مقام حیرت

تعجب ہے کہ صاحب فتح الملہم نے اس مقام پر ہماری پیش کردہ عبارت فاذا الحبیب فی حرم الحبیب حاضر کو نقل کرنے کے باوجود حضور ﷺ کے حاضر ہونے کا انکار کیا ہے اور نماز میں الفاظِ تشہد اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کے صیغِ خطاب کی توجیہ میں کہا ہے کہ یہاں الفاظِ خطاب کا استعمال ایسا ہے جیسے کسی بعید غائب مکتوب الیہ کے لئے خطوط میں خطاب کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ خط لکھتے وقت ہم اس کی موجودگی فرض کرلیتے ہیں اور ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہمارا یہ خط اسے ضرور مل جائے گا حالانکہ وہ اس وقت ہمارے سامنے موجود نہیں ہوتا۔ (فتح الملہم جلد ثانی ص ۴۲)
العیاذ باللہ: حضور سید عالم ﷺ کو ایک عامی، بعید غائب، مکتوب الیہ پر قیاس کرنا اور بارگاہِ رسالت کے تحفہ سلام کو عوام الناس کے سلام و پیام کی طرح ٹھہرانا، پھر دربارِ نبوت میں ہمارا سلام پہنچنے کے یقین کو ایک عامی مجہول بعید غائب مکتوب الیہ تک خط پہنچنے کے یقین کی مثل قرار دینا، مذہبی بصیرت کی روشنی میں انتہائی کور باطنی، شقاوتِ قلبی اور محروم القسمتی کا نشان ہے۔
دِل لرز جاتا ہے جب اس خوف ناک تشبیہ کو پڑھتے وقت علمایٔ راسخین کی عبارات منقولہ بالا کی روشنی میں حضور سید عالم ﷺ کی حقیقتِ مقدسہ کا تمام ذراتِ کائنات میں جاری و ساری ہونا اور حرمِ حبیب میں حبیب کا حاضر ہونا یاد آتا ہے۔
اس باطل توجیہ کے قائلین سے میں دریافت کرتا ہو ں کہ بتایئے آج تک کسی معتمد عالمِ دین نے یہ توجیہ کی ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی تصریح موجود ہو تو پیش کیجئے ورنہ اس کے بطلان کو تسلیم کرکے حق کی طرف رجوع فرمایئے۔
پھر ان قائلین سے پوچھتا ہوں کہ آپ جو حضور ﷺ کے سلام کو بعید غائب مکتوب الیہ کے سلام پر قیاس کر رہے ہیں۔ کیا دونوں میں کوئی علت جامعہ موجود ہے؟ کیا بعید غائب مکتوب الیہ کی حقیقت معاذ اللہ حقیقتِ محمدیہ کی طرح حقائق کائنات میں جاری و ساری ہے؟
آپ لوگ بعید غائب مکتوب الیہ تک اپنا خط پہنچنے کو یقینی فرما رہے ہیں۔ اس یقین کے لئے آپ کے پاس کونسی دلیل ہے؟ بسا اوقات قاصد ہمارا خط مکتوب الیہ تک نہیں پہنچاتا، کبھی خط پہنچنے سے پہلے قاصد مرجاتا ہے۔ بسا اوقات خط وصول ہونے سے قبل مکتوب الیہ فوت ہوجاتا ہے، کبھی ہمارے خطوط ضائع بھی ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں یقین کا دعویٰ کس قدر مضحکہ خیز ہے؟ پھر ایسے مضحکہ خیز یقین کو ایسے بلند مقام پر پہنچانا کہ بارگاہِ نبوت میں نمازیوں کے سلام پہنچنے کے یقین کو معاذ اللہ اس کی مثل قرار دے دینا مولوی شبیر احمد صاحب دیوبندی ہی سے متصور ہوسکتا ہے۔ اہل بصیرت مسلمان تو اس قول کو بارگاہِ نبوت سے دوری اور محجوبی کی دلیل سمجھتا ہے۔
اس کے بعد اسی سلامِ تشہد کی بحث میں صاحب فتح الملہم نے عرف شذی سے ایک قول نقل کیا ہے جو علم و عقل، انصاف و دیانت کی روشنی میں صاحب فتح الملہم کے قول سے بھی گیا گزرا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ الفاظِ خطاب زبانِ عرب میں مخاطب کی خیالی صورت کو ذہن میں حاضر کرنے کیلئے (وضع کئے گئے) ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ مخاطب کو اس کا علم ہو۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ انور شاہ صاحب کی اس غلطی کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے خطاب و نداء کے عام استعمالات کو بالکل سطحی نظر سے دیکھا۔ غور و فکر سے کام لینے کی کوشش نہ کی۔
درحقیقت خطاب و حضور کے صیغوں اور نداء کے الفاظ کا استعمال د وطریقوں سے ہوتا ہے۔ ایک اصل کے مطابق دوسرے خلافِ اصل، کسی استعمال کو اصل کے مطابق قرار دینے کیلئے دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اصل محتاج دلیل نہیں اور خلافِ اصل قرار دینا محتاجِ دلیل ہوتا ہے اس لئے کہ عدول عن الاصل بغیر دلیل کے جائز نہیں۔
مخاطب میں اصل یہ ہے کہ وہ حاضر ہو۔ علم صرف پڑھنے والے مبتدی بھی جانتے ہیں کہ اصل ابحاث صرف میں خطاب و غیبت کے صیغوں کو حاضر و غیب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ البتہ بعض اوقات غیر مخاطب کو بمنزلہ مخاطب اور غائب کو بمنزلہ حاضر نازل کرکے حاضر و مخاطب کے صیغے استعمال کئے جاتے ہیں مگر یہ استعمال بداہۃً خلافِ اصل اور محتاجِ دلیل ہے اس لئے انور شاہ صاحب کا فرض تھا کہ وہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ میں الفاظ خطاب کے استعمال کو خلافِ اصل ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل قائم کرتے لیکن الحمدللّٰہ! وہ اقامتِ برہان سے عاجز رہے اور ان شاء اللہ العزیز ان کے اذناب و اتباع بھی عاجز رہیں گے، تو اچھی طرح واضح ہوگیا کہ سلام تشہد میں الفاظِ خطاب کا استعمال اصل کے مطابق ہے اور حضور نبی کریم ﷺ جو سلام تشہد میں ہمارے مخاطب ہیں، فی الواقع حاضر و موجود اور حرم حبیب میں جلوہ گر ہیں جب وہ تشریف فرما ہیں تو ناممکن ہے کہ ہمارے خطاب و نداء سے بے خبر رہیں۔
پھر یہ کہ جس طرح خطاب میں اصل حضور ہے بالکل اسی طرح نداء میں منادیٰ کو بلانا اور اپنی پکار سناکر اسے اپنی طرف متوجہ کرنا اصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایسی چیزوں کو ندا کی جاتی ہے جن میںمنادیٰ ہونے کی صلاحیت نہیں ہوتی تو پہلے انہیں صلاحیتِ نداء رکھنے والی چیزوں کے منزلہ میں نازل کیا جاتا ہے اس کے بعد حرفِ نداء ان پر داخل کرتے ہیں جیسے یا جبال، یا ارض، یا ظبیات القاع کہ انہیں پکارنے والے کی طرف متوجہ ہونے کی صلاحیت رکھنے والے کے منزل میں نازل کرنے کے بعد نداء کی گئی ہے جیسا کہ شرح ملاجامی میں بالتفصیل مرقوم ہے۔
ثابت ہوا کہ منادیٰ میں پکارنے والے کی پکار کو سننے اور متوجہ ہونے کی صلاحیت نہ رکھنا خلاف اصل ہے۔ اور خلافِ اصل ہمیشہ محتاج دلیل ہوتا ہے اس لئے یا جبال یا ارض، یا ظبیات القاع وغیرہا اس قسم کی تمام مثالوں میں منادیٰ کا پکارنے والے کی نداء سے بے خبر رہنا اور اس کی طرف متوجہ نہ ہونا خلاف اصل ہے جس پر ان کا ظاہر حال دلیل ہے کہ بالبداہت ان میں جاننے،سننے اور متوجہ ہونے کی صلاحیت موجود نہیں۔
ناظرین کرام غور فرمائیں کیا مٹی، پتھر کی طرح معاذاللہ حضور ﷺ کی ذاتِ مقدسہ سے بھی علم و ادراک اور متوجہ ہونے کی صلاحیت کی نفی ہوسکتی ہے۔ کیا کسی ذی ہوش کے نزدیک معاذ اللہ حضور ﷺ کا ظاہر حال بھی مٹی پتھر اور جنگل کے ہرنوں جیسا ہوسکتا ہے۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کا قیاس یا جبال، یا ارض اور یا ظبیات القاع پر کیسے صحیح ہوا؟ اور سلام تشہد میں الفاظِ خطاب کے خلاف اصل استعمال پر کونسی دلیل قائم ہوئی، جب کوئی دلیل خلافِ اصل استعمال پر قائم نہ ہوسکی تو ثابت ہوگیا کہ یہاں الفاظ خطاب و ندا کا استعمال عین اصل کے مطابق ہے اور ان الفاظ کی تعلیم میں یہی حکمت ہے کہ حضور ﷺ حرم حبیب میں حاضر ہیں اور سلام عرض کرنے والوں کی طرف ضرور متوجہ ہوتے ہیں۔ وللّٰہ الحمد۔
رہا یہ امر کہ انور شاہ صاحب نے عرف شذی میں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کی مثال میں واجبلاہ، واویلاہ اور یازیداہ کو پیش کیا ہے تو اس کے جواب میں صرف اتنا عرض کردینا کافی ہے کہ شاہ صاحب کو یہ شورو فغاں اور واویلاہ کی ضرورت صرف اس لئے پیش آئی کہ اسی مقام پر علماء عارفین فاذا الحبیب فی حرم الحبیب حاضر فرماچکے ہیں جو شاہ صاحب کے لئے ایک مصیبت عظمیٰ ہے اور مصیبت کے وقت ہر شخص گریہ و زاری کے ساتھ واویلاہ پکارا کرتا ہے۔ اس لئے شاہ صاحب کی زبان پر بھی بے ساختہ واویلا جاری ہوگیا اور شدت آہ و بکا میں انہیں اتنی بات بھی یاد نہ رہی کہ ان تینوں مثالوں میں ندبہ ہے ندا نہیں۔ وہ یہ بھی بھول گئے کہ ندا کے معنی ہیں پکارنا اور ندبہ کے معنی ہیں رونا، چلانا اور وہ شدت الم میں یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ یا زیداہ میں حرف یا بمعنی وا ہے اور وا رونے چلانے کے وقت صرف آواز بلند کرنے کے بولا جاتا ہے، اس سے ندا مقصود نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح محبت محبوب کے عیب کی طرف سے اندھا اور بہرا کردیتی ہے ۔ اسی طرح بغض بھی مبغوض کے حسن و جمال کی طرف سے اندھا اور بہرا بنادیتا ہے۔
کیا کسی اہل ایمان کے تصور میں بھی یہ بات آسکتی ہے کہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ میں جس طرح خطاب اور ندا کے الفاظ مستعمل ہیں معاذ اللہ اسی طرح واجبلاہ اور واویلاہ اور یازیداہ میں بھی ندبہ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔

بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبی است

اس بحث میں ہمارے مخالفین یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضور ﷺ کی حیات ظاہری میں التحیات میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ پڑھا کرتے تھے، جب حضور سید عالم ﷺ کا وصال ہوگیا تو ہم اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ پڑھنے لگے۔ اس روایت سے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ حاضر و ناظر نہیں ورنہ بعد الوفات بھی خطاب کا صیغہ باقی رہتا۔


اس اعتراض کے چند جواب ہیں۔
اول یہ کہ اگر ہم یہ تسلیم کرلیں کہ بعد الوفاۃ صیغہ خطاب اس لئے باقی نہیں رہا کہ حضور ﷺ حاضر و ناظر نہیں تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی ظاہری حیات میں جب کہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ پڑھا جاتا تھا معترض بتائے کہ حاضر وناظر تھے یا نہیں؟ برتقدیر اول معترض خود اپنے قول سے مشرک قرار پائے گا، اس لئے کہ جب حضور کا حاضر و ناظر ہونا شرک ہے تو وہ حیات ظاہری میں بھی شرک ہوگا کیونکہ شرک کسی صورت میں بھی توحید نہیں ہوسکتا اور بر تقدیرِ ثانی صیغہ خطاب کو بدلنا بے فائدہ ہوگا کیونکہ صیغہ خطاب بزعمِ معترض جس طرح حضور ﷺ کی حیات ظاہری میں حضور کے حاضر و ناظر ہونے پر دلالت نہیں کرتا اسی طرح حضور ﷺ کی حیاتِ ظاہری کے بعد بھی حاضر و ناظر کے معنی پر دلالت نہ ہوگی۔ پھر خطاب سے غیب کی طرف عدول کرنے کا کیا فائدہ ؟ ثابت ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کی روایت کا یہ مطلب ہی نہیں کہ ہم نے حضور ﷺ کی وفات کے بعد اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ چھوڑ دیا تھا بلکہ اس کے معنی وہی ہیں جو محققین نے بیان کئے ہیں اور ان شاء اللہ العزیز ہم آگے چل کر ان کی تفصیل عرض کریں گے۔
دوم یہ کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کے یہ معنی کہ ہم حضور ﷺ کی حیات میں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کہا کرتے تھے، حضورﷺ کی وفات کے بعد ہم نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّکی بجائے اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ کہنا شروع کردیا انتہائی مضحکہ خیز ہیں اور عقل و درایت کی روشنی میں قطعاً ناقابلِ قبول! اس لئے کہ حسبِ زعم مخالف اس کی وجہ یہی ہے کہ بعد الوفاۃ جب حضور ﷺ امت سے غائب ہوگئے تو خطاب کا محل باقی نہ رہا۔ غائب کو حاضر کے صیغہ سے مخاطب کرنا درست نہیں۔ لہٰذا صحابہ کرام نے خطاب کو چھوڑ کر غیب کا عنوان اختیار کرلیا۔
میں عرض کروں گا کہ اگر
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ میں خطاب و نداء کے معنی کو تسلیم کیا جائے تو حضور ﷺکے زمانہ میں بھی اس کا پڑھنا درست نہ ہوگا۔ چہ جائیکہ بعد الوفاۃ اور خطاب کے الفاظ دراصل منادیٰ اور مخاطب کو سنانے کیلئے بولے جاتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ سینکڑوں مسلمان عہد رسالت میں دور دراز مقامات پر نمازیں پڑھتے تھے۔ معترضین کے مذہب کی رو سے ان کے اس خطاب و ندا کو حضور ﷺ کسی طرح نہیں سن سکتے بلکہ بزعم مخالفین اپنے ہمراہ نماز پڑھنے والوں کا بھی یہ خطاب حضور نہیں سن سکتے کیونکہ نماز میں التحیات جہراً نہیں پڑھی جاتی بلکہ سرّاً (خفیہ اور آہستہ) پڑھی جاتی ہے۔ جس کا سننا وہابیہ کے نزدیک حضور کے لئے قطعاً جائز نہیں لہٰذا نمازیوں سے غائب ہونے اور ان کے الفاظ ندا و خطاب کو نہ سننے کے اعتبار سے حیات اور بعدالوفات دونوں زمانے یکساں قرار پائے پھر صحابہ کا ایک زمانہ میں الفاظِ خطاب کو پڑھنا اور دوسرے میں ترک کردینا عقل و خرد، فہم و درایت کی روشنی میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے اور اگر اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ میں خطاب و ندا کے معنی کو تسلیم نہ کیا جائے تو بعد الوفاۃ اسے ترک کرکے اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ پڑھنا بالکل مضحکہ خیز ہوگا اس لئے کہ الفاظ خطاب سے عدول کی وجہ یہی تھی کہ اس میں خطاب کے معنی پائے جاتے ہیں، جب ان معنی کو تسلیم ہی نہ کیا گیا تو الفاظ ترک کرنا بے فائدہ نہیں تو اور کیا ہے؟
سوم یہ کہ الفاظ حدیث میں خطاب چھوڑنے پر دلالت نہیں پائی جاتی جس سے مخالفین کو استدلال کا موقع ہاتھ آئے۔ دیکھئے ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ المفاتیح میں فرماتے ہیں کہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی حیات میں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کہتے تھے جب حضور ﷺ کی وفات ہوگئی تو ہم نے اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ کہا ا بوعوانہ کی روایت ہے۔ بخاری کی روایت میں جو اس کے مقابل اصح ہے یہ الفاظ نہیں۔ بخاری شریف کے الفاظ یہ ہے فَلَمَّا قُبِضَ قُلْنَا سَلَامٌ یَعْنِیْ عَلَی النَّبِیِّ جب حضور ﷺ کی وفات ہوگئی تو ہم نے سلام کہا یعنی نبی کریم ﷺ پر۔
بخاری کی اس روایت نے بیان کردیا کہ یہ قول حضرت عبداللہ بن مسعود کا نہیں بلکہ راوی کا قول ہے اس نے اپنی فہم کے مطابق اپنے لفظوں میں بیان کردیا اور اس قول میں بھی دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح حضور ﷺ کی حیات ظاہری میں ہم
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کہا کرتے تھے اسی طرح حضور ﷺ کی وفات کے بعد کہتے رہے، دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے خطاب چھوڑ دیا، جب الفاظ میں احتمال پیدا ہوگیا تو دلالت (قطعیہ) باقی نہ رہی۔ (۱) (مرقاۃ جلد ۲ ص ۳۳۲ مطبوعہ ملتان)
ملا قاری کی اس عبارت سے واضح ہوگیا کہ ابوعوانہ کی روایت سے مخالفین کا استدلال قطعاً باطل ہے۔ وللّٰہ الحمد۔
چہارم یہ کہ حضور ﷺ صحابہ کرام کو سورۃ قرآنیہ کی طرح اس تشہد کی تعلیم دیتے تھے جس میں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کے الفاظ ہیں۔ دیکھئے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ ہمیں تشہد سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ (مسلم شریف جلد اوّل ص ۱۷۴) (۲)
بلکہ خود حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان میری ہتھیلی تھی حضور ﷺ نے اس وقت تشہد سکھایا جیسے قرآن کی سورت مجھے سکھاتے تھے۔ (مسلم شریف جلد ۱ ص ۱۷۴) (۳)
ناظرین کرام غور فرمائیں کہ ایسے عظیم الشان اہتمام کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے تعلیم فرمائے ہوئے الفاظ کو محض اپنے خیال سے بدل دینا کتنی بڑی جسارت ہے۔ صحابہ کرام سے اس قسم کی دیدہ دلیری کسی طرح متصور نہیں ہوسکتی ورنہ احتمال پیدا ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کی قطعی طور پر سکھائی ہوئی چیزوں کو صحابہ کرام نے حضور ﷺ کی وفات شریف کے بعد محض اپنے خیال اور قیاس سے بدل دیا معاذ اللہ: ایسی صورت میں سارا دین اس احتمال کی لپیٹ میں آجائے گا جس کا تصور بھی کسی مسلمان کے لئے گوارا نہیں ہوسکتا۔
پنجم یہ کہ حضور ﷺ کی وفات شریف کے بعد جمہور صحابہ کرام
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ پڑھتے تھے۔ جیسا کہ عرف شذی میں شرح منہاج سے سبکی کا قول نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جمہور صحابہ کرام حیات اور بعد الوفات دونوں حالتوں میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ پڑھتے تھے۔ (ملاحظہ فرمایئے عرف شذی ص ۱۳۹)
علاوہ ازیں ائمہ اربعہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے مذہب میں یہی تشہد نماز میں پڑھا جاتا ہے جس میں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کے الفاظ ہیں۔ ثابت ہوا کہ حضور نبی کریم ﷺ کو نماز میں مخاطب کرنا عین حق و صواب ہے اور اس کی نفی پر کوئی دلیل موجود نہیں۔ وللّٰہ الحجۃ السامیہ۔
اس کے بعد مخالفین کا ایک اعتراض باقی رہ جاتا ہے اس کا جواب دیکر اس بحث کو ختم کرتا ہوں۔ مخالفین کہتے ہیں کہ نماز میں جو ہم
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کہتے ہیں اس میں حضور کو مخاطب نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ نے شب معراج جو حضور ﷺ کو مخاطب فرماکر اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ فرمایا تھا اس سلام و خطاب کی حکایت کرتے ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ مخالفین کا سلام تشہد کو واقعہ معراج کی حکایت قرار دینا مخالفین کے اپنے اصول و مسلمات کے خلاف ہے اس لئے کہ وہ علی الاطلاق کسی ایسی روایت کو نہیں مانتے جس کی سند موجود نہ ہو بخلاف ہمارے کہ ہم ابوابِ فضائل و مناقب میں ان روایات کو تسلیم کرتے ہیں جن کی سند ہمارے سامنے نہ ہو مگر علماء محدثین یا فقہائے معتبرین و دیگر علمائے معتمد علیہم نے انہیں قبول کیا ہو۔
جس روایت کے پیش نظر یہ کہا جاتا ہے کہ سلام تشہد واقعہ معراج کی حکایت ہے اس کی کوئی سند نہیں اگر ہے تو پیش کیجئے۔ آپ کے مولوی انور شاہ صاحب عرف شذی میں ص ۱۳۹ پر اس روایت کے متعلق کہتے ہیں
ولکنی لم اجد سند ہٰذہِ الروایۃ یعنی اس روایت کی سند میں نے نہیں پائی
اب بتایئے بے سندی روایت پر آپ کے مسلمات کی روشنی میں اس حکایت کا حکم کیسے قائم ہوگا۔
علاوہ ازیں بخاری شریف میں حدیثِ تشہد کے آخر میں حضور ﷺ کا یہ ارشاد مبارک مخالفین کے اعتراض کا قلع قمع کر رہا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں۔
فَاِنَّکُمْ اِذَا قُلْتُمُوْہَا اَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِی السَّمَائِ وَالْاَرْضِ (بخاری جلد ۱، ص ۱۱۵) جب تم (یہ الفاظ) سلام کہہ لیتے ہو تو وہ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے ہر نیک بندے کو پہنچ جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ نقل و حکایت کی تقدیر پر سلام پہنچنے کے کوئی معنیٰ ہی نہیں رہتے۔ سلام پہنچنا اسی صورت میں متصور ہے جب کہ اپنی طرف سے انشاء سلام کی نیت ہو۔
کلام کو مختصر کرنے کے لئے ہم ایک تحقیقی بات تحریر کرتے ہیں۔ امید ہے ناظرین کرام اسے بغور ملاحظہ فرماکر حق و باطل میں امتیاز فرمائیں گے۔
اور وہ یہ ہے کہ جن عبارات میں سلام تشہد کا علی سبیل الحکایت ہونا وارد ہے وہاں مجرد حکایت مراد نہیں بلکہ حکایت علی طریق الانشاء مراد ہے یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ نے شب معراج میں نبی کریم ﷺ کو
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کے ساتھ مخاطب فرمایا تھا لہٰذا نمازی کو بھی چاہئے کہ حرمِ حبیب میں حبیب کو حاضر پاکر واقعۂ معراج کے مطابق بہ نیّت انشاء سلام نبی کریم ﷺ کو اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کے ساتھ مخاطب کرے۔ نہ یہ کہ صرف اللہ تعالیٰ کے سلام کی نقل و حکایت ہو اور نمازی خود اپنی جانب سے حضور ﷺ پر انشاء سلام کی نیت نہ کرے۔ معاذ اللہ ایسا کہنا تمام محدثین و فقہا بلکہ ساری امت مسلمہ کے خلاف چل کر سبیل مومنین سے اعراض کرنا اور جہنم کی طرف جانا ہے۔ ہمارے حضرات اہل سنت مقلدین کرام کو تو ایک طرف رکھئے، غیر مقلدین سے پوچھئے تو وہ بھی مجرد حکایت کے قائل نہیں۔ دیکھئے عون المعبود میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کے تحت مرقوم ہے۔
فان قیل کیف شرع ہٰذا اللفظ وہو خطاب بشر مع کونہ منہیا عنہ فی الصلٰوۃ فالجواب ان ذالک من خصائصہ ﷺ(عون المعبود جلد ۱ ص ۳۶۵)
یعنی اگر کہا جائے کہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کیسے مشروع ہوا حالانکہ وہ خطابِ بشر ہے اور خطابِ بشر نماز میں جائز نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حضور ﷺ کی خصوصیات سے ہے۔
دیکھئے اگر یہاں مجرد حکایت ہوتی تو یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ محض بطریق حکایت تو یا آدم، یا نوح، یا ابراہیم، یا موسیٰ حتیٰ کہ یا ہامان بھی قرآن مجید میں وارد ہے اور وہ الفاظ قرأتِ قرآن کے اثناء میں نمازوں میں پڑھے جاتے ہیں اور ان کا پڑھنا مفسدِ صلوٰۃ نہیں۔
پھر حضور ﷺ کی خصوصیت کا قول کرنا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے؟ معلوم ہوا کہ غیر مقلدین کے نزدیک بھی سلامِ تشہد میں خطاب اور انشاء کا ہونا ضروری ہے۔ مجرد حکایت کا قول قطعاً باطل اور مردود ہے۔
علیٰ ہٰذا القیاس علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی مضمون کو مختصر الفاظ میں ادا کیا ہے۔ علامہ موصوف حضور سید عالم ﷺ کے خصائص کے بیان میں فرماتے ہیں۔
ومنہا ان المصلی یخاطبہ بقولہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ ولا یخاطب غیرہ یعنی نبی کریم ﷺ کی خصوصیت سے یہ امر بھی ہے کہ نمازی اپنے قول اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کے ساتھ حضور ﷺ کو خطاب کرتا ہے اور حضور کے غیر کو خطاب نہیں کرسکتا۔ (مواہب اللدنیہ جلد ۱ ص ۴۴۴)
محدثین کے بعد فقہاء کرام کی طرف آیئے اور ان کی عباراتِ جلیلہ کو دیکھئے پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ مجرد حکایت کا قول مردود ہے یا نہیں؟
در مختار میں ہے۔ (۱)
نمازی الفاظِ تشہد سے ان معنی کا قصد کرے جو اس کی مراد ہیں اور یہ قصد علی وجہ الانشاء ہو گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تحفے پیش کر رہا ہے اور اپنے نبی کریم ﷺ پر او رخود اپنی ذات اور اولیاء اللہ پر سلام پیش کر رہا ہے اخبار اور حکایت سلام کی نیت ہر گز نہ کرے۔ اس کو مجتبیٰ میں ذکر کیا اور اس کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ علینا کی ضمیر تمام حاضرین کے لئے ہے، سلام تشہد بہ نیت انشاء کہا جائے اللہ تعالیٰ کے سلام کی نقل و حکایت کا ارادہ نہ ہو۔ (در مختار جلد ۱، ص ۳۷۷)
علامہ شامی اس کے تحت فرماتے ہیں کہ (۱)
مصنف کے قول (
لا الاخبار عن ذٰلک) کے معنیٰ یہ ہیں کہ نمازی تشہد میں اس واقعہ کی نقل و حکایت کا ارادہ نہ کرے جو معراج میں حضور ﷺ اور اللہ تعالیٰ سبحانہٗ اور فرشتوں سے واقع ہوا تھا۔(شامی جلد ۱ ص ۳۷۷)
صاحبِ در مختار اور علامہ شامی دونوں نے مجرد حکایت و اخبار کے قول کو رد فرماکر انشاء سلام کے قصد کو متعین فرمادیا۔
عالمگیری میں ہے (۲)
نمازی کے لئے الفاظِ تشہد کے معانی موضوعہ کا اپنی طرف سے بطور انشاء مراد لینا اور ان کا قصد کرنا ضروری ہے۔ گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو تحفے پیش کر رہا ہے اور نبی کریم ﷺ اور اپنی ذات و اولیاء کرام پر سلام عرض کر رہا ہے۔ (عالمگیری جلد ۱ مطبوعہ مجیدی کانپور ص ۳۷)
الدرالمنتقیٰ فی شرح الملتقیٰ جلد اول ص ۱۰۰ پر ہے
لا بدان یقصد بالفاظ التشہد الانشاء یعنی الفاظِ تشہد سے انشاء کا قصد کرنا ضروری اور لا بدی ہے۔
مراقی الفلاح ص ۱۵۵ میں قصد انشاء کو ضروری قرار دے کر آخر میں فرمایا۔
خلافا لماقالہ بعضہم انہ حکایۃ سلام اللّٰہ لا ابتداء سلام من المصلی یعنی نمازی کی یہ نیت انشاء سلام اس قول کے خلاف ضروری ہونی چاہئے جو بعض لوگوں نے کہہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سلام کی حکایت ہو، نمازی اپنی طرف سے ابتداء سلام کی نیت نہ کرے۔ ملاحظہ ہو۔ (مراقی الفلاح ص ۱۵۵)
ان تمام عبارات سے یہ مسئلہ اظہر من الشمس ہوگیا کہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ میں صرف حکایت معراج کا قصد کرنا جائز نہیں بلکہ انشایٔ سلام اور خطاب کی نیت بھی ضروری ہے۔
آخر میں دیوبندیوں کے ایک مقتدا کی عبارت نقل کرکے آخری حجت تمام کرتا ہوں۔ ناظرین کرام بغور ملاحظہ فرمائیں۔
اوجز المسالک جلد ۱ ص ۲۶۵ پر ہے (۱)
اس توجیہہ پر کاف خطاب، حکایت کو اس کی اصل پر باقی رکھنے کے لئے ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ اس وقت نمازی ان الفاظ سے انشاء سلام کا قصد کرے۔ مجرد حکایت کا ارادہ ہر گز نہ ہو۔ علامہ شامی نے کہا کہ نمازی الفاظِ تشہد سے ان کے مرادی معنے کا انشاء کے طریقے پر قصد کرے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو تحفے پیش کر رہا ہے اور نبی کریم ﷺ اور اپنی ذات و اولیائے کرام پر سلام عرض کر رہا ہے اور اس واقعہ کی نقل و حکایت کا بالکل ارادہ نہ کرے جو حضور ﷺ سے معراج میں واقع ہوا تھا۔ اس قول سے معلوم ہوا کہ خطاب کی توجیہہ میں مشائخ کے تین قول ہیں۔ مجرد اتباع اورحبیب کا حریم حبیب میں حاضر ہونا اور انشاء کے طریق پر واقعۂ معراج کی حکایت کرنا۔
الحمدللّٰہ! اس عبارت سے ہمارے لکھے ہوئے مسائل بالکل واضح ہوگئے۔ سلام تشہد میں حکایت علی طریق الانشاء بھی ثابت ہوگیا اور توجیہ خطاب میں
فاذا الحبیب فی حریم الحبیب حاضر بھی مذکور ہوگیا۔ اگر مخالفین اس بیان کو عقل و انصاف کی روشنی میں پڑھیں تو انہیں ہمارے مسلک کی حقانیت میں ذرہ برابر شبہ نہیں رہ سکتا۔
اس تمام بحث کے آخر میں اتنی بات اور عرض کردوں کہ جب دلائل کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ نمازی کا التحیات میں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کہنا اس امر پر مبنی ہے کہ دربارِ خداوندی میں نبی کریم ﷺ حاضر ہیں تو یہ بات بالکل روشن ہوجاتی ہے کہ کوئی مقام اور کوئی وقت حضور ﷺ سے خالی نہیں کیونکہ دِن میں، رات میں، مشرق و مغرب میں، سفر و حضر میں، زمین کے کسی گوشے پر، پہاڑ کی چوٹی پر یا ریت کے ٹیلے پر، سمندر میں، ہوائی جہاز میں، جہاں کہیں اس نے نماز کی نیت باندھی فوراً دربارِ خداوندی میں حاضر ہوگیا اور جب وہ حریم ذات میں پہنچا تو حریم حبیب میں حبیب کو حاضر پایا یعنی اللہ تعالیٰ کے دربار میں حضور ﷺ حاضر ملے، تو صاف ظاہر ہوگیا کہ حضور ﷺ کسی سے دور نہیں۔ البتہ ہم لوگ حضور ﷺ سے اس لئے دور ہوسکتے ہیں کہ ہم اس دربار میں حاضر نہیں ہوتے۔
رہا یہ امر کہ ہر نمازی کو حضور ﷺ نماز میں نظر نہیں آتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ہماری نظر کا قصور ہے۔ جن اہل بصیرت کو اللہ تعالیٰ نے یہ نور عطا فرمایا ہے وہ دیکھتے ہیں ہمیں لازم ہے کہ اگر خود دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے تو دیکھنے والے کی بات مان لیں۔ کعبہ کو بہت کم لوگوں نے دیکھا ہے مگر نماز کی نیت باندھتے وقت ہر شخص کہتا ہے میرا منہ کعبہ شریف کی طرف یہ کہنا اسی لئے ہے کہ کعبہ دیکھنے والوں کے قول کو تسلیم کرلیا ورنہ ہمیں بغیر دیکھے کیا معلوم کہ کعبہ کی طرف کون سی ہے؟ پس اگر حضور ﷺ کے حق میں بھی عارفین کا قول تسلیم کرلیا جائے تو کون سی قباحت ہے؟
اس کے ساتھ یہ امر بھی ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ بحکم قرآن و حدیث نمازی پر حضور ﷺ کی اجابت فرض ہے اور حضور ﷺ سے بحالت نماز بولنا بھی مفسدِ صلوٰۃ نہیں حالانکہ حضور ﷺ کے علاوہ ہر شخض سے بحالت نماز بات کرنا مفسد صلوٰۃ ہے بلکہ اگر یوں کہہ دیا جائے کہ نماز میں حضور ﷺ سے بات کرنا واجب ہے تب بھی کوئی قباحت لازم نہیں آتی کیونکہ تشہد واجب ہے اور اسی تشہد میں ہی
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ بھی ہے اور ظاہر ہے کہ خطاب کے ساتھ انشاء سلام یقینا کلام ہے تو نماز میں حضور ﷺ سے سلام و کلام کا نہ صرف جائز بلکہ واجب ہونا اس امر کی روشن دلیل ہے کہ حضور ﷺ حرمِ حبیب میں ضرور حاضر ہیں کیونکہ غیر سے کلام کرنا اسی لئے مفسد صلوٰۃ ہے کہ جب غیر سے کلام کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کے دربار سے اعراض ہوگا۔
معلوم ہوا کہ حضور ﷺ دربارِ خداوندی سے الگ نہیں ورنہ ان کو مخاطب کرنے سے بھی حریم الٰہی سے اعراض ہوتا اور نماز فاسد ہوجاتی لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ثابت ہوا کہ مشائخ کا حرمِ حبیب میں حبیب کو حاضر ماننا عین حق و صواب ہے اور جن لوگوں نے اپنی بے بصری کی بناء پر اس کا انکار کیا ہے وہ نماز کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں۔
الحمدللّٰہ علی احسانہٖ آیت کریمہ
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَo کی روشنی میں یہ تمام مضامین سلسلہ وار سامنے آتے رہے اور ہمارے ناظرین کرام اس مرحلہ تک پہنچ گئے کہ حرم حبیب میں حبیب کو حاضر پالیا۔ اہل بصیرت اور احباب فہم و فراست کے لئے یہ مضمون انشاء اللہ العزیز نہایت مفید اور دلکش ثابت ہوگا۔

وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلیٰ حَبِیْبِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
سید احمد سعید کاظمی غفرلہٗ
 

ہوم پیج