شرک کی بحث میں مخالفین کی کجروی

بیانِ شرک کے مسئلہ میں ہمارے مخالفین کی کجروی قابلِ ملاحظہ ہے کہ حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام و اولیائے عظام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے لئے عطائی علوم غیبیہ ماننے کو بھی شرک قرار دے دیا۔ اسی طرح نفع و ضرر کے اختیارات عطائے الٰہی سے کسی مخلوق کے لئے تسلیم کرنے کو بھی شرک صریح لکھ دیا اور بزرگانِ دین سے غائبانہ طور پر مافوق الاسباب امور میں عطائے الٰہی کا اعتقاد رکھتے ہوئے مدد طلب کرنے کو بھی شرک خالص بنا دیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ جو شخص انبیائے کرام علیہم السلام کے علم غیب عطائی کو علم الٰہی کے مساوی نہ مانتا ہو وہ بھی مخالفین کے نزدیک کافر و مشرک ہے۔
اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ انبیاء و اولیاء علیہم السلام زمین و آسمان کے غیب یا ہمارے اعمال و افعال کا علم ہر وقت تو نہیں رکھتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ طاقت دی ہوئی ہے کہ جس وقت جس چیز کو چاہیں جان لیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے طاقت دی ہوئی ہے کہ جب چاہیں آنکھیں کھول کر دیکھ لیں۔ جب چاہیں بند کر لیں تو مخالفین کے نزدیک یہ بھی کفر و شرک ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر مخالفین نے اپنی کتابوں میں صاف لکھ دیا کہ اگر انبیائے کرام و اولیائے عظام علیہم السلام کے لئے کوئی شخص عطائی علم و قدرت بھی نہ مانتا ہو بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صرف شفاعت کرنے والا یعنی سفارشی سمجھتا ہو وہ بھی قطعاً کافر و مشرک ہے۔
اس بیان کے تمام اجزاء مذکورہ بالا کی دلیلیں مخالفین نے اپنی کتابوں میں حسب ذیل تفصیل کے ساتھ تحریر کی ہیں۔
۱: چونکہ مشرکین مکہ اپنے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا مملوک اور متصرف بالعرض مانتے تھے لہٰذا ثابت ہوا کہ کسی نبی و ولی کو متصرف بالعرض بتملیک اللّٰہ ماننا بھی شرک ہے۔
۲: چونکہ مشرکین عرب کا یہ اعتقاد تھا کہ ہمارے معبود علم و قدرت میں اللہ تعالیٰ کے مساوی نہیں لہٰذا ان کا یہ اعتقاد اس دعویٰ کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص انبیاء و اولیاء کو علم و قدرت میں اللہ تعالیٰ کے مساوی نہ مانے تب بھی کافر و مشرک ہے۔ (جواہر القرآن ص ۱۴۰/ ۱۲)
۳: مشرکین مکہ اپنے معبودوں کو محض سفارشی سمجھ کر پکارتے تھے۔ جیسا کہ قرآن مجیدمیں ان کا قول مذکور ہے
مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی اسی طرح دوسری آیت میں ہے وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمْ وَلَا َینْفَعُہُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ہٰٓؤُلَآئِ شُفَعَآئُ نَا عِنْدَاللّٰہِ معلوم ہوا کہ کسی نبی و ولی کو عطائی علم و قدرت سے متصف مانے بغیر بھی انسان صرف اس وجہ سے مشرک ہو جاتا ہے کہ اس نے ان کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں اپنا سفارشی قرار دیا۔ (جواہر القرآن ص ۱۴۴)
۴: چونکہ یہود ونصاریٰ اور مشرکین عرب سب کا یہی خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ و مریم و عزیر و ابراہیم و اسمٰعیل علیہم الصلوٰۃ والسلام کو نفع نقصان کے اختیارات دے دیئے ہیں لہٰذا معلوم ہوا کہ بزرگانِ دین کے لئے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اختیارات ماننا شرک ہے۔ (جواہر القرآن، ص ۱۲۲، ج۱۲)
اس پر مزید ستم ظریفی ملاحظہ فرمایئے کہ بزرگانِ دین کے لئے بعطائے الٰہی علم و تصرف ماننے پر کفر و شرک کا فتویٰ لگانے والوں سے جب سوال کیا گیا کہ اگر بزرگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ کے دینے سے بھی علم و تصرف کا اعتقاد رکھنا کفر و شرک ہے تو معتبر کتابوں میں بالاستقلال وغیرہ الفاظ کی قید کیوں لگائی گئی ہے؟
اس کے جواب میں مخالفین نے لکھا ہے کہ جن کتابوں میں بالاستقلال یا بالذات وغیرہ کی قیدیں آئی ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے پیروں فقیروں کو طاقت دے دی ہے کہ جس وقت جو چیز چاہیں جان لیں یا جس کو چاہیں نفع و نقصان پہنچا دیں۔ انتہیٰ
دعویٰ سے پہلے تفصیلِ دلائل کی نوعیت قابلِ غور ہے کہ بحث کے ہر جزو کے ثبوت کا دارو مدار مشرکین کے عقائد و اعمال کو قرار دیا ہے گویا مخالفین کے نزدیک رد شرک کی دلیل مشرکین کا قول و فعل ہے۔ سبحان اللّٰہ! کیا عجیب استدلال ہے کہ چونکہ مشرکین اپنے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا مملوک کہتے اور انہیں متصرف بالعرض مانتے تھے اس لئے غیر اللہ کو متصرف بالعرض سمجھنا شرک ہے اور چونکہ مشرکین اپنے معبودوں کو سفارشی سمجھتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ کے دربار میں کسی کو سفارشی سمجھنا شرک ہے۔
ان عقل کے دشمنوں سے کوئی اتنا نہیں پوچھتا کہ ارے بے وقوفو! مشرکین کا قول و فعل بھی حجت شرعیہ ہو سکتا ہے؟ پھر یہ کہ توحید جو اصل دین ہے اس کے اثبات کے لئے نہ اللہ تعالیٰ کا کوئی قول تمہیں ملا نہ اس کے رسول ﷺ کا، ایسے عظیم الشان دعویٰ پر دلیل لائے تو کہاں سے؟ مشرکین کے عقائد و اعمال سے؟ لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ! تمہیں شرم نہیں آتی کہ ہم بزرگان دین کا کوئی کلام یا عمل و اعتقاد اپنے مسلک کی تائید میں پیش کرتے ہیں تو تم یہ کہہ کر رد کر دیتے ہو کہ بزرگوں کے اقوال و اعمال دلیل شرعی نہیں ہو سکتے۔ حجت شرعیہ صرف قرآن و حدیث ہے لیکن اپنی خود ساختہ توحید کے ثبوت میں مشرکین کے اقوال و افعال سے استدلال کر رہے ہیں۔ ع

بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بو العجبی است

مخالفین نے اپنی کجروی میں انتہا کردی کہ بزرگانِ دین کے اقوال کو جو باب فضائل میں فی الجملہ قابل استدلال ہیں، رد کر دیا اور مشرکین کے عقائد و اعمال کو حجت شرعیہ قرار دے دیا۔ ع

ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئیے

اس بحث میں بعض معاندین کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم مانتے ہیں کہ مشرکین عرب اپنے بتوں کی عبادت کرنے کی وجہ سے مشرک قرار پائے لیکن عبادت کے معنی بھی تو یہی ہیں کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں اپنا سفارشی سمجھے یا نفع و نقصان پہنچانے کے اختیارات اس کے لئے مانے۔ اگرچہ وہ اس کو متصرف فی الامور بالعرض بتملیک اللّٰہ اعتقاد کرے اور اس کے علم و قدرت کو اللہ تعالیٰ کے علم و قدرت کے مساوی نہ مانے لیکن جب وہ مافوق الاسباب نفع و نقصان کا مختار جانتے ہوئے غائبانہ طور پر پکارتا ہے او راس سے اپنی حاجات طلب کرتا ہے تو اس کا یہی فعل غیر اللہ کی عبادت ہے اور اس سے مستقل و بالذات سمجھنے کا مفہوم بھی یہی ہے۔
اس کے جواب میں عرض ہے کہ عبادت اور استقلال ذاتی کے یہ معنی قرآن و حدیث میں قطعاً وارد نہیں ہوئے نہ سلف صالحین سے منقول ہیں بلکہ مخالفین نے امت مسلمہ کو کافر و مشرک بنانے کے لئے قرآن وحدیث کی طرف سے آنکھیں بند کر کے اپنے دل سے گھڑ لئے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن حدیث میں اکثر و بیشتر ایسے الفاظ وارد ہوئے ہیں جن کے معنی اس قدر روشن اور ظاہر ہیں کہ ہر شخص انہیں جانتا اور سمجھتا ہے ان کے بیان کی کسی کے لئے حاجت نہیں اسی واسطے ان کی تفصیل قرآن و حدیث میں وارد نہیں ہوئی۔ مثلاً حمد، شکر، تعظیم، وغیرہا بکثرت الفاظ وارد ہیں مگر ان کے معانی کی تفصیل کتاب و سنت میں کہیں مذکور نہیں۔ اسی طرح عبادت بھی ایک ایسا لفظ ہے، جس کے معنی نہایت واضح اور روشن ہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ عبادت کے معنی بندگی ہیں۔ یعنی کسی کو حقیقی بے نیاز مان کر اس کے غیر کو اس کا حقیقی نیاز مند سمجھنا۔ اس لئے علمائے مفسرین نے عبادت کے معنی غایۃ الخضوع والخشوع کئے ہیں جن کو ہمارے مخالفین نے بھی تسلیم کیا ہے۔
مشرکین عرب اپنے بتوں کو قطعاً اور مطلقاً بے نیاز تصور کر کے اپنے آپ کو ہر طرح کلیتاً ان کا نیاز مند سمجھتے تھے اور ظاہر ہے کہ تذلّل و خضوع کی غایت یہی ہے۔ مختصر یہ کہ عبادت کے معنی صرف بندگی، غایت خشوع و خضوع ہیں۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ ہمارے مخالفین نے عبادت کی تفسیر استعانت سے کر دی حالانکہ یہ دونوں الگ الگ معنی کے لئے موضوع ہیں اور ہر ایک کا مفہوم دوسرے سے مختلف اور جداگانہ ہے جیسا کہ آیہ کریمہ
اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ سے واضح ہے اور بعض مفسرین نے استعانت سے خاص استعانت علی العبادت مراد لے کر اس بات کو خوب واضح کر دیا کہ استعانت و عبادت باہم متغائر ہیں البتہ اگر کسی استعانت میں غایت اور بندگی، خشوع و خضوع کا وصف بھی پایا جائے گا تو ہم اسے بھی محض اس لئے عبادت قرار دیں گے کہ اس میں غایت تذلل کی صفت پائی جاتی ہے۔
جن آیاتِ قرآنیہ سے مخالفین کو دھوکا لگا ہے ان میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہو کہ کسی کے لئے نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار ماننا یا حاجات میں امداد طلب کرنا عبادت ہے بلکہ ان آیات میں اس امر کو بیان کیا گیا ہے کہ مشرکین اپنے بتوں سے علی وجہ العبادت استعانت کے قائل تھے یا انہیں اس بات کی تنبیہہ کی گئی ہے کہ عقل سلیم کے مطابق معبود وہی ہو سکتا ہے جو فی الواقع ہر قسم کی امداد کرنے والا اور تمام حاجات بر لانے والا ہو نیز مستقل بالذات، مختار ہونا اس کی صفت ہو۔
اس مقام پر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ہم بھی ہر استعانت کو عبادت نہیں کہتے بلکہ اسی استعانت کو عبادت قرار دیتے ہیں جس میں غایت تذلل پایا جائے مگر ایسی استعانت ہمارے نزدیک وہی ہے جو مافوق الاسباب امور میں غائبانہ نداء کے ساتھ کی جائے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ غایتِ تذلل اور عبادت کا تعلق نہ مافوق الاسباب امور سے ہے نہ غائبانہ ندا سے، اس کا تعلق تو محض اعتقاد سے ہے یعنی انسان اپنے آپ کو کسی کے سامنے ذلت اور پستی کے اس آخری درجہ میں سمجھے جس کے بعد عاجزی اور ذلت کا کوئی درجہ نہ ہو تو وہ انسان اس کا عابد قرار پائے گا جس کے سامنے اس نے اپنے آپ کو ذلت و عاجزی کے آخری درجہ میں سمجھا ہے۔
اس قسم کی عاجزی کرنے والا عابد ہے اور جس کے لئے یہ عاجزی کی گئی ہے وہ معبود ہے اور ایسی عاجزی عبادت ہے۔ اس مفہومِ عبادت کے مافوق الاسباب اموریا غائبانہ ندا وغیرہ سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں، فافہم و تدبر۔
سلسلہ کلام میں ایک آخری شبہ کا جواب دے کر اس بحث کو ختم کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ابن قیم نے مدارج السالکین میں عبادت کے حسب ذیل معنی لکھے ہیں۔
العبادۃ عبارۃ عن الاعتقاد والشعور بان للمعبود سلطۃ غیبیۃ (ای فی العلم والتصرف) فوق الاسباب یقدربہا علی النفع والضرر فکل دعاء وثناء وتعظیم ینشاء من ہذا الاعتقاد فہی عبادۃ (جواہر القرآن ص ۱۲۹)
یعنی اس اعتقاد اور شعور کا نام عبادت ہے کہ (علم تصرف) معبود کے لئے فوق الاسباب ایسی غیبی قوت حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ نفع اور ضرر پر قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا ہر وہ دعا اور ثناء اور تعظیم جو اس اعتقاد سے پیدا ہو وہ عبادت ہے۔
یہ عبارت اس مفہوم میں صریح ہے کہ فوق الاسباب امور میں کسی کو غائبانہ طور پر پکارنا اور حاجات طلب کرنا عبادت ہے۔
جوا بًا عرض ہے کہ اول تو ابن قیم کی عبارت ہم پر حجت نہیں۔ دوسرے یہ کہ عبادت کی یہ تعریف غلط ہے۔ اس لئے کہ
للمعبود سلطۃً غیبیۃ میں لفظ معبود تعریف عبادت کا جزو ہے جو عبادت سے ماخوذ ہے۔ جب تک عبادت کے معنیٰ معلوم نہ ہوں، معبود کے معنی معلوم نہیں ہو سکتے، ایسی صورت میں دور لازم آتا ہے۔ (۱)
تیسرے یہ کہ یہ تعریف اپنے تمام افراد کو جامع نہیں اس لئے کہ جو شخص کسی کو غایتِ تعظیم کا مستحق جان کر اس کے لئے انتہائی تذلل اختیار کرتا ہے مگر وہ اس کے حق میں قدرت غیبیہ کا قائل نہیں تو اس کا یہ فعل بالاتفاق عبادت ہے مگر ابن قیم کی تعریف اس پر صادق نہیں آتی۔ (۱)
چوتھے یہ کہ مخالفین نے غائبانہ طور پر کسی کو پکارنے اور مافوق الاسباب امور میں حاجات طلب کرنے کا نام عبادت رکھا ہے او رظاہر ہے کہ طلب و ندا دونوں فعل محض ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اعتقاد نہیں حالانکہ ابن قیم نے صرف اعتقاد کو عبادت قرار دیا ہے اور مسلّمہ طور پر لکھا ہے کہ کسی کے حق میں قدرت غیبیہ کے اعتقاد اور شعور کو عبادت کہتے ہیں۔ اعتقادِ مذکور کے بغیر کسی قول و فعل کو ابن قیم نے عبادت نہیں کہا اور اگر مخالفین کے قول میں طلب و نداء کے ساتھ اعتقاد کی قید کا لحاظ بھی کر لیا جائے تب بھی ابن قیم کے بیان کے ساتھ مطابقت نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ مخالفین نے صرف غائبانہ نداء اور طلب حاجات کو عبادت قرار دیا اور ابن قیم کے قول کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ قول و فعل جو اعتقاد مذکور سے پیدا ہو وہ عبادت ہے خواہ وہ دعا یا تعظیم ہو یا ثناء۔
اس بحث سے تنگ آ کر مخالفین یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اچھا ہم نے مان لیا کہ مافوق الاسباب امور میں حاجات طلب کرنا اور کسی کو غائبانہ پکارنا عبادت نہیں مگر شرک تو ضرور ہے۔ لہٰذا یہ فعل شرک فی العلم والتصرف قرار پائے گا۔ اس کے جواب میں مخالفین سے دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہاں کس چیز کو شرک سمجھتے ہیں۔
۱: مافوق الاسباب امور میں غیر اللہ کے لئے علم و قدرت کا اثبات شرک ہے۔
۲: یا محض غائبانہ ندا کو آپ شرک کہتے ہیں۔
۳: یا ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ شرک قرار دیتے ہیں۔
۴: یا دونوں کے مجموعے کو شرک مانتے ہیں۔
دوسری اور تیسری صورت میں چونکہ محض ندائے غائبانہ کو شرک قرار دیا گیا ہے اس لئے لازم آتا ہے کہ غائبانہ نداء کرنے والے تمام لوگ کافر و مشرک ہو جائیں گے حالانکہ یہ بات ہمارے مخالفین کے نزدیک بھی بالکل غلط ہے۔ چنانچہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ ندائے غائبانہ ہونے کے باوجود نہ صرف جائز بلکہ بالاتفاق واجب ہے۔ اگر اسے شرک قرار دیا جائے تو معاذ اللہ عہد رسالت سے لے کر قیامت تک تمام نمازی مشرک قرار پائیں گے اور چوتھی صورت میں علم و قدرت کے اعتقاد اور ندائے غائبانہ دونوں کے مجموعے کو شرک مانا گیا ہے۔ اس لئے اس کا واضح مفہوم یہی ہے کہ ان دونوں کا صرف مجموعہ شرک ہے۔ اگر ان دونوں اجزاء یعنی غیر اللہ کے حق میں علم و قدرت و تصرف کے اعتقاد اور غیر خدا کے لئے ندائے غائبانہ کو ایک دوسرے سے الگ کر لیا جائے تو ان دونوں میں سے کوئی بھی شریک نہ رہے حالانکہ یہ صریح البطلان ہے ورنہ مخالفین کے نزدیک وہ تمام لوگ اصحابِ توحید قرار پائیں گے جو غیر اللہ کو غائبانہ طور پر کبھی نہیں پکارتے مگر اس کے لئے علم و قدرت اور تصرف فی الامور کے قائل ہیں۔
اب رہی پہلی صورت اور وہ یہ کہ غیر اللہ کے لئے مافوق الاسباب امور میں علم و قدرت اور تصرف کے اثبات کو آپ شرک کہتے ہیں یا غیر مستقل ذاتی غیر مقید بالاذن علم و قدرت اور تصرف کا اثبات کرنا بھی آپ کے نزدیک کفر و شرک ہے۔ بر تقدیر اول ہمیں آپ سے اختلاف نہیں لیکن آج تک کسی مسلمان نے کسی غیر اللہ کے لئے مستقل اور ذاتی علم و قدرت اور غیر مقید بالاذن تصرف ثابت نہیں کیا۔ پھر آپ خواہ مخواہ مسلمانوں پر کفر و شرک کا الزام کیوں لگاتے ہیں اور دوسری تقدیر پر ہم عرض کریں گے کہ غیر مستقل عطائی مقید بالاذن علم و قدرت اور تصرف کا اثبات غیر اللہ کے لئے اسی وقت شرک ہو سکتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی اسی قسم کا غیر مستقل، عطائی اور مقید بالاذن علم و قدرت اور تصرف ثابت کیا جائے کیونکہ صفات الٰہیہ کا غیر اللہ کے لئے ثابت کرنا ہی شرک ہے۔ اگر غیر مستقل علم و قدرت اللہ تعالیٰ کی صفت نہیں تو شرک کیسے ہو گا؟ اور اگر اللہ تعالیٰ کے لئے بھی عطائی اور غیر مستقل صفت مانی جائے تو ایسا عقیدہ خود کفر و شرک ہے۔ ع

وہ الزام ہم کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

اس کے بعد اس حقیقت کا انکشاف بھی ضروری ہے کہ معترض کے جواب میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس کی اصل معترض کے مسلم بزرگوں اور اکابر کی کتابوں میں مذکور ہے چنانچہ مولوی اشرف علی تھانوی نے اپنی آخری تصنیف بوادر النوادر حصہ سوم میں ص ۷۰۷ میں لکھا ہے کہ مشرکین عرب اپنے اٰلِہَہ کے لئے قدرتِ مستقلہ کے قائل تھے۔
حاصل اس اعتقاد تاثیر و عدم اعتقادِ تاثیر کے معیار فرق کا یہ ہے کہ بعض کا تو یہ عقیدہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے کسی خاص مخلوق کو جو اس کا مقرب ہے کچھ قدرت مستقلہ نفع و ضرر کی اس طرح سے عطا فرما دی ہے کہ ا س کا اپنے معتقد و مخالف کو نفع و ضرر پہنچانا مشیت جزئیہ حق پر موقوف نہیں۔ گو اگر روکنا چاہے تو پھر قدرت حق ہی غالب ہے جیسے سلاطین اپنے نائبین و حکام کو خاص اختیارات اس طرح دے دیتے ہیں کہ ان کا اجراء اس وقت سلطانِ اعظم کی منظوری پر موقوف نہیں آتا،گو روکنا چاہے سلطان ہی کا حکم غالب رہے گا سو یہ عقیدہ تو اعتقاد تاثیر ہے اور مشرکین عرب کا اپنے اٰلِہَہ باطلہ کے ساتھ یہی اعتقاد تھا۔
اس کے بعد تھانوی صاحب نے تقریر شرک کے دو مقدمے مقرر کر کے انہیں عقلی اور نقلی دلیلوں سے ثابت کیا ہے وہ دو مقدمے حسبِ ذیل ہیں فرماتے ہیں
ایک یہ کہ مشرکین اس تصرف غیر مقید بالاذن کے قائل تھے۔ دوسرے یہ کہ تصرف مقید بالاذن کا قائل ہونا شرک اکبر نہیں۔
شرک کی تفصیل میں جتنی عبارات پائی جاتی ہیں ان میں ایک مفہوم کو متعدد اور مختلف عنوانات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مثلاً کہیں شرک کے معنی اعتقاد تاثیر کئے گئے ہیں اور کسی جگہ قدرت مستقلہ کے عقیدے کو شرک کہا گیا ہے۔ بعض مقامات پر شرک کی تفصیل کے تحت تصرف غیر مقید بالاذن بولا گیا ہے۔ ان مختلف عنوانوں کا فائدہ یہ ہے کہ کوئی عنوان بھی اپنے مفہوم کے اعتبار سے مبہم نہیں رہا لیکن بعض جہلا نے مفہوم استقلال کے بیان میں اختلالِ حواس کا ثبوت دیتے ہوئے ایسا گول مول کلام کیا ہے جس کا کوئی واضح مفہوم متعین نہیں ہوتاالبتہ بطورِ احتمال اتنا سمجھ میں آتا ہے کہ مستقل ہونے کا مفہوم معترض کے نزدیک صاحبِ اختیار ہونا ہے۔ جس کا قول علماء امت میں سے آج تک کسی نے نہیں کیا بلکہ بلغۃ الحیران کی عبارت کے پیشِ نظر معترض خود مشرک قرار پاتا ہے۔ اس لئے کہ بلغۃ الحیران ص ۱۵۷ میں صاف مذکور ہے کہ انسان خود مختار ہے۔ جب مختار ہونا استقلال کا مفہوم ٹھہرا تو ثابت ہو گیا کہ صاحب بلغہ بندے کو مستقل فی الاعمال مانتا ہے اور اس کا شرک ہونا معترض کے نزدیک بھی مسلم ہے۔ اس لئے صاحب بلغۃ الحیران کا مشرک ہونا لازمی امر ہے۔
اب مولوی اشرف علی تھانوی کی تصریحات اسی مسئلے میں ملاحظہ فرمائیے۔ تھانوی صاحب نے کہیں قدرتِ مستقلہ کا لفظ بولا جیسا کہ ان کی عبارتِ منقولہ میں آپ ابھی پڑھ چکے ہیں اور کسی جگہ تصرف غیر مقید بالاذن تحریر فرمایا۔ اس اختلافِ تعبیر سے ہر عنوان کے معنی واضح ہو گئے یعنی اعتقاد تاثیر اور قدرتِ مستقلہ کا عقیدہ، سب کا خلاصہ یہ ہے کہ تصرف غیر مقید بالاذن کا اعتقاد پایا جائے ۔ معلوم ہوا کہ استقلال کے جو معنی معترض کے کلام سے مفہوم ہوتے ہیں وہ قطعاً باطل ہیں بلکہ اس کا صحیح مفہوم غیر مقید بالاذن ہونا ہے اور بس۔
لیجئے بوادر النوادر سے تھانوی صاحب کی اور عبارت بھی ہمارے بیان کی تائید اور معترض کے ردِ بلیغ میں ملاحظہ فرما لیجئے۔ تھانوی صاحب بوادر النوادر حصہ دوم ص ۷۰۷ میں لکھتے ہیں
اور جاہلانِ عرب کا مشرک ہونانص سے ثابت ہے پس لا محالہ وہ تصرف غیر مقید بالاذن کے قائل تھے۔
آمدم برسر مطلب: حاضر و ناظر کے مفہوم کا خلاصہ یہ ہے کہ عالم کا ذرہ ذرہ روحانیت نبی کریم ﷺ کی جلوہ گاہ ہے۔


دلیل
قال اللہ تعالیٰ: وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ o
ترجمہ: اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو (اے محمد ﷺ) مگر رحمت تمام جہانوں کے لئے
مندرجہ ذیل امور ملحوظ رکھنے کے بعد آیہ کریمہ کی روشنی میں ہمارے دعویٰ کا ثبوت واضح ہو جاتا ہے۔
۱: رحمۃ للعالمین ہونا حضور نبی کریم ﷺ کا وصف خاص ہے۔
۲: آیۂ کریمہ
وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ وغیرہا کے کلمہ العالمین کا عموم دلیل خصوص پائے جانے کی وجہ سے بالاجماع باقی نہیں رہا مگر آیتِ زیرِ بحث میں جو لفظ العٰلمین ہے اس کا مخصص نہیں پایا گیا ۔ اس لئے وہ اپنے عموم پر ہے ومن ادعی الخصوص فعلیہ البیان لہٰذا ہر فرد عالم کا حضور ﷺ کے دامنِ رحمت میں ہونا ثابت ہے۔
۳: حضور ﷺ کے رحمۃ للعالمین ہونے کے معنی تفسیر روح المعانی پ۱۷ ص ۹۵ پر اسی آیت کریمہ کے تحت مرقوم ہیں (۱) ہم نے آپ کو (اے محمد ﷺ) رحمت یا ذا رحمت یا راحماً للعلمین ہونے کے حال کے سوا اور کسی حال میں نہیں بھیجا۔ اور اگر لفظ رحمۃ کو مفعول لہٗ کہا جائے تب بھی حضور ﷺ سببِ رحمت قرار پائیں گے۔ بہرنوع نبی اکرم ﷺکی رحمت کا ہر فرد عالم کے لئے عام ہونا ظاہر ہے۔ جن حضرات نے
العالمین کی تفسیر الناس یا ثقلین یا ذوی العلم سے کی ہے۔ ان کے کلام سے العٰلمین کی تخصیص پر استدلال صحیح نہیں۔ اس لئے کہ اشرف العالمین چونکہ یہی انواع ثلاثہ ہیں اس لئے ان کے حق میں حضور کا رحمت ہونا بقیہ عالمین کے حق میں حضور کے رحمت ہونے کو مستلزم ہے۔ دلیل یہ ہے کہ یہ تینوں اپنے ماسوا کے متبوع اور ان سب کا مجموعہ اور خلاصہ ہیں۔ لہٰذا سب کے حق میں حضور کا رحمت ہونا ثابت ہوا۔
۴: یہ امر بھی روشن ہے کہ جب تک رسول کریم ﷺ اصل کائنات اور تمام عالم پر فیضِ خداوندی کا واسطہ نہ ہوں اس وقت تک حضور ﷺ کے رحمۃ للعالمین ہونے کے کوئی معنی نہیں ہو سکتے۔ بنا بریں جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام عالم کی اصل قرار پائے تو تمام عالم کے جمیع افراد حضور کی فرع ہوئے۔ پس جس طرح درخت کی ہر شاخ ہر پتے بلکہ اس کے ہر جزو میں اصل ہی کا ظہور ہوتا ہے اسی طرح تمام جہانوں یعنی ما سوی اللہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی کی نورانیت اور روحانیت مقدسہ جلوہ گر ہوگی اور عالم کا ذرہ ذرہ روحانیت اور نورانیت نبی کریم ﷺ کی جلوہ گاہ قرار پائے گا۔ آیۂ کریمہ کی تفسیر میں جلیل القدر مفسرین کرام نے اسی مضمون کا خلاصہ تحریر فرمایا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ تفسیر ( ۱ ) روح المعانی پ ۱۷ ص ۹۶ پر مرقوم ہے۔
تمام جہانوں کے لئے حضور ﷺ کا رحمت ہونا اس اعتبار سے ہے کہ نبی کریم ﷺ کل ممکنات پر ان کی قابلیت و استعداد کے موافق فیض الٰہی کا واسطہ عظمیٰ ہیں اس لئے حضور ﷺ کا نور اول مخلوقات ہے (کیونکہ اصل کا وجود فرع سے پہلے ہوتا ہے) حدیث شریف میں وارد ہے اے جابر! اللہ تعالیٰ نے تیرے نبی کا نور سب سے پہلے پیدا فرمایا اور دوسری حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عطا کرنے والا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں اور حضرات صوفیاء کرام قدست اسرارہم کا کلام اس بیان میں ہمارے کلام سے بہت بڑھ چڑھ کر ہے۔
تفسیر عرائس البیان جلد دوم مطبوعہ نول کشور لکھنؤ میں ص ۵۲ پر ہے۔ (۲)
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو (اے محمد ﷺ) مگر رحمت تمام جہانوں کے لئے اے صاحبِ فہم و خرد! اللہ تعالیٰ نے اسی آیت کریمہ میں ہمیں بتایا کہ خالقِ کائنات نے اپنی کل مخلوقات میں جو چیز سب سے پہلے پیدا کی وہ حضرت محمد ﷺ کا نور مبارک ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس نور کے ایک جزو سے از عرش تا فرش تمام مخلوقات کو پیدا فرمایا۔ لہٰذا عدم سے مشاہدہ قدم کی طرف ان (محمد عربی ﷺ)کا بھیجنا جمیع مخلوقات کے لئے رحمت ہے۔ کیونکہ (مصدر خلائق وہی ہیں) سب کا صدور و ظہور انہی کے نور سے ہے۔ لہٰذا ان کا ہونا مخلوق کا ہونا ہے اور ان کا موجود ہونا وجودِ خلق کا موجب ہے اور ان کا وجود مبارک جمیع خلائق پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سبب ہے۔ اس لئے کہ سب کے وجود کا سبب وہی ہیں۔ لہٰذا وہ ایسی رحمت ہیں جو سب کے لئے کافی ہیں اور اسی آیت میں (اللہ تعالیٰ نے) ہمیں (یہ بھی) سمجھا دیا ہے کہ قضاء قدرت میں تمام مخلوقات صورتِ مخلوقہ کی طرح بے جان اور بغیر روح حقیقی کے پڑی ہوئی حضرت محمد ﷺ کی تشریف آوری کا انتظار کر رہی تھی۔ جب حضور ﷺ عالم میں تشریف لائے تو تمام عالم وجود محمدی سے زندہ ہو گیا۔ اس لئے کہ تمام مخلوقات کی روح حضور ﷺ ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمت تمام جہانوں کے لئے۔
یہی مضمون تفسیر روح البیان جلد ۵ پ۱۷ ص ۵۲۸ پر مرقوم ہے۔
آیت کریمہ کی جو تفسیر ہم نے جلیل القدر علمایٔ مفسرین سے نقل کی ہے اس کی روشنی میں یہ حقیقت آفتاب سے زیادہ روشن ہو گئی کہ تمام افرادِ ممکنات کے ساتھ حضور نبی کریم ﷺ کا رابطہ اور تعلق ہے جس کے بغیر وصولِ فیض ممکن نہیں اور جب سب کا ربط حضور سے ہے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کسی سے دور نہیں نہ کسی فردِ ممکن سے بے خبر ہیں۔ جب وہ رحمۃ للعالمین ہونے کی وجہ سے روحِ دو عالم ہیں تو کس طرح ممکن ہے کہ عالم کا کوئی فرد یا جزو اس روح مقدسہ سے خالی ہو جائے۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ حضور نبی کریم ﷺ رحمۃ للعالمین ہو کر روحِ کائنات ہیں اور عالم کے ہر ذرہ میں روحانیتِ محمدیہ کے جلوے چمک رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ کی یہ جلوہ گری علم و ادراک اور نظر و بصر سے معریٰ ہو کر نہیں ہو سکتی کیونکہ روحانیت و نورانیت ہی اصل ادراک اور حقیقتِ نظر و بصر ہے۔ لہٰذا ثابت ہو گیا کہ عرش سے فرش تک تمام مخلوقات و ممکنات کے حقائق لطیفہ پر حضور نبی کریم ﷺ حاضر و ناظر ہیں۔
اس مضمون کو ذہن نشین کر لینے کے بعد یہ امر خود بخود واضح ہو جاتا ہے کہ علماء عارفین اور اولیاء کاملین نے جو حقیقت محمدیہ کو تمام ذراتِ کائنات میں جاری و ساری بتایا ہے جیسا کہ وہ تمام عبارات عنقریب ہدیۂ ناظرین کی جائیں گی اس کی اصل یہی آیۂ مبارکہ ہے اور اس میں شک نہیں کہ نماز میں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کہنے کا حکم بھی اس امر پر مبنی ہے کہ جب حقیقتِ محمدیہ تمام ذراتِ کائنات میں موجود ہے تو ہر عبد مصلی کے باطن میں بھی اس کا پایا جانا ضروری ہے اور چونکہ حضور ﷺ باوجود تمام کائنات میں جلوہ گر ہونے کے اللہ تعالیٰ کے دربار سے کسی وقت جدا نہیں ہوتے۔ اس لئے نمازی کو حکم دیا گیا کہ جب تو دربارِ الٰہی میں حاضر ہو تو خطاب و نداء کے ساتھ انہیں مخاطب کر کے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کے الفاظ سے ان کی خدمت میں تحفۂ سلام پیش کر، چنانچہ قطبِ ربانی غوث صمدانی سید ی امام عبدالوھاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور تصنیف کتاب المیزان مطبوعہ مصر ۱۴۵ پر تشہد کے بیان میں ارقام فرماتے ہیں
میں نے سیدی علی خواص ص سے سنا وہ فرماتے تھے کہ شارع (حقیقی) نے (قعدہ) تشہد میں نمازی کو رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ وسلام پڑھنے کا حکم صرف اس لئے دیا کہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں بیٹھنے والے غافلوں کو اس بات پر تنبیہہ فرما دے کہ جہاں وہ بیٹھے ہیں اس بارگاہ میں ان کے نبی ﷺ بھی تشریف فرما ہیں۔ اس لئے کہ وہ دربارِ خداوندی سے کبھی جدا نہیں ہوتے۔ پس نمازی نبی کریم ﷺ کو بالمشافہ (روبرو) سلام کے ساتھ خطاب کرتے ہیں۔ (۱)
اس عبارت میں
شہود نبیہم فی تلک الحضرۃ (نبی کریم ﷺ کا بارگاہِ ایزدی میں حاضرو جلوہ گر ہونا۔) اور فانہ لا یفارق حضرۃ اللّٰہ ابدا نبی کریم ﷺ بارگاہِ الٰہی سے کسی وقت جدا نہیں ہوتے اور فیخا طبونہ بالسلام مشا فہۃ (نمازی بالمشافہ یعنی حضور کے روبرو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سلام کے ساتھ خطاب کرتے ہیں۔) خاص طور پر قابلِ غور جملے ہیں۔ یہ تینوں جملے اس مقام پر مخالفین کے تمام شکوک و شبہات کا قلع قمع کر رہے ہیں۔ ایسے چمکتے ہوئے دلائل کے سامنے کسی کور باطن کا یہ کہنا کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ معاذ اللہ بعید غائب کو خطاب ہے۔ حضور کی محض خیالی صورت ہوتی ہے۔ خود حضور بارگاہِ ایزدی میں حاضر نہیں ہوتے کیسی دیدہ دلیری اور ہٹ دھرمی ہے؟ بھلا کوئی منصف مزاج ایسے روشن کلمات کے ہوتے ہوئے اس تنگ نظری اور تاریک خیالی کو قبول کرسکتا ہے۔
اسی مضمون کو تشہد کے بیان میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف فتح الباری شرح صحیح بخار ی میں حسب ذیل ایمان افروز عبارت میں ارقام فرمایا ہے۔
اہل (۱) عرفان کے طریقہ پر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب نمازیوں نے التحیات کے ساتھ ملکیت کا دروازہ کھلوایا تو انہیں حی لا یموت کی بارگاہ میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی ان کی آنکھیں فرحت مناجات سے ٹھنڈی ہوئیں تو انہیں اس بات پر تنبیہ کی گئی کہ بارگاہ خدا وندی میں جو انہیں یہ شرف باریابی حاصل ہوا ہے یہ سب نبی رحمت ﷺ کی برکتِ متابعت کا طفیل ہے۔
نمازیوں نے اس حقیقت سے باخبر ہوکر بارگاہِ خداوندی میں جو نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حبیب کے حرم میں حبیب حاضر ہے یعنی دربارِ خداوندی میں نبی کریم ﷺ جلوہ گر ہیں۔ حضور کو دیکھتے ہی
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کہتے ہوئے حضور کی طرف متوجہ ہوئے۔ (فتح الباری جلد ۲؎ مطبوعہ مصر ص ۲۵۰)
یہی عبارت عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری جلد ۶؎ ص ۱۱۱ اور مواہب اللدنیہ جلد ثانی ص ۲۳۰ زرقانی شرح مواہب جلد نمبر۷ ص ۳۲۹، ۳۳۰ زرقانی شرح مؤطا امام مالک جلد نمبر۱ ص ۱۷۰، سعایہ جلد ثانی ص ۲۲۷، فتح الملہم جلد ۲ ص ۱۴۳، اوجزالمسالک جلد ۱ ص ۲۶۵ پر بھی بعینہا مرقوم ہے۔ ہم نے تکرار اور اعادہ سے بچنے کے لئے صرف کتابوں کے نام مع صفحات تحریرکرنے پر اکتفا کرلیا ہے۔
ومن شاء الاطلاع فلیر جع الیہا۔
مقام غور ہے کہ ان تمام کتابوں کے مصنفین اور محدثین کرام یعنی حافظ ابن حجر عسقلانی صاحب فتح الباری، امام قسطلانی صاحب مواہب اللدنیہ امام بدرالدین عینی عمدۃ القاری امام زرقانی صاحب شرح مواہب و شرح مؤطا، مولانا عبدالحیٔ لکھنوی صاحب سعایہ رحمہم اللہ تعالیٰ حتیٰ کہ سرگروہ منکرین و معاندین صاحب فتح الملہم و اوجز المسالک، سب بیک زبان کہہ رہے ہیں کہ
فَاِذَا الْحَبِیْبُ فِیْ حَرَمِ الْحَبِیْبِ حاضر یعنی نمازی جب دربارِ الٰہی میں نظر اٹھاتا ہے تو حبیب کو حرم حبیب میں حاضر پاتا ہے، فوراً عرض کرتا ہے۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ اے نبی (ﷺ)!آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔
یہ الگ بات ہے کہ جن لوگوں کے دِلوں میں مرض تھا انہوں نے حاضر کے معنی غائب اور اثبات کے معنی نفی سمجھ لئے۔ یہ ان کی اپنی شومیٔ قسمت اور کور باطنی ہے کہ انہیں کسی نماز میں حرم حبیب کی حاضری نصیب نہ ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان اور قلم سے بھی
فَاِذَا الْحَبِیْبُ فِیْ حَرَمِ الْحَبِیْبِ حَاضِرٌ صادر کرادیا۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی تائید اور اپنے حبیب کی تعریف و توصیف منکرین و معاندین سے بھی کرالیتا ہے او رجن کے قلوب انکار و عناد کی بیماری سے پاک تھے انہوں نے پوری وضاحت کے ساتھ حق کی تائید فرمائی جس کے ثبوت میں ہم مولانا عبدالحیٔ لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کی پوری عبارت سعایہ سے نقل کرکے ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں۔
اہل معرفت کے طریق پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ نمازیوں نے جب التحیات کے ساتھ ملکوت کا دروازہ کھلوایا تو انہیں
حَیٌّ لاَّ یَمُوْتُ کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت مل گئی۔ فرحتِ مناجات سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں تو انہیں خبردار کیا گیا کہ یہ سب کچھ بواسطہ نبی رحمت اور انہی کی برکتِ متابعت سے ہے۔ انہوں نے خبردار ہوتے ہی نظر اٹھائی تو مالک حبیب کی بارگاہ میں حبیب کو حاضر پایا فوراً اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کہتے ہوئے ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ میرے والد علّام اور استاذ قمقام نے (اللہ تعالیٰ انہیں دارالسلام میں داخل فرمائے) اپنے رسالہ نور الایمان (۱) بزیارۃ آثار حبیب الرحمن میں فرمایا: خطابِ تشھد (۲) یعنی التحیات میں (اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ) کہنے کا راز یہ ہے کہ حقیقت محمدیہ ہر وجود میں جاری و ساری اور ہر بندہ کے باطن میں حاضر و موجود ہے۔ اس حالت کا پورا انکشاف بحالتِ نماز ہوتا ہے لہٰذا محلِ خطاب حاصل ہوگیا اور بعض اہلِ معرفت نے فرمایا کہ بندہ جب ثنایٔ الٰہی سے مشرف ہوا تو اسے حرمِ الٰہی کے حریم میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی اور اس کی بصیرت کو خوب روشن کردیا گیا حتیٰ کہ اس نے حرم حبیب میں حبیب کو حاضر پایا، فوراً ان کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ اے نبی! ﷺ آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔(سعایہ جلد ۲ ص ۲۲۷؍۲۲۸) مصنفہ مولوی عبدالحیٔ صاحب لکھنوی)
حقیقتِ محمدیہ کا موجوداتِ عالم میں جاری و ساری ہونا اور ذواتِ مصلین میں اس کی جلوہ گری اور اسی بناء پر التحیات میں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کہنے کا حکم دیا جانا ایسا روشن مسئلہ ہے جس کی تصریح نہ صرف مولانا عبدالحیٔ لکھنوی اور ان کے والد ماجد و دیگر ائمہ دین نے فرمائی بلکہ بکثرت علماء محدثین و علماء محققین نے اس نفیس مضمون کو اپنی تصانیف میں ارقام فرماکر اہلسنّت پر احسانِ عظیم فرمایا چنانچہ حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ بھی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں۔
اور حضور (۱) ﷺ ہمیشہ مومنوں کا نصب العین اور عابدوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ تمام احوال و اوقات میں خصوصاً حالتِ عبادت میں اور اس کے آخر میں کہ نورانیت اور انکشاف کا وجود اس مقام میں بہت زیادہ اور نہایت قوی ہوتا ہے اور بعض عرفاء نے فرمایا ہے کہ یہ خطاب اس وجہ سے ہے کہ حقیقت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ تمام موجودات کے ذرات اور افراد ممکنات میں جاری و ساری ہے۔ پس آنحضرت ﷺ نمازیوں کی ذات میں موجود اور حاضر ہیں لہٰذا نمازی کو چاہئے کہ اس معنی سے آگاہ رہے اور حضور ﷺ کے اس حاضر ہونے سے غافل نہ ہو، تاکہ انوار قرب اور اسرارِ معرفت سے روشن اور فیضیاب ہو۔ (اشعۃ اللمعات جلد ۱، ص ۴۰۱)
بعینہٖ یہی عبارت تیسیر القاری شرح صحیح بخاری جلد اول باب التشہد فی الآخرۃ ص ۲۸۱ مطبوعہ مطبع علوی لکھنؤ ص ۱۷۲، ص ۱۷۳ میں موجود ہے اور مسک الختام شرح بلوغ المرام میں ص ۲۴۴ پر نواب صدیق حسن خان بھوپالی اشعۃ اللمعات کی یہی عبارت منقولہ بالا تحریر فرماکر ایک شعر بھی لکھتے ہیں۔

در راہِ عشق مرحلۂ قرب و بعد نیست
می بینمت عیاں ودعا می فرستمت

اس کے بعد ہم علامہ محقق دوانی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور و مستند کتاب اخلاقِ جلالی سے اس مضمون کی تائید مزید نقل کرتے ہیںجسے پڑھ کر انشاء اللہ العزیز اہل ایمان کے قلوب جلوہ ہائے انوارِ محمدی سے چمک جائیں گے۔
محقق دوانی فرماتے ہیں
اس مقام پر تحقیق کلام یہ ہے کہ تمام اصحابِ نظر و برہان اور ارباب شہود و عیاں اس بات پر متفق ہیں کہ بوسیلہ قدرت و ارادۂ خدائے قدوس، امر کن فیکون سے سب سے پہلے جو گوہر مقدس دریائے غیب مکنون سے ساحل شہود پر آیا وہ جوہر بسیط نورانی تھا جسے حکماء کے عرف میں عقل اول کہتے ہیں اور بعض احادیث میں قلمِ اعلیٰ سے اس کو تعبیر کیا گیا ہے اور اکابر ائمہ کشف و تحقیق اسے حقیقتِ محمدیہ کہتے ہیں۔ اس جوہر نورانی نے اپنے آپ کو اور اپنے خالقِ بے مثال کو اور ان تمام افرادِ موجودات کو جو بتوسط اس جوہرِ نورانی کے خالقِ بے مثال سے صادر ہوسکتے ہیں۔ جس طرح وہ افرادِ موجودات پہلے تھے اور اب ہیں اور آئندہ ہوں گے۔ سب کو جملہ کیفیات کے ساتھ بتمام و کمال جان لیا اور تمام حقائق موجودات بطور انطوائے علمی اسی جوہر بسیط نورانی (حقیقت محمدیہ) میں مندرج اور مخفی تھیں جس طرح دانہ ایک خاص طریقہ پر شاخوں پتوں اور پھلوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ کل افراد موجودات اسی ترتیب کے موافق جس کے ساتھ اس جوہر بسیط نورانی میں پوشیدہ ہیں۔ کمین گاہ قوت سے جلوہ گاہِ فعل اور سرا پردۂ غیب سے میدان شہود میں (بصورت) مواد خارجیہ ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے مٹا دیتا ہے، جسے چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے۔ ام الکتاب اسی کے پاس ہے۔ (۱) (اخلاقِ جلالی مطبوعہ نول کشور ص ۲۵۶/ ۲۵۷)
اس ایمان افروز بیان سے تصریحاتِ منقولہ بالا کی تائید کے علاوہ مندرجہ ذیل امور بھی واضح ہوگئے۔
۱: حضور ﷺ اولِ خلق ہیں۔
۲: حضور ﷺ عقلِ اول اور قلمِ اعلیٰ ہیں۔
۳: حضور ﷺ جوہر بسیط نورانی ہیں۔
۴: حضور ﷺ تمام کائنات کے حقائق لطیفہ کے جامع ہیں۔
۵: حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کو بھی جانتے ہیں اور تمام موجودات و مخلوقات ان کے جمیع احوال کو بتمام و کمال جانتے ہیں، ماضی، حال، مستقبل میں کوئی شے کسی حال میں ہو حضور ﷺ سے مخفی نہیں۔
۶: تمام موجوداتِ خارجیہ کا ظہور حقیقت محمدیہ سے ہوتا ہے حتیٰ کہ ترتیب ظہوربھی وہی ہے جو حقیقتِ محمدیہ میں مستور ہے۔
ان امور کے علاوہ یہ امر بھی اس عبارت سے ثابت ہوگیا کہ حقیقتِ محمدیہ کوئی امر اعتباری غیر واقعی نہیں بلکہ وہ ایک حقیقتِ ثابتہ ہے اور موجود خارجی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں جوہر بسیط نورانی سے تعبیر کیا گیا ہے اور مراتب وجود سے مرتبہ وحدت جسے بعض صوفیائے کرام نے بر بنائے مناسبت اپنی اصطلاح خاص میں حقیقتِ محمدیہ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے، عباراتِ منقولہ بالا میں ہر گز مراد نہیں کیونکہ مرتبۂ وحدت غیر مخلوق ہے اور حقیقتِ محمدیہ مخلوق، جیسا کہ محقق دوانی کی عبارت زیر نظر اس دعویٰ کی روشن دلیل ہے۔
ان تمام اکابر ائمہ دین و حضراتِ علماء راسخین رضی اللہ عنہم اجمعین حتیٰ کہ مخالفین و معاندین کی منقولہ بالا عباراتِ صریحہ واضحہ کی روشنی میں کسی منصف مزاج کے دل میں اس امر کے متعلق ادنیٰ تردد باقی نہیں رہ سکتا کہ آیۂ کریمہ
وَمَا اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ کی صحیح تفسیر وہی ہے جو ہم نے کتب معتبرہ کے حوالہ سے نقل کی جس کی رو سے حقیقتِ محمدیہ کا ذواتِ مصلّین بلکہ تمام ذراتِ کائنات میں جاری و ساری ہونا ثابت ہوگیا اور ساتھ ہی یہ بات بھی آفتاب سے زیادہ روشن ہوگئی کہ نماز میں حضور ﷺ کو بصیغۂ خطاب پکارنا اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کہنا اسی اصلِ عظیم پر مبنی ہے۔ جس پر آیۂ کریمہ وَمَا اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ صاف طور پر دلالت کررہی ہے نیز یہ اصل عظیم حضور نبی کریم ﷺ کے حاضر و ناظر ہونے کی ایسی روشن اور قوی دلیل ہے جس کا انکار کسی گمراہ اور کور باطن کے سوا کوئی دوسرا شخص نہیں کرسکتا۔ وللّٰہ الحمد

ہوم پیج