقب احوالھم واصونھم من المکارہ۔
اور میں شہید ہوں یعنی میں تم پر تمہارے اعمال کی شہادت دوں گا۔ پس گویا میں تمہارے ساتھ باقی ہوں اور طبرانی میں
انا شھید علیٰ ھٰؤلاء وارد ہوا ہے۔ یعنی میں شفاعت کروں گا اور گواہی دوں گا اس بات کی کہ انہوں نے اپنی روحوں کو اللہ کے لئے خرچ کیا ہے۔ اور اس مقام میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ علیٰ ضرر کے لئے آتا ہے اور شہادت نفع کے لئے ہو گی۔ لہٰذا شہید کا علیٰ کے ساتھ متعدی ہونا اس معنیٰ کے منافی ہے۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ یہاں شہید معنیٰ میں رقیب کے ہے اور رقیب علیٰ کے ساتھ متعدی ہوتا ہے۔ لہٰذا اس حدیث کے معنیٰ یہ ہیں کہ میں ان پر رقیب یعنی نگہبان ہوں اور ان کے حالات کی نگہبانی فرماتا ہوں اور ان کو تکلیفوں سے بچاتا ہوں۔
نیز اسی جلد ۲ کے ص ۲۲۱ پر ہے
والشاھد من اسمائہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لانہ یشھد یوم القیٰمۃ للانبیاء علی الامم بالتبلیغ ویشھد علیٰ امتہ ویزکیھم اذھو بمعنی الشاھد للحال کأنہ الناظر الیھا
شاہد رسول اللہ ﷺ کے اسماء مبارکہ میں سے ہے۔ اس لئے حضور ﷺ قیامت کے دن انبیاء علیہم السلام کے لئے ان کی امتوں کے خلاف اس امر کی گواہی دیں گے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے تمام احکام اپنی امتوں کو پہنچا دئیے اور اپنی امت پر بھی گواہی دیں گے اور ان کا تزکیہ فرمائیں گے یعنی یہ ارشاد فرمائیں گے کہ میری امت جنہوں نے امم سابقہ پر گواہی دی ہے وہ گواہی دینے کے اہل ہیں اور ان سے کوئی عمل ایسا سرزد نہیں ہوا جو ان کی عدالت کے منافی ہے اور جس کی وجہ سے وہ گواہی کے اہل نہ رہیں۔ یا حضور کا شاہد ہونا شاہد للحال ہونے کے معنیٰ میں ہے یعنی نبی کریم ﷺ حال کا مشاہدہ فرما رہے ہیں اور گویا حضور اقدس ﷺ حال کی طرف ناظر ہیں اور اپنی ظاہری آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہے ہیں یعنی حضور ﷺ کا نظر بصیرت سے دیکھنا گویا کہ نظر بصر سے دیکھنا ہے۔
پس واضح ہو گیا کہ نبی کریم ﷺ تمام دنیا نہیں بلکہ تمام مخلوقات پر حاضر ہیں اور ان کو اپنی بصر یا بصیرت سے دیکھتے ہیں۔
حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ حاشیہ اخبار الاخیار ص ۱۵۵ پر اپنے مکتوبات شریف میں ارقام فرماتے ہیں
وبا چندیں اختلافات و کثرتِ مذاہب کہ در علماء امت است کہ یک کس را دریں مسئلہ خلافے نیست کہ آنحضرت ﷺ بحقیقتِ حیات بے شائبہ مجاز و توہم تاویل دائم و باقی است و بر اعمالِ امت حاضر و ناظر و مر طالبانِ حقیقت را و متو جہانِ آں حضرت را مفیض و مربی است
اور باوجود اس قدر اختلافات اور بکثرت مذاہب کے جو علماء امت میں ہیں ایک شخص کو بھی اس مسئلہ میں اختلاف نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ بغیر شائبہ مجاز اور بلا توہم تاویل حقیقت حیات کے ساتھ دائم و باقی ہیں اور اعمالِ امت پر حاضر و ناظر ہیں اور طالبانِ حقیقت اور اپنی طرف متوجہ ہونے والوں کو فیض پہنچاتے ہیں اور ان کی تربیت فرماتے ہیں۔
عالم امر کے زمان و مکان کی قیود سے پاک ہونے پر دلیل یہ ہے کہ ملک الموت علیہ السلام پر جو عالم امر سے ہیں، آن واحد میں ہزاروں ارواح کو قبض کرتے اور امکنہ متعددہ میں تشریف فرما ہوتے ہیں، مسلمات سے ہے۔ اگر عالم امر کے لئے قیود زمان و مکان کو تسلیم کیا جائے تو ملک الموت علیہ السلام کا آن واحد میں بے شمار روحوں کو قبض کرنا اور مقامات کثیرہ پر تشریف فرما ہونا کیوں کر ممکن ہو گا۔ روح المعانی کی عبارت نقل ہو چکی ہے کہ جبریل علیہ السلام جب بصورت دحیہ کلبی وغیرہ حاضر بارگاہِ نبوت ہوتے تھے تو سدرۃ المنتہیٰ سے جدا نہ ہوتے تھے۔ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب شمائم امدایہ میں فرماتے ہیں
البتہ وقت قیام کے اعتقاد تولد کا نہ کرنا چاہئے۔ اگر احتمال تشریف آوری کا کیا جائے، مضائقہ نہیں۔ کیونکہ عالم خلق مقید بزمان و مکان ہے لیکن عالم امر دونوں سے پاک ہے۔ پس قدم رنجہ فرمانا ذاتِ با برکات کا بعید نہیں۔ (شمائم امدادیہ مصدقہ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی مطبوعہ قومی پریس لکھنؤ)
قَدْجَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ میں نور سے صرف ہدایت مراد لینا کتاب اللہ کے مطلق کو مقید کرنا ہے۔ اصول کا مسلمہ مسئلہ ہے کہ کتاب اللہ کا مطلق خبر واحد سے بھی مقید نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ محض اپنے گمان سے تقیید کر لی جائے۔
دعویٰ یہ ہے کہ
قَدْجَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ کے معنی یہ ہیں کہ نبی ﷺ نورِ مطلق بن کر تشریف لائے یعنی حضور ایسا نور ہیں کہ جس کے ساتھ کوئی قید نہیں اور اس کا مفاد یہ ہے کہ حضور ﷺ علی الاطلاق نور ہیں، ہدایت کا نور، علم کا نور، ایمان کا نور، جسم کا نور، جان کا نور، زمین کا نور، آسمان کا نور غرض تمام نوروں کا نور حضور کی ذات پاک ہے۔ اس مقام پر ہدایت کی قید لگا کر باقی انواع کا انکار کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔ ملاحظہ فرمایئے صاحب روح المعانی اسی آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں
قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ عَظِیْمٌ وَّھُوَ نُوْرُ الْاَنْوَارِ وَالنَّبِیُّ الْمُخْتَارُ
جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ حضور ﷺ نور عظیم ہیں اور صرف ہدایت کا نور نہیں بلکہ آپ نور الانوار ہیں یعنی تمام نوروں کا نور ہیں اور وہ نوروں کا نور حضور ﷺ کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں بلکہ بنفس نفیس خود نبی مختار ﷺ ہی تمام نوروں کا نور ہیں۔(روح المعانی پ ۶ ص ۸۷ مطبوعہ مصر)
یہ اعتراض کہ اگر نور سے حقیقی اور جسمانی نور مراد ہے تو قرآن و توریت کو بھی حقیقی اور جسمانی نور سمجھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا (پ۶) اور اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَاۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّ نُوْرٌ (پ۶) اور اگرحضور علیہ الصلٰوۃ والسلام واقعی جسمانی اور حقیقی نور ہیں تو بخاری شریف کی اس حدیث کا کیا جواب ہو گا جس میں صاف وارد ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رات کی تاریکی میں اندھیرے حجرے میں سوئی ہوتی تھیں اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نماز پڑھتے ہوتے تھے اور تاریکی کی وجہ سے حضرت عائشہ کو حضور کی نقل و حرکت کا پتہ نہ چلتا تھا اور اس وجہ سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سجدہ میں جاتے وقت حضرت عائشہ کے پاؤں کو دبا دیتے تھے، جس کی وجہ سے حضرت عائشہ اپنے پاؤں ہٹا لیتی تھیں پھر حضور سجدہ فرماتے تھے۔ اگر حضور نور تھے تو حضور کے گھر میں اندھیرا کیوں رہتا تھا؟
اس کے علاوہ یہ کہ جب حضور ﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں اور نور ہیں تو کسی جگہ بھی اندھیرا نہ ہونا چاہئے۔ کیوں کہ جس جگہ نور حاضر ہو وہاں اندھیرے کا کیا کام؟ اب آپ کے لئے ایک ہی صورت ہے یا حضور کو نور کہہ لیجئے، حاضر و ناظر ہونے کا نام نہ لیجئے یا حاضر و ناظر ہی مان لیجئے اور نور ہونے کا تذکرہ نہ فرمایئے۔ کیوں کہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا تاریکی کے منافی ہے۔ نیز اس مسلک پر یہ اعتراض بھی وارد ہوتا ہے کہ حضور نور ہو کر ہر جگہ ہر وقت ہر شخص کو نظر آنے چاہئیں لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ پھر یہ دعویٰ کیونکر تسلیم کیا جائے؟ اگر حضور جسمانی طور پر بھی نور ہوتے تو حضور کی اولاد بھی نور ہوتی۔ کیوں کہ ہر ایک کی اولاد اس کی جنس سے ہوتی ہے لیکن ظاہر ہے ساداتِ کرام عام انسانوں کی طرح بشر ہیں، نور نہیں! معلوم ہوا کہ حضور عام انسانوں کی طرح بشر ہیں۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ حضور ﷺ کو بھوک، پیاس، راحت و آرام، تکلیف و مشقت، صحت و مرض حتیٰ کہ زخم اور خون بہنے کے عوارض بھی لاحق ہوئے۔ یہ سب حالات نورانیت کی تردید کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں حضور کو بشریت سے نکال کر نورانیت کی طرف لے جانا حضور کی شان میں گستاخی ہے۔ اس لئے کہ بشر کا مرتبہ نور سے زائد ہے۔ تمام نوری مخلوق حضور ﷺ سے کم مرتبہ رکھتی ہے۔ اگر حضو کو نور کہا جائے تو آقا کو ماتحت اور سردار کو غلام بنانے کے مترادف ہو گا۔ اس لئے حضور ﷺ محض نورِ ہدایت ہیں۔ بایں معنیٰ کہ حضور کا کام صرف اتنا ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ کا راستہ دکھا دیں۔ یہ ہدایت کرنے کی صفت حضور کو بشریت سے مستثنیٰ کر کے نور نہیں بنا سکتی اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ ہر ہدایت کرنے والا جو نور ہدایت سے متصف ہے، وہ بشر نہیں اور ترمذی کی حدیث سے یہ ثابت کرنا کہ حضور نور تھے صحیح نہیں۔ کیونکہ اس حدیث میں تو صرف نور ہونے کی دعا مذکور ہے، نہ یہ کہ حضور نور ہیں۔ یہ دعا تو اس امر کی روشن دلیل ہے کہ کم از کم دعا کرتے وقت تو حضور نور نہ تھے ورنہ دعا کی حاجت ہی کیا تھی؟
یہ اعتراض کہ قرآن و حدیث کو بھی نور کہا گیا ہے، لہٰذا وہاں بھی نور کے وہی معنی لیجئے جو آیہ ٔ کریمہ
قَدْجَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ میں مراد لئے ہیں۔ ایک خوبصورت مغالطہ ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ قرآن و توریت کا نور ہونا مسلم ہے لیکن یاد رکھئے کہ تمام کتب سماویہ پیغاماتِ الٰہیہ ہونے کی حیثیت سے ذوات و اعیان نہیں بلکہ محض معانی ہیں۔ اس لئے امر بالکل ظاہر ہے کہ ان کی نورانیت معانی سے متجاوز ہو کر ذوات و اعیان کی حدود میں نہیں آسکتی، لہٰذا وہاں نورِ ہدایت ہی مراد ہو سکتا ہے۔ اگر وہاں نور کے مفہوم کو اعیان و معانی کے لئے عام کر دیا جائے تو قرآن و توریت معنیٰ کے بجائے ذوات و اعیان قرار پائیں گے جو بداہتہً باطل ہے۔البتہ حضور نبی کریم ﷺ اعیان و معانی دونوں کے جامع ہیں۔ کیونکہ حضور اقدس ﷺ کی ذاتِ اقدس بھی ہے اور حضور کے صفات بھی ہیں۔ ذات عین ہوتی ہے اور صفت معنیٰ لہٰذا حضور ﷺ کا نور بھی اعیان و معانی دونوں کا جامع ہو گا۔
رہا یہ اعتراض کہ اگر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام جسمانی نور بھی ہیں تو حضرت عائشہ صدیقہ کے حجرے میں اندھیرا کیوں رہتا تھا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جسمانی نور کے لئے یہ ہرگز لازم نہیں کہ جہاں اس کا وجود ہو وہاں حس بصری سے محسوس ہونے والا اجالا بھی ضرور پایا جائے۔ حضرت عائشہ صدیقہ کے حجرے میں حضور ﷺ کے تشریف فرما ہونے کے وقت کراماً کاتبین بھی یقینا موجود ہوتے تھے اور ان کے جسمانی نور ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔ حدیث شریف میں وارد ہے
خُلِقَتِ الْمَلَائِکَۃُ مِنَ النُّوْرِ (اخرجہ مسلم) (بیضاوی شریف ص ۶۴ مطبوعہ مجتبائی دہلی) لیکن اس کے باوجود کہ ملائکہ کرام جسمانی نورانیت رکھتے ہوئے حضرت عائشہ صدیقہ کے حجرے میں موجود ہیں پھر بھی ظاہری آنکھوں سے نظر آنے والا اجالا نہیں ہوا اور اندھیرا ہی رہا۔ اب یا تو ملائکہ کی نورانیت جسمانیہ کا انکار کیجئے یا اعتراض کو غلط سمجھئے۔
حقیقت یہ ہے کہ نور کے ادراک کے لئے اس کے شایانِ شان نور کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی نور کا ادراک اس وقت تک ناممکن ہے جب تک ادراک کرنے والے میں اس نور کے ادراک کرنے کے قابل نور نہ پایا جائے۔ دیکھئے ایک نابینا آفتاب و ماہتاب کے نور کا ادراک نہیں کر سکتا۔ اس لئے کہ نابینا نور بصر سے محروم ہے بالکل اسی طرح ملائکہ کے نور کا ادراک اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کسی شخص کے اندر نور ملکیت علی وجہ الکمال نہ پایا جائے۔ ادراک کے معنیٰ احاطہ کے ہیں جو چیز جتنی زیادہ لطیف ہو گی اسی قدر احاطہ سے بعید ہو گی۔ کسی لطیف شے کے عدم ادراک کی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ ادراک کرنے والے کے اندر وہ لطیف نور ہی موجود نہیں جو اس لطیف شے کا ادراک کر سکے۔ ملائکہ کا نور آفتاب و ماہتاب کے نور سے زیادہ لطیف ہے اور حضور ﷺ کا نور مبارک ملائکہ بلکہ جمیع انوار لطیف سے لطیف بلکہ الطف ہے۔ جب ہماری آنکھوں کا نور ملائکہ کے نور کو ادراک کرنے سے بھی عاجز ہے تو رسول اللہ ﷺ کے نور مبارک کا ادراک کیونکر کر سکتا ہے؟ ہمارے اس عدم ادراک کو آپ رسول اللہ ﷺ کی عدم نورانیت کی دلیل قرار دے رہے ہیں حالانکہ یہ خود آپ کے بے نور ہونے کی دلیل ہے! لطیف کی لطافت جتنی زیادہ ہو گی وہ اسی قدر ادراک سے بالا تر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی لطافت تمام لطافتوں سے بالا تر ہے۔ اس لئے وہ ادراک (احاطہ) کی قید سے پاک ہے۔
قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ o گویا اللہ تعالیٰ کا لطیف ہونا اس کے غیر مدرک ہونے کی دلیل ہے۔
اگر حضور ﷺ کو لباسِ بشریت نہ پہنایا جاتا تو کسی فرد بشر کے لئے حضور ﷺ کا ادراک ممکن نہ ہوتا۔ کیوں کہ لطیف کا ادراک کثیف کے لئے خلافِ عادت ہے۔ مگر اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ خرقِ عادت پر بھی قدرت رکھتا ہے اور اسی کی قدرت سے بسا اوقات حضور ﷺ کا جسمانی نور لطیف اس عالم اجسام کثیفہ میں ظاہر ہوا اور دیکھنے والوں نے بطور خرق عادت اپنی آنکھوں سے دیکھا، جس کا بیان بکثرت احادیث مبارکہ میں وارد ہوا ہے۔
بعینہٖ یہی جواب اس دوسرے اعتراض کا ہے کہ اگر حضور باوجود نور ہونے کے ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں تو پھر کسی جگہ بھی اندھیرا نہ ہونا چاہئے۔ یہ سب اعتراضات ہمارے مسلک سے نافہمی سے پیدا ہوتے ہیں۔
ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کو حضور کی جسمانیت اور بشریت مطہرہ کے ساتھ حاضر و ناظر نہیں مانتے بلکہ حضور کی حقیقت مقدسہ کو ذاتِ کائنات میں جاری و ساری مانتے ہوئے روحانی طور پر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو حاضر و ناظر سمجھتے ہیں۔

تنقیح نمبر ۳
مقاماتِ کثیرہ اور امکنہ متعددہ میں حضور ﷺ کا تشریف فرما ہونا نہ صرف ممکن بلکہ امر واقع ہے۔ بخاری شریف جلد ۲ کتاب التعبیر ص ۱۰۳۵ مطبوعہ اصح المطابع
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ مَنْ رَاٰنِیْ فِی الْمَنَامِ فَسَیَرَانِیْ فِی الْیَقْظَۃِ وَلَا یَتَمَثَّلُ الشَّیْطَانُ بِیْ۔ ایضا مسلم شریف جلد ۲ کتاب الرؤیا ص ۲۴۲ مطبوعہ نول کشور۔ ایضا ابو داؤد کتاب الادب باب الرؤیا ص ۳۲۹ جلد ۲ مطبوعہ نول کشور
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے سنا حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے بیداری میں دیکھے گا اور شیطان میرا ہم شکل نہیں ہو سکتا۔
حدیث شریف کے معنیٰ بالکل واضح ہیں کہ حضور سید عالم ﷺ صاف ارشاد فرما رہے ہیں کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے بیداری میں دیکھے گا اور حدیث میں یہ اشکال ہے کہ فی الواقع ایسا نہیں ہوتا کہ ہر وہ شخص جس نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا ہو وہ بیداری میں بھی حضور کو دیکھ لے۔
اس کے متعدد جوابات دئیے گئے ہیں لیکن محققین کے نزدیک صرف ایک ہی جواب ایسا ہے جو نہایت ہی واضح اور شکوک و شبہات سے پاک ہے اور وہ جواب ساداتِ صوفیہ رضی اللہ عنہ نے دیا ہے۔ جس کو شیخ شنوانی نے پسند فرمایا ہے۔ حاشیہ الشیخ محمد الشنوانی علیٰ مختصر ابن ابی جمرہ مطبوعہ مصر ص ۵۳۷ پر ہے
وقال الساداۃ الصوفیۃ یراہ یقظۃً فی دار الدنیا فالمعنیٰ حینئذان من رَاٰہُ منا ما کان مشتاقا واشتد شوقہ رَاٰہُ فی الیقظۃ کما وقع لکثیر من الاولیاء منھم الشیخ ابو العباس المرسی قال لو احتجبت عنہ ا طرفۃ عین ما عددت نفسی من المسلمین وکذالک سیدی ابراھیم المتبولی کان ینظر النبی ا یقظۃ و کذالک الشیخ السحیمی و شیخنا البرادی نفعنا اللّٰہ بالجمیع
اور سادات صوفیہ نے فرمایا کہ حضور ﷺ کو خواب میں دیکھنے والا دار دنیا میں بحالت بیداری حضور ﷺ کو دیکھتا ہے اس وقت حدیث کے معنیٰ یہ ہوں گے جس نے رسول اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھا اور وہ حضور کو بیداری میں دیکھنے کا مشتاق ہو گیا اور اس کا یہ شوق حد سے متجاوز ہو گیا تو وہ حضور ﷺ کو بیداری میں ضرور دیکھ لے گا۔ جیسا اکثر اولیاء کرام کے لئے واقع ہوا۔ ان میں شیخ ابو العباس مرسی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں پلک جھپکنے کی مقدار بھی حضور ﷺ سے اوجھل ہو جاؤں تو میں اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار نہ کروں اور اسی طرح سیدی ابراہیم متبولی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کو بیداری میں دیکھتے تھے اور اسی طرح شیخ سحیمی اور ہمارے شیخ برادی رضی اللہ عنہ یہ سب حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا جمال مبارک جاگتے ہوئے کھلم کھلا دیکھا کرتے تھے۔
روح المعانی پارہ ۲۲ ص ۳۲ پر اسی حدیث کے متعلق صاحب روح المعانی امام ابو محمد ابن ابی جمرہ کا قول نقل فرماتے ہیں
ھذا الحدیث یدل علیٰ ان من یراہ ا فی النوم فسیراہ فی الیقظۃ وھل ھذا علیٰ عمومہٖ فی حیوٰتہ و بعد مماتہ علیہ الصلٰوۃ والسلام او ھٰذا کان فی حیوٰتہ وھل ذالک لکل من راہ مطلقا او خاص بمن فیہ الاھلیۃ والاتباع لسنۃ علیہ الصلٰوۃ والسلاماللفظ یعطی العموم ومن یدعی الخصوص فیہ بغیر مخصص منہ ا فمتعسف واطال الکلام فی ذلک ثم قال وقد ذکر عن السلف والخلف ھلم جرًا من کانوا رأوہ ا فی النوم وکانوا ممن یصدقون بھذا الحدیث فرأوہ بعد ذلک فی الیقظۃ و سألواہ عن اشیاء وکانوا منھا متشوشین فاخبرھم بتفریجھا ونص لھم علی الوجوہ التی منھا یکون فرجھا فجاء الامر کذالک بلا زیادۃ ولا نقص انتھی المراد منہ
یہ حدیث
مَنْ رَآنِیْ فِی الْمَنَامِ فَسَیَرَانِیْ فِی الْیَقْظَۃِ دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ جس نے حضور ﷺ کوخواب میں دیکھا وہ عنقریب حضور ﷺ کو بیداری میں دیکھ لے گا۔ رہا یہ سوال کہ یہ حدیث اپنے عموم پر ہے۔ حضور کی حیاتِ ظاہری اور وفاتِ اقدس کے بعد یا یہ حیات ظاہری کے ساتھ مخصوص ہے۔ نیز یہ سوال کہ یہ ہر اس شخص کے لئے ہے جس نے حضور کو دیکھا، مطلقاً یا خاص ہے ان لوگوں کے ساتھ جن میں اہلیت اور اتباع سنت کا وصف پایا جاتا ہے تو ان دونوں سوالوں کا جواب یہ ہے کہ الفاظِ حدیث تو عموم (۱) ہی کا فائدہ دیتے ہیں اور جو شخص حضور کی تخصیص کے بغیر اپنی طرف سے خود بخود تخصیص کا دعویٰ کرے وہ متعصب ہے اور امام موصوف نے اس کے متعلق کلام طویل فرما کر ارشاد فرمایا ہے کہ سلف سے لے کر خلف تک چلے آیئے۔ ان میں سے جو لوگ بھی نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھتے تھے، انہوں نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھنے کے بعد بیداری میں دیکھا اور حضور ﷺ سے ایسی چیزوں کے متعلق سوال کیا جن میں وہ متردد تھے تو حضور ﷺ نے ان اشیاء میں تردد سے کشادگی کی خبر دی اور ان کے لئے ایسی وجوہ کی تصریح فرما دی جن سے وہ متردد فی امور بالکل کشادہ ہو جائیں اور پھر حضور کے فرمان کے مطابق بلا کم و کاست اسی طرح وہ امور واقع ہوئے۔
نبی کریم ﷺ کے بیداری میں تشریف فرما ہونے اور اپنے غلاموں کو اپنے لطف و کرم سے مستفید فرمانے پر اکابر علماء امت اور علماء محققین کی اتنی تصریحات موجود ہیں کہ ان تمام کو نقل کرنے کے لئے یہ مختصر وقت کسی طرح مکتفی نہیں ہو سکتا۔ مشتے نمونہ از خروارے چند عبارات پیش کرتا ہوں۔
روح المعانی پارہ ۲۲ ص ۳۳ پر ہے
فقد وقعت رؤیتہ ا بعد وفاتہ بغیر واحد من الکاملین من ھذہ الامۃ والاخذ منہ یقظۃ کما قال الشیخ سراج الدین بن الملقن فی طبقات الاولیاء الیٰ اخرہ
بے شک نبی کریم ﷺ کا دیکھنا آپ کی وفات کے بعد اور بیداری میں حضور سے فیض لینا امت محمدیہ کے بکثرت کاملین کے لئے واقع ہوا ہے۔ جیسا کہ شیخ سراج دین بن الملقن نے طبقات الاولیاء میں فرمایا ہے
اس عبارت کے بعد صاحب روح المعانی نے شیخ سراج دین رحمۃ اللہ علیہ کی نقول پیش کرتے ہوئے حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کا مفصل واقعہ بیان کیا ہے، جس میں صاف صاف مذکور ہے کہ نبی کریم ﷺ اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم ظاہر و باہر تشریف لائے اور حضرت غوث پاک رضی اللہ عنہ کے دہن مبارک میں اپنا مقدس لعاب دہن ڈالا اور وہ فیض پہنچایا جس کی مثال نہیں مل سکتی۔ پھر شیخ خلیفہ بن موسیٰ رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل فرمایا
کان کثیر الرؤیۃ لرسول اللّٰہ علیہ الصلٰوۃ والسلام یقظۃ ومناماً
حضرت شیخ خلیفہ بن موسیٰ رضی اللہ عنہ سوتے جاگتے حضور ﷺ کو بہت کثرت سے دیکھنے والے تھے۔

اگلا صفحہ
 

ہوم پیج